Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sayah Kaar (Episode 09,10)

Sayah Kaar by Uzma Mujahid

اب گزری ہوئی عمر کو آواز نہ دینا

اب دُھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا..

حیات ولا میں صبح کا منظر انتہائی حسین تھا معروش کیلئے ایک ان چاہا بوجھ سر سے ہٹا تو گھر میں ایک ملکیت کا احساس جاگا تھا وہ جانتی تھی کہ میرو کی ماں اسکے غم میں آج نظر بند رہے گی آج یقیناً وہ آزاد تھی کیونکہ وہ پھر سے اپنے باپ کی آنکھوں کا تارہ بننے جارہی تھی ۔

قدموں کی چاپ پہ مسکراتے ہوئے سر اٹھائے بابا کا ویلکم کرنا چاہا “گڈ مارننگ بابا جا۔۔۔۔” باقی ماندہ الفاظ لبوں پہ ہی رہ گئے سامنے کا منظر یقیناً ناقابل یقین تھا۔

“گڈ مارننگ بابا کی جان لٹل اینجل ۔” حیات صاحب نے مسکراتے ہوئے اسکے سر کا بوسہ لیا مگر وہ تو یہاں تھی ہی نہیں نظروں نے انٹرس ڈور سے ناشتے کیلئے بیٹھتے لوگوں تک کا سفر کیا تھا نامحسوس انداز میں خود کو چٹکی بھی کاٹ ڈالی مگر تلخ حقیقت سامنے تھی میر اپنی ماں سمیت بابا کے ساتھ پڑی چئیر پہ بیٹھ رہا تھا چہرے پہ کہیں بھی کل کے حالات واقعات کا شائبہ تک نہ تھا کب ؟کیسےاور کیونکر یہ ممکن ہوا اسکا جواب لینے کیلئے اسکی سوچ بہت چھوٹی پڑرہی تھی۔

“میں لندن جانا چاہتی ہوں بابا مما جی کے پاس ۔”

اپنی شکست میر کو دیکھتے نظر آرہی تھی ۔

“نہیں آپکی سٹڈی کا ایشو ہوگا ۔”

اسکے دل وجان سے عزیز بابا نے پہلی بار کسی چیز کیلئے منع کیا تھا۔

“لیکن میں یہاں سے موو کرنا چاہتی ہوں سن لیا آپ نے اگر آپ نے مجھے مما کے پاس نہ بھیجا تو میں لائر انکل کو کال کر کے کہہ دونگی مجھے یہاں ٹارچر کیا جاتا ہے آئی وانٹ بیک مائی کسٹڈی ٹو مائی مام۔”

اپنی ماں کا پرتو معروش حیات کا لب ولہجہ کہیں سے بھی بارہ سالہ بچی کا نہ تھا۔

میر اور مسسز حیات کے چہرے پہ شرمندگی واضع تھی کیونکہ یہ سب انکی وجہ سے ہی تو ہورہا تھا حیات صاحب نے ایک نظر وہاں موجود لوگوں پہ ڈالی ۔

“ٹھیک ہے میرے پاس میر ہے ۔”

حیات کا صاحب کا جواب وہ منہ کھولے سن رہی تھی بھلا یہ اسکے بابا ہی تھے جنہوں نے اتنی آسانی سے اسکی حثیت کو ہلکا کردیا تھا وہ بے یقین ہوتی اپنے روم کی طرف بھاگی۔

“حیات یہ کیا کیا آپ نے بچی ہے وہ سمجھ جائے گی اور پھر۔۔۔”

مسسز حیات نے انکے تاثرات دیکھتے بات ادھوری چھوڑ دی ۔

“لیٹ ہورہا ہے مجھے آفس کیلئے اس ٹاپک پہ مزید کوئی بات نہیں ہوگی۔”

اپنا فیصلہ سناتے وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔

“کیوں پریشان ہورہی ہیں آپ یہی تو چاہتی تھیں نا پھر۔”

میر اپنی ماں کے تاثرات سمجھنے سے قاصر تھا۔

“تم بیوقوف ہوسکتے میں نہیں وہ رمشہ اور حیات کو ملانے کا سبب بن سکتی ہے اگر بیٹی لندن جائے گی تو یقیناً کل کو وہ بھی اسکے پیچھے جائے گا نہیں میں یہ رسک نہیں لے سکتی مجھے کچھ کرنا ہوگا روکنا ہوگا اس لڑکی کو۔”

“چھوڑ دیں مما بہت چھوٹی ہے وہ آپکیلئے کوئی خطرہ نہیں بنے گی ویسے بھی رمشہ آنٹی اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہیں وہ کیوں کم بیک کریں گی بھلا معروش آسانیاں پیدا کرکے ہی تو جارہی ہے آپکیلئے۔”

میر حد سے زیادہ صاف گو ثابت ہوا تھا اپنے بیٹے کی بات سنتے وہ تلملا کے رہ گئیں تھیں۔

جبکہ اسکا دل بلکل خالی خالی سا ہورہا تھا مگر وہ جانتا تھا نہ اب وہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں تھا نہ ہی حیات صاحب کے سامنے پھر سے آکورڈ ہوسکتا تھا ویسے بھی انکی ہٹ دھرم بیٹی خود ہی بغاوت کرچکی تھی۔

اگلے کئی دن حیات ولا میں خاموشی کا راج رہا تھا اور پھر اسکا ویزہ پاسپورٹ تیار کیے لندن بھیج دیا گیا تھا جہاں اسکی سگی ماں رمشہ انتظار میں تھی۔

ابتدائی دنوں میں اسے وہاں ایڈجسٹ ہونے میں مشکل آرہی تھی رمشہ بھی اپنے دوسرے ہیسبینڈ کے ساتھ رہ رہی تھی ایسے میں نوخیز کلیوں جیسا حسن لیے جوانی کی حدود میں داخل ہوتی معروش رمشہ کو اپنے لیے امتحان لگتی تھی۔

اس نے حیات کو کال کیے معروش کی ذمداری لینے سے انکار کردیا تھا جبکہ اپنی ماں کی بات سنتی معروش بری طرح ٹوٹی تھی کہیں بھی تو اسکیلئے امان نہ تھی۔

پندرہ سال کی عمر میں اس نے سکول کے ساتھ ایک کیفے میں جاب سٹارٹ کی تھی ایک سیلف ڈپینڈڈ ملک میں اپنا سہارا خود بنے ماں باپ کی بے حسی اسے رلا رہی تھی۔

نائٹ پارٹیز کلب جانا اسکے معمول میں شامل تھا رمشہ کی روٹوک اسے سخت کبیدہ کرتی تبھی وہ گھر چھوڑے ہاسٹل میں شفٹ ہوگئی تھی جہاں زمانے کے گرم سرد نے اسے وقت سے پہلے ہی بہت کچھ باور کروا دیا تھا۔

ملک حیات بزنس ٹور کے سلسلے میں لندن آئے تو باپ کی حثیت سے بیٹی کی محبت میں مجبور اس سے ملنے چلے آئے مگر رمشہ کے پاس اسے نا پاکے شدید دھچکہ لگا تھا۔

ہاسٹل کے ایڈرس معلوم کیے وہ اس سے ملنے پہنچے تو اس نے ملنے سے صاف انکار دیا ۔ملک کے شب وروز بے چینی میں گزرنے لگے تھے جہاں میرو پڑھائی کو لے کے سنجیدہ نظر آرہا تھا وہیں معروش کا غلط ایکٹویٹیز میں مشغول ہونا انکیلئے بہت بڑا چلینج ثابت ہوا تھا۔

اس موڑ سے اس موڑ سے جاتے ہیں کچھ سست قدم رستے ، کچھ تیز قدم راہیں پتھر کی حویلی کو شیشے کے گھروندوں میں ، تِنکوں کے نشیمن تک صحرا کی طرف جا کر اِک راہ بگولوں میں کھو جاتی ہے چکرا کر رُک رُک کے جھجکتی سی اِک موت کی ٹھنڈی سی وادی میں اُتری ہے اِک راہ اُدھڑتی سی ، چھلتی ہو ئی کانٹوں سے جنگل سے گزرتی ہے اِک دوڑ کے جاتی ہے اور کود کے گرتی ہے انجان خلاؤں میں اِ س موڑ پہ بیٹھا ہوں جس موڑ سے جاتی ہیں ہر ایک طرف راہیں اِک روز تو یوں ہو گا اس موڑ پر آ کر تم ، رُک جا ؤ گی کہہ دو گی وہ کون سا راستہ ہے۔۔۔۔

ابھی انہیں واپس آئے کچھ ہی دن ہوئے تھے جب سائبر کرائم سیل نے معروش کو آن لائن ہیکنگ سے بینک رابری میں گرفتار کرلیا تھا۔

تب وہ اسکے بہترین مستقبل کا فیصلہ کیے لندن واپس آئے تھے جہاں پہ کتنے دن اس کیس کی ہینڈلنگ چلتی رہی تھی جبکہ معروش کیلئے بھی یہ آخری کیل ثابت ہوئی تھی۔

پاکستان وہ جانا نہیں چاہتی بلکہ وہ میر اور اسکی ماں کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی تبھی ملک حیات نے اسکے نام پہ ایک فلیٹ لیا ساتھ اپنے ورلڈ وائڈ برینڈ کی ایک فرم معروش کے نام کرتے اسے سٹیبل کرنے کا سوچا تھا حیرت انگیز طور پہ وہ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی بزنس کی اچھی دیکھ ریکھ کرنے لگی تھی ساتھ میں ملٹی ڈیزائنگ ڈرافٹنگ کے کورسسز کرتے اپنے بابا کی اس فرم کو چلانے میں انکا رائٹ ہینڈ بن گئی اس نے زندگی سے چاہا ہی کیا تھا سوائے اپنے ماں باپ کے ساتھ کے دیر سے سہی مگر قسمت اس پہ مہربان ہوچکی تھی ۔

حیات صاحب کی صحبت نے اسے کافی حد تک ضدی اور روڈ معروش کے حصار سے نکال لیا تھا ایسے میں اسے حنا کی دوستی ملی جو کہ اسے سر تاپیر بدلنے کو مثبت ثابت ہوئی۔

کوئی نہیں اسے دیکھ کے کہہ سکتا تھا کہ محض پندرہ سال۔کی عمر میں وہ لڑکی کسی ایسے کیس کا بھی شکار رہی جو اس عمر کے بچے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

بیشتر افراد کہتے ہیں کہ ٹیکنالوجی نے لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو چھین لیا ہے مگر ایک تحقیق میں اس برعکس روشنی ڈالی گئی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شواہد سے عندیہ ملتا ہے کہ ٹیکنالوجی آپ کا دھیان بٹا سکتی ہے مگر درست ماحول اور درست تیکنیکس کی بدولت یہ چیز آپ کو ذہین ترین بناسکتی ہے۔ تحقیق کے بقول اس سے لوگوں کو ملٹی ٹاسکنگ اور ترجیحات طے کرنے میں مدد ملتی ہے جبکہ اس سے اطلاعات کا بہتر تجزیہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

༻━━━━━⊱༻

کمرے میں دو نفوس کی موجودگی کے باوجود گہری خاموشی کا راج تھا ۔ گھڑی کی سوئی کی حرکت باآسانی وہ دونوں سن سکتے تھے۔

” میری مما چاہتی ہیں میں حنا سے شادی کرلوں ۔”

اس نے آخری پتا کھیلا تھا وہ چونکی اس بات پہ نہیں کہ اسکی مما کیا کہتی ہیں مگر یہ بات ضرور قابل گرفت تھی کہ حنا کا ارتضٰی اور اسکی مما سے کیا تعلق۔

“تمہارے فرار ہونے کے بعد حنا نے کافی سٹرگل کی ہے خود کو اس کیس سے نکالنے کیلئے اور اس سب میں بابا اور میں نے اسے کافی ہیلپ کیا ہے۔”

ارتضٰی نے اسکی سوچوں تک رسائی حاصل کرتے خود سے جواب دیا تھا تبھی اسے ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ پھر سے سامنے دیکھنے لگی۔

“اگر وہ حنا کیلئے پروٹیکٹو ہوسکتا ہے تو یقیناً تیج اور جورڈ سے بچانے کو اسے بھی کافی فائدہ مند رہے گا ویسے بھی ابھی وہ خود کو یا اپنی کمائی کو لیگل نہیں کرسکتی تھی۔”

کئی خودغرض سوچوں نے اسکا پیچھا کیا تبھی اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

“اوکے میں تمہارے ساتھ چلنے کو تیار ہوں مگر میری ایک شرط ہے۔”

پھر سے شرط ارتضٰی کے لبوں پہ مسکراہٹ آٹہری۔

“جو حکم غلام تو پہلے ہی عرضی لیے حاضر ہے۔”

ارتضٰی کا چھچھورا پن اسے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کررہا ہے تو اسکی اتنی فرینکنس نہ تھی جیسے تو وہ کوئی اسکا سالوں سے جاننے والا ہو۔

جبکہ ارتضٰی اسکی سوچوں سے نابلد یہ سوچ رہا تھا کہ شاید حنا کی خاطر وہ اسکے ساتھ چلنے پہ راضی تھی خیر جو بھی تھا راضی تو تھی باقی کی حقیقتیں وہ اسے وہی جا کے بتانا چاہ رہا تھا۔

خود کوسکارف میں کوور کیے وہ اسکے ہمراہ گاڑی میں آبیٹھی تھی آدھے گھنٹے بعد منزل اسکے سامنے تھی اس نے زرا چونکتے ارتضٰی کو دیکھا اور پھر سامنے اسے یاد آرہا تھا کہ آخری بار اس نے اس جگہ پہ کیا کھویا تھا۔

“چلیں ؟ ارتضٰی نے ابرو اچکائے اس سے سوال کیا مگر اب وہ الجھی تھی کہ وہ اسے گھر کا کہہ کے ائیر پورٹ کیوں لایا تھا کیونکہ یہ چیز تو اسکے دماغ میں ہی نہ تھی کے وہ اسے ہی پاکستان لیے جارہا تھا بھلا ایک وانٹڈ لڑکی کیلئے اتنا آسان تھا وہاں سے نکلنا کیا پتا کوئی ریکارڈ ائیرپورٹ پہ بھی اس سے منسلک ہو؟

لیکن ارتضٰی نے جب اسکے سامنے اسکا پاسپورٹ اور ٹکٹ لہرائے اسے صیح معنوں میں جھٹکا لگا تھا

“نو وے آئی کانٹ ٹیک رسک ۔”

اس نے نفی میں سر ہلاتے وہاں سے بھاگنے کو پر تولے مگر ارتضٰی کی گرفت اسکے بازو پہ آٹہری تھی وہ ارتضٰی کو نہیں بتا سکتی تھی کہ صرف ہیری کا الزام ہی نہیں کچھ اور بھی تھا جو سسٹم کوئی ہائی الرٹ کرسکتا تھا مگر وہ اسے کھنچے ائیرپورٹ کی طرف لیے جارہا تھا ۔

“ہے یو۔۔۔۔”

سیکورٹی آفیسر کی آواز پہ ان دونوں کے پاؤں منجمند ہوئے تھے جبکہ ارتضٰی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

༻━━━━━⊱༻

ہم نے کبھی اسکا چہرہ نہیں دیکھا تھا ہمارے پروفیشن میں یہ چیز تھی کہ کوئی بھی کسی کی زاتی زندگی سے متعلق پوچھے۔۔”

ہیری کا بیان ریکارڈ ہوچکا تھا جسکے مطابق ڈاکٹر جان کے قتل سے اسکا کوئی تعلق نہیں یہ صرف ایک سوسائیڈ کیس تھا مگر بہت سے سوال کھڑے ہورہے تھے کہ ڈاکٹر جان نے کیوں سوسائیڈ کیا تھا بہت سے سوالات تھے جنکے جواب جاننا اہم تھا۔ مگر کوئی بھی سرا اسکے ہاتھ نہیں لگا تھا تبھی اسکا سیل بج اٹھا دوسری جانب سے دی گئی اطلاع نے اسے لب بھینچنے پہ مجبور کردیا تھا۔

ساحل کے کنارے چلتے ان گنت یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے اپنے ساتھ لے جانے کو بےتاب تھا۔

آج اسے معروش کا سامنا کرنا تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کیسا ریکٹ کرے گی مگر یہ لازم تھا کہ اب ایک ملاقات روبر ہو ہی جاتی۔۔۔۔۔

بوچھاڑ میں کچھ کچھ بھو لتا جاتا ہوں اب تجھ کو ترا چہرہ بھی دھُندلا نے لگا ہے اب تخیل میں بدلنے لگ گیا ہے اب وہ صبح و شام کا معمول جس میں تجھ سے ملنے کا بھی اِک معمول شامل تھا تیرے خط آتے رہتے تھے تو مجھ کو یاد رہتے تھے تری آواز کے سُر بھی تری آواز کو کاغذ پہ رکھ کے ، میں نے چاہا تھا کہ “پن” کر لوں و ہ جیسے تتلیوں کے پَر لگا لیتا ہے کوئی اپنی البم میں ترا “ب” کو دبا کر بات کرنا “واؤ” پر ہونٹوں کا چھلا گول ہو کر گھوم جاتا تھا بہت دن ہو گئے دکھا نہیں، نہ خط ملا کوئی بہت دن ہو گئے سچی تری آواز کی بوچھاڑ میں بھیگا نہیں ہوں میں

Episode 10

ارتضٰی نے سوالیہ نظروں سے سیکورٹی آفیسر کو دیکھا مگر وہ ان دونوں کی جانب ہی متوجہ نہیں تھا ۔

وہ آگے بڑھتے ایک کپل کے ڈاکومینٹس چیک کرنے لگے ۔معروش کو لگا اسے جیسے کوئی نئی زندگی ملی ہو اس نے سراسیمہ انداز میں ارتضٰی حیدر کو دیکھا مگر وہ اسکی جانب متوجہ نہیں تھا کاؤنٹر کی طرف بڑھتے معروش کی دھڑکنیں تیز ہورہی تھیں۔

“اگر وانٹٹڈ لسٹ میں ڈالے اسکا نام ای۔سی۔ایل میں ہوا تو؟” اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی مگر آگ کا دریا عبور تو کرنا تھا مگر اس سب میں اسکی سوچ کی پرواز صرف ائیر پورٹ پہ ہوتی ایکٹویٹز پہ تھی ۔

سلب ہوتے ہوش و حواس کے ساتھ اسے پتا بھی نہیں تھا کہ کب پاسپورٹ ٹکٹ اوکے ہوا سامان کی چیکنگ سے لے کے بورڈنگ پاس تک وہ الیؤژن کا شکار رہی ۔

وزیٹنگ ایریا میں ایک ہیپی کپل کا منظر کئی ایک لوگوں کو اٹریکٹ کررہا تھا جبکہ ارتضٰی کی ہر ڈیلنگ سے انجان وہ بے یقینی کی کیفیت میں بیٹھی تھی۔

“ویلکم ٹو اہیتھرو انٹرنیشنل ائرپورٹ لندن مے آئی اٹینشن پسینجرز فار فلائٹ پی۔آئی۔اے 785 PKپلیز گو ٹو گیٹ ٹو۔سیون۔تھری۔”

اناؤنسمنٹ سنتےارتضٰی کا ہاتھ وزیٹنگ چئیر پہ بیٹھی معروش کی طرف بڑھا جس نے میکانکی انداز میں اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا ۔ارتضٰی کے چہرے پہ مبہم سی مسکراہٹ آئی تھی وہ جانتا تھا کہ اسے خود بھی نہیں پتا وہ کیا کررہی ہے ۔اسکا ہاتھ پکڑے اپنا سارا وزن ان پہ منتقل کیا اور اسکے سہارے چلتی اس نے ایک نگاہ پیچھے مڑ کے ڈالی جہاں “دا کوئینز ٹرمینل ٹو ” کے جلی حروف اسکی آنکھوں میں اتری دھند میں بھی جگمگا رہے تھے ۔اسے اپنے اردگرد کی آوازوں کا شور عجیب سرگوشیاں کرتا محسوس ہورہا تھا جیسے سب اسکے راز سے آشنائی کا دعویٰ کررہے ہوں ۔

ارتضٰی نے آگے بڑھتے ایک پسینجر کیری میں ہینڈ بیگز رکھے تو معروش نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا۔

“اف کورس میم آور لاسٹ ڈسٹنیشن ٹو فلائٹ۔” طویل رہداری کی طرف اشارہ کیا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا کچھ پسنجرز پیدل چلتے فلائٹ کی طرف جارہے تھے راہدری کی والز پہ لندن کی تہزیب کو دکھاتے مختلف پوسٹرز آٹومیٹکلی دس سیکنڈ بعد چینج ہوجاتے معروش انہی مناظر میں کھوئی کہیں دور جا نکلی تھی۔

“معروش بیٹا میں چاہتا ہوں تم اپنے نام کی طرح دنیا کے افق پہ چمکو ایک ایسی روشنی بنو جو ہر ایک کو راہ دکھائے کبھی کسی کی ذات کو میرے چاند سے ٹھیس نہ پہنچے۔”

حیات صاحب کی بات نے اسکی آنکھوں کو جل تھل کیا۔

“کیا تھی وہ اور کیا بن گئی؟” حالات کی ستم ظریفی یا اسکی اپنی چوائس ارتضٰی نے اسکا بازو ہلائے متوجہ کیا جہاں ائیر ہوسٹس مسکرا کے ویلکم کرتے آخری کاروائی کررہی تھی ۔وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اتنی ٹھنڈ کے باوجود اسکا جسم کتنے پسینے سے بھیگا ہوا تھا۔

ارتضٰی کی ہمراہی میں وہ اپنی سیٹ کی طرف پہنچی تھی ۔بے یقینی تھی کے حد سوا ارتضٰی نے ایک نظر اسے دیکھا جو اپنی سیٹ سنبھالتے ہی باہر کے مناظر کو دیکھ رہی تھی ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو اٹریکٹو ہوتا جہاں چھوٹی بڑئ فلائٹس اپنا کام کررہی تھیں۔

فالائٹ ٹیک آف کی اناؤنسمنٹ کے ساتھ سفر کی دعا پڑھتے اسکے لب جبکہ آنکھوں میں ابھی تک کچھ ہونے کا ڈر تھا ہر اناؤنسمنٹ کے ساتھ اسکا دل ایک سیمے ہوئے بچے کی طرح سکڑتا تھا۔

ارتضٰی نے ایک نظر اسے دیکھا “کیا واقعی ہر مجرم کی حالت ایسی ہوتی ہے جو آپکی ہورہی۔”

پہلی باقاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا تھا جو گھر سے اب تک ان کے درمیان ہورہی تھی۔

“میں مجرم نہیں ہوں آئی سمجھ آپکی اگر ایسا کچھ ہوتا تو۔۔”

معروش کا طنز سنتے بھڑکی تھی ارتضٰی کے لبوں پہ استہرائیہ ہنسی آئی۔

“اوہ!واقعی آپ تو مجرم نہیں ہیں پھر یہ فرار کیسا؟”

ارتضٰی کی بات پہ وہ آنکھوں پتلیاں سیکڑے اسے دیکھنے لگی۔

“اگر آپ بھول رہے ہیں مسٹر ارتضی تو میں آپکو بتانا چاہونگی کہ آپ مجھے زبردستی پاکستان لیے جارہے ہیں ورنہ میری ایسی کوئی بھی اٹنیشن نہیں تھی اوکے۔”

وہ اس سے لڑنا نہیں چاہتی تھی کہ مگر ارتضٰی کا بار بار طنز اسے بھڑکا رہا تھا۔

“اوہ اگر آپ واقعی جانا نہیں چاہتی تھیں تو شور مچا دیتیں عورت کی آواز پہ تو ویسے بھی فوراً ایکش لیا جاتا ہے۔”ارتضٰی کی بات پہ اسے گھورتے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی مگر دوسرے ہی لمحے بری طرح چونکی تھی ۔

جہاز اڑان بھرتا بادلوں کی روئی کے درمیان میں سے گزر رہا تھا اس نے بے یقینی سے ارتضٰی کی طرف دیکھا جس نے کندھے اچکائے تھے۔

“مطلب کے یہ سارا میلو ڈرامہ اسکی اٹینشن ڈائیورٹ کرنے کو تھا۔” معروش نے ایک بار پھر جہاز کے پروں کے ساتھ ساتھ اڑان بھرتے بادلوں کو دیکھا یقیناً وہ حبس زدہ ،جرائم کی دنیا سے نکل کے ایک آزاد فضا میں جارہی تھی ۔

اپنا جسم اور سر ایک دم ہلکا ہوتا محسوس ہوا تھا ارتضٰی نے انجانے میں اسے ایک بہت بڑے عذاب سے نکال لیا تھا مگر اس نے یہ سب کیسے اور کیوں کیا؟ کیا واقعی اتنا آسان تھا اسکیلئے وہاں سے نکلنا ؟یورپ کے سخت اصولوں کو توڑے ایک قاتل اور سکیم پرسن کا وہاں سے نکلنا اتنا آسان نہ تھا اسکے پیچھے کی گیم سمجھنے کو اس نے سوچا ہی نہیں تھا۔ پرسکون ماحول اور آزادی کی ہوا میسر آتے ہی اسکے دماغ کئی سوالات کی یلغار ہوئی۔

بے چینی سے ارتضٰی کی طرف رخ موڑا جو اسکی طرف متوجہ ہی نہ تھا۔معروش کو اسکا رویہ الجھن میں مبتلا کرگیا۔ائیرپورٹ پہ اسکیلئے کئیرنگ ہیسبنڈ کا رول اس سمیت سب نے دیکھا تھا اور اب یہ اجنبیت اس نے الجھن آمیز نظروں سے اسے دیکھا مگر ان سوالات کے جواب وہی دے سکتا تھا جو بے فکری سے نیوز پیپر پڑھنے میں مشغول تھا آٹھ گھنٹے کی یہ طویل فلائٹ اسکیلئے ایک چیلنج ثابت ہورہی تھی جاڑے کے موسم جیسے اس شخص کے ساتھ۔

༻━━━━━⊱༻

ملک حیات اور رمشہ کی شادی مکمل لوو میرج تھی ۔ایک سیکرٹری کی حثیت میں حیات انڈسٹری میں کام کرتے رمشہ کو اپنے سے عمر میں کئی برس بڑے حیات صاحب بہت اچھے لگے تھے وجہ شاید انکی محسور کن شخصیت یا پھر بے تحاشا دولت تھی۔

انکی پہلی شادی ارینج میرج ہونے کی وجہ سے صرف ایک سمجھوتہ ہی تھی اپنی زندگی سے ناخوش حیات صاحب رمشہ کی بے تحاشا خوبصورتی اور اداؤں کے زیر ہوئے تھے۔

گھر والوں کی ناپسندیدگی اور اعتراضات کے باوجود انہوں نے ہر چیز کو پس پشت ڈالے شادی کرلی تھی کیونکہ انکے پاس ایک وجہ تھی کہ انکی پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ تھی جو سب کو چپ کروانے کو کافی تھی ۔

حیات صاحب کیلئے کم سن بیوی اور اسکی محبت بہت معنی رکھتی مگر معروش کی پیدائش کے بعد سے انہیں اپنی یہ شادی بہت بڑی غلطی لگنے لگی تھی۔رمشہ نے بہت جلدی خود کو اپر کلاس کی خصلتوں میں ڈھالا تھا اور حیات صاحب کے ساتھ معروش کا وجود بھی پس پشت ڈالے وہ اس زندگی کے مزے لوٹنے میں مصروف تھی جبکہ دوسری جانب گھر اور اپنی اکلوتی بیٹی کی پریشانی نے بزنس سے انکی توجہ ہٹا دی تھی۔

انہی دنوں ایک پارٹی میں انکی ملاقات طیبہ سے ہوئی جو انکیلئے ایموشنل سہارا ثابت ہوئی تھیں۔

طیبہ کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے تھا جس نے اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے کیلئے ماڈلنگ سٹارٹ کی تھی ۔

طیبہ ایک بیٹے کی ماں ہونے کے باوجود بھی خوبصورت جسم کی مالک عورت تھی ۔

رمشہ کی حد درجہ لاپراوئیوں سے دھوکا کھائے حیات صاحب نے اسے شادی کی آفر کی تو اس نے جھٹ سے قبول کرلی تھی جبکہ ان کو انکے بیٹے سے بھی کوئی مسئلہ نہ تھا۔

طیبہ نے اپنے شوہر کی جھوٹی موت کا قصہ سنائے انکی زندگی میں جگہ تو حاصل کرلی تھی مگر اسکے شوہر نے خلع کا نوٹس بھجوانے پہ بھی انہیں چھوڑنے سے انکار کرتے بہت بڑی مشکل پیدا کردی تھی ۔

طیبہ کی لالچی فطرت سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی اسکا شوہر اپنے بیٹے کو بکھرتا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔

ایسے میں اس نے بڑی چالاکی سے میر کو اپنے ہاتھ میں کیے باپ کے خلاف اکسانا شروع کردیا وہی اسے حیات انکل بہت اچھے لگتے جو اسے بہت سے گفٹس اور چاکلیٹ دیتے اپنے بیٹے کی اس روش نے اسکے شوہر کو طیبہ کو چھوڑنے پہ مجبور کردیا تھا اور دس سالہ میر جو اسوقت طلاق جیسے لفظ سے آشنا بھی نہ تھا معروش کے گھر آتے اسے بہت اچھے سے احساس ہوچکا تھا کہ اب اسکی مما اسے اپنے سگے باپ کے پاس نہیں لے کے جائیں گی کیونکہ وہ ان سے طلاق لے چکی ہیں۔

طیبہ کو دیکھتے رمشہ نے ایک ہنگامہ برپا کیا تھا مگر حیات صاحب نے کوئی بھی پرواہ نہیں کی اور صاف لفظوں میں کہہ دیا اگر انہیں انکی زندگی سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ اپنے راستے الگ کرسکتی ہیں۔

ان دو ماؤں کے غلط اور دولت کی ہوس پرستی نے دونوں بچوں کو بری طرح سے توڑ دیا تھا۔

میرو کو حیات صاحب برے لگتے تھے جنکی وجہ سے انکی ماں نے اسکے باپ کو چھوڑا تھا وہیں معروش کو طیبہ اور میرو کا وجود زہر لگتا تھا جسکی وجہ سے رمشہ گھر چھوڑ کے گئی تھی ۔

طیبہ اور میر کو نیچا دکھانے کیلئے وہ ہر وہ کام کرتی جس سے ا ن کو تکیلف پہنچے وہیں میر حیات صاحب سے بدلے کیلئے معروش کو تکلیف دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔

معروش کے چلے جانے کے بعد اسکا صرف ایک مقصد تھا حیات صاحب کو تکلیف سے روشناس کروانا مگر انکی من پسند چیز انکی ڈول معروش کو توڑ کے ایسے میں اس نے نفرت جتانے کے بجائے حیات صاحب کے دل میں اپنی جگہ بنانی شروع کردی تھی ۔اسکی پڑھائی اور فرمانبرداری نے انہیں اسکا دلدادہ کردیا تھا۔

اس نے لندن میں پڑھنے کی خواہش کی تو بنا کسی تردد کے حیات صاحب نے اسے آکسفورڈ میں ایڈمیشن دلایا تھا جبکہ انہیں اسکی کامیابیوں پہ کوئی شک نہ تھا وہیں انکے بزنس میں ہاتھ بٹائے طیبہ اور حیات صاحب کو کنوں کان خبر نہیں ہونے دی کہ اس نے کب اپنے لیے ایک مضبوط بنیاد کھڑی کردی تھی۔

قسمت کی دیوی اس پہ مہربان تھی وہ بہت جلد معروش تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھا جب اچانک اسکی زندگی میں ایک اور تبدیلی در آئی تھی ۔ جس نے اسے اپنی شناخت بدلے تیج کا نام دیا تھا جہاں پہ اسکے برتھ کنٹری سے مزہب تک کی شناخت بدلنی پڑی تھی۔

༻━━━━━⊱༻

ارتضٰی نے ایک نظر اپنے کندھے پہ پرسکون سوتی معروش کو دیکھا ۔وہ لڑکی اس قابل تو نہ تھی کہ اس جیسے مکمل شخص کا کندھا میسر آتا مگر اسکی مجبوری تھی جو اسے سب کچھ کرنا پڑ رہا تھا۔

تین سال پہلے ہونے والے اس اچانک نکاح نے اسکی زندگی کا رخ موڑ دیا تھا۔ اسے معروش حیات سے ملنے کی خواہش تھی مگر ایسے نہیں وہ اسے حاصل کرنا چاہتا تھا مگر کبھی اسکے ساتھ کوئی دائمی رشتے کا متمنی نہیں تھا۔

وہ جانتا تھا کہ اسکے والد گوہر حیدر اپنے دوست حیات صاحب کی اصلیت سے ناآشنا ہے ہیں مگر وہ تو انکی زندگی کے ہر پہلو سے اچھے سے آگاہ تھا مگر صرف اپنے باپ کی خواہش کیلئے وہ اس سر پھری لڑکی سے بزنس ڈیل کو تیار ہوا تھا وہ بھی اس شرط پہ کہ اگر اسکے کام کرنے کا طریقہ اسے منظور ہوا تو مگر اس لڑکی کی شادی کیلئے ڈیل اور کنٹریکٹ سائن کرنے سے لے کے کسی بھی انجان سے شادی کرنے کیلئے پاگل پن دیکھ اسے چونکا گیا تھا۔

اسے اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ معروش حیات کسی بھی ایکس۔ وائے سے شادی کرلے مگر اسے فرق پڑا تھا۔اس بات کی کیا گارنٹی تھی کہ اگر وہ کسی انجان سے شادی کرلیتی تو وہ اسکی شرائط کے مطابق کچھ دن بعد اسے چھوڑ دیتا بہت سی چیزیں تھیں جو اسکے دماغ میں کھلبلائی مچائے جارہی تھیں ۔

ایسے میں اس نے اپنی چال سیدھی کرتے اسکا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا نکاح نامے پہ سائن کرتے اسکی دھڑکن رکی تھی ضمیر نے ملامت کیا کہ وہ اسے اسکے حال پہ چھوڑے اس نفرت کی آگ سے آزادی حاصل کرلے ۔

اگر وہ صرف میر سے شادی سے بچنے کو اتنا بڑا قدم اٹھا رہی تھی تو اسے روک دے مگر وہ چاہ کے بھی کچھ نہیں کرسکا تھا اور اس لڑکی کو اپنی زندگی میں آنے سے روک نہیں پایا ۔

حیات صاحب کی اچانک ہوئی موت نے انکے احباب کے ساتھ اسے بھی مغموم کیا مگر اتنا نہیں کہ وہ انہیں زیادہ سوچتا وہی ہیری کے ساتھ بڑھتی اسکی قربت نے ارتضٰی کو طیش دلایا تھا ایک آخری فیصلہ لیے اسے ہمیشہ کیلئے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کرتے اسکی چوکھٹ پہ جا پہنچا تھا جہاں معروش تو نہیں مگر حنا کی صورت میں ایک بہترین دوست میسر آیا تھا۔

ہیری کی خوشقسمتی تھی یا معروش کی کہ وہ بچ گیا تھا اور باقی کا معاملہ ارتضٰی نے اپنے رسویسز استعمال کیے ختم کیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بے وقوف لڑکی کسی طرح کی مزید غلطیاں کرے مگر جسے خود ہی غلطی پہ

غلطی دہرانے کا شوق تھا اسکیلئے ارتضٰی بھی کچھ نہیں کرسکا تھا وہیں اپنی ماں اور حنا کی محبتوں نے اسے معروش کو اس دلدل سے نکالنے کا فیصلہ کروایا وہ کبھی بھی اس سے انجان نہ تھا ۔

جورڈ کے ذریعے اس تک رسائی حاصل چاہی مگر جلد ہی جورڈ اور اسکے ساتھیوں کی ڈبل پالیسی کا اندازہ ہوا تھا۔

وہیں ان گوروں کو استعمال کرتے محض ایک شک کی بنیاد پہ “لٹل کریپٹو کوئین ” اور معروش کا تضاد تھا مگر معروش کی بدقسمتی کے اس نے لاکھ اچھی گیم چاہی پھر بھی وہ اسکا سچ جان چکا تھا۔

اسٹیج پہ لوگوں سے مخاطب “مس کریپٹو کوئین” نے اسے تھوڑی دیر کو اچھا جھانسا دیا تھا مگر ڈاکٹر جون کی موت نے اندر کی گیم کو واضع کردیا تھا جہاں معروش نے ڈاکٹر جون کی مدد سے اپنے ظاہری خدوخال میں تبدیلی لائے دنیا کو دھوکا دیا وہیں اپنی شناخت واپس حاصل کیے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا کیونکہ وہ ایک واحد شخص تھا جو اسکی نقاب کے پیچھے چھپی اصلیت سے آگاہ تھا اور اس نے وہی ثبوت ختم کرتے خود کو ہر طرح سے آزاد کروالیا تھا ۔

دنیا چاہے کتنی ہی “مس کریپٹو کوئین ” کی تلاش میں اپنی ایجنسیاں دوڑاتی وہ کبھی انکے ہاتھ نہیں لگ سکتی جبکہ اسکا واحد ساتھی ایلس بھی اس گیم چینجر لڑکی کی اصلیت سے آگاہ نہ تھا۔

وہ تھوڑا کسمسائی تو ارتضٰی بھی چونک اٹھا جبکہ وہ پھر سے پرسکون ہوگئی تھی ۔

جہاز لینڈنگ کی اناؤنسمنٹ جاری تھی معتوش نے آنکھیں کھولے اپنے سامنے ایک نئی دنیا کو دیکھا تبھی اسکے کانوں میں ہوتی سرگوشی نے اسے سانس بند ہونے کی نوید سنائی۔

“ویلکم ٹودا ورلڈ آف ارتضٰی میر حیدر معروش حیات ،

ویلکم ٹو دی ورلڈ آف تیج مس لٹل کریپٹو کوئین۔”

جہاز کے پہیوں کی چر چراہٹ نے جہاں تیزی سے رن وے پہ لینڈنگ کی وہیں اسکا وجود بھی دھڑا دھڑ ان پہیوں کے نیچے خود کو کچلتا محسوس ہوا تھا۔

جبکہ ارتضٰی نے مسکراتے ہوئے اسکی بیلٹ سیدھی کی جو دیکھنے والوں کو یہی نظر آرہا تھا کہ وہ اسکا سیٹ بیلٹ مضبوط کررہا تھا درحقیقت اس نے اسکے گرد اپنی نفرتوں کا شکنجہ سخت کیا تھا جبھی اسکی سانس سینے میں اٹکنے لگی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *