Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 18)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

‏اُس شخص کے وجدان کی تکمیل ہے مجھ سے

ِاِک روز پلٹ آئے گا___ وہ شخص ادھورا…..

“دیکھیں آپکی مسسز مسلسل ڈپریشن کا شکار ہورہی ہیں

وقتاً فوقتا ہم سب اداسی، مایوسی اور بیزاری میں مبتلا ہو تے ہیں۔ لیکن طبّی اعتبار سے اداسی اسوقت ڈپریشن کی بیماری کہلانے لگتی ہے جب اداسی کا احساس بہت دنوں تک رہے اور ختم ہی نہ ہو۔”

اس وقت وہ ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھی ۔روحان کو تھوڑی ندامت ہوئی بہرحال اسکی اس حالت کا زمدار کہیں نا کہیں وہ خود بھی تھا۔

“ایم سوری بٹ ہاؤ کین وئی کنٹرول اٹ۔؟” روحان کی پرسوچ نگاہیں اسے دیکھ رہی تھیں جو بستر پہ ہوش وخرد سے بیگانہ پڑی تھی۔

“دیکھیں اسکیلئے آپ کو کسی سائیکاٹرسٹ سے رابطہ کرنا پڑے گا۔عمومًا مریضوں میں اسکی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ۔ماضی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اپنے آپ کو الزام دیتے رہنا، اپنے آپ کو فضول اور ناکارہ سمجھنا ،مستقبل سے مایوس ہو جانا بعض کنڈیشن میں پیشنٹ کو بار بار خودکشی کے خیالات آنا یا خود کشی کی کوشش کرنا نیند ، بھوک خراب وغیرہ کا باقاعدگی نہ ہونا چھوٹی چھوٹی چیز ہم اگنور کررہے ہوتے وہ سامنے والے کیلئے پوائزن ثابت ہورہی ہوتی ہیں۔”

میجر ڈاکٹر نے تفصیلاً اسے ایک ایک بات بتائی تاکہ وہ اسکی کنڈیشن کو سریس لے ۔اگر وہ چاہتا تو اسکی سزا کم کرسکتا تھا مگر اتنا ظرف کہاں سے لاتا۔

“اوکے آئی۔ول ٹیک کیئر آف ہر ۔” اس نے ڈاکٹر کو تسلی آمیز لہجے میں کہا تھا انہوں نے بھی پروفیشنل انداز میں اسے کے کندھے پہ تھپکی دیتے روم چھوڑ دیا۔

وہ چھوٹے چھوٹے قدم بڑھاتے اسکے بیڈ کے قریب آیا۔

سرخ سپید رنگ پہ سیاہ حلقے واضع ہورہے تھے۔

“محبت بھی کیا چیز ہے یار ہمیشہ بے پرواہ لوگوں سے ہوجاتی ایسے لوگوں سے جو ہماری دسترس سے دور ہوں چاند کو چھونے کی ناکام تمنا نے جینے کی امنگ ہی ختم کردی ہے ۔کل اسکی شادی ہے ۔کل سے وہ کسی اور کی ملکیت ہوگی جسے سوچنا بھی گناہ ہوگا۔مبارک ہو ہم بھی ناکام عاشق ٹہرے۔”

میری تکمیل ، تری ذات سے ھی ممکن ھے۔۔

تو الگ ھو تو میری ذات میں کیا رکھا ھے۔۔۔

اسکے نقوش کو نظروں سے چھوتے ماضی کے لمحوں میں جھانکا۔ واقعی اسکیلئے بہت مشکل تھا اس لڑکی سے نفرت کرنا جو اسکی محبت تھی۔دسترس میں ہوتے ہوئے بھی اس سے میلوں کے فاصلے پیدا کرنا ۔سمندر کے سامنے رہتے بھی پیاسے رہنا ۔غلطی جسکی بھی تھی مگر اپنی قسمت کے چاند کو گرہن تو اس نے ہی لگایا تھا ۔

“کیا میری سزا ختم ہونے کیلئے میرا آخری سانس لینا ضروری ہے؟”

ایک سوال ساتھ شکوہ لبوں پہ در آیا تھا اس نے کڑے ضبط سے اسکی طرف نگاہ کی ۔ہمیشہ اسکیلئے مشکل ہوجاتا جب وہ اسکی آنکھوں کو براہ راست پڑھتا جبکہ اب تو آواز بھی التجا کررہی تھی ۔

“میں کون ہوتا ہوں سزا جزا کے فیصلے کرنے والا جس دن میرے دوست کی زندگی آباد ہوجائے گی اس دن تمہاری سزا ختم اور آزادی شروع ہوجائے گی۔”

ڈاکَٹر سے اسکی حالت جان لینے کے باوجود بھی اسکے لہجے میں نرماہٹ پیدا نہیں ہوئی تھی۔وہ اسے اتنا کٹھور دیکھ رخ موڑ گئی ۔اپنے الفاظ کا زیاں اسے مضحمل کررہا تھا ۔آخر توجہ کی بھیک مانگی تو مانگی ہی کیوں؟خود کو کوستے وہ پھر سے پلیکں موند گئیں۔

༻━━━━━⊱༻

اسے حیات ولا آئے ہفتہ ہورہا تھا ۔حیات انڈسٹری جسکی دیکھ ریکھ طیبہ کی زیرنگرانی تھی اور کبھی ارتضٰی بھی وہاں کا چکر لگا لیتا تھا اسے واپس لینے کیلئے وہ حددرجہ بے چین تھی جبکہ ارتضٰی کا دماغ اسے واپس کیمپ لے جانے کی طرف اٹکا تھا ۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکیلئے وہاں کا ماحول کتنا سکیور تھا اگر کسی طرح بھی طیبہ کو اسکے کارناموں کی بھنک پڑ جائے تو وہ خود اسے دشمنوں کے حوالے کر کے ہمیشہ کیلئے راستہ صاف کرلتیں اسی سوچ کو لیے آج اس نے معروش سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

گھر میں گہری خاموشی کے سائے تھے۔چونکہ وہ بغیر بتائے آتا تھا اسیلئے طیبہ بیگم کم ہی گھر پہ ملتیں ۔حنا زیادہ تر اپنے کمرے میں ہوتی تھی۔وہ سیدھا اسکے کمرے کی طرف بڑھا ۔دروازہ بجانے کو ہاتھ بڑھایا مگر دوسرے لمحے ہاتھ روک لیا اسکا نام سنتے اس نے کونسا دروازہ کھول دینا تھا تبھی وہ بنا دستک اندر آیا تھا مگر اندر آتے ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ جو ابھی فریش ہو کے آئی تھی اسکی اچانک آمد پہ ناگواری سے دیکھتے ایک نظر اپنے سراپے پہ ڈالی۔

پنک کلر کے سلیولیس گھٹنوں سے زرا نیچے تک آتی نائٹی پہنے بھیگے بالوں سے ٹپکتے پانی قطرے سپید بازوں اور جسم کے نشیب وفراز عیاں تھے ۔خود پہ جمی ارتضٰی کی بے باک نگاہوں نے اس جیسی بولڈ لڑکی کو بھی سمٹنے پہ مجبور کردیا تھا۔اسے اگنور کرتے الماری سے باتھ گاؤن نکالا اور خود کو مکمل چھپا لیا تھا ۔

چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپا تو اندھیرا چھایا تھا اور ارتضٰی بھی ہوش نگری میں واپس آیا۔

“گڈ اچھا ہے خود کو سنبھال کے رکھو بندہ بشر ہے کبھی بھی بھٹک سکتا جب نکاح کا احساس غالب آجائے تو پھر کوئی گنجائش بچتی نہیں چاہے سامنے بیسٹ اینمی ہو۔”

ارتضٰی نے یقیناً اسکی حرکت پہ اسکا مزاح اڑایا تھا جبکہ اس نے پھر سے اسے اگنور کرنا جاری رکھا ۔

اگر اپنی آکورڈ سچویشن کا احساس نہ ہوتا تو اسے ایسے آنے پہ بہت سناتی مگر ایک جھجک سی آڑے آرہی تھی اسیلئے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے پڑے پرفیومز سے چھیڑ خانی شروع کردی تھی ۔ارتضٰی نے کافی برداشت سے اسکا یہ انداز ملاحظہ کیا وہ جو صرف زبانی کلامی بات کرنے آیا تھا معروش کی حرکتیں اسے شرارتوں پہ اکسا رہی تھیں۔تبھی اسکی برداشت کو آزمانے کا فیصلہ کرتے قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔

سیاہ کھلے پانی ٹپکاتے بال ،سیاہ راز آنکھیں گلابی ہونٹ ارتضٰی کے اپنی طرف بڑھتے قدم اسے ٹھٹکا گئے تھے ۔

“Beware of toxic sheep in wolf colting”

ایک جان لیوا سرگوشی اسکے کانوں کے پاس ہونٹ کیے کی تھی ۔یہ الفاظ وہ پہلے بھی سن چکی تھی جب ہولو مین ایوننگ پارٹی میں وہ کریپٹو کوئین کی حثیت سے شامل تھی ۔اگر وہ اسکے پل پل بدلتے روپ نہ دیکھ چکی ہوتی تو یقیناً شاکڈ ہوتی وہ شخص چہرے ،نام بدلنے کے ساتھ ساتھ آوازیں بدلنے میں بھی ماہر تھا۔ اس نے اپنے اور اسکے درمیان فاصلہ پیدا کرتے دوری اختیار کی مگر ارتضٰی کے حواسوں پہ وہ مکمل چھائی تھی وہ کمزور نفس کا نہیں تھا مگر سامنے موجود لڑکی کو ژچ کرنے کا اپنا مزہ تھا جو وہ بچپن سے کرتا آرہا تھا اسوقت بھی اسکی اٹینشن کوئی غلط نہیں تھی مگر معروش کا انحراف اسے اکسا رہا تھا۔

“Beware of toxic husband my lady.”

اس نے ایک دم سے ہی اسکی کلائی تھامے اپنے سامنے کیا تھا اور اپنی انگلیوں سے اسکے نرم گالوں کو چھوتے جیسے پیار بھری وارننگ دی تھی۔وہ حیران سی اسکی جرأت دیکھ رہی تھی۔

“ہوش میں تو ہو تم یہ کیا حرکت ہے۔”

معروش نے اسکے ہاتھ میں موجود اپنی کلائی پہ نظر کرتے اسکا ہاتھ اپنے رخساروں سے ہٹایا تیز گھوری سے نوازتے ساتھ ہی اپنی کلائی چھڑائی ۔اگر وہ اسے ٹاکسک والے الفاظ لوٹا رہا تھا تو وہ اپنی اس ٹاکسک کنڈیشن میں واپس آرہی تھی۔

“وہ کیا ہے نا کہ اتنے عرصے بعد دیدار یار نصیب ہوا تو کنٹرول نہیں رکھ پارہا خو پہ۔”

معصومیت کی انتہا تو جیسے ارتضٰی پہ ختم ہوئی تھی جبکہ وہ دانت پیستے گھوریوں پہ اکتفا کیے ٹہرے تھی۔

“تم شاید بھول رہے کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی تعلق نہیں جسکی وجہ بنا کے تم میرے ساتھ فلرٹ کی کوشش کرو اور یہ جو دوٹکے کے رشتے کی اہمیت جتانے آجاتے ہو میں چاہوں تو چٹکیوں میں ختم کردوں ابھی کے ابھی۔”

وہ جو اسے تپانے کو اپنی فل فارم میں تھا معروش کے الفاظ برداشت ہی نہ ہوپائے تھے اور سب سے بڑھ کے “دوٹکے کے رشتے” کے طعنے نے ارتضٰی کی ساری مستی اڑن چھو کی تھی ۔عصاب تنے تو چہرے پہ چٹانوں جیسی سختی در آئی۔

“تم اب حد سے گزر رہی ہو بہتر ہے اپنی زبان کی تیزی میرے سامنے نہ چلاؤ۔ورنہ یہ جو کچھ وعدوں کی پاسداری ہے اسے ختم کرنے میں لمحہ نہیں لگاؤنگا میں۔”

ایک جھٹکے سے اسکی کلائی چھوڑے کندھے سے پکڑے اسے اپنی مکمل گرفت میں لے گیا۔آزاد ہوتی کلائی پھر جکڑتے کندھے معروش کو عجیب سی حالت سے دوچار کرگئے تھے۔

“کیا چاہتے ہو تم ارتضٰی میر۔”

اسکی گرفت میں پھڑ پھڑاتے پنچھی کی طرح لگ رہی تھی ۔

“بہت کچھ جس میں اوّل ہے اس رشتے کو دنیا کے سامنے ایک نام دینا مسسز معروش ارتضٰی میر۔”

ایک ایک لفظ کو چباتے ساتھ اپنی بات مکمل کی تھی۔جبکہ اسکی ڈیمانڈ پہ اس نے پھر سے خود کو چھڑانے کی سعی کی۔

“چھوڑ دیتا ہوں اگر جو تم انسانوں کی طرح میری بات سن لو۔”

ارتضٰی کو اسکی حالت پہ ترس آیا تھا اس نے گویا سچویشن دیکھ سرینڈر کیا ارتضٰی ادے چھوڑتے سامنے موجود سنگل چئیر پہ جابیٹھا تھا ۔

“کل تم ڈی۔جی صاحب کے سامنے مکمل ورک کے ساتھ حاضر ہوگی ۔تم اس بات کو اتنی آسانی سے نہیں بھول سکتی کہ اب بھی تم ٹاپ وانٹڈ میں ہو اگر آئی۔ایس۔آئی کا ہاتھ تم پہ بنا رہے تو اچھا ہوگا تمہارے لیے اور ہمارے لیے میرا مطلب ہے ۔۔۔”

معروش نے اس پہ اچٹکتی نگاہ ڈالی تو گھبرانے کی ایکٹنگ کرتے ارتضٰی نے بات ادھوری چھوڑی۔

“سوچ لو ہر طرح سے تمہارا فائدہ ہے اگر جی۔ایچ۔کیو نہیں رہنا چاہتی تو گھر بیٹھ کے بھی تم لنک رہ سکتی کیونکہ میرا ہاتھ تمہارے سر پہ ہے ۔”

انتہائی شائستگی کا مظاہرہ کیا گیا اور اسے مزید تنگ نہ کرنے کاارادہ کرتے اور اسے سوچنے کا ٹائم دیے وہاں سے روانہ ہوا۔

“بائے دا وے۔” دروازے پہ پہنچتے کچھ یاد آیا تو ایک مبہم مسکراہٹ لیے پلٹا تھا۔

“چاند لاکھ بادلوں کی اوٹ میں چھپتا پھرے دیکھنے والے قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں۔”

معروش نا سمجھی سے اسکی معنی خیز بات کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی جب وہ دروازہ سے نکلتے دوبارہ مڑا تھا۔

“ویسے پنک نائٹی میں قیامت ہی تو لگ رہی ہو تم۔”

اس پہ فقرہ اچھالتے ساتھ ہی وہ جھپاک سے باہر نکلا معروش کی سمجھ تک بات آتے وہ اس کی پہنچ سے نکل چکا تھا۔

حنا نے معروش کے کمرے سے مسکرا کے نکلتے ارتضٰی کو دیکھا تو پاؤں جیسے زمین پہ جم سے گئے تھے۔وہ تو سمجھتی تھی کہ معروش کبھی ارتضٰی کو قبول نہں کرے گی اسکا اسطرح سے اسکے کمرے سے نکلنا حنا کے دل میں عجیب سے وسوسے ڈال گیا تھا۔

گزشتہ تین سالوں میں اس نے ارتضٰی کو اپنے حوالے سے اتنا سوچا تھا کہ اس سے دستبردار ہونا اتنا آسان نہ تھا اور ایسے میں جب طیبہ کی بھی یہی خواہش تھی تو بنا مقابلہ جیتنے کے چانسسز زیادہ تھے ۔اور یہی پہ وہ غلط فہمی کا شکار ہورہی تھی کیونکہ وہ نکاح کی طاقت سے ہی انجان تھی جو اجنبیوں کو بھی ایک دوسرے کے قریب لا چھوڑتا ۔اس رشتے سے زیادہ کوئی رشتہ خوبصورت تھا ہی نہیں جو دو نامحرم لوگوں کو آپس میں زم کیے ، جس میں انسانوں کی مرضی سے زیادہ اللّٰہ کی مرضی شامل تھی۔

جبکہ ارتضٰی نے تو چودہ سال کی ہی عمر میں ماں کے سامنے معروش کی ضد کی تھی اور اس ضد سے دستبردار ہونا ناممکن تھا کیونکہ انکیلئے کہا گیا “کُن” شاید سیاہ کار سے چاند تک کی روشنی کا تھا۔

دور کہیں معروش کی روشنی کو چرائے “ع” کی رمز کو “ش” سے ملائے “ق” تک لانے کو “کُن ” کہ دیا گیا تھا۔

ارتضٰی کے مذاق میں کہے لفظ قبولیت کی سند پانے کو تیار تھے کیونکہ کچھ لمحے قبولیت کے ٹہرے تھے۔

༻━━━━━⊱༻

“اے مرے توں لکھوا لو تسی جدے تک ایناں وڈیاں آفسراں نے ساڈیاں انتڑیاں باہر نی کڈنئیاں اُس ویلے تک اناں نوں سکون آنڑا ای نی۔”

(میرے سے یہ لکھوا لو تم لوگ کہ جب تک یہ بڑے آفس ہماری آنتیں باہر نہیں نکال لیتے اس وقت تک انکو سکون نہیں آنا).

سامنے جہاں کمانڈوز ٹاسک ہورہے تھے وہاں احمد بغیر کمنٹری پیچھے رہنے والا نہیں تھا۔

“واقعی یار پہلے مرغی سے لے کے سانپ تک کی آنتیں باہر نکلوا کے ہمیں کھلایا ،کمانڈوز کی جگہ قصائی بنے ابھی وہ بھی ہم۔سے پیچھے ہونگے اب یہ جان لیوا کام مجھے تو ابھی سے سب کچھ گول مال ہوتا نظر آرہا۔”

روحان نے بھی اپنے ساتھ لیٹے واسق ,ارتضٰی اور نصراللّہ کو دیکھا تھا ۔وہ پانچوں افراد ابھی قربانی کیلئے تیار ہورہے تھے جہاں پہ انکے ٹیم ممبر نے ان سب کے سینے کے اوپر سے ہیوی بائیک گزارنی تھی۔

“تم نے کبھی ٹی۔وی پہ “بچے اسے نہ دیکھیں ” کا اشتہار ملاحظہ کیا تھا تو یہاں آنے سے پہلے اسے یاد کرنا تھا کہ یہ سب بچو

بچوں کا کھیل نہیں ہے آئی۔ایم ٹوٹلی ریڈی فار اٹ۔”

آج پہلی بار ارتضٰی نے بڑے دل۔سے خود کو آنے والے وقت کیلئے تیار کیا تھا ۔تبھی وسل بجائی گئی اور ساتھ ہی ڈریلنگ کرتے کمانڈو نے اپنی بائیک ان پہ سے گزارنی شروع کی۔

“آل تو جلال توں آئی بلا کو ٹال تو۔” ارتضٰی کی پتلی ہوتی حالت پہ واسق کا قہقے لگانے کو دل کیا تھا مگر وہ بائیک اسکے دل کو کراس کرتی ارتضٰی کے اوپر سے گزرتی آگے بڑھ گئی تھی۔

روحان کی جمپ ساتھ احمد اور یکے دیگرے بعد وہ سب پھرتی سے کھڑے ہوئے تھے۔پھر یہی مشق ان لوگوں نے بھی دہرائی تھی ۔

“دوست دوست نا رہا ۔” احمد کی سریلی آواز کا گلا اسکے اوپر سے بائیک گزارتے واسق نے گھونٹا اور اسکا دم اسوقت صیح اڑا جب واسق نے جان بوجھ کے ایک سیکنڈ کا توقف اسکی چھاتی پہ لیا تھا ۔

“او جٹاں دیاں ماواں نے شیراں ورگے پتر جنمے نے اے شہری بابو ورگے برگر بچے کی جانن۔”

“جٹوں( پنجابی کاسٹ) کی ماؤں نے شیروں جیسے بیٹے جنم دیے ہیں یہ بات شہر کے برگر بچے نہیں سمجھ سکتے۔”

احمد اب مکمل کنفیڈنٹ میں آچکا تھا ۔ان سب کا تسیرا سپیل تھا جو وہ اپنے سینے پہ برداشت کررہے تھے۔

سرکل شیپ میں لگائے گئے دائرے سے چھلانگ لگا کے نکلنے کی مشق بھی کروائی گئی تھی۔شروع کی سستی دور ہوئی تو روحان اور احمد بھی بھرپور جزبوں سے واسق اور ارتضٰی کے ہم قدم تھے۔

کمانڈوز آفیسرز کی نسبت کمانڈو سپاہیوں کی مشقیں کچھ آسان تھیں۔ جبکہ اینٹوں کو اپنے سر سے توڑنا اور کوبرا کا خون تک انہیں پینے جیسے ناگوار کام کرنے پڑے تھے ۔واحد حالت جنگ تھی جہاں پہ حرام بھی مرنے سے بچنے کو حلال کردیا گیا تھا۔

چیراٹ میں جاری انکی ٹریننگ میں کچھ مشقیں تو واقعی فوج کا حصّہ ہی تھیں مگر چند ایک ایسے خطرناک سٹنٹ کروائے جارہے تھے جو یقیناً ملک دشمن اور حریفوں پہ اس چیز کا سکہ جمانے کیلئے تھیں کہ پاکستانی ایس۔ایس۔جی سے بڑھ کے کوئی بھی دنیا کی کوئی بھی فورس خطرناک نہیں ہے۔

اگلے کئی آنے والے دنوں میں انہیں برفانی پہاڑوں پہ لے جاکے بغیر شرٹ لٹایا گیا تھا ۔خون جمانے والی سردی میں کی جانح والی یہ مشق یقیناً دلخراش تھی مگر اقبال کے شاہینوں کا ،جنون پرواز رکھنے والوں کے بلند حوصلوں نے ابھی ہمت نہیں ہاری تھی۔

سروائیول کے ہر ایک ایک ہندسے کے تشہیر انکی ٹریننگ کا حصہ تھی ۔چیراٹ سنٹر کے لگائے گئے تربیتی کیمپ میں ایک بلاک سرئیوول کے حروف کے ساتھ لگایا گیا تھا جہاں ہر طرح کے حالات سے نبٹنے کو تیار کرتا یہ انگریزی حرف “SURVIVAL” ارتضٰی اور اسکے دوستوں کے ساتھ باقی کمناڈوز پہ بھی عملی طور پہ دکھایا جارہا تھا۔

انکے ٹرینی کا دیا گیا ہرروز کا سبق کسی بچے کی طرح انہیں رٹنا تھا۔ہر سچویشن پہ حاوی ایک لفظ لفظ ان میں کچھ نیا سیکھنے کی لگن پیدا کررہا تھا۔ جسکا ایک اہم مقصد یہ بھی تھا کہ اگر وہ دشمن کے جال میں پھنس جاتے ہیں تو اپنی زندگی کی اہمیت کو جانتے خود اس سچویشن سے نکال لائیں۔

“ایک کمانڈو کی زندگی کا سرئیوول ان چیزوں کے گرد گھومتا ہے۔۔

S ,size up the situation.

U, use all your senses.

R, remember where you are.

V, vanouis a fear & panic

I,improve

V,value living

A,act like the natives

L,live by your wits

ہر حال میں اپنی ذات کو ویلیو دیتے انٹروگیشن سے خود کو نکالنا ہے۔”

کرنل کی آواز سنگلاخ پہاڑوں میں بھیانک گونج سی پیدا کررہی تھی وہیں انکے دلوں میں بھی اپنے نقش چھوڑ رہی تھی۔ دشمن سے لڑنا ہی مقصد نہ تھا بلکہ خود کو زندہ رکھنا اہم تھا۔

ایک کمانڈو ملک کیلئے قیمتی سرمائیہ ہوتا اس بات کی اگر زندگی کی اہمیت سے ہٹ کے اندازہ کرنا چاہیں تو تقریباً ایک بہترین کمانڈو کو بنانے میں وقت کے ساتھ کروڑوں کا سرمایہ بھی لگتا ہے ۔جیسے ایک عام سپاہی بھرتی

صحراؤں میں ،فضاؤں میں بغیر پروں کے اڑتے ہیں۔۔۔

ہم تو صرف اپنے ملک وقوم کی خاطر لڑتے ہیں۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

“سرجی خری بار انہیں چھپری (چیراٹ کا ایک گاؤں) میں ہی دیکھا گیا تھا اسکے بعد اس بچے اور لڑکی کا کوئی پتہ نہیں۔”

گارڈ نے اسکے سامنے ڈیٹل دی جو اس نے وسام اور شموئیل کے متعلق کہا تھا مگر مایوسی کا سامنا اس وقت ہوا جب کوئی بھی حوصلہ افزاء خبر نہیں ملی تھی ۔وہ مسلسل ایک ہفتے سے اسکی تلاش میں تھا مگر وہ تو ایسے غائب تھی جیسے یہاں کوئی وجود ہی نہ ہو۔

ارتضٰی نے اسکی بے چین طبیعت دیکھی تو سچ اگلوائے بغیر نہیں رہا تھا اور اب وہ تینوں اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔

“کیا!” ان سب کے ریکشن کو دیکھتے اکتائی نظر ان پہ ڈالی تھی۔

“یہی تو ہم تم سے پوچھ رہے کیا؟ کیا!”

روحان کی شرارت رگ پھڑکی تھی ساتھ میں آنکھیں چمکیں ۔واسق نے مددگار نگاہوں سے ارتضٰی کو دیکھا جس نے شانے اچکاتے اسکی مدد سے انکار کردیا ۔

“اگر تم ہمیں وقت سے بتا دیتے تو یقیناً ہم بھی بھابھی کو ڈھونڈنے میں تمہادی مدد کرسکتے تھے۔”

روحان بہت طیش میں تھا ۔اسے لگ رہا تھا کہ یہ سراسر غداری تھی جو اس نے انکے سنگل ٹیٹراگونل گروپ میں لڑکی کا شوق پال کے کی تھی جبکہ ابھی وہ سب اس بات سے انجان تھے کہ پہلاغدار تو ارتضٰی تھا جو بہت کچھ چھپائے بیٹھا تھا ۔

“میں تے پہلے ہی کہیا سی دوست دوست نہ رہا۔”

(میں نے تو پہلے کہا تھا دوست دوست نہ رہا ۔”

سب سے زیادہ صدمے میں احمد تھا اور بار بار واسق کو حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ جو حددرجہ کھڑوس نظر آتا تھا ایک لڑکی کیلئے نرم گوشۂ اور سب سے بڑھ کے ٹوٹا ہوا وائلن جو اسکے بیگ سے برآمد ہوا تھا ۔چونکہ جائے وقوع پہ اسکے ہمراہ تھا اسے ہی سب سے لیٹ خبر ملی تھی جسکا غم ہی اسے کھائے جارہا تھا ۔

“اسی ڈرامہ بازی کے ڈر سے نہیں بتا یا تھا اور یہ بھابھی کہاں سے ہوگئی میں تو جسٹ اس سے مل کے بلکہ اس جھوٹے بچے سے مل کے اس جھوٹ کی وجہ پوچھنا چاہتا ہوں۔”

واسق نے ٹھوڑی پہ ہاتھ پھیرتے صفائی پیش کی ۔

“واقع ایسا ہے ؟” ارتضٰی کی سوالیہ نظروں پہ وہ جزبز ہوا وہی۔سارے فساد کی جڑ تھا جسکو جھوٹ سچ بتایا اور اس نے ڈھونڈورا پیٹا تھا۔

“چلو مان لیا ایسا ہی ہے مگر تمہیں کیا فرق پڑتا وہ سچ بول رہے یا جھوٹ پہلے تو یہ بتاؤ یہ وائلن یہاں کیوں ہے؟”

روحان کے سامنے اس نے سر جھکائے نظریں نیچی کرلیں اسکے نزدیک اگر وہ انہیں بتاتا کہ وہ پہلی نظر میں اسکی محبت میں گرفتار ہوا ہے یقیناً لوو ایٹ فرسٹ سائٹ کا نظریہ سنتے ہی وہ زیادہ اسکا ریکارڈ لگانے والے تھے۔۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

“ہولوگرافک ٹیکنالوجی جب خلا سے سیٹلائٹ پر ہولو گرافک لہریں بھیجی جاتی ہیں تو یہ سوڈیم کی تہہ سے ٹکرا کر زمین پر ایک سکرین کا منظر پیش کرتی ہیں اور ایک ایسا نظارہ پیش کرتی ہیں جو اس قدر حقیقی ہوتا ہے کہ انسان دنگ رہ جائے گا۔ “

ارتضٰی نے بغور اسکے چہرے کے بدلتے تاثرات کو دیکھا اتنا بد دل ہوکے وہ پرینزنٹیشن دے رہی تھی کہ حد نہیں۔

اپنے چہرے پہ اسکی ٹکیں نظریں محسوس کرتے اس نے بھی گھوری سے نوازا ۔ارتضٰی کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی جسے ہونٹ مسلنے کے انداز میں اپنے ہاتھوں کی آڑ چھپایا۔

“اس ٹیکنالوجی کے ذریعے خلا سے ہولو گرافک پینٹ کی شعاعوں کو زمین کی طرف بھیج کر کسی بھی مخصوص شہر کی شکل وصورت کو مکمل طور پر بدلا جا سکے گا۔ “

اسکی حرکتیں معروش کو کنفیوژ کرنے لگی تھیں حالانکہ کانفرس روم میں موجود سب لوگ اسے ہی دیکھ رہے تھے جو آج کچھ نیا لائی تھی جو انکو سوات مشن میں کام آنے والا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *