Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 24)Part 1,2

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

تو جو بھی بول مگر ہمکلام رہ مجھ سے

تو جانتا ہے۔۔ مجھے چپ سنائی دیتی ہے۔۔۔

انوشے کا شدید نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا روحان کی حالت اس سے بھی زیادہ خراب تھی خالی دل ،خالی ہاتھ لیے جیسے کوئی قیمتی متاع حیات لُٹا کے بیٹھا ہو ۔

“جن سے محبت کی جاتی انہیں درد نہیں دیا جاتا روحان ۔”واسق نے اسے تاسف سے دیکھتے کہا۔

“مجھے جو ملا میرے رب کا فیصلہ تھا میں اس پہ راضی ہوں ،بہت کچھ ایسا بھی ہے جو پوشیدہ ہے غلطی میری بھی ہے کہ مجھے پہلے دن تم لوگوں پہ سب راز منکشف کردینے چاہئے تھے مگر کچھ مصلحتوں نے قفل زبان کیا تھا۔” واسق کا تھکا تھکا انداز دیکھتے سب چونکے۔

“کونسے راز واسق ؟”ارتضٰی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے جاننا چاہا۔

“بس کچھ دن اور بہت کچھ سارٹ آؤٹ ہوجائے گا میں نے پہلے بھی کہا تھا روحان انوشے کو ایسے گناہوں کی سزا نہ دو جو اس نے نہیں کیے۔”واسق کا بس نہیں چل رہا تھا روحان کو تھپڑ لگائے ۔

تبھی وہاں میجر ضیاء اور مختیار صاحب آئے تھے۔روحان انکے گلے لگتے سسک اٹھا۔اسکا اس دنیا میں کوئی بھی نہ تھا ڈاکٹر حسیبہ کے علاوہ ایسے میں انوشے جو اسکا سب کچھ تھی اپنے غصے اور جھؤٹی انا میں آج اسے بھی اس مقام پہ لے آیا تھا جہاں زندگی کی انمول کہکشاں موت کے پروانوں سے مڈ بھیڑ کررہی تھی۔

لٹے پٹے مسافر کی طرح وہ بس اس کے ٹھیک ہونے کی دعائیں کررہا تھا جبکہ واسق کے علاوہ سب ندامت سے سر جھکائے ٹہرے تھے ۔

༻━━━━━⊱༻

اسلام آباد کے موسم نے ہمیشہ کی طرح بنا بادل برسات کی تو وہ بھی سب کام چھوڑے گھر آگیا ۔احمد ،روحان کی طرف سے شدید طنزو مزاح کا سامنا کرنا پڑا تھا مگر وہ تو وسام کے معاملے میں اچھا خاصا ڈھیٹ ثابت ہوا تھا۔

کچن سے اٹھتی خوشبو نے اسے اپنی جانب کھینچا جہاں چئیر پہ بیٹھا شموئیل، وسام سے اپنی من پسند پکوڑے بنوا رہا تھا۔

“واہ بھائی بڑے مزے چل رہے ہیں یہاں لوگوں کے اور ایک ہم ہیں کوئی ہمیِں پوچھتا نہیں۔”شموئیل کے قریب بیٹھتے اسکی جانب فقرہ اچھالا جو ابھی بھی اپنی چادر کو نماز کے اسٹآئل میں اوڑھے کام میں مشغول تھی۔

“شموئیل کا دل ہورہا تھا تو اسکی فرمائش پوری کی ۔”

سادگی سے جواب دیے وہ اپنے کام میں مشغول ہوگئی ۔

آہاں تو وسام باجی آجکل فرمائش پوری کرنے والے مشن پہ ہیں اوکے دین فری ہوکے میرے روم میں آئے گا ۔میرے روم کا کچھ کام ہے جو میں نے فرمائش پہ کروانا ہے۔”

واسق نے شموئیل کے بال بکھیرے وسام کے پاس ٹہر کے کہا تو اس نے “جی آجاؤنگی۔” کہہ کے اسے ٹالا۔

وہ فریش ہونے روم کی طرف بڑھ گیا تو وسام اسکیلئے بھی چائے کے ساتھ ہلکا پھلکا ریفریشمنٹ لے آئی۔

“ایک کپ کیوں کیا آپکو میرے ساتھ چائے پینا پسند نہیں جبکہ میں تو ڈیوٹی چھوڑے یہاں آپکیلئے آیا تھا۔”

اسکے ہاتھ میں اکلوتا کپ دیکھ اس نے منہ پھلایا تو وہ وسام کو بھی ہنسی آئی۔

“کیا صاحب آپ ایسے کروگے تو مجھے ہنسی آئے گی۔”

ہونٹوں پہ ہاتھ رکھے اس نے اپنی ہنسی چھپائی جبکہ وہ تو ابھی تک اسکی ہنسی کی چھنکار کے سحر سے نہیں نکلا تھا۔

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں۔۔

واسق نے بیچارگی سے کہتے اسکی جانب ہاتھ بڑھائے اپنے حصار میں لیا ۔وہ اسکی بے ساختہ حرکت پہ تھوڑا للجائی۔

“ہم نے شموئیل کو۔۔۔” اس نے کچھ کہنا چاہا مگر واسق کی اگلی حرکت نے بات ادھوری چھڑوا دی ۔

یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی

یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا ۔۔۔

اسکے ماتھے پہ نرمی سے بوسہ دیتے مزید اپنے قریب کیا۔

“کک کیا کررہے ہیں صاحب۔” ساگر آنکھوں میں خوف کے سائے لہرائے تھے۔

“آپ کی ہنسی کو خراج پیش کررہا ہوں ۔”لہجے سے چھلکتی چاشنی پہ وہ مسمرائز سی ٹہری تھی۔

“چچ چائے ٹھنڈ۔۔شش بہت بولتی ہوتم خاموش رہو ان لمحوں کو مقید کرو۔”اسے بولتا دیکھ شہادت کی انگلی اسکے گلابی ہونٹوں پہ رکھی مخمور لہجے میں کہتے خاموش کردیا۔

کمرے میں پھیلی پراسرار خاموشی اور خوبصورت رشتے کا احساس نے ایک فسوں سا طاری کررکھا تھا۔جہاں وسام کی جان ہوا ہونے لگی تو وہیں واسق کے بے لوث جزبوں نے اپنا آپ منوانے کیلئے سر اٹھایا ۔اتنی محبت پاکے وہ خود کو دنیا کی خوشنصیب لڑکی گردان رہی تھی ۔جبکہ واسق تکمیل عشق پہ شاد سا تھا وہیں اپنی زندگی کو اس نہج پہ دیکھ وہ بھی مطمئن تھی۔

کھڑکی سے جھانکتا چاند واسق کی ہوش ربا سرگوشیوں پہ سہمی سہمی سی وسام کو دیکھتے اداسی سے بادلوں کی اوٹ میں ہوگیا جہاں محبتوں کی برسات نے وسام کو اپنے سحر میں جکڑے پور پور بھگویا وہیں بادلوں نے بھی روتے اس ادھورے ملن پہ اپنا غم غلطاں کیا۔

༻━━━━━⊱༻

یونیورسٹی میں دو تنظیموں کی لڑائی کے دوران کھلبلی مچی تھی اور اسی دوران انوشے غائب ہوگئی ۔میجر ضیاء کی جان پہ بن آئی ۔ وہیں روحان پہ جذبات منکشف ہوئے کہ وہ نک چڑی لڑکی کب اسکے دل میں گھر کرگئی پتا ہی نہیں چل پایا تھا ۔وہ بنا کسی پلینگ اور ورک کے سہیل خان پہ چڑھ دوڑا تھا اور اسوقت وہ اسکی کسٹڈی میں تھا۔

“بتاؤ انوشے کہاں ہے ۔” جب اسے مار مار کے وہ خود بے حال ہونے لگا تھا تو احمد نے اسے سہیل سے الگ کیے ایک طرف بٹھایا۔

“تم سب لوگ ملے ہوئے تھے یہ تو اسی دن پتا چل گیا تھا جب تم لوگ اسکے ساتھ کلب میں آئے تم کیا سمجھ رہے تھے کہ سہیل خان اتناآسان ٹارگٹ ہے ۔ہم تو اڑتی چڑیا کے پر گننے والے ہیں بچا سکتے ہو اپنی مینا کو تو بچا لو تم کیا تمہاری پوری آرمی بھی آجائے تم اسے نہیں بچا سکتے۔”

سہیل خان کی چلینجگ آئیز روحان پہ ٹکی تھیں جب اسکی برداشت کا مادہ ختم ہوا اور پھر سے اسے مارنے لگا تھا۔

دن رات کی بڑھتی پریشانی جبکہ آئی۔ایس۔آئی بھی اسکا نشان تک نہیں ڈھونڈ پارہی تھی تبھی اغوا کاروں کی کال آئی تھی ۔جس نے سب کو ہی شاک دیا تھا۔

انہیں سہیل خان کے علاوہ وسام اور شموئیل بھی چاہئے تھے۔ گتھی بڑی آسانی سے سلجھی تھی اور وہیں واسق کیلئے ایک اور صدمہ لائی تھی جب اسے بتایا گیا کہ ابرق ہی وہ شخص ہے جس نے سترہ سال کی عمر میں اسے اغوا کیا تھا اور شموئیل اسکا بھائی ہے۔کتنی دیر وہ صدمے سے باہر نہیں نکل پایا تھا۔

“میں وسام اور شموئیل کو بھیجنے کو تیار ہوں۔” میجر ضیاء اسکے استاد تھے جبکہ روحان کی حالت اسکے دل میں گھاؤ لگا رہی تھی ۔

اس نے اپنی خوشیوں کیلئے روحان کا دل اجاڑا تو میجر ضیاء کیلئے ایک اور صدمہ تمام حاضرین کو جیسے اسکی ذہنی حالت پہ شک ہوا تھا۔

“تم ایسا کچھ نہیں کروگے واسق وسام تمہاری عزت ہے اور شموئیل تمہاری صدیوں کی تلاش کا ثمر اتنی آسانی سے تم کیسے دستبردار ہوسکتے ہو ان سے۔” روحان کے لہجے کی سختی پہ اس نے اپنی مٹھیاں بھینچیں۔

“اسوقت انوشے کی جان اور عزت بہت عزیز ہیں ہمیں وسام ابرق کی اولاد ہے وہ اسے کچھ نہیں کرے گا۔”

واسق نے رسانیت سے کہتے حاظرین پہ نگاہ ڈالی۔کچھ لوگوں نے تائیدی نگاہوں سے اسے دیکھا جبکہ کچھ لوگوں کو اسکا آییڈیا سراسر فضول لگا تھا جن میں اسکے باپ ڈی۔جی مختیار اور میجر ضیاء بھی تھے۔

“اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اسطرح انوشے کوکوئی چوٹ نہیں پہنچائیں گے اور اسے واپس کردیں گے ؟”

ضیاء صاحب نے اسے حقیقت سے آشنا کرنا چاہا تھا۔

“آپ لوگ وہ بات کیوں نہیں سمجھ رہے جو میں سمجھانا چاہ رہا ہوں۔”واسق کی سخت آواز پہ ایک دم خاموشی چھائی تھی اور پھر وہ سب کو اپنے پلان سے آگاہ کرنے لگا تھا۔جسے کچھ لوگ بیوقوفی کہ رہے تھے تو کچھ سراہا رہے تھے ۔

“یو آر لائر ،بیڈ پرسن آئی جسٹ ہیٹ یو۔” انہوں نے شرمندگی سے اپنی پانچ سالہ بیٹی کو دیکھا ۔ایک کٹیلی نگاہ بیوی پہ ڈالی جو گم صم سی بیٹھی تھیں۔

“یو ڈونٹ لو می ،سب کہتے فوجی والے پاپا بریو ہوتے ہیں پر آپ بریو نہیں ہو آپ اسے ڈھونڈ لاتے آپکو پتا نا وہ صرف رائس کھاتی ہے ۔اسے ڈسٹ الرجی ہے وہ گندے والے انکل میری ایمی کو مارا انہوں نے ۔” وہ خود سے باتیں بنا لگا رہی تھی جبکہ اسکا رونا انہیں برداشت نہیں ہورہا تھا ایک بیٹی تو وہ گنوا چکے تھے دوسری کو کھونے کی ہمت کہاں تھی ۔

“بیٹا پلیز انجکشن لگوا لو۔” انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ خود اسے انجکشن لگا کے سلا دیتے۔

“نو آپ یہ یونیفارم اتار دیں آئی ہیٹ دس۔” بخار سے دہکتے گالوں مزید پھلائے اس نے رخ بھی موڑ لیا جبکہ وہ دونوں تڑپ اٹھے تھے۔

“میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں انو میرے لیے ہماری زندگی کیلئے بس اور کچھ نہیں چاہئیے میں وعدہ کرتا ہوں اسے کھروچ تک نہیں آئے گی ۔میں اسکی حفاظت کروں گا اپنی جان سے بڑھ کے میں واپس لے آؤں گا اسے۔”

ایک آنسو گرا تھا انو کے گال پہ ۔باپ سے ہوتی نگاہ ماں پہ گئی جو ایک ہاتھ میں دلیہ لیے اسے دیکھ رہی تھیں ۔

“مما کا کوئی قصور نہیں ہے پاپا۔”وہ ماں کی حالت کو دیکھتے باپ کو وضاحت دینے لگی۔

“آئی نو بیٹا سوری آئی واز شاؤٹ بٹ اب آپ ایسا کروگی تو میں کیسے اسے ڈھونڈو گا ۔” اسے نرمی سے پچکارتے گالوں پہ پیار کیا تو اس نے بھی بات سمجھتے ضد چھوڑی دلیہ کھایا تو ڈاکٹر نے بھی انجکشن لگا دیا تھوڑی دیر بعد وہ پرسکون سی سو رہی تھی ۔

“آپ یاونیفارم اتار دیں آئی ہیٹ دس۔” الفاظ تھے جو زہر میں ڈوبے تھے اپنی بیٹی کے منہ سے اس عظیم وردی کیلئے کچھ برا سننا جو انکی پہچان تھا کچھ آسان نہ تھا مگر وہ اسے سمجھا نہیں سکتے تھے کہ جب انکی وردی کی ہی وجہ سے پرسنل تھریٹ کیا جائے تو اس وردی کا قرض اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

