Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 02)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 02)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
“کون ہو تم کیوں لائے ہو مجھے یہاں ” جیسے ہی اسکی آنکھوں سے پٹی اتری وہ چیخی تھی سامنے موجود سیاہ فام بغیر کوئی تاثر دیے سیدھا کھڑا رہا تھا۔
“تم شاہد جانتے نہیں میں کون ہوں ؟”
ہر وقت ناک پہ دھرا رہنے والا غصہ اسکی سنہری مائل۔شادابی رنگ کو مزید حسن بخش رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جورڈن کو اپنے سامنے دیکھتے ہی اسکی آنکھیں پھیلیں ۔
” تم نے مجھے کڈنیپ کروایا ہے وائے؟ “
جورڈ کو دیکھ اسے کچھ خوف محسوس ہوا مگر وہ اتنی جلدی اسکی اصلیت سے واقف نہیں ہوسکتا اپنی سوچیں جھٹکتے پھر سے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔
جورڈ نے ناپسندیدگی سے اس لڑکی کو دیکھا یہ چھوٹی آفت کی پرکالہ لڑکی ہمیشہ سے اسے ناپسند رہی تھی مگر وہ اسکیلئے سونے کی چڑیا تھی۔
“تمہارا عاشق آن پہنچا تھا اسیلئے وہاں سے نکالا “
جورڈ کے جواب پہ اسکا دل دھڑکا تھا۔
“تت تم جھوٹ بول رہے ہو ” گولڈن سپیرو نے بے یقینی سے اسے دیکھا مگر اسکی آنکھوں میں حقیقت درج تھی۔
“اوہ اوہ مائی گڈنیس تھنکیو تھنکیو سو مچ بلیک بیری۔”
خوشی سے چلاتے وہ اسکے قریب آئی مگر پھر دو قدم پیچھے ٹہری تھی۔
“دیکھو لڑکی ہم اسے کب تک چکمہ دے سکتےہیں بہتر ہے کے ہمارا حساب کتاب کلئیر کرو اور اپنا کوئی بندوبست کرو انفیکٹ ہوسکے تو ملک ہی چھوڑ دو۔ “
مخصلانہ مشورہ اور اس کرمینل سے وہ اتنی پاگل نہ تھی مگر اسکے پاس اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔
اسے بھاری رقم سے نوازے وہ وہاں سے روانہ ہوئی ۔
اسکی قسمت کا ہر پنا ایک الگ داستان رچ رہا تھا اسکی بلیک ورلڈ میں ہر چیز کی گنجائش تھی مگر اس انسان کی نہیں۔
آنکھیں بند کیے خود کو مضبوط کیا وہ اچھے سے جانتی تھی کہ جورڈ صرف پیسے کے لالچ میں اسے استعمال کررہا ہے اور جس دن اسکا اکاؤنٹ خالی ہوگا وہ پکڑ کے اسے اس شخص کے حوالے کردے گا ایک بھاری معاوضہ لے کے۔
کتنی دیر وہ بلیک ہڈی میں خود کو کور کیے بے مقصد سڑکوں کو ناپتی رہی مگر آخر کب تک ؟ وہ ایک پہلی بن گئی تھی جسے وہ خود بھی نہیں سلجھا پا رہی تھی۔۔
یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں یہاں سبکا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے۔۔۔۔
◎▼◎◎▼◎◎▼◎◎▼◎◎▼◎
“عاشی جان آخر اس انکار کے پیچھے کوئی وجہ بھی تو ہو اگر آپ کہیں انٹرسٹڈ ہیں تو؟”
حیات صاحب نے جان بوجھ کے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا تھا مگر معروش انکا پورا مطلب سمجھ گئی۔
اوہو بابا جان آپ پاکستان جاتے سے ہی ٹیپکل بابا بن جاتے میں کہیں انٹرسٹڈ نہیں ہوں مگر آ وانٹ آ لوو میرج پلس ارینج گاٹ اٹ نا پکا کوئی پاکستانی ہوگا۔”
اپبی بات مکمل کیے کھٹاک سے موبائل رکھا تھا تبھی “لائن پہ شو ہوتا مسیج اسکے قدموں سے زمین سرکا گیا۔
“جسٹ فیفٹین ڈیز ہیں جو ڈیسائڈ کرنا ہے کرلیں آپ ۔”
حیات صاحب کا مسیج بری طرح اسکا موڈ خراب کرچکا تھا ۔
“یو نو واٹ بابا نا ٹوئٹلی مسٹریس ہوچکے ہیں یقیناً انکی سیکنڈ وائفی کے مشورے ہونگے سارے۔ “
اسوقت وہ اپنی اکلوتی سہیلی کی گود میں سر رکھے اپنے غم سنا رہی تھی۔
“ایک نا ایک دن تو واپس جانا ہے نا پھر ایسا کیا ؟ اور شادی بھی کرنی ہے تو کرلو انکے سٹیپ سن سے۔۔ “
حنا جانتی تھی کہ اسے اپنے بابا کے سٹیپ سن سے کتنی چڑ تھی جو کہ اسکا نام تک نہیں جانتی تھی نہ کبھی دیکھا تھا پھر بھی ایک انجانا بیر پال رکھا تھا۔
میں نے منہ توڑ دینا تمہارا اور اسکا بھی “
اس نے تپتے چہرے سے اسے کشن دے مارا تھا۔
” چلو ویکلی شاپنگ پہ۔ ” حنا نے اسکا موڈ صیح کرنا چاہا تھا وہ اسکی پینگ گیسٹ کے طور پہ رہ رہی تھی جو کہ بابا کے کسی جاننے والے کے توسط یہاں تھی ۔
کشمیری سیبوں جیسی پھولی ہوئی گالوں والی حنا اسے بہت اچھی لگتی تھی جو کہ جہاں بیٹھتی اپنی جگہ خود بنا لیتی تھی ۔
بکس گریڈر بریج پہ چلتی اسکی اٹھکیلیاں جہاں حنا کو ژچ کررہی تھیں وہیں دیکھنے والے ایک بار ضرور اس ایشین بیوٹی کو دیکھتے اور سمائل پاس کرتے۔
“اس وقت تم مجھے شدید ارٹیٹ کررہی ہو مارو تمہارے یوں سمائل پاس کرنے سے گورے انگریز تمہیں ٹھرکی سمجھ رہے ہوں گے۔”
حنا کی جھنجلائی آواز پہ اس نے قہقہ لگایا اس نے دہل کے سینے اپنے پہ ہاتھ رکھا۔
“سٹاپ اٹ مارو میری انا کہتی ہیں زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔ ” حنا کی بات نے ایک دم اسے سٹک کیا تھا۔
“تمہاری انا مجھے کبھی کبھی کوئی کریزی وویمن لگتی ہیں ہنی لٹس سپوز زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے تو پھر انسان بھی ڈیڈ رائٹ؟ فشوں ” خیالی گولی اسکے سینے پہ چلاتے اشارہ کیا اور ساتھ پھونک مارتے اپنی انگلیوں سے نادیدہ ڈسٹ جھاڑتی وہ صاف اسکا مذاق بنا رہی تھی۔
“اوئے گورے اگر تمہارے پاس پاگلوں والی کوئی دوائی ہے تو اسے دیتے جاؤ” سامنے سے آتے درمیانی عمر کے گورے کو روک کے خالص اردو بولی وہ بیچارہ منہ تکتے نفی میں سر ہلانے لگا ۔
“انگلش اور فرینچ پلیز؟” وہ خجل سا ہوتا بول رہا تھا۔
حنا نے تاسف سے اس دوسری دنیا کی مخلوق کو دیکھتے معزرت کرتے اس شخص سے جان چھڑائی۔
“کیا چیز ہو تم مارو خدا کو مانو کیوں ایسے پاگلوں جیسے ایکٹ کررہی ہو” سامنے موجود گولڈن سٹیچو کو کاپی کرتے ایک ٹانگ پہ کھڑی معروش لوگوں کو اپنی انٹرٹینمٹ کا حصہ لگ رہی تھی۔
“اے لڑکی یہ جگہ چھوڑو۔ “گولڈن سٹیچو بنے شخص نے اسے گھورتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا ۔
“کیوں کا خصوصی پرمیشن لی ہے تم نے یہ ٹہرنے کی گورنمنٹ سے۔”بے تکلفی سے اسکے ہاتھ میں پکڑا باؤل پکڑے پھر سے سٹیچو بن تھی ۔
حنا اسکی اداکاری کو دیکھتے غصہ ضبط کرنے کے باوجود مسکرا دی تھی۔
پاس سے گزرتے لوگ کچھ نہ کچھ اسکے باؤل میں ڈال رہے تھے اور ساتھ میں اسکی شرارتی سمائل سے محظوظ ہوتے کچھ بچوں نے چاکلیٹس ڈالیں تو معروش کی آنکھیں چمکیں۔
“گولڈ مین یہ تو کافی اچھا شغل ہے چلو ایک ڈیل کرتے ہیں میں بھی روز یہاں سٹیچو بنوں گی بدلے میں چاکلیٹس میری بولو کیسا۔ “
ہتھیلی آگے کیے وہ اس شخص سے مخاطب ہوئی اور اس نے بھی پرسکون سانس لی مطلب کے جتنی اس لڑکی نے پندرہ منٹ میں کمائی کرلیتی پورے دن کی محنت سے اسے وصول ہونی تھی اس شخص نے حامی بھرتے گردن ہلائی ۔
“معروش نے بھی اپنے حصے کے پیسے اور چاکیلٹس اٹھائے اسکے سامنے لہرائے تھے اور چلتی بنی۔ “
قسم سے اتنا مزہ آرہا خود کی کمائی دیکھ اف کیا بتاؤں حنا۔
ایک چاکلیٹ اسکی جانب بڑھائی جس نے افسوس سے اسے دیکھتے تیوری چڑھائی۔
” اتنا افسوس ہورہا ہے مجھے کہ حیات انڈسٹری کی اکلوتی سپوتری یہ کام کررہی تمہاری یہ مانگے کہ چاکلیٹ تمہیں مبارک۔ ” حنا نے اتنی دیر سے برداشت کی بھڑاس اسکے سامنے نکالی ۔
“میرے ماتھے کو غور سے دیکھو۔ ” اچانک وہ اسکے سامنے رکتے سنجیدگی سے بولی۔
“حنا بھی ٹھٹکتے رکی اور غور سے دیکھا مگر سفید پیشانی بلکل صاف تھی ۔
“کیا ہے کچھ بھی تو نہیں ؟” اس نے تعجب سے اسے دیکھا
“ہیں نا کچھ بھی نہیں ہے حیات انڈسٹری نام کی کوئی مہر میرے ماتھے پہ نہیں لگی تو اسکا کیا مطلب ہوا ؟”
آنکھیں اچکاتے اسے دیکھا تو اس نے آگے بڑھتے معروش کے دونوں ہاتھ معافی کے سٹائل میں اپنے سامنے باندھے ۔
“تم مجھے معاف کرو معروش حیات اور میں نے بھی تمہیں معاف کیا ۔”
اپنے ہاتھ اسکے سامنے جوڑتی وہاں سے واک آؤٹ کرگئی معروش کو جب تک اسکی بات سمجھ شرارتی مسکراہٹ لیے اسکے پیچھے سے آواز لگائی۔
تم پر جچتی نہیں شرمندگی
اپنی نظریں اُٹھاؤ ، جاؤ معاف کیا۔۔۔۔۔
حنا کی گھوری پہ ایک فلائنگ کس پاس کیا تو وہ کھلکہلا اٹھی تھی۔
“عجوبی” اسے گلے لگاتے سدا اسکی مسکراہٹ کی دعا کرتے اسکے چہرے پہ اپنی دوست کی محبت کیلئے محبت ہی محبت تھی۔
♡♡─━━━━━⊱༻
کوئی لمحہ ہو رہائی کا
کوئی دنیا تیرے سوا بھی ہو ۔۔۔۔۔۔
“تیج” ماریہ کی آواز پہ وہ کسی خواب سے نکلا تھا ۔
“آہنم ماریہ تم خیریت ۔”اتنے دن بعد اپنی بسٹ فرینڈ کو سامنے دیکھتے وہ کھڑا ہوا تھا جو آتے ہی بغل گیر ہوگئی تھی۔
“جی ہاں میں یہ کیا چل رہا ہے آجکل تمہارا آفس ،گھر کلب ہر جگہ سے غائب ہو کہیں کوئی لڑکی وغیرہ کا تو چکر نہیں ہے ” اسے چھوڑتے ہی شکوہ شکایت شروع ہوچکی تھی۔
ّماریہ اور تیج نے اکھٹے بزنس میں ماسٹرز کیا تھا اور دونوں ہی اپنے آباؤ اجداد کا بزنس سنبھالنے میں لگے ہوئے تھے ایک موقع پہ وہ ماریہ کو لے کے شادی کیلئے سنجیدہ تھا مگر مام ڈیڈ کی ضد کے آگے اپنی پسندیدگی کو دل میں ہی دبانا پڑا تھا دوسرا اسکا مذہب کو لے کے جنون کی حد تک محبت سے بھی خائف ہوا تھا۔
اس نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا وہ اپنی جگہ سے اچھل کھڑی ہوئی۔
“واؤ ہو از شی پکا کوئی ایشین بیوٹی ہوگی رائٹ؟”
اپنے اندازے کی درستگی کی داد لینی چاہی تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا ۔
“جانتی تھی تم جیسا وطن پرست شخص اس سے آگے سوچ بھی نہیں سکتا ویل گانگریٹس کب ملوا رہے ہو؟”
اپنے چہرے کے زاویے بگاڑے وہ اس سے مخاطب جس نے کندھے اچکائے اسکی بات کو اگنور کرتے کافی آرڈر کیا تھا۔
“مسٹر تیج میں کچھ پوچھ رہی ہوں میں کافی کے ساتھ اس سے بھی ملنا چاہوں گی سو؟”
“ماریہ بی میچور وہ کوئی آنلائن سروس نہیں جسے آرڈر کردوں۔”
اس لگ رہا تھا ماریہ کو بتا کے کوئی غلطی کردی تھی جس لڑکی کا نام ونشان اسے خود نہیں مل پا رہا وہ اس سے کیا ملواتا۔
“اوکے سنڈے کو تم مجھ سے ملوا رہے ہو نو آرگو۔”
وہ ایسی ہی تھی صرف اپنی سنانے والی تیج نے نفی میں سرہلایا تو اینگری برڈ بنتی کھڑی ہوئی۔
“اوکے تم سنبھال کے رکھو اپنی کوئین کو ناٹ انٹرسٹڈ ایٹ آل”
بھلا ماریہ کو کہاں اس نے کسی چیز کیلئے انکار کیا تھا کبھی اور وہ بھی اسکی پسند دیکھنے کو بےتاب ہوئی تھی جیلسی کا ایک ہلکا سا عنصر بھی تھا تو کیا اس لڑکی کیلئے اسکے پیرنٹس مان جائیں گے؟”
“اسنے آگے بڑھتےماریہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا دوبارہ سے چئیر پہ بٹھایا تھا۔
“ملواؤں گا ماریہ بہت جلد بس کچھ دن ویٹ کرلو۔ ” اپنے لہجے کی ادسی چھپائے مسکرایا تو وہ بھی اسکا دل رکھتی بیٹھ گئی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ اسے شاپنگ کیلئے باہر لے آئی تھی وہ بھی خود کو اسکے ہمراہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگا سیل پہ جورڈ کی کال اسے چونکا گئی یہ واحد کرمینل تھا جسکا انتظار ایک شریف آدمی کرتا تھا۔
“ہیلو جورڈن اینی نیوز اباؤٹ ہر ؟” بت تابی اسکی آواز سے چھلک رہی تھی
♡♡─━━━━━⊱༻
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا…
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں…
بلیک ہڈی میں ملبوس وہ لڑکی سڑک پہ بہت محتاط انداز میں چل رہی تھی ہر آہٹ پہ چوکس رہنے والی لڑکی لندن سٹریٹ کرائم کی سرغنہ تھی اور اس گروہ کا حصہ وہ تب سے بنی تھی جب اس نے اکیس سال کی عمر میں پہلا قتل کیا تھا جو اسکی زہنی اور جسمانی پسماندگی کی وجہ بنی تھی ۔
وہ جورڈ کی گولڈن سپیرو بے تحاشا حسن کی مالک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین آئی ۔کیو۔لیول رکھمے والی لڑکی تھی اسکے حلقہ احباب میں” لیٹل کریپٹو کوئین” کے نام سے جانا جاتا جہاں وہ ایک بہترین جالساز ثابت ہورہی تھی مختلف کسینو میں لوگوں کی جیبیں خالی کرنا اسکا مشغلہ بن چکا تھا۔۔
اگر کریپٹو کوئین نے سینکڑوں ملین کا غبن کرتے لوگوں کو لوٹا تھا تو یہ” لیٹل کریپٹو کوئین” نے بھی کالے دھن کی دنیا میں اپنا راج جما رکھا تھا لوگوں کو بلاک چین کے جال میں پھانستی یہ لڑکی اپنے ماضی سے روگردانی کررہی تھی وہی ایک شخص مسلسل اس پہ نظر رکھتے اسے کرپٹو کرنسی کی دنیا سے باہر لانے کیلئے سرگرم ہوچکا تھا۔
سامنے موجود اسکا پی اے اسے گولڈن سپیرو کی ڈیٹل دینے کے ساتھ اسکے ڈیٹا کی بھی معلومات فراہم کررہا تھا۔
“بٹ کوائن یا کریپٹو کرنسی کا انحصار ایک خاص قسم کے ڈیٹا بیس پر ہے جسے بلاک چین کہا جاتا ہے۔ بلاک چین ایک قسم کی بہت بڑی کتاب ہے اور اگر آپ بِٹ کوائن خریدتے ہیں تو اس کتاب کا ایک نسخہ یا کاپی آپ کو بھی مل جاتی ہے۔ مثلاً میری طرف سے جب بھی ایک بِٹ کوائن کسی دوسرے شخص کو بھیجا جاتا ہے، یہ چیز اس کتاب میں نوٹ ہو جاتی ہے جس کی ایک کاپی بِٹ کوائن کے تمام صارفین کے پاس موجود ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو کوئی حکومت، کوئی بینک اور نہ ہی وہ شخص جو اس بِٹ کوائن کو ایجاد کرتا ہے، اس سکے کو تبدیل کر سکتا۔ اس ساری چیز کے پیچھے ریاضی کے اصول کارفرما ہیں، لیکن نہ تو بِٹ کوائن کی نقل بنائی جا سکتی ہے، نہ ہی بِٹ کوائن کی کتاب کو ہیک کیا جا سکتا ہے اور کسی بِٹ کوائن کو دو مرتبہ خرچ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے۔”
“لیٹل کریپٹو کوئیں صرف انہی لوگوں سے ڈیلنگ کرتی ہے جو اسکے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند ہوں۔”
تیج نے اسکی بات سنتے ماتھا مسلا تھا مطلب کے اس لڑکی تک رسائی کیلئے اسے اس سارے گند میں کودنا تھا مگر ایک ماہر شخص کی راہنمائی کے بغیر ایسا ممکن نہ تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ اگر وہ اپنی اسی شناخت کے ساتھ اسکے روبرو ہوگا تو اسے کیا ریکشن دے گی مگر اسکیلئے اس لیٹل کریپٹو کوئین سے ملنا لازم ہوچکا تھا۔
اگلے کئی ہفتوں کے دوران اسکی پی اے نے مسٹر تیج کو بے شمار معلومات بھیجیں جن میں بتایا گیا تھا کہ کرپٹو کرنسی کام کیسے کرتی ہے۔ کئی مضامین، انٹرنیٹ لِنکس اور یو ٹیوب ویڈیوز کے علاوہ انٹرنیٹ کے ذریعے ایسے شخص سے متارف کرایا جو خود بلاک چین بنانے کے ماہر تھے۔
اب کے جالساز مسٹر تیج تھے جنہوں نے باقاعدہ گیم کا سٹارٹ لیا بھی تو اسی کے انداز میں کیونکہ وہ لڑکی اسکیلئے کئی پونڈز بٹ کوئن سے زیادہ اہم تھی اب کے مسئلہ یہ بھی تھا کہ کہیں جورڈ کو اس لڑکی کی اصلیت پتا نہ چل جائے وہ کبھی بھی مسٹر تیج کی مدد نہیں کرے گا بلکہ ان دونوں کی جان کا خطرہ بن سکتا تھا۔
♡♡─━━━━━⊱༻
“ایک سوال کا جواب تو دو حنا؟ “
موبائل سے نظریں اٹھائے اسے مخاطب کیا تھا ۔
“خدا کیلئے معروش میں تمہارے کسی سوال کا جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔” حنا نے اسکے آگے ہاتھ جوڑتے کتاب میں چہرہ چھپا لیا۔
وہ اس لڑکی کی عجیب وغریب حرکات سے پریشان تھی یقیناً اسکے زہن میں کوئی نیا کیڑا کلبلا رہا تھا اسکی جانب سے گہری خاموشی پا کے اس نے نظریں سامنے اٹھائیں مگر وہ کہیں بھی نہیں تھی۔
“اف یہ لڑکی اب کیا مصیبت لانے لگی ہے ۔”حنا کتاب رکھتے اسکی تلاش میں باہر نکلی مگر سامنے والے انکل کے ساتھ اسے شطرنج کی بازی لگاتے دیکھ ایک ٹھنڈی آہ بھرے واپس مڑ گئی ۔
“اس لڑکی میں کوئی کل بھی تو عام لڑکیوں والی نہ تھی بھلا یہ کیا شادی کرے گی۔” حنا کو انکل کی بات یاد آئی تو زیرلب مسکرا دی۔
“ایک دن میں تمہیں اور تمہارے انکل کو غلط ثابت کرکے دکھاؤنگی شادی بھی کرونگی گھر بھی بساؤنگی ۔۔۔” اندر آتے جیسے اس نے حنا کی سوچوں پہ رسائی حاصل کی تھی۔
“اف اف کیا چیز ہویار کہیں ٹیلی پیتھ کے ٹریکس تو نہیں آتے تمہیں تیمور اور سونیا کی طرح۔” حنا نے اسکی حرکت پہ چڑتے اسکی جاسوسی کے دنیا کے فیورٹ کریکٹرز کے نام لیے۔
“آہ حنا تم کیا جانو فینٹسی کی دنیا میں جانے کا مزہ دیکھنا ایک دن دنیا میں روشن ہوگا معروش حیات کا نام راج ہوگا اسکا پوری دنیا پہ۔”
اس نے آنکھیں بند کیے ایک سرور میں مست ہوتے کہا جبکہ حنا کا دل بھی اسکی سوچوں تک رسائی حاصل کرتے کانپا تھا۔
” انکل فیڈرک کے ساتھ بیٹھ کے شطرنج کی بازی لگانے سے کونسی تم نے دنیا کو فتح کرنا ہے میڈم۔” وہ اسکی باتوں پہ چڑ گئی تھی تبھی ڈور بیل رنگ ہوئی سامنے ہی معروش کا اکلوتا بوائے فرینڈ “ہیری ” ٹہرا تھا۔
