Sayah Kaar by Uzma Mujahid NovelR50609 Sayah Kaar (Episode 13)
Rate this Novel
Sayah Kaar (Episode 13)
Sayah Kaar by Uzma Mujahid
میں ایسی ادھوری تو ہرگز نہیں ہوں کہ
کسی کو آ کے مجھے مکمل کرنا پڑے_
میں تو آسمان ہوں..
اگر کوئی میری زندگی میں آئے گا
تو ستارے کی طرح میری وسعتوں کو حسین بنا دے گا
اور اگر چلا جائے گا ۔۔۔
تو یاد رھے
صاف اور اجلا آسمان بھی بہت حسین ہوتا ھے۔۔۔۔۔۔۔
رات پھر سے اپنے پر سمیٹے دن کے اجالوں کو ویلکم کررہی تھی۔ ارتضٰی کسی مسافر کی طرح وہاں رات گزارے خاموشی سے کوچ کرگیا تھا۔صوفے پہ سوتے معروش کی گردن میں جیسے بل آیا تبھی درد کی شدت سے وہ اٹھ بیٹھی۔نظر سامنے پڑی تو بستر انتہائی نفاست سے اپنی جگہ پہ تھا جیسےیہاں کوئی رات گزار کے ہی نہ گیا ہو۔
ارتضٰی نے اسکا موبائل اپنے قریب رکھے اس چھونے سے بھی منع کیا تھا اور وہ تاؤ کھاتی صوفے پہ ہی سوگئی ۔ جسکے نتیجے میں کم خوابی کا اثر تھا پوری رات وہ ایک کروٹ سوتے بے چین رہی تھی ۔ابھی اسکے جانے کے بعد پھر سے سونے کا سوچتی بڑھی لیکن موبائل پہ ہوتی بپ نے اسے چونکایا۔پرائیوٹ نمبر لکھا آرہا تھا ۔سوائے لیفٹیننٹ جنرل مختیار کے اور کون ہوسکتا اسی سوچ پہ کال اٹھائی اور اندازے کی درستگی پہ ٹھنڈی آہ بھرتی کال سننے لگی۔
“بی۔بی۔سی انٹرنشینل نیوز چیک کیں؟” مختیار سر کا لہجہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا محسوس ہورہا تھا ۔
“کک کیا ہوا سس سر۔” اپنا پہلا ٹاسک آئی۔ایس ۔آئی کیمپ میں سرانجام دینے کے بعد وہ بھی باقی سب کی طرح انہیں سر کہہ کے مخاطب کرتی تھی۔
“چیک اٹ ناؤ۔” تحکم دیتے وہ کال بند کرچکے تھے ۔
اپنی بے قابو ہوتی دھڑکن پہ بمشکل قابو پائے وہ نیوز چینل لگانے لگی ۔
“Here we tell you that there has been significant progress in the case of scame in the world’s largest digital currency, cryptocurrency. According to sources, American and German intelligence agencies have shown significant progress in this regard. Soon he will reveal this face to the world.As pursue the truth Miss Little Crepto Queen other Companion Mr.Ales in the custady of CBA…”
“نظرین یہاں ہم آپکو بتاتے چلیں کہ ورلڈ کے سب سے بڑی ڈیجٹل کرنسی،کریپٹو کرنسی پہ ہونے والے فراڈ کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ذرائع کے مطابق امریکن اور جرمن انٹیلجینس اداروں نے اس معاملے میں اہم پیش رفت دکھائی ہے انکا کہنا ہے کہ جلد ہی وہ اس چہرے کو دنیا کے سامنے نقاب کریں گے ،مس لٹل کریپٹو کوئین کے اہم ساتھی ایلس پہلے ہی سی۔بی۔آئی۔اے کی تحویل میں اور۔۔۔۔”
نیوز اینکر کی آواز اس پہ رقت طاری کرنے لگی تھی ۔اتنی آسانی سے بھلا کیسے وہ۔
“تیج۔ صرف تیج ہی یہ کرسکتا ہے۔” اسکے ہقتھ پقؤں پھولنے لگے تھے ایک گھبراہٹ تھی جو اس پہ طاری تھی۔
تبھی سیل پھر سے بج اٹھا اس نے ڈرتے ڈرتے کال اٹھائی مگر کال نمبر سے شو ہورہی تھی۔مفتل ہوتے حواسوں سے کال اٹھائی۔
“بہت برے طریقے سے پھنس چکی ہو معروش حیات اب تمہارے پاس میری بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں اگر میں چاہوں تو یہ مجرم تک کی رسائی مزید آسان ہوسکتی ہے۔” اس نے سیل کان سے ہٹائے اسے خوفزدہ نظروں سے دیکھا جیسے تیج سامنے ہی ہو ۔
پھر سے کان سے لگایا وہ ابھی بھی کچھ کہہ رہا تھا ۔
“دیکھؤ معروش دماغ کے ساتھ تمہیں ایک مضبوط بیک اپ کی ضرورت ہے میں جانتا ہوں تم نے بہت آسانی سے اپنا روپ بدلا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ تم تنہا کچھ نہیں کرسکتی اس لیے تمہیں میری طرح “را” کا ہاتھ تھامنا ہوگا ابھی اپنی بلیک منی کو وائٹ کرنے کیلئے بھی تمہیں وقت چاہیئے۔”
تیج میر کی تفصیلی گفتگو نے بھی اس پہ کوئی اثر نہیں کیا تھا اس نے کال بند کی ۔کتنی دیر وہ سر نگوڑے پڑی رہی تھی مگر اسکے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہ تھا ۔
وہ واقعی عظیم چل چکی تھی مگر ایک بینک ربری اور اسکیم تک سفر بہت تکلیف دہ امر رہا تھا ۔
کچھ سوچتے اس نے دوبار سے مختیار سر کا نمبر ملایا بہرحال یہ تو طے تھا کہ اس نے ارتضٰی کی الٹ سمت ہی جانا ہے۔
دوسری طرف سے فوراً کال اٹھا لی گئی جیسے اسی کی کال کا انتظار تھا۔
“آئی وانٹ ٹو جوائن آئی۔ایس۔آئی ایز آ سیکرٹ ایجنٹ ول یو فیور می پلیز ٹو گو آؤٹ انڈرگراؤنڈ۔”
معروش کی آواز نے وہاں بیٹھے چند اور افراد کے چہرے پہ بھی مبہم مسکراہٹ لائی تھی ۔
“مشن سیکسفل گائیز۔” مختیار سر نے “تھمب اپ ” کرتے سبکو اسکے جوائن کرنے کی گڈ نیوز سنائی تھی وہاں موجود ہر شخص ہی اسکی خداداد صلاحیتوں کا متعرف تھا۔یقیناً اب مثبت روش پہ چلتی معروش ماضی کے کچھ گناہوں کا کفارہ ادا کرسکے گی۔
༻━━━━━⊱༻
“تم میرے لیے ایک سنگین غلطی سے زیادہ کچھ نہیں۔ کیا نہیں کیا میں نے تمارے لیے اور بدلے میں کیا ملا ہے مجھے صرف ایک بچے کو نہیں سنبھال سکتی تم ۔”
اسکا باپ چلاتے ہوئے اسکی ماں کو کہہ رہا تھا یہ روز کا معمول تھا جب اسکی ماں لیٹ نائٹ پارٹیز سے ڈرنکڈ حالت میں آتی وہ اور اسکا بھائی دونوں ہی نوکروں کے سہارے پورا دن گزارتے۔
“تنگ آچکا ہوں میں اس زندگی سے تمہارے گندے وجود سے نفرت ہوتی مجھے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں طلاق۔۔۔”
اسکا دل سہم کے سکڑا تھا یہ لمحوں میں بازی کیسے بدل گئی تھی؟کیا اتنا آسان تھا کہ جب چاہے ایک دوسرے کو اپنی زندگی میں شامل کر لو اور کبھی رفع دفع اس نے دروازے کی دہلیز کو مضبوطی سے تھام لیا۔
وہ سترہ سالہ بچہ اتنا میچور ضرور تھا کہ یہ جان سکتا ان الفاظ کا دکھ کیا ہے ۔گھر سے بے گھر ہونا ،مما پپا کا ساتھ نہ رہنا اور پھر سے اگر کوئی رگیدا جاتا تو وہ تھے یہ بچے اس نے ایک نظر اپنے چھوٹے بھائی پہ ڈالی۔جو مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔وہ جانتا تھا کہ کیا قیامت گزر رہی تھی اس پہ وہ زندگی کی اس مکروہ اور تلخ حقیقت سے آشنا تھا مگر اسکا کم سن بھائی نہیں ۔
گہری سانس ہوا میں خارج کرتے اس نے اپنے ناپختہ ذہن کو ایک بڑا فیصلہ لینے پہ مجبور کیا اور اسے اپنے ساتھ چپکائے گھر سے نکل آیا تھا ۔جبکہ اتنے اچانک حملے پہ وہ رو پڑا تھا پر وہ شدید سردی سے بھی لاپرواہ اسے کندھے سے لٹکائے بھاگ رہا تھا نا کوئی منزل کا پتا تھا نہ ہی کسی راستے کا۔ آوازیں تھیں اسکا پیچھا نہیں چھوڑ رہی تھیں ۔
“طلاق” بظاہر ایک لفظ تھا مگر کسی آسیب کی طرح اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا۔سامنے سے آتی گاڑی ہیڈ لائٹس آن ہوئیں اپنی موت سامنے دیکھتے اسے نے اپنے بھائی کو ہوا میں اچھالا تھا جو فٹ پاتھ پہ گرتے درد کی شدت سے چیختے اٹھ بیٹھا تھا ۔وہیں اسکا وجود بھی بونٹ سے ٹکراتے ہوے سڑک پہ لڑھک گیا ۔
اسے جب ہوش آیا اپنے اردگرد انجان لوگوں کو دیکھتے گھبرا اٹھا تھا دوسرا خیال اسے اپنے بھائی کا آیا اردگرد نگای دوڑائی وہ کہیں بھی نہ تھا ۔
“مم میرا بھائی کہاں ہے۔” اپنے سامنے موجود انجان شخص سے پوچھا جس نے گردن نفی میں ہلائے اسکی بات نا سمجھ آنے کا اشارہ کیا۔
“میرا بھائی تھا 2 سال کا؟” اس نے اپنی آواز کو اونچا کیا جسکے نتیجے میں سامنے والے کی طرف سے ایک تھپڑ پڑا تھا ۔وہ پوچھنا چاہتا تھا کہ ایسا کیوں کیا مگر انکے نافہم تاثرات اسے مزید پریشان کرگئے تبھی ایک اور شخص داخل ہوا۔
وہ دونوں ایک ناواقف زبان میں بات کررہے تھے اس شخص نے بھی ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنے ساتھی کی بات سننے لگا۔
“کیا پوچھ رہے ہو؟” دوسرے شخص کی کرخت آواز تھی مگر اسے جان کے تسلی ہوئی کہ وہ اس کی زبان میں بات کررہا تھا ۔
“میرا بھائی؟” یک مختصر سوال۔
“اوہ وہ بچہ کافی زخمی ہے شاید مرجائے۔” ٹھنڈاٹھار اور تسلی آمیز لہجہ اسکو اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل گیا تھا۔
“نن نہیں پلیز انکل ایسا نہ بولیں پلیز ۔” اسے اس لمحے شدید احساس ہوا کہ اس نے گھر چھوڑ کے کتنی بڑی غلطی کی تھی کم از کم وہاں چھت تو میسر آجاتی چاہے ماں لے جاتی یا باپ ۔وہ دونوں ایک نظر اسے دیکھتے کمرے سے نکل چکے تھے جبکہ اسکا دل چاہ رہا تھا وہ چیخے چلائے ایک اسکی زندگی میں ہی ایسی سیاہی کیوں بھری گئی تھی مگر وہاں اسکی چیخ وپکار سننے والا بھی کوئی نہ تھا۔
༻━━━━━⊱༻
“ویلکم ہیئر مس معروش حیات۔”
نجانے کون کون اسے یہاں ویلکم کرنے کو تیار تھا پھر سے وہی چکرویو آدھے لوگ نقاب پوش تھے تو کچھ لوگ ایسے ہی ۔ان بیس افراد میں پانچ لڑکیاں جبکہ باقی مرد حضرات تھے انکی یونیفارم پہ لگے ٹیگز اور نام سے وہ انکے عہدے پڑھ پارہی تھی۔وہ ایک ملٹری اکیڈمی تھی مگر وہاں پہ موجود لوگ کوئی بھی نیا کیڈٹ نہیں لگ رہا تھا ۔
اسوقت اسکا تمام اعتماد اڑن چھو ہوچکا تھا اسے یہ لوگ بہت عجیب لگ رہے تھے سوائے مختیار سر کے جنکی ایما پہ وہ یہاں تھی بلکل غیر رجسٹرڈ سرکاری کیڈٹ جب تک کہ وہ انکے اعتماد پہ کھری نہ اترتی۔
“ایم آئی کا مکمل نام ملٹری انٹیلیجنس ہے اور اسے 1948 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان آرمی کا ایک خفیہ ادارہ ہے اور اس کا ہیڈ کوارٹر پاکستان کے شہر راولپنڈی میں ہے۔اس ادارے کے اہلکار یونیفارم میں ہوتے ہیں اور یہ ادارہ ریاست کے خلاف تخریبی سرگرمیاں کرنے والے افراد کے خلاف منظم انداز میں کاروائی کرتا ہے۔”
سامنے موجود کیپٹن واسق اسے یہاں سے متعلق کچھ معلومات دے رہے تھے کیونکہ انکے اس ادارے سے متعلق چند ایک سوالات پہ انہیں اچھے سے معلوم ہوچکا تھا یہ لڑکی ایسے ہی یہاں آن پہنچی تھی بنا کوئی انٹرسٹ کے مگر ڈی۔جی ایم۔آئی کی معرفت سے آئی اس لڑکی کا پہلا سٹیپ یہی سے شروع ہورہا تھا۔
“یہ ادارہ پاکستان کی تینوں فورسز یعنی بحری٬ بری اور فضائی افواج کے لیے اپنی خدمات سرانجام دیتا ہے۔ یہ پاکستان میں موجود غیر ملکی جاسوسوں کو پکڑنے اور سلیپر سیلز کے خاتمے کا کام کرتا ہے۔”
وہ اسے مکمل انٹرو کرواتے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگے شاید کہ کوئی سوال پیدا ہو اسکے دماغ میں مگر وہ تیج کی ضد میں یہاں چلی آئی تھی اسے اسپیشل فورسسز میں کبھی انٹرسٹ نہیں رہا تھا اور وہ لوگ زبردستی اسے اس چیز کی طرف لانے کی کوشش میں تھے چونکہ مختیار صاحب ابھی تک یہاں تھے اسیلئے ادے بھی انکے انڈر رہنا تھا ۔
اسے کبھی کبھی گمان ہوتا کہ انہوں نے اپنی موجودگی کا گہرا حصار اسکے گرد باندہ رکھا ہے۔
کیپٹن واسق اسکے ساتھ سر پھوڑنے کے بعد وہاں سے جاچکے تھے وہ کینٹین پہ بیٹھی مختلف ڈسیپلنری آوازوں کو سننے میں لگی تھی ۔
“کتنے بورنگ اور سخت جان ہوتے یہ فوجی اپنے گھر سے فالتو ہوتے جو یہاں آجاتے ہیں فضول لوگ۔”
نخوت سے کہتے وہ بڑ بڑائی تھی مگر کسی نے بڑی پھرتی سے اس کے ایک ایک لفظ کو کیچ کیا تھا۔
“اگر کوئی سمجھے تو فوجیوں سے پیارا اور کائنڈ ہرٹیڈ بندہ یہاں نہیں ملے گا ۔جو اپنا سکھ چین گھر بار سب کچھ محدود آمدن کیلئے چھوڑے یہاں آپ لوگ کیلئے ہیں انکا اپنا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہوتا ۔چند ٹکوں کی خاطر اپنی جان کون دیتا ہے مس کچھ اور بھی ہوتا جو اسے اس وردی سے باندھے ہوتا۔ مگر بات یہ ہے کہ کوئی سمجھے تو نا؟”
وہ جو کوئی بھی تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا معروش کو اٹھا اٹھا کے پھینکے جس نے ایک وردی والے کے سامنے ایسی بات کہہ دی تھی۔
معروش بھی بھاؤ کھائے کھڑی ہوگئی ۔وہ اتنی تو آواز شناس تھی یہ وہی شخص تھا جو اسے دوسروں سے بات کرنے سے روک رہا تھا۔
“ہاؤ روڈ یو آر میں نے ایسا کیا کہہ دیا آپ تو ایسے بگڑ رہے جیسے آپکی دم پہ پاؤں رکھ دیا ہو میں نے ہہہ بنا دم والا بندر۔”
وہ معروش حیات تھی وقتی ٹینشنوں میں اگرچہ اسکی شوخی اور تیز طراری دب سی گئی تھی مگر موقع آیا تو ہاتھ سے نہ جانے دیا جبکہ بنا دم والا بندر اس نے اتنی آہستگی سے کہا کہ اس نے بھی نہیں سنا۔
“ہاؤ مچ بدتمیز یو آر مس معروش حیات آپکو اپنے سنئیرز سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی کسی نے۔”
وہ دبی آوازی میں چیختے اسکے قریب آیا جبکہ معروش کی سانسیں تو جیسے اکھڑنے لگی تھیں اس نقاب پوش کو اپنے اتنے قریب دیکھ کے۔
“کک کون سنئیر مم میں یہاں صرف ڈی۔جی صاحب کیلئے ہوں اوکے میں یہاں کسی کو کوئی سنئیر نہیں مانتی۔”
تڑخ سے جواب دیتے وہ آگے بڑھی جب اسے رکنا پڑا ورنہ اچانک سے سامنے آئے اس کھڑوس سے وہ ٹکرا سکتی تھی۔
“اگر آپ کو معلوم نہ ہو تو میں آپکو بتانا چاہوں گا کہ آپ کو میرے انڈر ٹریننگ کیلئے دیا گیا ہے اور وہ بھی ڈی ۔جی صاحب کے احکامات پہ۔”
اس نے کندھے اچکاتے جیسے اس پہ بلاسٹ کرنا چاہا تھا جبکہ وہ واقعی چونکی تھی۔
“حیرانگی سے کیا دیکھ رہی ہیں مس معروش کیپٹن واسق کو آپکا انسٹرکٹر مقرر کیا گیا تھا مگر یور بیڈ لک کے انہوں نے آپکی ذمداری لینے سے انکار کردیا کیونکہ وہ کسی کند ذہن کیڈٹ کو اپنے انڈر نہیں لے سکتے سو یہ ذمداری میرے ناتواں کندھوں پہ ڈال دی گئی ہے جو بحالت مجبوری مجھے نبھانی پڑے گی۔”
مکمل تفصیل دیتے وہ دلچسپی سے اسکے چہرے پہ آتے جاتے رنگوں کو دیکھنے لگا تھا جیسے کوئی موت کا مژگان سنایا گیا ہو۔
“مم مجھے نہیں قبول واسق سر کہاں ہیں میں خود ان سے بات کرتی ہوں۔”
اس نقاب پوش سے تو اچھے وہی سر واسق تھے وہ دل میں پچھتائی تھی جب مقتل میں آہی گئی تھی تو سولی پہ لٹکنا طے تھا اور کوئی چارہ بھی تو نہ تھا۔
“سوری یہ ایم ۔آئی ہے یہاں پہ جو ایک بار لکھ دیا جائے اسکے بعد قلمدان توڑ دیا جاتا بلکل ایسے جسطرح کسی مجرم کو موت کی سزا دینے کے بعد قاضی قلم توڑ دے۔”
صاف مذاق اڑاتا انداز تھا وہ پیر پٹختے وہاں سے روانہ ہوگئی.
” اسے ڈی جی صاحب کو بتانا تھا کہ وہ کبھی اس نقاب پوش ایم۔ایچ کے ساتھ کام نہیں کرنے والی۔”
“اوئے کریپٹو لیڈی کل صبح چھ بجے رائٹ ٹائم پہنچ جانا راشد منہاس گراؤنڈ لوکیشن ڈی۔جی صاحب سے پوچھ لینا۔”
پھر سے اسے اکساتے فقرہ اچھالا تھا جبکہ وہ فوں فاں کیے وہاں سے واک آؤٹ کرچکی تھی ۔
༻━━━━━⊱༻
“سر میرے بھائی کو میرے بابا تک پہنچا دو گے نا آپ۔”
انتہائی معصومیت سے کہتے اسکی آنکھوں میں یاس وآس کی امید تھی شاید کہ سامنے موجود شخص اس پہ ترحم کھا لے اس نے گردن اکڑائے اپنے ساتھی کو اشارہ کیا کہ اسے لے جاؤ۔
تین مہینے کے زدوکوب کے بعد وہ اس کام کیلئے راضی ہوا تھا جو تھا اسلام آباد کے ایک مشہور مال میں خودکش بلاسٹ کا۔
“أعتقد أن هذا الرجل سيفعل شيئًا خاطئًا ، أيها الكابتن ، عليك أن تراقبه.”
(مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ لڑکا کوئی گڑ بڑ کرنے والا ہے کیپٹن اس پہ نظر رکھنی ہوگی مسلسل ایک اناڑی کے ہاتھ اتنی بڑی بازی دیے صرف رسک اٹھایا ہے آپ نے۔)
اس نے ان دونوں کو دیکھا جو انجان زبان میں بات کررہے تھے ۔انکے باڈی جسیجر سے وہ اندازہ لگا سکتا کہ بات اسی کے متعلق ہی ہورہی ہے۔
“لا تقلق بشأن مكان الركض عندما يكون أكبر نقطة ضعف في أيدينا۔”
(فکر نہ کرو کہاں بھاگ کے جائے جبکہ اسکی سب سی بڑی کمزوری ہمارے ہاتھ ہے)
اپنی بات مکمل کرتے اس نے ایک جیکٹ اسکی جانب بڑھائی جو اس لڑکے کو پہنا دی گئی ساتھ ہی بڑی شال لپیٹے اسے گاڑی کی طرف لے جایا جانے لگا تھا۔
إذا أظهرنا له شكل أخيه ، فإن خوفنا سيبقى بالتأكيد معه ولن ينفعنا الكثير من الأطفال ، ولا أحد منا يعرف متى وأين سنشهد. فليسلم هذا الطفل لأبيه۔”
(اگر ہم اسے اسکے بھائی کی شکل دکھا دیں تو ہمارا خوف یقیناً اسکے ساتھ رہے گا اور اتنا سا بچہ ہمارے کسی کام نہیں آئے گا ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کب اور کہاں ہم شہید ہوجائیں کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اس لڑکے کی بات مانتے اسکے باپ کے حوالے یہ بچہ کردیں۔)
پھر سے ایک اور آدمی انکے سامنے آٹہرا تھا ۔ان سب کو جب اس سے بات کرنی ہوتی تو وہ اردو میں بات کرتے ورنہ زیادہ تر دوسری زبان میں بات ہوتی وہ خود سے اندازے لگاتا کہ وہ لوگ عربی زبان استعمال کررہے یا ہیں پشتو ۔درحقیقت وہ اکثر اوقات عربی اور پشتو دونوں کا ہی استعمال کرتے ساتھ میں آخر میں آنے والے شخص کی بات مانتے اسے بھائی کی شکل دکھائی گئی تھی۔
“احد” اس نے اپنے بھائی کو دیکھ آواز لگائی جو اتنا چھوٹا ہونے کے باوجود اسے پہچاننے لگا تھا اسے دیکھتے اسکی طرف ہاتھ بڑھانے لگا تھا مگر بیچ میں ہی ایک شخص اچکتا اسے دور لے جانے لگا ۔دونوں بچے ہی رونے لگے تھے مگر کوئی بھی انکا پرسان حال نہیں تھا۔
تھوڑی دیر بعد اسے مطلوبہ جگہ پہنچائے ان لوگوں نے اس پہ نظر رکھی ہوئی تھی۔ اسکے کانوں میں احد کی رونے کی آواز گونج رہی تھی ایک نظر اتنے لوگوں کے ہجوم پہ ڈالی۔اگر اسے اور اسکے بھائی کو زندگی کی خوشیاں کشید کرنے کا کوئی حق نہیں تھا تو خوش ان لوگوں کو بھی نہیں رہنا چاہیئے وہ آنکھ بند کیے اپنے ساتھ اور لوگوں کے انجام کا سوچتے استہرائیہ مسکرایا ہاتھ بڑھائے مطلوبہ بٹن پریس کرنے لگا ۔کچھ دیر میں وہاں کی پررونق فضا آہ بکا اور سسکاریوں بھری ہونے والی تھی ۔اسکی طرح کئی لوگ اس تھکا دینے والی زندگی سے آزاد ہونے والے تھے جبکہ وہی کئی لوگ اپنے پیاروں کے بچھڑنے پہ رونے والے تھے۔
کیا اسکی موت پہ بھی کوئی رونے والا ہوگا؟ اسکی ماں باپ اور بھائی جب تک اسے رشتوں کی سمجھ آئے گی وہ دنیا کی اس بھیڑ سے دور چلا جائے گا۔
اس نے آنکھیں بند کیے بٹن پریس کیا اور دوسرے ہی لمحے اسکا وجود ہوا میں تحلیل ہورہا تھا۔
“ڈونٹ موو ہیڈ ڈاؤن پش بیک یور ہینڈ۔”
اسے یہ آواز سنی ہوئی معلوم ہورہی تھی مگر کون تھا وہ اس کیلئے اسے سر اٹھا کے دیکھنا پڑتا تبھی ایک سر سراتی گولی چلی تھی جو اس تک پہنچنے سے پہلے ہی دوبارہ اس شخص نے اپنے سینے پہ کھائی۔ فائر کی آواز پہ مال میں بھگدڑ مچی تھی ۔وہ حیران سا سامنے موجود شخص کو دیکھ رہا تھا جو اپنے کندھے پہ لگنے والی گولی کی پرواہ کیے بغیر اس پہ جھپٹتے اپنے مضبوط پنجوں میں کیے لمحوں میں فرار ہوا تھا۔
اسکے اپنے ساتھیوں نے غلط موقع پہ فائر کرکے پبلک میں کھلبلی مچائی جس سے وہ اس بچے کو لیے آسانی سے اس بھیڑ میں گم گیا تھا۔لڑکے کو اپنی پشت پہ ایک ہلکی سی چبھن محسوس ہوئی ابھی وہ تین قدم ہی چلا تھا کہ لڑکھڑا کے گرا اور اس شخص نے اپنے زخمی کندھے پہ اس لٹکائے مال کے پچھلے دروازے سے نکلتے اپنی جان خطرے میں ڈالے ہزاروں لوگوں کی جان بچائی وہ جانتا تھا کہ ٹائمر بم اس بٹن کے پریس نہ کرنے پہ آٹومیٹکلی سٹارٹ ہوجائے گا جسکا دورانیہ صرف دس منٹ تھا کیونکہ یہ ٹائمر اسی نے لگایا تھا لیکن اسے ان چند منٹوں میں اس بچے سمیت کئی جانیں بچانی تھیں کیونکہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں تھا ۔
༻━━━━━⊱༻
“ٹریننگ کا پہلا اصول اپنے انسٹرکٹر کی بات ماننی ہے کیونکہ آپ دو انسٹرکٹرز کی اکلوتی سٹوڈنٹ ہیں سو غلطی کی کوئی گنجائش نہیں پہلی غلطی آپ کرچکی ہیں پندرہ منٹ لیٹ آکے۔”
ایک کڑیل سی مرد مار خاتون بلیو ایکسرسائز ڈریس پہنے اسکے سامنے تھیں وہ جو شکر ادا کررہی تھی کہ مختیار سر نے اسکی بات مانتے ایے ۔ایچ کو نہیں بھیجا دوسرے انسٹرکٹر کی بات سن اسکا حلق تک کڑوا ہوگیا۔
“جج جی میم آئی ول گیو مائی بیسٹ۔” مرے مرے دل سے جواب دیا گیا۔
“ہائے مم واٹس اپ مرغا ریڈی ہے نا۔” وہ جو اچانک ٹپکا تھا اسکے لبوں پہ کھلی مسکراہٹ وہ اچھے سے دیکھ رہی تھی مگر بیچ منجدھار بھاگنے کا فائدہ کوئی نہ تھا۔
“جی کیپٹن رولز سمجھا دیےہیں۔” وہ جو کڑی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی معروش نے فوراً اسے ہٹلر لیڈی کا نام دے ڈالا تھا۔
“اوکے وارم اپ ناؤ۔” اس نے کہتے ساتھ پشپس لگانے شروع کیے جبکہ وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“مس معروش ہری اپ۔” اس لیڈی نے حکم دیتے اطمینان سے گراؤنڈ کے بیچ میں لگائے گئے تربیتی پلر دے ٹیک لگا لی تھی۔
“ایس۔ایس۔جی کمانڈو گرل بننے کیلئے آپکو بہت کچھ بھولنا پڑے گا مس معروش حیات جس میں اوّلین بات ہے یہ بھولنا ہوگا کہ آپ ایک لڑکی ہیں۔ یور فرسٹ سیشن سٹارٹ ناؤ جو ٹریننگ چھ اور نو مہینوں میں ایک کمانڈو ونگ کرتی ہے وہ آپکو چند دنوں میں ایچیو کرنا ہوگا۔”
معروش کے چہرے پہ ابھرتے تاثرات کو دیکھتے اس نے اپنی مسکراہٹ چھپانے کو رخ موڑ لیا سامنے ہی موجود تلاب کو دیکھتے اسے بہت کچھ یاد آیا ۔جب واسق اور اور وہ صرف تین منٹ لیٹ آئے تھے اور انہیں سرما کی ٹھنڈی راتوں میں دو دن گدلے پانی میں گزارنا پڑا تھا معروش حیات کی سزا تو پھر بھی آسان کردی تھی وہ اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ آگے جا کے اسے سانپ کھانے سے لے کے جانوروں کے خون پینے تک کا کام بھی کرنا تھا کیونکہ ٹریننگ سے ہٹ کے اسے سائکولوجکلی بھی ہر طرح کے حالات سے نبٹنے کیلئے تیار کرنا تھا یقیناً ایم۔آئی کے انڈر ہونے والے اقدامات اسے بہت کچھ سکھانے والے تھے ۔
اسکے ساتھ برتی جانے والی نرمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسے بنا محسوس کروائے اسکی تخلیقی صلاحیتوں سے ایڈونٹیج لینا۔