یہ کیپٹن ضیاء تھے جنکا کل سرمایہ انکی شادی کے دس سال بعد عطا کی جانے والی بیٹیاں تھیں ۔ جہاں انہیں وانا آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد تنظیم کے خلاف ایک بہترین کامیابی ملی وہیں انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہوئیں۔ بنا انہیں سریس لیے وہ اپنے کام میں مصروف تھے ۔

ایک دن سکول سے واپسی پہ انوشے اور ایمان کی گاڑی کو حادثہ پیش آگیا ۔ضیاء صاحب کے پہنچنے تک ایک اور بری خبر منتظر تھی کہ یہ حادثہ جان بوجھ کے کروایا گیا تھا اور ایمان غائب تھی ۔جس وقت گاڑی پہ اٹیک ہوا انوشے سیٹ کی طرف جھکی تھی جبکہ فرنٹ سیٹ پہ موجود ایمان ان لوگوں کے ہاتھ چڑھ گئی بیک سائیڈ پہ کسی نے بھی توجہ نہیں دی تھی۔

اغواکار ڈرائیور کو چھلنی کیے ایمان کو لے کے غائب ہوگئے تھے ۔انوشے کا ننھا دماغ اتنا سب کچھ سہہ نہیں پایا اور وہ بے ہوش ہوگئی۔انتہائی نگداہشت کے وارڈ میں اسے رکھا گیا تھا وہیں اسکی آنکھوں کے سامنے سے ڈرائیور کی موت اور روتی ایمان کو زبردستی کھنچتے لے جانا اسکے دماغ پہ کسی کورے کاغز پہ لکھے الفاظ کی طرح تحریر ہوگیا جہاں ہوش سنبھالتے اسے اتنا یاد تھا کہ فوجی وردی میں ملبوس ڈرائیور انکل اسکی ایمان کو نہیں بچا سکے ۔۔۔

“سر” روحان کے سلیوٹ پہ وہ ماضی سے نکلے تھےآنکھوں میں جمع پانی کو صاف کیا۔

“کوئی خبر روحان؟”انکے چہرے پہ یاس وآس کی امید چمکی۔

“سر کل شام تک وہ آپکے پاس ہوگی انشاءاللّٰہ۔” روحان کے ارادوں کی پختگی بھی انہیں سکون نہیں دلا سکی۔

“میں نے اسے کہا تھا میں ہمیشہ اسے پروٹیکٹ کرونگا مگر نہیں کرسکا اور آج میں نے اپنی انو کو بھی کھو دیا۔”

میجر ضیاء کی پہلی بیٹی کے بارے میں ان سب کو ہی پتا تھا کہ دہشتگردوں نے اسے اغوا کیا تھا اور معصوم بچی کو اپنی وحشت کا نشانہ بنائے اسے باقاعدہ گلے میں رسی ڈال کے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا اور ساتھ میں تصاویر بنا کے انہیں بھیج دی گئیں۔

یقیناً یہ المناک مقام تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ ان کے بھی زخم بھر گئے ۔اب پھر سے کسک جاگ اٹھی تو کیا انکی انوشے کا بھی وہیں حال ہونے والا تھا ؟

༻━━━━━⊱༻

“تم یہاں سوؤگے؟”معروش نے ناگواری سے اسے دیکھتے کہا۔

“جی بلکل یہ بیڈ ہے اور یہ سونے کیلئے ہی ہوتا ۔”اسکے انداز کو اگنور کیے ارتضٰی نے آگے بڑھتے اپنا تکیہ سہی کیا ابھی وہ لیٹنے لگا تھا کہ کمر میں کسی چیز کی چبھن ہوئی وہ ایک دم سیدھا ہوا۔ابھی تو ایسا کچھ نہ تھا اس نے آنکھیں پھاڑے بستر پہ پڑے ہئیر برش کو دیکھتے اسکی جانب نگاہ گئی جو تسلی سے ڈریسنگ کے سامنے ٹہری دونوں بازو سینے پہ باندھے اسے دیکھ رہی تھی ۔

“تم یہاں نہیں سوسکتے.” کندھے اچکائے اسے فائینل فیصلہ سنایا۔

“کیوں ،کیوں نہیں سو سکتا یہاں؟” برش کو فرش پہ پٹختے وہ پھر سے لیٹنے لگا۔

“کیونکہ مجھے یہاں سونا ہے۔” انتہائی معصومیت بھرا جواب آیا۔

“تو سوئیں ویسے بھی اس کمرے میں آپکے آنے سے ہمارے بھاگ جاگ اٹھے ہیں۔” بھرپور شرارتی متبسم لہجہ معروش کو چڑانے کو کافی تھا ۔

“اوکے تو پھر میں اپنے روم میں جارہی ہوں۔” اسے دھمکاتے باقاعدہ دروازے کی جانب قدم بڑھائے ۔گھر مہمانوں سے بھرا تھا ایسے میں اس فضول لڑکی کی حرکت صرف جگ ہنسائی کا سبب بنتی۔

“کوئی تماشہ نہیں چلے گا ابھی ایک دن میں کنٹریکٹ نہیں نبھا سکیں آپ۔” ارتضٰی نے سنجدگی سے کہتے اسکی طرف پیش قدمی کی۔

“کونسا کنٹریکٹ میں کسی کنٹریکٹ کو نہیں مانتی اوکے یو چیٹر۔”اسکے بڑھتے قدموں کو اگنور کیے ڈور اوپن کیا وہیں ارتضٰی نے ایک جست میں اسے جالیا۔

“کونسی زبان سمجھ آتی ہے آپکو جب کہہ رہا ہوں آج سے یہ آپکا ٹھکانہ ہے پھر خواہ مخواہ کی بحث ۔” دونوِں بازو سے جکڑے اپنے سامنے کیا ۔

“مجھے نہیں رہنا تمہارے ساتھ۔”انتہائی بدتمیزی سے کہتے خود کو چھڑوایا۔

“لیکن مجھے آپ کے ساتھ ہی رہنا ہے مسسز ارتضٰی۔” حق ملکیت جگاتا انداز معروش کو ایک دم چپ کروا گیا ۔

“معروش حیات ہوں میں۔” اس نے گویا تصیح کی۔

“لٹل۔کریپٹو کوئین ہیں آپ۔” اگر ارتضٰی کا حوالہ منظور نہیں تھا تو سابقہ حوالہ بھی پیش کیا گیا۔

“کم ظرف لوگوں سے اور توقع کیا کرسکتے ہم بلیک میلر۔” رخ موڑتے شدید ناگواری دکھائی۔

“کم ظرف لوگ آپکو بتائیں گے کہ کم ظرفی کا پیمانہ ہوتا کیا ہے۔” انتہائی میانہ رویہ اختیار کرتے اسے اپنے بازو میں اٹھائے بستر کی طرف بڑھا تھا جبکہ اسکی ہمت پہ تو معروش کو پتنگے لگے تھے۔کسی متاع زیست کی طرح سنبھالے اسے بستر تک لایا۔

“کہا نا مجھے آپکے۔۔” معروش کا نے پہلے سے زیادہ تلخ رویہ اپنایا۔

“چپ ایک دم چپ، مجھے فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے کیا کہا کیا نہیں مگر جو میں نے کہا آپ اس پہ پابند ہونگی آج سے۔” اپنی طرف کی کروٹ بدلتے اس نے معروش کو آزاد کیا۔

“کیا سوچ کے تم اتنا حق جتا رہے۔”اسے اپنے دماغ کی نسیں پھٹتی محسوس ہوئیں۔

“شوہر سے کبھی اسکی سوچوں کا نہیں پوچھتے اور نہ ہی حقوق کو چیلنج کرتے ۔”وہ جو مسلسل اسے اگنور کیے خود کو کول رکھنے کی کوشش میں تھا۔معروش کی بات پہ سیدھے ہوتے اسے اپنے پاس مقید کیا ۔معروش کی جان اٹکی تھی اسکے لہجے کی سختی کو دیکھتے جبکہ گرفت کی نرمی بھی اسے جھلسانے لگی ۔

“میں کسی معمالے میں آپ سے سختی نہیں کرنا چاہتا ۔پورے دل سے یہ رشتہ نبھانے کی کوشش کرونگا مگر شرط یہی ہے کہ آپ بھی پرسکون رہیں اور اس چیز کی بھی شیورٹی دیتا ہوں کچھ بھی آپکی مرضی کے خلاف نہیں ہوگا۔” متحمل لہجہ اسکی تمام بدتمزیوں کو اگنور کیا گیا۔

مگر وہ معروش حیات ہی کیا جو کبھی کچھ سمجھ جائے اپنا تکیہ اٹھائے صوفےکا رخ کیا تو ارتضٰی نے بھی اسے اس ٹائم اگنور کرنا ہی مناسب سمجھا۔

رات ایک بار پھر سے اداس سی ان شناسا اجنبی لوگوں کو دیکھتے سرکنے لگی تھی۔ دونوں ہی اپنے آپ میں لڑنے میں مصروف تھے معروش کو اپنا کمزور پڑنے پہ غصہ آرہا تھا۔ارتضٰی کو اسکا کسی طرح بھی کمپرومائز نہ کرنا چڑا رہا تھا ۔

دنیا کے اصولوں میں دو فریقان کے مابین ہر جنگ کی فتح لکھی ہوئی سوائے اس جنگ کی جس میں دونوں طرف “انّا” کے جھنڈے بلند کیے سر خروئی کی توقع کی جارہی ہو ۔اس جنگ کی سپہ سالار “محبت” ان دو فریقوں میں اپنی جگہ تلاش کرتی پھررہی تھی جسے اس جنگ کی غدار انا ہر بار پیچھے دھکیل دیتی۔

༻━━━━━⊱༻

” سیانے کیندے نے یار گواچے مل جاندے پر ہینڈ فری گواچے کدی نی ملدے ۔”

(سیانے کہتے گمشدہ دوست مل جاتے مگر ہینڈ فری نہیں ملتے۔)

احمد کی بات پہ اس نے زبردست گھوری سے نوازا جبکہ اتنے سٹریس ماحول میں بھی انوشے ہنس اٹھی۔

“ایسے یاروں کو ڈھونڈنے سے تو اچھا بندہ موت کو گلے لگا لے۔”روحان کے چڑنے پہ انوشے کی طرف سے زبردست گھوری پڑی تھی۔

انوشے کو لے کے جتنا وہ سٹریس آؤٹ ہوے اس نے انکی مشکل اتنی آسانی سے ہی سولو کرلی تھی۔بچپن میں سیکھائے گئے تیکونڈے کراٹے چمپئن بننے کے ہنر نے بہت اچھے سے کام کیا۔ادھر سہیل خان کو جب روحان کے آخری حد تک کے ٹارچر کو برداشت کرنا حد سے باہر ہوگیا۔ اسے انوشے کا پتا بتانا پڑا تھا جو کہ دامن کوہ پہ بنائے گئے ان کے اڈے جنگلات اور پتھریلے پہاڑوں کی روش میں چھپا تھا۔سہیل خان کی معیت میں چھاپا ڈالا گیا تو وہاں پڑے نڈھال دو آدمیوں کے زبانی انوشے کے فرار ہونا کا پتا چلا تھا۔پریشانی اب حد سے بڑھ گئی کیونکہ زمین سے پانچ سو فٹ بلندی پہ واقع سلسلہ مرگلہ کے پہاڑوں پہ مشتمل ہے اس جگہ پہ کئی بار خطرناک درندوں کو دیکھا گیا تھا ۔جبکہ باندروں کا یہ مسکن تھا ۔

ان افراد کو فورس کے حوالے کیے وہ اور احمد انوشے کی تلاش میں گھنے جنگلات میں پھر رہے تھے۔ عام طور پہ اس موسم میں خطرناک چیتے بھی یہاں سے گزرتے مری کا رخ کرتے ہر خطرہ سے تیار وہ دونوں انوشے کو ڈھونڈ رہے تھے۔یہ کم گنجان آباد علاقہ تھا مونال اور پیر سوہاں کی طرف بڑھتے لوگ کم ہی یہاں پہ رکتے تھے ۔کیکر کے دیوقامت درختوں سے خود کو بچاتے وہ اس سر پھری لڑکی کو آوازیں بھی دے رہے تھے۔ماحول میں چھائے سکوت کبھی کسی گاڑی کی آواز چیرتی جس سے اتنا اندازہ ہورہا تھا کہ وہ لوگ روڈ کے نزدیک ہی ہیں۔جبکہ ہائیکنگ کیلئے بنائے گئے ٹریکس پہ چلتے وہ آسانی سے روڈ تک پہنچ سکتے تھے۔اپنی سوچوں میں الجھتے چیخ پہ وہ رکے تھے۔سانسوں کا ردھم مزید تیز ہوا روحان بنا سوچے سمجھے آواز کا تعین کرتے اسطرف بھاگ رہا تھا ۔

“کیا ہوگیا یار تھوڑا صبر رکھ ۔” ایک نوکیلے پتھر سے ٹکراتے وہ منہ کے بل گرا تھا تبھی احمد کی برداشت بھی جواب دے گئے۔

“ایک بار یہ لڑکی میرے ہاتھ لگ جائے آئی سوئیر میں خود اسکا گلہ دبا دونگا صبر نہیں کرسکتی تھی کچھ منٹ۔” روحان کو شدید غصہ آرہا تھا جو اپنی جلدبازی کی وجہ سے خود کو نجانے کونسی مصیبت میں مبتلا کرگئی تھی۔

“بڑی ماڑی گل کیتی اے اس نوں الہام ہونڑا جے اویندے پرونڑے انوں لینڑ آرے۔”(بہت فضول بات کی پے اسے الہام ہونا تھا کہ اسکے رشتہ دار اسے لینے آرہے۔)

احمد کو اتنے سینسبل انسان کی حرکتیں طیش ہی دلا رہی تھیں جو دماغ کی کم اور دل کی زیادہ سن رہا تھا ۔

“سچ کیندے نے سیناڑے اے محبت بڑی ماڑی چیز چنگے بھلیا نوں عقلوں پیدل کردیندی۔” (سچ کہتے ہیں سیانے لوگ کہ یہ محبت بہت بری چیز ہے جو انسان کو عقل سے بیگانہ کردیتی).

اپنی حفاظی کِٹ سے رومال نکالے اسکے پاؤں سے رستے خون پہ رکھے ۔پتھر اتنا نوکیلا تھا کہ اسکے شوز تک پھٹ چکے تھے۔جبکہ وہ بے چین سا ابھی بھی آگے بڑھنے کو اتاؤلا ہورہا تھا۔

“ول۔یو شٹ اپ احمد پلیز اس موقعے پہ بھی تمہیں جگتیں سوجھ رہیں۔”روحان کے چہرے پہ تکلیف کے واضع آثار تھے وہیں اب کے چیخنے کے ساتھ رونے کی آوازیں بھی آئیں ۔وہ دونوں اسی طرف لپکے۔

“انوشے”روحان چلایا تو احمد نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا ۔

“پاگل ہوگئے تم تمہارے اسطرح چلانے سے وہ مزید مصیت کا شکار ہوسکتی۔” روحان اسکا ہاتھ جھٹکتے پھر سے عمل دہرایا۔

“توں میرا باپ نہ بن مجھے پتا کیا کرنا ہے یا کیا نہیں۔”

احمد نے اسے تاسف بھری نگاہوں سے دیکھا وہیں کہیں فائر کھلا اور پھر بندروں کی چیں چیں کے ساتھ انوشے کی بھی چیخیں ابھریں۔

اب کے وہ کافی نزدیک تھے ۔جبھی احمد کی نگاہ شاخ سے لٹکتی انوشے کی طرف گئی آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگی تھیں۔ نیچے بندروں کا جھنڈ ناگواری سے اسے دیکھ رہا تھا جس نے انکی صفت اپنائی ہوئی تھی اور انکے ٹھکانے پہ قبضہ کر رکھا تھا۔روحان کی حالت بھی احمد جیسی ہی تھی تھوڑی دیر پہلے والی فکر اور تفکر کہیں دور جاسویا تھا ۔

“نیچے اترو یہ کیا بندروں والی حرکت کررہی۔”روحان اپنے جلالی روپ میں لوٹ آیا تھا۔

“نو آئی ول ناٹ کم ڈاؤن دس براؤن منکی بائٹ می۔”اس نے آنکھوں میں آنسو بھرتے کہا ۔

بندروں کو جیسے اسکی بات پسند نہیں آئی تھی وہی بھورے رنگ کا بندر پھر سے درخت کی جانب بڑھا اور ساتھ انوشے کی اندوہناک چیخیں ۔اب کے روحان نے تفکر کے بجائے ناگواری سے اسے دیکھا شولڈر کٹ بال جہاں چڑیوں کا گھونسلا بنے ہوئے تھے وہیں سلیولیس بازو پہ کئی جگہ خراشیں نمودار ہورہی تھیں۔دونوں ہاتھوں کو شاخ سے تھامنے کی وجہ سے اسکی شرٹ اوپر کو اٹھ رہی تھی اگر یہ کوئی نارمل مقام ہوتا تو اسکا حسن دعوت نظارہ ہی دے رہا تھا ۔بندروں کے جھرمٹ میں اسکی چیخ کو دیکھتے کھلبلی مچی تھی ۔شاید کوئی شکاری بھی یہاں موجود تھا جسکے گن فائر کی نکلتی آواز پہ وہ بندر چیختے درخت کی جانب بڑھتے وہیں انہیں اپنے قریب دیکھ انوشے چیختی یقیناً یہ ایک دلچسپ منظر تھا ۔

“نیچے اترو تم۔”اسکا تفصیلی جائزہ لیتے وہ غراتے قریب آیا ۔انوشے کا سر ابھی بھی نفی میں ہل رہا تھا ۔روحان کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا تھا اور خود درخت پہ چڑھنے لگا تو انوشے نے بھی اترنے میں عافیت جانی۔

“وہاں سب اسکی گمشدگی پہ پریشان تھے جبکہ یہاں محترمہ بندروں کی ہمراہی میں اپنا شغل میلہ لگائے ہوئے ہیں۔”روحان کی بڑبڑاہٹ واضع تھی۔

“میں نے کہا تغا ڈھونڈیں مجھے مجیر ضیاء کی بیٹی اتنا آسان ٹارگٹ نہیں ہے مسٹر روحان جو آپ بٹالین کو لے کے نکل پڑے۔” وہ ناک پر سے ان دیکھی مکھی اڑاتے بولی۔

احمد اور روحان کو تو شاکڈ لگا تھا۔

“آئیندہ کبھی مر بھی رہی ہوئی نا یہ لڑکی تو میں اسے بچانے نہیں آؤنگا۔”روحان کو اپنے زخم سے ٹیس اٹھتی محسوس ہوئی ۔

اسکی پریشانی کم ہوئی تو پھر سے سوچوں کے تانے بانے ابرق اور سہیل خان کے گٹھ جوڑ کی طرف مڑے دشمن ابھی بھی کھلے سانڈہ کی طرح گھوم رہاتھا۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

“کیا یار لوگ ہنی مون پہ لندن پیرس جاتے اور ہم ۔۔۔۔”

ارتضٰی کی دہائی پہ واسق بھی مسکرایا جبکہ روحان اداس سا بیٹھا جھیل میں کنکر پھینک رہا تھا ۔دماغ کے سارے دھاگے آئی۔سی۔یو میں پڑی انوشے کی طرف لگے تھے۔

“روحان یار ایسے اداس گھومنے سے کیا ہوگا بہتر تھا کہ تم منع کردیتے۔” اسکی اداسی کو دیکھتے واسق نے اسکے شانے پہ ہاتھ رکھا ۔

“یہ مشن بھی تو اہم ہے اسکے پاس تو اسکی فیملی ہے اور یہ بے گھر لوگ ہمارے منتظر ہیں۔”

اسوقت وہ سوات کے علاقے پیوچار سے کچھ دور فوجی مورچہ سنبھالے بیٹھے تھے جہاں مکھی کی جسامت جیسا ڈارون اڑتے ہوئے علاقے کی نگرانی کررہا تھا۔

یہ مکمل ایک فوجی کمانڈوز آپریشن ہونے جارہا تھا جہاں پہ پیوچار ویلی کی حدود میں دہشتگردوں نے اپنے ٹریننگ سنٹر کھول رکھے تھے وہیں اپنے لیے حفاظت اور پاکستان کے خلاف متحرک تنظیموں کے ساتھ کیلئے ایک مضبوط قلعہ بنا چکے تھے۔

مقامی لوگوں مکمل طور پر انکے قبضے میں بے بس ہوکے رہ گئے۔ایسے میں یہ آپریشن نہایت اہمیت کا حامل بھی تھا۔جہاں کئی لوگوں کو زندہ سلامت بازیاب کروانے کے ساتھ اس گروہ کو کیفرکردار تک پہنچانا انکا مشن تھا۔

احمد،منصور اور نصراللّٰہ دوسری طرف کا مورچہ سنبھالے بیٹھے تھے ۔اس وقت وہ سستانے کیلئے ایک جگہ پہ رکے تو سیکیورٹی برئیرز کیلئے مورچے بنائے سنائپرز گن تیار رکھی ہوئی تھیں۔

انٹیلی جنس رپورٹ پہ اس وقت وہ ایسے علاقے میں موجود تھے جو کبھی بھی ان وردی والوں کیلئے کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا تھا۔

پچاس افراد پہ مشتمل کمانڈوز نے کے اس دستے نے جیسے ہی سوات کی سرزمین پہ قدم جمائے انکا گولیوں کی تڑتڑاہٹ سے استقبال کیا گیا۔کیونکہ دشمن کے دماغ سے کھیلنے کیلئے پہلے ہی وہ انسانی ہیولے وہاں پہ ظاہر کرچکے تھے ۔اپنی دانست میں کمانڈوز کو اتنا آسان ٹارگٹ دیکھتے بھاری تعداد میں انہیں فائرمگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اپنی کامیاب اسٹریجڈی سے انکا مائنڈ ڈائیورٹ کرتے اپنی اپنی پوزیشنیں سنبھال چکے تھے ۔

جبکہ انہیں پہلے ہی سٹاف کمانڈو علاقے میں دشمن کی پوزیشنز سے آگاہ کرچکے تھے جہاں انکے سنائیپرز بھی تگڑی پوزیشن میں تھے وہیں ان کمانڈوز نے “اللّٰہ ہو اکبر”اور “نعرہ تکبیر” کی صدا بلند کیے دشمن پہ یلغار بلند کی۔جبکہ اپنے اصل ہدف کے تعاقب کی طرف بڑھتے ان کمانڈوز کو ابھی کئی پتھریلی گھاٹیوں سے گزر کے جانا تھا ۔

“میں نہیں جانتا کہ یہ بات اس موقعے پہ کرنی چاہیئے یا نہیں مگر روحان انوشے بے گناہ ہے ۔تم اسے شموئیل یا وسام سے جوڑے اتنا ٹارچر نہ کرو ۔اگر میری قسمت میں ہوا تو وہ مجھے مل جائے گی اگر زندہ رہا تو ہمارا مجرم بہت جلد ہمارے پاس ہوگا ۔”واسق نے بھرپور تھپکی سے اسے نوازا جبکہ روحان جانتا تھا کہ مجرم کون ہے ۔تقریباً چار سے چھ گھنٹے ہوگئے تھے ان لوگوں کو پیدل چلتے جبکہ اتنا ہی سفر باقی تھا۔

༻━━━━━⊱༻

ٹینس کورٹ میں موجود وہ احمد کا انتظار کررہا تھا جب وہ اسے اپنی دوستوں کی ہمراہ کلب میں داخل ہوتی نظر آئی روحان نے مکمل اگنور کرتے خود کو موبائل میں مصروف ظاہر کیا۔

“ہائے مسٹر لفٹیننٹ کیسے ہیں آپ؟”دونوں بازو سینے پہ باندھے وہ اسکے سر پہ ٹہری تھی۔ دامن کوہ سے واپسی کے بعد آج انکا سامنا ہورہا تھا۔

“فائن۔”یک لفظی جواب پھر سے خاموشی ۔

“انو آجاؤ یار ۔”ردا نے اسے اپنے پاس بلایا تھا روحان نے بھی ایک نظر اسکی دوست کو دیکھا جو منی اسکرٹ کے ساتھ ٹائٹ جینز پہنے مردوں کو بخوبی اپنی جانب متوجہ کررہی تھی انوشے کا لباس بھی اس سے ملتا جلتا تھا صرف اتنی رعایت تھی کے گلے میں مفلر ڈالا ہوا تھا۔

“مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔” روحان نے موبائل سائیڈ پاکٹ میں ڈالتے انوشے کو متوجہ کیا ۔جبکہ انوشے نے اس مغرور انسان کے بلانے پہ بغور اسے دیکھا ۔ اسپورٹس یونیفارم میں ملبوس ہیڈ فونز لگائے فوجی ہہئر کٹ اور کلین شیو کے ساتھ انتہائی فریش نظر آرہا تھا ۔

“اگر جائزہ مکمل ہوگیا ہو تو چلیں؟” اسکی حرکت کو اگنور کیا تھا ۔

“کیا مطلب چلیں؟کیا ہم کہیں جانے والے ہیں بات یہاں بھی ہوسکتی۔” انوشے کا اسکو کمپنی دینے کا موڈ نہیں تھا۔

“اوکے ایز یو وش ،میں مما کو سر کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں ہمارے رشتے کیلئے۔”صاف ستھری کھری بات بنا کوئی تمہید باندھے اور وہ اسے پریشان سی دیکھنے لگی ۔

“کیا تم سیریس ہو؟”اسے روحان کی ذہنی حالت پہ شعبہ ہوا تھا۔

“جی بلکل سو فیصد سریس ہوں میرا تم سے کوئی ایسا مذاق والا تعلق نہیں۔” انوشے نے سینے پہ باندھے بازو کھولے اسے حیرانگی سے دیکھا وہیں اسکی حالت پہ محظوظ ہوتے روحان نے اپنے بازو سینے پہ باندھے۔

انوشے کو اسکی بات سر پہ لگی تھی۔

“شریف لوگوں کا یہ وطیرہ نہیں یوں بیچ چوراہے کسی کو پرپوز کرتے پھریں۔” انوشے نے طنز کا تیر پھینکا۔

“شریف لوگوں کا یہ بھی وطیرہ نہیں۔” مہبم انداز میں کہتے اسکے سراپے کی طرف انگلی کی۔

“میری مرضی میں جو پہنوں کروں میں کسی کی پابند نہیں”انوشے کو اسکی بات چبھی ۔

“آج سے پابند ہو۔” روحان نے کہتے گاگلز آنکھوِں پہ چڑھائے حتمی فیصلہ سنایا۔

“کیوں پابند ہونگی اور وہ بھی تمہاری لائیک سریسلی؟” روحان کا نفسیاتی انداز دیکھتے اس نے بھی اپنی آنکھوں پہ گاگلز چڑھائے۔

“کیونکہ آج سے تم میری ملکیت ہو۔”اس نے شانے اچکاتے سولڈ ریزن پیش کی۔انوشے کی آنکھوں میں تحیر سا جاگا تھا۔

“ملکیت ؟میں کوئی پراپرٹی ہو کیا اور سرراہ پرپوز کردینے سے یوں مجھ پہ رعب جھاڑ کے کیا ثابت کرنا چاہ رہے ہیں؟”وہ اچھا خاصا چڑ چکی تھی اسے اندازہ ہورہا تھا کہ اس نے روحان کے پاس آکے کتنی بڑئ غلطی کی۔

“وقت بتائے گا۔” بے پرکی اڑاتے وہ جانے کو مڑا تھا انوشے کو اسکی آنکھوں کے انداز عجیب سے لگے۔

وہ جاچکا تھا جبکہ وہ اسی جگہ کو گھور رہی تھی جہاں ابھی کچھ دیر پہلے وہ موجود تھا۔

“کیا کہہ رہے تھے لفٹین صاحب ؟”ردا نے آنکھ دباتے اسے شرارتی انداز میں چھیڑا کیونکہ انکی گفتگو کافی لمبی چلی تھی۔

“پتا نہیں پاگل ہوگیا ہے پرپوز کردیا مجھے۔” وہ ابھی تک غیریقینی کی کیفیت کا شکار تھی۔

“ہاں پاگل تو ہوچکا جو انوشے ضیاء کو پرپوز کیا۔”اسکی دوستوں کا مذاق اڑاتا انداز انوشے کو برا لگا تھا۔

ابھی اس بات کو دو دن بھی نہیں گزرے تھے جب ضیاء صاحب نے اسے اپنے پاس بلاتے روحان کیلئے بات کی وہ کتنی دیر چپ بیٹھی رہی جبکہ میجر صاحب اسے اس رشتے کے فوائد گنوا رہے تھے۔

“پاپا میرے خیال سے ہم دونوں کی کیمسٹری نہیں ملتی ۔”وہ لاجواب سی بیٹھی تھی اسیلئے بودا بہانہ تلاش کیا۔

“آپکو پتا ہے بیٹا جانی ہم نے آپکو لائف انجوائے کرنے کی مکمل آزادی دی سوائے اس فیصلے کے چونکہ میرے خیال سے یہ ایک بہترین پرپوزل ہے اور میری آنکھوں کی سامنے وہ ایک کھلی کتاب کی طرح ہے اور ایک مضبوط سہارا بھی آپکو کھونے کے ڈر نے مجھے ڈرا دیا ہے بیٹا اسیلئے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” ضیاء صاحب کا مخصوص فوجی کڑک انداز اسے چپ کرواگیا تھا۔

ایک ہفتے بعد میجر ہاؤس میں انتہائی خوبصورت سی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جہاں مسسز مختیار نے روحان کے گھر کے بڑے ہونے کا کردار نبھایا تھا ۔انوشے کی چپ جبکہ روحان کے چہرے پہ کھلتے گلاب کسی سے بھی پوشیدہ نہیں رہے تھے۔

موبائل پہ مسلسل موصول ہوتی گریٹنگز اور دوستوں کی طرف سے شئیر کی جانے تصاویر کو دیکھتے اسکا ہاتھ ایک تصویر پہ رکا جہاں انوشے کی نگاہیں اپنے ہاتھوں پہ ٹکی تھیں تو وہیں روحان کی نظروں کے حصار میں انوشے تھے لبوں پہ فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔

انوشے کو اس تصویر نے محصور کیا۔

“اتنا پیارا لگ رہا ہوں جو نظریں نہیں ہٹ رہیں۔”گھمبیر آواز پہ وہ بوکھلائی موبائل پھسلتے نیچے کو گرا تھا۔

“تم اسوقت یہاں کیا کررہے ہو؟” رات کے تین بجے اسے سامنے دیکھتے وہ چونکی۔

“منگنی کی مبارکباد دینے آیا ہوں ۔”سادہ سے انداز میں کہتے وہ اسکے بستر پہ دراز ہوا ۔وہ ایک دم بستر سے کھڑی ہوئی۔

“پاگل ہوگئے ہو اگر اسوقت کسی نے یوں کمرے میں۔۔”

ابھی انوشے کی بات لبوِں پہ تھی جب روحان نے اسے اپنی طرف کھینچا اس اچانک حملے کو بلکل تیار نہیں تھی تبھی اسکے اوپر آن گری۔

“یہی سمجھ لیں انوشے ضیاء کہ پاگل ہی تو ہوگیا ہوں۔ویسے کیسا لگ رہا مسسز روحان بن کے۔”روحان نے اسکے من موہنے روپ کو آنکھوں کے رستے دل میں اتارا ۔وہ اسکے رنگ ڈھنگ پہ پریشان تھی۔

“روحان تم جاؤ یہاں سے پلیز کوئی آگیا تو کیا سوچیں گے۔”انوشے کی بات سنتے وہ مسکراتے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیے کھڑا ہوا۔

اوکے ویسے کسی کو اعتراض ہونا تو نہیں چاہیئے بٹ میٹ یو سون۔” پیار چھلکاتی نگاہوں سے دیکھتے وہ جانے کیلئے قدم بڑھانے لگا۔

“بہت پیاری لگ رہی تھیں بلکل۔۔۔۔۔۔۔” روحان نے کچھ یاد آنے کی ایکٹنگ کرتے بے ساختہ تعریف کی تو وہ بھی شرما گئی۔

“بلکل ان باندری کی طرح جس نے تمہیں بائٹ کیا تھا۔۔”اپنی بات مکمل کرتے جناتی قہقہ لگایا ۔انوشے کی آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے۔

“بیبا بیلی مڑ آ اپاں پھڑے گئے تے میجر صاحب نے زندہ نی چھڈنا۔” کھلی کھڑکی سے آتی احمد کی دہائی پہ وہ چونکی۔

“تم اسے بھی ساتھ لائےہو؟”وہ ناسمجھی سے روحان کو دیکھنے لگی جب اس نے اثبات میں سر ہلائے تصدیق کرتے باہر کی طرف دوڑ لگائی۔

انوشے نے اپنی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالا۔ دوماہ بعد انکی شادی کی ڈیٹ رکھی گئی تھی۔اس عرصے میں روحان کی کوششوں سے وہ بہت قریب آچکے تھے ۔وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ وہیں واسق، احمد اور انوشے کی دوستی اپنی مثال بن رہی تھی۔

چونکہ مہندی کا فنکش مشترکہ تھا اسوقت واسق ،احمد سمیت اسکی تمام بٹالین موجود تھی۔ گھر کے لان میں گونجتے قہقے موج مستی اپنے آنے والے کل سے بے خبر وہ لوگ اپنا آج انجوائے کررہے تھے ۔انوشے کے ہاتھوں پہ لگتی مہندی میں روحان کا نام چمکا تو کتنی دیر وہ اسکا ہاتھ تھامے اسے پیار برساتی نظروں سے دیکھتا رہا۔

“بالوں بتیاں تے ماہی سانوں ماروں سنگلاں نال پتھر بنڑائیم سونا بنڑا سا عملاں نال۔۔۔”

گانے کے بولوں پہ جھومتے واسق نے شوخ نظروں سے وسام کو دیکھا۔جہاں اسکی نظروں کی پیام نے اسے سمٹنے پہ مجبور کردیا ۔بھیگتی رات آہستہ آہستہ سرک رہی تھی۔

“تمہیں پتا انوشے قسم سے تم میرا عشق تھی مگر یہ روحان ٹپک پڑا یقین مانو صرف بدلہ لینے کی خاطر تم سے شادی کررہا ہے۔۔۔” احمد کے معصوم انداز پہ سب ہنسے۔

“اے مسٹر لمٹ پلیز نا ورنہ اس ڈھولکی اگلی تھاپ تمہارے سر پہ بجے گی۔” روحان کے جزباتی انداز پہ سب کا مشترکہ قہقہ ابھرا ۔

“میں تمہارے غم میں برابر کا شریک ہوں یار بس حوصلہ رکھ۔اف اف محبت بھی کیا چیز ہے یار ہمیشہ بےپرواہ لوگوں

سے ہوجاتی ہے ایسے لوگوں سے جو ہماری دسترس ہوں چاندکو چھونے کی ناکام تمنا نے جینے کی امنگ ہی ختم کردی ہے۔کل اسکی شادی ہے۔کل سے وہ کسی اور کی ملکیت ہوگی جسےسوچنا بھی گناہ ہوگا۔”

واسق کا انتہائی ڈرامیٹک انداز تھا احمد سے مصنوعی ہمدردی جتاتےکچھ فقرے نقاب میں موجود وسام کو دیکھتے اچھالے جہاں الوہی جذبوں کی چمک اسے مزید خوبصورت بنا رہی تھی۔

مبارک ہو ہم بھی ناکام عاشق ٹہرے۔”احمد کی دہائی پہ پھر سے محفل زعفران بنی وہیں دو حسد سے بھرپور نگاہوں نے وسام اور واسق کو دیکھا۔روحان نے انوشے کے کان میں منہ گھسیڑے سرگوشی کی تو اس نے مہندی والے ہاتھوِں میں چہرہ چھپایا۔

“اے انو تمہارے شوہر نامدار بلا رہے تمہیں وہاں۔۔” ابھی وہ کمرے میں بیٹھی تھی کہ اسکی کزن پیغام لائی ۔اس نے حیرانی سے اسے دیکھا ابھی تو وہ لوگ گئے تھے اور پھرسے روحان کی خبر لینے کا سوچتی وہ بیرونی حصّے کی طرف بڑھی ۔جبھی کسی نے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھے اپنی جانب کھینچا ۔سامنے موجود احمد کو دیکھتے اسکی آنکھیں حیرت سے باہر آئیں۔

جب اسکی بات نے انوشے کا دماغ بھک سے اڑایا۔۔

“پلیز انو سمجھنے کی کوشش کرو آئی رئی لوو یو۔” وہ گڑ گڑاتے ہوئے اسکے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے بیٹھا تھا جبکہ وہ ایک شاک کی کیفیت میں تھی۔

“پلیز ڈونٹ ڈو دس اگر یہ مزاق ہے تو تم اسے ختم کردو لیو اٹ ناؤ۔وہ سب ہنسی مذاق تھا ہم نے انجوائے کیا اٹس انف نا۔اب مزید ایسا کوئی مذاق نہیں پلیز۔” وہ مذاق میں بھی ایسی بات کی توقع نہیں کرسکتی اس شخص سے جسے ہمیشہ بھائیوں کی طرح عزت دی اور اسکی اور روحان کی محبت کا گواہ تھا وہ۔

“میں بتانا چاہتا تھا تمہیں وہ روحان” ہی ڈڈنٹ ڈیزرو یو” انو پلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ۔” بنا انوشے کے ریکشن کی پرواہ کیے وہ اپنی سنا رہا تھا جبکہ انوشے کا دل کررہا تھا اسے تھپڑ مار دے مگر اس نے اپنا ٹمپر لوز نہیں کیا۔

“دیکھو احمد تم سمجھ نہیں رہے ہی رئیلی لووز می اینڈ آئی آلسو لوو ہم آئی کانٹ ٹیک بریتھ ود آؤٹ ہم ،یو نو ویری ویل ایچ اینڈ ایور تھنگ اباؤٹ اس دین ہاؤ کڈ یو ڈو؟” انوشے نے اسے کندھے پہ ہاتھ رکھتے سمجھاتے کہا جبکہ احمد کی آنکھوں میں امڈتے آنسو اسے خوف میں مبتلا کررہے تھے۔روحان سے دستبرداری ناممکن تھی اور وہ بھی اسوقت جب ملن کی گھڑیاں قریب تھیں۔۔۔

لگا کے آگ شہر کو یہ بادشاہ نے کہا

اُٹھا ہے دل میں تماشے کا آ ج شوق بہت

جھکا کے سرسب شاہ پرست بول اُٹھے

حضور کا شوق سلامت رہے شہر اور بہت۔۔

Part 2

انوشے کی آنکھوں سے گرتے آنسوؤں کا عذاب سہنا اگرچہ مشکل تھا مگر اسے یہ سب کرنا ہی تھا اس سے پہلے کے دیر ہوجائے۔

“وائے آریو ڈوئنگ دس ٹیل می احمد از دئیر اینی کنفیوژن اینی تھریٹ؟ “اس نے عقلمندی سے کام لیتے احمد سے سچ اگلوانا چاہا۔جبکہ دونوں ہاتھ مضبوطی سے گرفت میں لیے ۔

“پرامس می ٹو سورٹ آؤٹ ؟”احمد کی آنکھوں میں جگنو چمکے تو انوشے نے مسکراتے اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔

“آئی۔ایم ڈوئنگ بکاز آف روحان ہی از ان ڈینجر ۔”

احمد کی بات پہ وہ سٹک ہوئی۔

“یہ تم کیا کہہ رہے احمد بھلا روحان ہی نوز ہاؤ ٹو پروٹیکٹ ہم سیلف پلیز ڈونٹ کریٹ میس۔”ایک دم اسکا پارہ ہائی ہوا وہ احمد کو دھکیلتے کھڑی ہوئی تھی۔

“پتا تھا تم یقین نہیں کروگی پر حقیقت یہی ہے۔”احمد کی بات پہ وہ شدمد سی ٹہری تھی۔

“کیوں اور کون؟” ایک سوال تھا لبوں پہ۔

“میں کچھ نہیں جانتا مجھے یہی تھریٹ ہے اگر میں نے روحان اور تمہاری شادی نہ رکوائی اس صورت میں روحان کو ہمیشہ کیلئے کھو دیں گے ہم۔اور شاید اور بھی بہت کچھ ایسا برا ہوسکتا جو ہم سوچ نہیں سکتے۔”احمد کی آواز میں سچائی تھی ایک ایک لفظ سچائی پہ مبنی تھا۔

“میں کیسے یقین کروں۔” انوشے نے پرسوچ انداز میں احمد کو دیکھا تھا ۔

“مجھے مائی کی قسم میں جھوٹ نہیں بول رہا ۔”وہ

جانتی تھی کہ احمد اپنی ماں سے کتنا پیار کرتا اسے جھوٹ بولنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔

اور پھر شادی سے پہلے ایک ہنگامہ کھڑا ہوا رات کے چار بجے ہی روحان ،احمد ،واسق ،وسام سمیت گھر کے تمام افراد موجود تھے۔

“مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔”روحان میں نجانے کہاّں سے اتنا ضبط آیا تھا جو ضیاء صاحب کے سامنے آ موجود ہوا۔

“شادی بیاہ کوئی مزاق ہے تمہارے لیے۔”ضیاء صاحب کی آواز پہ اس نے کوئی رسپونس نہیں شو کیا۔

“آئی تھنک وئی ہیو ٹو ٹاک اباؤٹ اٹ انوشے؟” روحان اسکے سامنے ٹہرا تھا۔

“مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی ۔”انوشے نے رخ موڑ لیا یا دانستہ اسکے سامنے کمزور پڑنے کا ڈر تھا۔

“اگر آپ احمد اور میری شادی نہیں کروائیں گے دین آئی ول کل مائی سیلف۔” کھلی ڈلی دھمکی دیے وہ وہاں سے جانے لگی تھی۔اب تک تو یہ بات پوشیدہ تھی کہ وہ ایسا کس لیے کررہی مگر احمد کا نام لیتے گویا طوفان برپا ہوا تھا جبکہ احمد کی آنکھیں تحیر سے پھیلیں یہ سچ تھا کہ انوشے کو ٹریپ کرنا تھا مگر احمد کا نام نہیں لینا تھا۔روحان کی آنکھوں میں خون اترا وہ چیل کی طرح اس پہ جھپٹا ۔

“کوئی اتنا کیسے گر سکتا ہے ۔”احمد کا گربیان پکڑے وہ چلایا تھا۔

“میں نے تم پہ ٹرسٹ کیا اور تم نے ہی میری پیٹھ پیچھے وار کیا۔”روحان کی آنکھوں میں چپھتے کانچ سب دیکھ سکتے تھے ۔

“روحان میں۔۔” احمد نے اسکے ہاتھ جو احمد کے کالر پکڑے ہوئے تھے اس پہ اپنے ہاتھ جمائے جسے اس نے جھٹک دیا۔

“تو ذلیل انسان نکل یہاں سے۔”روحان نے احمد کی سنے بغیر اسے دھکا دیا تھا ۔جبھی واسق نے آگے بڑھتے اسے تھاما۔

“کیوں کررہا ہے ایسا یار ؟”واسق کی آنکھوں سے چھلکتی بے اعتباری نے بری طرح توڑ دیا وہ سر جھکائے باہر نکل گیا۔

جہاں ابھی کچھ دیر پہلے خوشیاں قہقے تھے وہاں پہ اتنا ماحول ایک دم سے غمگین ہوگیا۔گھر پہ ٹہرے لوگوں نے بخوبی تماشہ ملاحظہ کیا۔

“اٹس اوو ناؤ ۔میں آنکھوں دیکھی مکھی نہیں نگل سکتا مگر تمہارا نام میرے نام سے ہی جڑے گا ۔ہجر کیا ہوتا محبوب سے بچھڑنے کا کیا غم تم اسے سہو گی انوشے بیبی ویسے ہی جیسے میں یہ عذاب سہہ رہا ہوں ۔اوہ خدا،کیوں؟ انوشے کیوں کیا تم نے ایسا میرے ساتھ۔”

درد کی حدوں کو چھوتے روحان کو دیکھتے سبکی آنکھوں میں آنسوؤں تھے۔

باقی کی رات آنکھوں میں کٹی تھی۔ آذان کی آواز پہ ضیاء صاحب پُرنم آنکھیں لیے کمرے کی طرف بڑھے۔

“آئی ول کل ہم میری غیرت کو یہ گوارہ نہیں ہورہا یار۔”

روحان کی حالت دیکھتے واسق نے اسے تسلی دینی چاہی مگر اس نے ہاتھ جھٹکا تھا۔انوشے کے کمرے کی طرف بڑھتے قدم موبائل بیپ پہ تھمے اور آنکھوں میں شعلے لپکے تھے ۔بجائے انوشے کے کمرے جانے کے وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔

واسق بھی اسکے پیچھے لپکا تھا۔

“انوشے میں نے بھی یہی سوچا ہے ہم چل کے روحان کو سب کچھ سچ بتا دیں گے ۔میں بھی اپنے اوپر یہ بوجھ لے کے نہیں جی سکوں گا آفکورس ہی از بریلینٹ پرسن وہ کوئی نہ کوئی حل ضرور نکال لے گا۔” انوشے کو لان میں ٹہلتے دیکھ وہ اسکے پاس آیا تھا۔

“نو مجھے روحان سے شادی نہیں کرنی میں تم سے ہی محبت کرتی ہو احمد ۔”انوشے نے آگے بڑھتے اسکے گلے میں اپنے بازو ڈالے تھے جبکہ وہ تھوڑا کھسکتے اسے پیچھے کو دھکیل گیا۔

“سوری انوشے تم یہ کیا کہہ رہی ہوں اور وہ رونا یہ سب۔” احمد نے نافہم نظروں سے اسے دیکھا۔

“یہ صرف دکھاوا تھا میں دیکھنا چاہ رہی تھی کہ تم کس حد تک روحان کے خیر خواہ یقیناً اگلی خبر تمہیں زیادہ شاک دے گی۔”

انوشے نے اسکے چہرے کے رنگ بدلتے دیکھ لطف لیا تو احمد نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“جیسے تم نے مجھے اپنی مائی قسم کھا کے یقین دلانا چاہا تھا ویسے ہی میں تمہیں اپنے بابا جان کی قسم کھائے بتانا چاہتی ہوں کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں احمد یہ مت سوچو کہ روحان کیا سوچتا ہے بس تم یہ دیکھو میں کیا چاہتی ہوں۔”

انوشے کی باتیں احمد کے ہوش اڑانے کو کافی تھیں۔

“تم چپ رہوگے میں سب صیح کرلونگی ٹرسٹ می۔”

اس نے چپ چاپ اسکی سنی اور باہر کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ گھر کے اندرونی طرف بڑھی جب ضیاء صاحب کا سامنا ہوا۔

“میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری اولاد اتنی گھٹیا ہوسکتی روحان کے علاوہ کوئی بھی نہیں اس گھر میں بارات لائے گا دوسری صورت میں اس گھر سے میرا بھی جنازہ اٹھے گا ۔اگر عزت کا جنازہ اٹھ جائے تو روح کے جنازے کا انتظار کرنا بھی بیکار ہوتا۔”

ضیاء صاحب کا جلالی روپ اسے سہما گیا تھا۔

انوشے نے مبہم مسکراہٹ سے انہیں دیکھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اب تو روحان کبھی آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے کا تصور نہیں کرے گا۔

“یہ یہ تم نے سنا نا یہ دونوں۔”روحان کا رہا سہا حوصلہ بھی ختم ہوا تھا۔واسق کی پرسوچ نگاہوں نے ضیاء صاحب سے الجھتی انوشے اور گیٹ پار کرتے احمد کو دیکھا تھا ۔درمیان میں کچھ مسنگ تھا بہت کچھ مسنگ جبکہ انکی چھٹی حس بھی اس خطرے سے آگاہ نہیں کرسکی جو ٹریپ بچھایا گیا تھا۔

جلد ہی وسام اور واسق کے ساتھ وہ اپنے گھر آگیا تھا۔

“پتا نہیں کیا ہے یار اتنی بڑی آزمائش آئی ہم سب کی زندگیوں میں۔” واسق نے اسکے کندھے پہ سر ٹکایا جبکہ دوسری طرف خاموشی چھائی تھی ۔

“اے میں کچھ بول رہا ہوں دھیان کدھر ہے؟” واسق کو لگا تھا جیسے وہ اس ماحول میں اکیلا تھا۔

“ہنہ کک کچھ بھی تو نہیں ہہ ہمارے لیے کیسی آزمائش یہ تو انوشے جی اور روحان بھائی کا معاملہ ہے نا۔”

اس نے واسق کے ماتھے پہ آئے بال ہٹائے۔

“کیا بات کررہی ہو یار افکورس اس کی ٹینشن ہم سب کو بھی تو متاثر کرے گی نا۔” واسق نے اسکی عقل پہ ماتم کرتے وسام کی گود میں سر رکھا۔

جبکہ اسکے ہاتھ بے اختیاری میں اسکے بالوں کو چھیڑنے لگے تھے۔

“پتا ہے وسو میں کیا سوچتا ہوں اگر ہماری زندگی میں ایسا کوئی مقام آئے تو یقین کرو میں مرجاؤنگا ۔ایک پل کا سانس لینا بھی محال ہوجائے گا میرے لیے۔” واسق نے شدت جزبات سے کہتے سختی سے اسکا ہاتھ پکڑے اسکی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائیں جبکہ وہ اسکے جنونی انداز پہ پریشان سی بیٹھی تھی۔

“اللّٰہ نا کرے ایسا کبھی ہو صاحب ہم بھی آپکے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔” دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھوں سے آنسوؤں جاری ہوئے۔پہلا آنسو واسق کے چہرے پہ گرا تو وہ بے چین ہوتے اٹھ بیٹھا۔

“کیا ہوگیا وسو دیکھو تو آئی ایم فائن ایسے ہی یار سٹریسڈ تھا تو بول دیا اچھا سوری کہو تو کان پکڑ لوں تمہارے۔” ندامت سے کہتے شوخ انداز میں اس کی جانب جھکا۔

“ہمیں آپ سے بات ہی نہیں کرنی آپ بہت برے ہیں جائیں آپ یہاں سے۔” اسے پیچھے دھکیلتے وہ کھڑی ہوئی جب واسق نے اسے کلائی سے پکڑے اپنی جانب کھینچا۔

“معافی مانگ تو رہا ہوں یار اب ویسے نہیں تو ایسے سہی تم جان نکال دوگی۔” واسق نے کہتے ساتھ منہ بسورا تو وسام کی ہنسی بے ساختہ تھی ۔

“ہاؤ روڈ یو آر مطلب کے کچھ بھی یار۔” واسق کو اسکا ہنسنا جیسے برا لگا تھا تو اس نے واسق کے کان پکڑے ۔اسکی بے ساختہ حرکت پہ ایک ساتھ قہقہ نمودار ہوا۔

صبح وہ اسکے اٹھنے سے پہلے ہی شموئیل کے روم میں آگئی۔

“کیا کررہا میرا شیر۔” اسکے کمفرٹر میں گھستے چٹاپٹ اسکے نتھنے گالوں پہ بوسہ لیا۔

“باجی میں نا رات سے ایک بات سوچ رہا ہوں۔” دس سالہ شموئیل نے پرتجسس لہجے میں اسے کہا ۔

“کیا بات ؟” وسام کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی یقیناً وہ جو اسے بات کرنے لگا تھا فرشتے یا انوشے کے متعلق ہی تھی۔

“وہ فرشتے باجی تھیں نا؟ جو روحان بھیا کے ساتھ بیٹھی تھیں۔” ایک تکلیف دہ سوال تھا آنکھوں کے سامنے سجے سنورے روپ میں ملبوس انوشے کا چہرہ آیا تھا ساتھ ہی فرشتے کی مکروہ ہنسی۔

“شموئیل فرشتے باجی کی شادی روحان لالہ سے ہورہی ہے نا آپ نے بس کسی کو نہیں بتانا وہ نقاب میں رہتی تھیں کسی کو نہیں پتا وہ فرشتے باجی ہیں انہوں نے اپنا نام بھی بدل لیا وہ انوشے باجی بن گئی ہیں نا۔” شموئیل کو خود میں سموئے اس نے من گھڑت کہانی سنائی چونکہ شموئیل کی وسام باجی جھوٹ نہیں بولتیں اسیلئے اس نے من وعن اسکی باتوں پہ یقین کرلیا جبکہ وسام کی غلطی پہ غلطی اسے احساس ہی نہیں کروا پارہی تھی۔

صبح پارلر کیلئے جاتے اسکی ضد تھی کہ وسام اسکے ساتھ جائے گی۔ واسق کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ اسطرح وسام کو بھیجے مگر وسام کا شوق دیکھ چپ اختیار کرگیا۔

“اہوں کیا ہوگیا واسق صرف دو گھنٹوں کی ہی بات ہے اتنا سا برداشت نہیں ہورہا اور اگر ساری زندگی کیلئے کہیں چلی جاؤں تو؟” وسام نے شرارت سے کہتے اسکے بازو کے گھیرے سے نکلنا چاہا ۔

“شٹ اپ سوچنا بھی مت اس دنیا کو آگ لگا دونگا اگر میرے سے کسی نے تمہیں الگ کرنا چاہا۔”واسق کا جنونی انداز دیکھتے وہ کہلکھلا کے ہنسی تھی ۔

“اتنا پیار کرتے ہیں مجھ سے۔”اسکے ضبط کو پھر کبھی آزمانے کا فیصلہ کرتے لاڈ سے اسکی گردن میں بازو حمائل کیے تو واسق نے بھی اسکی کمر کے گرد اپنے بازو کا گھیرا بنایا اور پیشانی اسکی پیشانی سے ٹکراتے بولا ۔

“اس دنیا میں اگر ہمیں کوئی جدا کرسکتا ہے نا تو وہ ہے موت اور وہ بھی میری۔” واسق کا انداز اتنا سنجیدہ تھا کہ وسام کی سانس تھم گئی اور تھوڑی دیر بعد اسے اچھے سے اندازہ ہوچکا تھا کہ یہ الفاظ بول کے اس نے کتنی بڑی غلطی کی وسام محترمہ تو ایک سیلاب لانے کو بیقرار تھیں۔

“اوکے سوری نا پلیز معاف کردو پارلر جاؤ دو کیا چار گھنٹے بھی لگا دو ٹینشن نہیں ہے۔” واسق کی بات پہ اس نے منہ بسورا جبکہ وہ مزید آدھا گھنٹہ لگاتے اسکا موڈ فریش کرچکا تھا۔۔۔

༻━━━━━⊱༻

“Pakistan’s Government finally ligalized the crypto cruncy after taken step by intrested people but on other side Financial

Conduct authority and Uk Government warns people ‘be prepared to lose all your money”

(دلچسپی رکھنے والے افراد کے ذریعہ قدم اٹھائے جانے کے بعد بالآخر پاکستان کی حکومت نے کرپٹو کرنسی کو قانونی شکل دے دی لیکن دوسری طرف مالیاتی

کنڈکٹ اتھارٹی اور یوکے حکومت نے لوگوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ سب اپنے پیسوں سے محروم ہونے کیلئے تیار ہوجائیں۔)

ٹی وی کے سامنح موجود چینل سرچنگ کرتی معروش کے ہاتھ اس نیوز پہ رکے تھے جہاں انگریز خاتون بڑے مہزب طریقے سے لوگوں کو گئ انتباہ کو سنا رہی تھی۔

وہ جانتی تھی کہ یہ ایسی وارننگ تھی جسے عام گریڈی لوگوں کو سمجھنا آسان نہ تھا۔نجانے کتنے پاکستانی مستقبل قریب میں اپنے حلال اور محنت سے کمائے پیسے اس جوے میں ہارنے والے تھے۔وہیں ہر دوسرے چینل پہ کچھ محققین بٹھائے چینل اپنی ریٹنگ بڑھانے کیلئے زوروشور سے بحث وتکرار میں مشغول تھے ۔

سامنے موجود اینکر اپنے مہمانان سے اپنے من پسند سوالات کے جواب بھی من پسند چاہ رہے تھے۔معروش نے تاسف سے ان لوگوں کو دیکھا جہاں خود بولنے والے بھی اس ٹریپ کے اصل معنی سے آگاہ نہ تھے۔

“جی تو مولانا صاحب ایک سوال یہ بھی اٹھایا جارہا ہے

کہ یہ جو کریپٹو کرنسی ہے بٹ کوائن اسکی قیمت سونے کے بھاؤ کی طرح اوپر نیچے جاتی ہے ایسے میں اگر ہم بٹ کوائن خرید کر اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں اور اسکے بھاؤ پڑنے پہ بیچ دیتے ہیں کیا یہ حلال ہوگا مقصد صرف اپنا سرمایہ بڑھانا ہے؟نیت حلال؟”

معروش کا دل چاہا کہ اس “نیت حلال” پہ اینکر کا منہ توڑ دے مگر وہ اسکی پہنچ سے دور تھا وہیں لوگوں کیلئے مزید توسیع کرتے مولانا نے اینکر کا من پسند جواب دیا گیا چونکہ پاکستان میں اب بٹ کوائن اور کریپٹو کرنسی کا فتوا حلال اور مکروہ کے درمیان پھنس چکا تھا جسکا دل چاہے حلال جانے جسکا دل مانے اسے سود قرار دیتے اس سے دور بھاگے۔

“آہاں تو تو نیوز سنی جارہی ہیں ارے بھائی ان نیوز والوں نے مفت کی پخ ڈال۔رکھی مجھ سے رابطہ کریں گھر کی مرغی دال برابر۔”ارتضٰی نے دوراندیشی سے سامنے کی ہیڈلائنز پہ نگاہ ڈالتے چینل بدلا تھا وہیں اسکے ماتھے پہ بل پڑے۔

“کیا چاہتے ہوتم؟” اسکے ہاتھ سے دوبارہ ریموٹ چیھنتے چینل سرچ کیا۔

“رمیز سے لڑکی شوہر نامدار ہیں ہم آپکے۔” ارتضٰی نے ہاتھ میں پکڑا کشن اسکی جانب اچھالا جبکہ وہ پھر سے مختلف رپورٹ اور تجزیے دیکھنے میں مشغول ہوگئی تھی۔

آج کل دنیا میں جو مختلف کرنسیاں رائج ہیں، وہ فی نفسہ مال نہیں ہیں، وہ محض کاغذ کا ٹکڑا ہیں، ان میں جو مالیت یا عرفی ثمنیت پائی جاتی ہے ، وہ دو وجہ سے ہے، ایک تو اس وجہ سے کہ ان کے پیچھے ملک کی اقتصادی چیزیں ہوتی ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر ملک عوام کے لیے اپنی کرنسی کا ضامن وذمہ دار ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ملک اپنی کوئی کرنسی بند کرتا ہے تو کرنسی محض کاغذ کا نوٹ بن کر رہ جاتی ہے اور اس کی کوئی ویلیو یا حیثیت باقی نہیں رہتی۔ اب سوال یہ بھی اٹھنے لگا کہ ڈیجیٹل کرنسی کے پیچھے کیا چیز ہے جس کی وجہ سے اس کی ویلیو متعین ہوتی ہے اور اس کی ترقی اور انحطاط سے کرنسی کی ویلیو گھٹتی بڑھتی ہے؟ اسی طرح اس کرنسی کا ضامن وذمہ دار کون ہے؟ کرنسی کی پشت پر جو چیز پائی جاتی ہے؟ کیا واقعی طور پر اس پر کرنسی کے ضامن کا کنٹرول ہوتا ہے یا یہ محض فرضی اور اعتباری چیز ہے؟

ڈیجیٹل کرنسی محض ایک فرضی چیز ہے اور اس کا عنوان” ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے۔”

حقیقت میں یہ فاریکس ٹریڈنگ وغیرہ کی طرح نیٹ پر جاری سٹے بازی اور سودی کاروبار کی شکل ہے۔اس میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں پائی جاتی اور نہ ہی اس کے کاروبار میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں۔”

ایک احساس ندامت نے اسے آن گھیرا تھا ابھی بھی وقت تھا کہ تائب ہوسکتی تھی جبکہ اسکی سوچوں کی پرواز اپنے جیسے لوگوں کی طرف دوڑی جو یقیناً نفع اور نقصان کی پرواہ کیے بغیر کسی بہت بڑے فراڈ اسکیم کا شکار ہوسکتے تھے۔شاید ہی اس نے کبھی اپنے وطن کے لوگوں کے بارے سوچا ہو مگر اسوقت ایک شدید اضطراب کی کیفیت میں مبتلا کررہی تھی۔وہ نہیں جانتی تھی کہ کتنے لوگ اس تلخ حقیقت کو دیکھ رہے تھے مگر وہ ضمیر کی عدالت میں۔روبرو تھی جبکہ سامنے موجود تبصرہ نگار مسلسل بولے جارہا تھا۔

بٹ کوئن یا کوئی اور ڈیجیٹل کرنسی، محض فرضی کرنسی ہے، حقیقی اور واقعی کرنسی نہیں ہے۔ جبکہ کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی میں واقعی کرنسی کی بنیادی صفات نہیں پائی جاتی۔ ڈیجیٹل کرنسی کے کاروبار میں سٹہ بازی اور سودی کاروبار کا پہلو معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے بٹ کوئن یا کسی اور ڈیجیٹل کرنسی کی خریداری کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی کی تجارت بھی فاریکس ٹریڈنگ کی طرح ناجائز ہے لہٰذا اس کاروبار سے پرہیز کیا جائے ۔”

“یہ چیز۔” ارتضٰی کو بھی جیسے اس مبصر کے منہ سے سننے کو اپنے من پسند الفاظ ملے تھے۔ اس نے پیچھے مڑتے ارتضٰی کو دیکھا جو پرسوچ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“تم کیا سوچ رہے ہو۔”اگرچہ یہ سوال بے تکا تھا مگر اسکے “یہ چیز ” نے معروش کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا۔

“کچھ خاص نہیں بس امید جاگی ہے شاید کوئی عقل کا اندھا عبرت حاصل کرلے۔” اسکی جانب فقرہ اچھالتے وہ کھڑا ہوا تھا۔

“ویل میں جارہا ہوں اپنی من پسند بیوی کے ساتھ ڈیٹ ایف یو ڈونٹ مائینڈ ۔” اپنے کپڑوں سے نادیدہ ڈسٹ جھاڑے اس نے معروش کو آفر کی۔

“تم نے کہا تھا کہ تم اسے طلاق دے دوگے۔” کہاں کا انسانیت سوز احساس ایک دم سے دماغ سے سب کچھ غائب ہوا تھا ۔

“بلکل کہا تھا مگر اب ارادے بدل چکے ہیں۔” اس کی بات کو بنا کوئی اہمیت دیے اس نے باہر کا رخ کیا۔

“کہیں جارہے ہو بیٹا۔”سامنے ہی نک سک سی تیار طیبہ چلی آرہی تھیں۔اس پہلے کے ارتضٰی کوئی جواب دیتا معروش اسکے ہم قدم ہوئی۔

“جی ڈئیر ممی جان ہم ڈنر پہ جارہے ہیں آپکو کوئی کام تھا۔” ارتضٰی کا بازو تھامے اسکے ساتھ لگ کے کھڑی ہوئی جبکہ نامحسوس انداز میں ایک فاصلہ بھی رکھا تھا۔

“نہیں کچھ خاص نہیں حنا کب واپس آرہی ہے سویٹ ہارٹ۔” انہوں نے آگے بڑھتے ارتضٰی کے گال پہ پیار سے چٹکی کاٹی۔انکی بات سنتے وہ تلملائی تھی۔مگر انکے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کی۔

“کچھ فیملی ایشوز ہیں اسکے مام وہ جلد ہی آجائے گی۔”ارتضٰی نے بھی جیسے ٹالا تھا۔

“چلیں بابو ٹیبل تو آپ نے ریزرو کروا دی تھی نا سویٹ ہارٹ۔” سیم طیبہ کے انداز میں اسے کے گالوں پہ چٹکی کاٹتے ریکٹ کیا گیا تھا جبکہ اسے معروش کا ذہبی توازن ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔

طیبہ بیگم بھی اسکی بے باک حرکتوں پہ جز بز ہوتی باہر کی طرف بڑھ گئیں۔انکے رخ پھیرتے وہ ارتضٰی سے ایسے دور ہوئی جیسے وہ کوئی” اچھوت کی بیماری ہو۔

“یہ کیا تھا ؟” ارتضٰی کو اسکے بناوٹی انداز نے ہرٹ کیا۔

“ایکشن کا ریکشن۔” وہی گھسا پٹا جواب دیے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ مہمانوں کے رخصت ہوتے ہی اس نے اپنی پرانی ڈگر اپنا لی تھی جبکہ ارتضٰی اپنے جھمیلوں میں مصروف اس سے لڑنا نہیں چاہتا تھا ۔

༻━━━━━⊱༻

اگلے دن پارلر کیلئے تیار ہونے کیلئے جاتے ایک گھمبیر خاموشی تھی۔ احمد نے ضیاء صاحب کو کال کرکے کہہ دیاتھا کہ وہ انوشے کے کسی پاگل پن میں اسکا ساتھ نہیں دے گا۔مگر اسکی پراسرار خاموشی انکے دل میں خدشات اٹھانے لگی تھی۔

پلین کے مطابق انوشے اور وسام پارلر کیلئے تیاری پکڑ چکی تھیں اور تقریباً تین گھنٹے بعد وہ ریڈی ہو کے باہر جانے لگی تھی جب پارلر والی سے پتا چلا کہ اسکی برائیڈل باہر اسکا انتظار کررہی وہ سر ہلائے باہر کی طرف بڑھ گئی اس بات سے انجان کہ وہ ان سب کی زندگیوں سے دور جانے والی ہے۔

انوشے کو اکیلے آتے دیکھ سب نے تھوڑی حیرانگی کا اظہار کیا تھا مگر اسکے چہرے پہ کوئی پریشانی نہیں تھی۔

“وسام کہاں ہے۔” واسق نے بظاہر مسکراتے پوچھا نجانے کیوں اسکی چھٹی حس اچھا وارن نہیں کررہی تھی ۔

“مجھے نہیں پتا وہ تو میرے سے پہلے نکل آئی تھی۔” انوشے نے تھوڑا الجھتے واسق کو جواب دیا جبکہ اسکے پاؤں کے نیچے سے زمین سرکی۔

“ہاؤ کڈ یو ڈو اٹ انوشے وسام کہا ہے۔”اب کے واسق کی آواز اور لہجہ اتنا تیز تھا کہ سب لوگ انکی طرف متوجہ ہونے لگے۔

“میں سچ کہہ رہی ہوں واسق وسام میرے ساتھ نہیں تھی۔” انوشے کی بات پہ کوئی چاہ کے بھی یقین نہیں کرسکا تھا یقیناً احمد سے شادی نہ کروائے جانے کے انتقام میں اس نے ایک کمزور ترین ہدف ڈھونڈا تھا۔

“انوشے تمہیں احمد سے شادی کرنی ہے نا کرلو بٹ یہ مزاق نہں اوکے وسام کہاں ہے۔” روحان جانتا تھا کہ واسق کی سانسیں ہی وسام کے نام سے چلتی ہیں اپنی محبت کو بھاڑ میں جھونکے وہ چلایا تھا۔

“میں سچ کہہ رہی ہوں روحان مجھے صرف اتنا بتایا گیا کہ وسام کی اپائنٹمنٹ تھی وہاں مگر وہ میرے سے پہلے وہاں سے آگئی ایون کے ہم دونوں وہاں ملے نہیں۔”

انوشے کی بات سنتے واسق کا دل کیا کہ اسکا قتل کردے مگر خود پہ کنٹرول کیے وہ وہاں سے نکل آیا تھا۔

شادی ہال میں عجیب سچویشن کریٹ ہوچکی تھی جبھی روحان نے برات واپسی کا اعلان کیا تو میجر ضیاء نے بے ساختہ کرسی پکڑی تھی وہاں پہ ہوئے عجیب وغریب تماشے کو دیکھتے مہمان بھی کھسکنے لگے تھے۔

“مجھے معاکیسے؟”یجئے گا سر میں نے اسکی ہر حرکت کو اگنور کیے صرف آپکی عزت کیلئے اپنانا چاہا مگر آئی۔ایم۔سوری سر کوئی اتنا کیسے گرسکتا ہے اپنے مفاد کیلئے کسی کی سانسیں چھین لے۔” روحان پیشمان سا واپس ہوا جب ضیاء سر کی آواز پہ اسکے قدم تھمے ۔

“خدا کا واسطہ ہے روحان تم اس سے شادی کرلو نجانے یہ بدبخت اور کتنے لوگوں کی زندگی اجاڑے گی ایک باپ کی فریاد سمجھ لو۔” ضیاء سر کے جڑے ہاتھا سے زمین پہ گاڑنے لگے انوشے نے بے بسی سے اپنے باپ اور جان سے پیارے محبوب کو دیکھا وہ سب انکیلئے ہی تو کررہی تھی انکی زندگیوں کیلئے اپنے اوپر کلک لگائی اور پھر بازی پلٹ گئی۔

“میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں میری عزت رکھ لو میری بیٹی کو اپنا لو۔اگر آج یہاں سے برات لوٹ کے گئی تو۔۔”

میجر ضیاء کے سینے میں تکلیف بڑھی تھی۔تبھی اسکی نظر حسیبہ کے بہتے آنسوؤں کی طرف گئی وہ اپنی ماں کو ایک اور غم نہیں دے سکتا تھا ۔

پردے سے جھانکتی ان دو آنکھوں نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا ۔مٹھیاں بھینچے وہ باہر کی طرف بڑھی تھی جب کلوروفام لگا رومال اسکے ناک پہ رکھتے دبایا گیا کچھ دیر بن پانی کے مچھلی کی طرح ہاتھ پاؤں چلانے کے بعد وہ بے سدہ ہوگئی تھی۔

وہ لڑکی ان سب کی سوچ سے بھی زیادہ شاطر تھی جس کے حسد نے وسام کی خوشیوں کو نگلا وہیں ضیاء صاحب سے انتقام کی خاطر اس نے انوشے کی زندگی کو بھی بھینٹ چڑھایا مگر اپنے انجام سے بے خبر تھی کہ اگلے کئی سال وہ اس شخص کی قید میں جارہی تھی جسکا عشق اس نے چھینا تھا اور زخمی شیر بنا وہ اس پہ دھاڑ رہا تھا۔

انوشے کے بعد وہ پہلا شخص تھا جو اسے آج پہلی بار نقاب کے بغیر دیکھ رہا تھا۔وہ انوشے تھی نہیں وہ فرشتے یہ بات سمجھنا بہت مشکل تھا بلکہ ناممکن ہی تھا کہ وہ کون تھی ایک ماں کے علاوہ کبھی کوئی بھی اڈینٹکل ٹوائنز کی شناخت اتنی جلدی نہیں کرسکتا تھا وہ اسے لیے اپنے گھر چلا آیا تھا ابھی اس نے سوچنا تھا کہ اسے اسکا کیا کرنا کیسے سب کے سامنے اکسپوز کرنا جب دھاڑ کی آواز سے دروازہ کھلا تھا اور وہ زخمی شیر بنا اسکے سامنے آن ٹہرا۔

“اوہ تو یہ سب چل رہا ہے یہاں ارے واہ اتنی جلدی انوشے میڈم تمہاری زندگی میں چراغاں کرنے چلی آئیں دوسروں کی زندگی کے چراغ کو گل کیے۔”واسق نے آتے ہی احمد کے گربیان پہ ہاتھ ڈالا تھا۔

“ہوش میں ہو تم واسق چھوڑو مجھے جسکو دیکھو بدگمان ہوا یہاں چلا آتا ہے۔” احمد نے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروایا جبکہ وہ پھبرا شیر بنا ہوا تھا۔

تبھی احمد کا سیل بج اٹھا روحان کا نام دیکھتے وہ چونکا اتنا کچھ ہوچکا تھا کہ یہ سوچنا مشکل تھا کہ وہ۔اسے کال کرے گا۔

واسق نے اسے سوچ میں گم دیکھ موبائل چھینتے خود آن کیا اور کال اسپیکر پہ ڈالی۔

“بیڈ نیوز فار یو مائی آنریبل اینمی انوشے اور میرا نکاح ہوچکا مجھے دکھ ہے کہ تمہاری اور اسکی کہانی ادھوری رہ گئی مگر تم سوچ نہیں سکتے کہ۔۔”ابھی وہ کچھ اور بولتا کہ احمد نے واسق سے موبائل چھینے کال ڈسکنیکٹ کردی ۔وہ بھونچکا ٹہرا تھا اگر روحان انوشے سے نکاح کرچکا تو انوشے یہاں کیسے؟

“انوشے یہاں کیسے؟یہی سوچ رہے ہونا تم؟” احمد نے اسکی سوچوں تک رسائی حاصل کی۔

“سوال یہ اہم نہیں کہ انوشے یہاں کیسے سوال یہ ہے کہ وسام بھابھی کہاں ہیّں؟” احمد نے اسے چونکایا تو اسکے چہر پہ تناؤ آیا۔

“کیا ڈرامہ چل رہا یہاں۔” واسق نے ماتھا مسلا تو احمد نے آگے بڑھتے بے ہوش پڑی فرشتے کا بازو پکڑے اسکے سامنے کیا۔

“مجھے بھی یہ ڈرامہ اسوقت سمجھ آیا جب یہ نشان دیکھا اور اس نشان کا سچ مجھے ایک دن اور ایک رات کے درمیان پتا لگانا تھا جو یہ ڈیفرنشیٹ کررہا تھا کہ انوشے کون ہے اور فرشتے کون؟” احمد کے پراسرار انداز پہ واسق چونکا اسکے انداز سے زیادہ چونکانے والی بات تھی “فرشتے” ابھی سوچوں کی یلغار تھی کہ ایک بار پھر موبائل بج اٹھا روحان کالنگ جگمگا رہا تھا ۔ماؤف ہوتے دماغ سےاس نے کال اٹینڈ کی تھی۔

“کچھ پتا چلا بھابھی کا۔”روحان کی آواز سے چھلکتا تفکر واسق کی آنکھوں میں آنسو بھر لایا۔

“نہیں۔” ایک مختصر جواب دیا جب دوسری طرف سے کچھ دیر خاموشی کے بعد وہ چیخ اٹھا تھا۔

“میں زندہ نہیں چھوڑونگا اسے میرا دل چاہ رہا ابھی انوشے کو بھون کے رکھ دوں۔” اب نجانے اسے اپنا دکھ رلا رہا تھا یا واسق کا مگر درد کی انتہاؤں کو چھوتے روحان کو دیکھ واسق کو بھی دکھ ہورہا تھا ۔

“ٹینشن مت لو اللّٰہ بہتر کرے گا۔” واسق کا تسلی آمیز لہجہ دیکھ وہ مزید بلک بلک کے رو پڑا تھا ادھر احمد کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔

“انوشے کہاں ہے؟.ایک سوچ کے آتے اس نے محتاط انداز میں روحان نے سے پوچھا۔

“یہی ہے اپنے بابا کے گھر ابھی میں اسے اپنے ساتھ نہی لے کے جاؤنگا صرف ایک ٹیچر کی ریسپکٹ میں خاموش ہوں۔” روحان کا کھردرا جواب سنتے واسق نے مزید کچھ بولے کال کٹ کردی تھی۔

حقیقت سامنے تھی انوشے کا نام استعمال ہوا تھا یا پھر چہرہ باقی کی تمام حرکات فرشتے کی جانب سے ہوئیں تھیں ۔ہر طرف ناکہ کروادیا گیا مگر وہ وسام کو ڈھونڈنے میں ناکام رہا تھا ادھر فرشتے پہ ہر طرح کا ٹارچر کر کے دکھ لیا پر وہ کسی طرح کی بھی انوالومنٹ سے انکاری تھی۔

وسام کے بعد فرشتے کی گمشدگی نے بہت سے سوالیہ نشان پیدا کردیے واسق کیلئے حالات کو اپنی گرفت میں کرنا مشکل لگ رہا تھا بہت جگہوں پہ عہدے کام نہیں آتے۔ اگر واقعی فرشتے کا ہاتھ نہیں تھا تو یقیناً وہ خود بھی ڈینجر میں تھی۔

“بھیا باجی نہیں آئیں ابھی تک۔”آج وہ شموئیل کو اسکول سے لینے آیا تھا ہمیشہ کی طرح آج بھی اسکے انتظار کا کوئی جواب نہیں تھا۔

“شموئیل فرشتے میرے مطلب تمہاری سوتیلی ماں کا رویہ وسام سے کیسا تھا ؟”وہ جانتا تھا کہ یہ انتہائی فضول سوال ہے پر سبکو گمراہ کیے اس نے وسام کو غائب کروایا تھا۔

“سوتیلی ماں وہ ہماری ماں تو نہیں ہیں لالہ اور اب تو انکا نام فرشتے ہے نا؟ “

شموئیل کا جواب معصومانہ تھا مگر انوشے کا ذکر اسے چونکا گیا۔

“کیا کہا مطلب فرشتے انوشے ہے کس نے کہا یہ ؟ اس پہ حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔

“وسام باجی نے۔”شموئیل نہیں جانتا تھا کہ اسکا جواب کتنے نئے اوبہام پیدا کرگیا۔مطلب وسام کو سب پتا تھا تو پھر اس سے کیوں چھپایا وہ جتنا سوچتا اتنا الجھتا۔

مشکلوں کے دن ابھی ختم نہیں ہوئے تھے روحان نے میجر ضیاء کو واضع الفاظ میں یہ بتایا تھا کہ اگر وسام نہیں ملے گی تو گھر انوشے کا بھی نہیں بسے گا۔اتنی ٹینشنز نے ان جیسے مضبوط اعصاب کےمالک شخص کو بھی کمزور کرگئی تھیں۔

ابرق جس نے ضرب آپریشن میں اپنے کئی ساتھیوں کو کھودیا تھا چونکہ اسوقت کی کمانڈ میں سرفہرست میجر ضیاء اور مختیار سر تھے جنکی فیملی کو پرسنلی تھریٹ کیا گیا تھا وہیں انکے قبضے میں انوشے کی جڑواں بہن جو حد درجہ انوشے کی مشہابت میں تھی اسے اپنے ساتھ افغانستان کے شہر قندوز لے گئے۔

جبکہ میجر ضیاء کو کئی ایک جھوٹی تصاوہر بھیجتے اس بات کا اشارہ دیا گیا کہ انکی بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی ابرق کاانتقام ضیاء صاحب کے خلاف یہی تھا کہ وہ انکے خلاف انکی بیٹی کو ہی استعمال کریں گے۔ وقت گزرتا رہا وہیں ابرق اور اسکے ساتھیوں کی زیادتی کا نشانہ بنتی ایمان جسے فرشتے کا نام دے دیا گیا تھا اپنے ساتھ ہوتے حالات وواقعات پہ سوال اٹھانے لگی تھی ۔ابرق کی بیٹی وسام جو کہ اسکی ہم عمر تھی ہر طرح سے محفوظ تھی تو کیوں؟ کتنے سوال اسے روز تنگ کرتے وہیں مما، بابا اور انوشے کی یاد اسے نڈھال رکھتی۔

جوانی کی دہلیز پار کرتی فرشتے کے دماغ میں اسکے باپ کے خلاف نفرت کا بیج بویا جانے لگا کہ کیسے وہ اس سے انجان بنے اپنی باقی اولادوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ جہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے کی وجہ وسام کو کبھی سمجھ نہیں آئی وہیں فرشتے کی ذات سے سوال اٹھایا جاتا کہ وہ کون ہے؟ابرق نے اپنی ساکھ کومحفوظ رکھنے کو اسے اپنی بیوی مشہور کردیا تھا۔

وقت ایک بار پھر ابرق پہ مہربان ہوا وہیں وہ پاکستانی حدود میں داخل ہوتے اپنے قدم مضبوطی سے جمانے لگا تھا۔ایسے میں واسق اور احد اسکے ہاتھ لگے اسکا کام ہی لاوارث اور گھر سے فرار بچوں کو اپنے گینگ میں شامل کرنا تھا مگر واسق کی خوقستمی جو کیپٹن مختیار شیر کے منہ سے نوالا چھین کے لے گئے۔

سب کچھ ابرق اور اسکے ساتھیوں کی منشاء کے مطابق چل رہا تھا جہاں وہ چیراٹ میں کمانڈوز کے سائے میں محفوظ پناگاہ بنائے بیٹھے تھے کیونکہ بہت کم ہی افواج اس جگہ پہ سرچ آپریشن کرتی تھیں مگر واسق کی آمد نے ابرق کی دنیا میں تہلکہ مچایا اور وہیں قسمت انجانے میں فرشتے کو میجر ضیاء کے گھر لے آئی ۔جہاں ہنستے کھیلتے چہروں کی مسکراہٹ اسے پل پل مارنے لگی تھی۔

ابرق اور اسکے ساتھیوں کا کیا گیا ناروا سلوک اسے وسام سے نفرت پہ مجبور کرتا تھا مگر واسق کی محبت نے اس پہ اپنا تسلط جمایا تو اس نفرت نے شدت اختیار کرلی تھی۔۔۔

نقاب کی آڑ میں اس نے میجر ضیاء اور انوشے کی خوشیوں میں رکاوٹ ڈالنی چاہی وہیں ایک تیر سے دو شکار کرنے کا سنہری موقع ملا تھا۔انوشے کی خوشی روحان تھا جسکیلئے اسے آسان ہدف احمد لگا تھا جسے روحان کے قتل کی دھمکی دیتے تھریٹ کیا گیا اور وہ واقعی ڈرپوک ثابت ہوا تھا ۔

مگر انوشے کی طرف سے کمزور پڑنے کا ڈر اسے ڈرا رہا تھا جسکا موقع اسے آسانی سے ملا تھا ہمیشہ کی طرح اپنے جھمیلوں میں الجھے وہ لوگ اس سے بے پرواہ تھے جب وہ انوشے کے کمرے کی طرف بڑھی مگر وسام کو دروازے پہ دیکھتے وہ ٹھٹکی جس کا سامنا پہلی بار انوشے سے ہوا تھا اور وہ فرشتے کی مماثلت کی بابت اس سے دریافت کررہی تھی۔

“ہم نہیں جانتے آپکا اور فرشتے کا کیا رشتہ ہے؟ یہ محظ ایک اتفاق ہے مگر حقیقت وہی ہے جو ہم آپکو بتا رہے ہیں انوشے جی۔”اس گھر میں چلتے طوفان کو پس پشت ڈالے وہ نیا مدعا لیے اسکے سامنے بیٹھی تھی۔

“اسکے بازو پہ نشان ہے ؟ میرا مطپب ہے فرشتے کے کیونکہ میں نے اسے ہمیشہ سرتاپیر حجاب میں لپٹے دیکھا ہے۔” انوشے کی آواز میں انجانے خدشات بول رہے تھے۔

“ہم سچ کہہ رہے ہیں آپکو انوشے جی آپکو یقین نہیں آرہا ہم انیکسی میں چلتے ہیں آپ خود دیکھ لینا کہیں کوئی فرق نہیں۔

ہم نے انکو ( واسق )کو اس ڈر سے نہیں بتایا کہ وہ ہمیں پاگل سمجھیں گے،بھلا دنیا میں بھی ایک جیسی شکل کے لوگ ہوتے ہیں۔” وسام کی منطق نرالی تھی مگر اسکا واسق پہ ہلکا ٹرسٹ اسے خود ہی نئی آنے والی مشکل کا شکار کرگیا۔

“ایمان، وسام وہ فرشتے نہیں ایمان ہے بابا کی ایمان میری ایمان جانتی ہونا بابا اور مما ہمیشہ ایک دوسرے سے ڈسٹینس پہ رہتے کیونکہ بابا کو لگتا ایمان انکی وجہ سے گم ہوئی ہیں کیونکہ اس دن وہ ہمیں لینے نہیں آئیں۔او مائی گاڈ تم سوچ نہیں سکتی وسام تم نے مجھے کتنی بڑی خوشخبری دی ہے۔” گھر میں اٹھے طوفان کو وہ بھلائے ایمان کے مل جانے کی خوشی منا رہی تھی ۔

“میں اس سے مل کے آتی ہوں دیکھنا اسے دیکھتے بابا مما او مائی گاڈ میں اس سے مل کے آئی بلکہ اسے لے کے آتی ہوں سبکے درمیان۔” خوشی سے بھرپور انداز میں چلاتے وہ بیرونی دروازے سے انیکسی کی طرف بڑھی وہیں فرشتے نے گیلری سے ہٹتے اسکے روم کو لاک کیا اور بھاگتے ہوئے انوشے کی طرف بڑھی جیسے ہی انوشے انیکسی میں داخل ہوئی ایمان سے ملنے کی سرخوشی میں وہ اپنے پیچھے ہوتی آہٹ کو بھی نہیں محسوس کرسکی۔ فرشتے نے اسکے سر پہ گلدان مارا تو آگے بڑھتے اسکے منہ پہ ہاتھ رکھا تھاتاکہ چینخ باہر نہ جاسکے۔ انوشے نے بند ہوتی آنکھوں سے اپنے سامنے موجود اس لڑکی کو دیکھا جس نے آہستگی سے نقاب سرکایا۔

“وسام جھوٹ نہیں بولتی مگر اسکا یہ سچ میرے لیے کانٹے کی راہ بن سکتا ہے۔میں اسے کیسے بھول سکتی ہوں بھلا اور شموئیل وہ اس راہ کا آخری کانٹا وہ ضرور بولے گا۔مگر اب فرشتے کو اپنی خوشیاں کشید کرنی ہیں جو وسام کے جاتے ہی میری ہونگی ۔۔” وہ ہذیاتی انداز میں اس پہ چلائی جبکہ وہ ہوش وخرد سے بیگانہ پڑی تھی۔

انوشے کا سیل بج اٹھا تھا احمد کے نام کے چمکتے سنہری حروف نے اسے چونکایا عجیب تدذب کا شکار وہ وسام اور احمد کی درمیان الجھی ۔مگر جلد ہی اسکے شیطانی دماغ نے ایک بہترین منصوبہ بنایا احمد کو انیکسی کی طرف بلاتے وہ انوشے کے کمرے کی طرف بڑھی ۔یہ اسکی خوشقسمتی اور وسام کی بدنصیبی تھی کہ اپنے لاؤڈ میوزک سننے کی عادت کی بنا پہ انوشے نے اپنے روم میں ساؤنڈ پروف سکیورٹی لگوائی تھی جہاں دروازہ بجاتی وسام کی آواز کوئی بھی نہیں سن پایا تھا۔

“انوشے جی آپ نے لاک کیوں لگایا؟”وسام نے دروازہ کھلنے پہ سانس بحال کی۔

“تمہاری قسمت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے کھولنے کے واسطے میری گڑیا۔” فرشتے کے تخاطب نے اسے چونکایا وہی اسکی بے ساختہ نگاہ فرشتے کے ہاتھوں پہ پڑی جو مہندی سے خالی تھے ۔ اسکے کلائی پہ بنے سیاہ دھبے نے وسام کے دماغ کو ہائی الرٹ کیا مگر اسکے چہرے پہ نمودار ہوتے خوف کے سائے نے فرشتے کو بھی چونکایا تھا۔

“اوہ تو تمہیں سمجھ آگئی میں کون ہوں میری گڑیا کیا ہے نا کہ تم سے کچھ پرائیوٹ بات کرنی تھی اسیلئے انوشے کو میں نیچے چھوڑے تمہارے پاس آگئی ہوں۔”

فرشتے نے اسکے چہرے پہ اڑتی ہوائیوں سے لطف اٹھایا۔

“دیکھو فر فرشتے ہماری آپ سے کوئی لڑائی نہیں ہے آپ ہمیں اس سب سے دور رکھیں۔” وسام کا معصوم انداز دیکھتے اس نے قہقہ بلند کیا۔

“کچھ بھی تو نہیں میری جان کچھ نہیں کرونگی میں تمہیں ،تمہارے شوہر کو اور نہ ہی شموئیل کو اگر جو تم میری بات مان لوگی ۔بس میں نہیں چاہتی تم یا شموئیل لب مہرہ ہوں میری بات سمجھ رہی ہونا وسام ڈئیر۔اور ہاں ایک چھوٹا سا کام صبح انوشے کے ساتھ تم ہرحال میں جاؤگی پارلر۔”

معنی خیز انداز میں کہتے اسے ڈروادیا تھا۔

“نن نہیں ہم کسی سے کچھ نہیں کہیں گے پلیز تم شموئیل اور واسق کو کچھ نہ کرنا۔” وسام کا دل سہما تھا جبکہ وہ اسے فاتحانہ انداز میں دیکھتے کمرے سے باہر نکل گئی۔اس نے وسام کے ساتھ بیس بہاریں دیکھی تھیں وہ جانتی تھی کہ اسکا ویک پوائنٹ کیا ہے اور جیسی بزدل لڑکی کو کئی بار وہ اپنے مفادات کیلئے استعمال کرچکی تھی۔

فرشتے ابرق کے ہرگناہ میں اسکی ہم پلہ رہی تھی ۔خود کو مسمانوں کے مسیحا گردانتے ان لوگوں کے بھیانک روپ سے کوئی آگاہ نہیں تھا جنکی فنڈنگ افغان اور انڈین پولٹیشنز کررہے تھے آئی۔ایس۔آئی۔ایس نام کی یہ تنظیم مسلم امہ کیلئے کسی دھبے سے کم نہیں۔

انڈین انٹیلجنس را کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ “آئی ایس آئی ایس” کے دہشت گردوں کو اغوا کر کے جنوبی ہندوستان میں لے جاتے ہیں اور ان کو خودکش دھماکوں کے ٹارگٹ دئیے جاتے ہیں۔

یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں “آئی ایس آئی ایس” دہشت گردی کرے تو الزام پاکستان پر آتاہے۔ آئی ایس آئی ایس “اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘کا مخفف ہے۔ جس کا کام ہی دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرح مختلف ملکوں اور ریاستوں میں دہشت گردی جیسے عفریت کو فروغ دینا تھا۔

اگرچہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ بھی کچھ کم نہیں لیکن بھارت نے ضروری سمجھا کہ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ سے بھی دہشت گردی کا کام لیا جائے۔ اس تنظیم کے ساتھ اگرچہ غیر مسلم کم ہیں اور مسلم ممبران کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ دہشت گردکا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ وہ کسی بھی مسلک اور ایشو کو بنیاد بنا کر کہیں بھی کچھ بھی کر سکتا ہے اس لیے یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے کہ ’’آئی ایس آئی ایس‘‘ یعنی اسلامک سٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا‘‘ نامی یہ تنظیم کسی مسلمان ملک میں کچھ نہیں کر سکتی۔

فرشتے وسام کی طرف سے مطمئن ہوتی ایک آخری وار کرنا نہیں بھولی تھی جو اس بات کو ثابت کردیتا کہ انوشے کے موبائل اس خوبصورت نظارے کیلئے اس نے خود روحان کو بلایا تھا۔۔

“اگر آپ واقعی سچ جاننا چاہتے ہیں تو انیکسی کی طرف آئیں میں آپکو دکھاؤنگی کہ پیار کی طاقت کیا ہوتی لیفٹیننٹ صاحب۔” روحان کے نمبر پہ میسج بپ ہوا تو وہ باہر کی طرف لپکا ۔

جو کہ انوشے کا مسیج تھا۔مگر سامنے ہی وہ احمد کے گلے کا ہار بنی ہوئی اسکی غیرت پہ تازیانہ لگا تھا۔مگر احمد کی بے ساختہ نظر اسکے ہاتھ پہ پڑی تھی جو مہندی سے مبرا تھے ۔مگر روشنی اسکے چہرے کو چھو رہی تھی احمد کا ماتھا ٹھنکا اور وہ الجھا سا گھر سے باہر نکل آیا۔

༻━━━━━⊱༻

“مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں انو جو چیز میری قسمت میں نہیں تھی میں نے اسکی چاہ کی تھی۔میرے رب نے عطا کرکے مجھ سے واپس لے لی ۔میری زندگی کا خلا شاید اس سیاہ رات کی سیاہی سے پر کرنے میں گزر جائے گا۔ جب میں اسے تاریک رات میں گھر سے لے کے نکلا تھا۔غلط کون تھا میں یا میرے ماں باپ کا اقدام ساری زندگی کا پچھتاوا رہے گا یہ پھر بھی میں نے تمہیں معاف کیا۔”

شادی کے ہفتے بعد وہ اپنی صفائی دینے اسکے سامنے تھی جب واسق نے انتہائی متانت سے کہتے اسکے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہا۔

“میری بزدلی کی وجہ سے یہ سب ہوا کوئی میرا یقین نہیں کرنا چاہ رہا واسق ،وہ فرشتے نہیں ایمان ہے ۔وہ اپنے ساتھ ہوئے ظلم کے حساب پاپا سے مجھ سے لینے آئی ہے سب کہتے وہ مر گئی مگر وہ زندہ ہے مجھے مارنے کیلئے۔” درد کی شدت سے وہ چلائی تھی ۔واسق نے کڑے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی وہ جس حقیقت سے آگاہ کرنے آئی تھی وہ پہلے ہی جان چکا تھا۔

فرشتے کی جانب سے ہٹتی توجہ کوئی بھی یہ محسوس نہیں کرپایا کہ اسکے ایک محفوظ مقام پہ رہتے ہوئے بھی ابرق سے تعلقات بحال ہونا شروع ہوچکے تھے۔ایسے میں سب کچھ وہ پلینگ کے مطابق کررہی تھی وسام کو ابرق کے حوالے کیے وہ باقاعدہ پلیننگ کے ساتھ انیکسی واپس آئی جہاں اسکیلئے ایک سر پرائز موجود تھا۔

انوشے غائب تھی فرشتے بوکھلائی جبکہ احمد نے اس گھر کی عزت کو انجانے میں داغدار کیا تھا وہیں وہ محافظ بنا اسے پارلر چھوڑ گیا تھا۔ گھر والوں کے نزدیک انوشے پارلر ہی تھی کیونکہ فرشتے کے ہمراہ وسام کو ڈرائیور چھوڑ کے آیا تھا ۔

فرشتے کی گیم اس وقت الٹی پڑ گئی جب ہر بات سے انجان انوشے روحان بن چکی تھی۔ جبکہ روحان کا بس نہیں چل رہا تھا گھر کی وہ لاڈلی حیرت سے اپنے اوپر گزرتی واردات کا قصہ کھولنا چاہتی تھی مگر سب نے آنکھیں کان بند کیے اسے وسام کا مجرم ٹہرا دیا تھا۔

واسق نے آگے بڑھتے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا تھا جبھی ایمبولنس دروازے پہ آرکی۔واسق کے ساتھ اس موت کے سائرن نے اسکا دل بھی سہمایا تھا وہ بھاگتے ہوئے راہداری عبور کرتے لان میں پہنچے جہاں روحان جھکے سر سے دو افراد کی مدد سے خون میں لپیٹی سفید چادر کی اسٹریچر زمین پہ رکھ رہا تھا۔واسق نہیں سوچنا چاہتا تھا کہ میت کسکی تھی۔شکستہ قدموں سے بڑھتے وہ خود جیسے موت کے قریب جارہا تھا۔

روحان چاہتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کا آخری صدمہ بھی خود برداشت کرے تبھی نعش سے فاصلہ پیدا کیا۔

ان کڑیل فوجی جوانوں کو تو جنگ کے میدان میں اپنوں کے لاشے اٹھانے کی پریکٹس تھی مگر احساس کے رشتوں پہ اسوقت خون کا رشتہ مغلوب تھا۔

کانپتے ہاتھوں سے اس نے نرمی سے وہ چادر ہٹائی۔

“اللّٰہ ہو اکبر۔” ایک زوردار للکار تھی جو وہاں موجود کئی ایک سپاہیوں کی زبان سے ادا ہوئی۔

اسکی تلاش کا ثمر ہمیشہ کیلئے بے ثمر ہوچکا تھا سامنے ہی پھولوں جیسا بچہ جو بمشکل گیارہ سال کا تھا اسکا اکلوتا خون کا رشتہ جو برسوں کی تلاش تھا شموئیل خان خون میں لت پت تھا جہاں کھلی آنکھیں کسی پیارے کے ہاتھ سہلانے کی منتظر تھیں جبکہ گلابی ہونٹوں پہ نیلاہٹ نے جگہ لے لی تھی۔

“توں بھی چھوڑ گیا یار میرا قصور کیا ہے یہ تو بتاتا جا؟” وہ رویا نہیں تھا کیونکہ مرد روتے نہیں مگر وہ گڑ گڑایا تھا اس رب کے سامنے جس نے ایک ایک کرکے اس سے اسکے سارے رشتے لے لیے تھے۔

پلر سے ٹیک لگائے بیٹھی انوشے پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی اگرچہ وہ صرف ایک بار ہی اس بچے سے ملی تھی مگر وہ باتیں بہت پیاری کرتا تھا اور وہ اسکی معصومیت پہ ہنسی تھی جب اس نے کہا تھا آپ فرشتے ہو نا؟اور تب وہ انجان تھی کہ وہ فرشتے کو پہچان جاتی تو شاید آج اتنے دکھ نا اٹھانے پڑتے۔روحان کی کٹیلی نگاہ کا مطلب وہ سمجھ سکتی تھی ایک نظر اپنے ہاتھوں پہ ڈالی جہاں نئی نویلی دلہن کا عکس لیے مہندی جگمگا رہی تھی وہیں روحان کی آنکھیں اسے جتلانے لگی تھیں کہ شموئیل کا قتل بھی اسکے حصے میں آچکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *