Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 8
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 8
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
واسم یہ شادی بالکل بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ اس کے دل میں آج بھی ایلف کا ہی راج تھا۔۔۔ وہ آج بھی ایلف سے ہی محبت کرتا تھا۔۔۔ پر شائید اب یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ دونوں ایک ہوسکیں۔۔ شائید اس کے نصیب میں عالیہ ہی لکھی ہوئی تھی۔۔ اس لیے اس نے اس شادی کے لیے رضامندی دے دی تھی۔۔ جس سے سب گھر بہت ہی زیادہ خوش تھے۔۔۔
لیکن اس شادی سے تو نہ ہی واسم خوش تھا اور نہ ہی عالیہ خوش تھی اس شادی سے۔۔ وہ دونوں ہی یہ شادی نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔ لیکن وہ دونوں ہی گھر والوں کی وجہ سے مجبور تھے۔۔۔
سفینہ کا دل کر رہا تھا کہ پوری حویلی کو آگ لگا دے۔۔۔ پہلے بھی کسی کو اس کی محبت نظر نہیں آئی تھی۔۔ اور اب بھی اس کے ساتھ ہی ایسا کیا جارہا تھا۔۔۔۔ ” میں اب چپ نہیں بیٹھو گی۔۔۔ مجھے یہ شادی کسی بھی طرح رکوانی ہوگی۔۔۔ ” سفینہ نے دل میں سوچا۔۔۔
عالیہ کمرے میں بیٹھ کر آنسو بہا رہی تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔ !! وہ دو سے تین دفعہ زاویار کو فون کر کی تھی۔۔۔ لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔۔ زاویار نے اس کے فون کا کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔۔
وہ اب بھی اپنی پوری کوشش کررہی تھی لیکن کچھ بھی جواب نہیں آرہا تھا۔۔۔
” یہ زاویار فون کیوں نہیں اٹھا رہے ہیں۔۔۔ شائید کسی کام میں بیزی ہونگے۔۔ حیر جو بھی ہے۔۔ کل جا کر بات کروں گی ان سے۔۔۔ ” اس نے دل میں سوچا۔۔۔ اور جیسے تیسے کرکے رات گزاری۔۔۔
صبح تیار ہوکر ناشتہ کیا اور یونیورسٹی کے لیے روانہ ہوئی۔۔۔یونی پہنچی۔۔۔ اور کینٹین پر ہی زاویار کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں زاویار اس کے پاس آکر بیٹھا۔۔۔
” زاویار مجھے آپ س۔سے کچھ بات کرن۔نی ہے۔۔ ” بولتے ہوئے عالیہ کی زبان لڑکھڑا گئی۔۔۔
” ہاں بولو۔۔ !! سن رہا ہوں۔۔۔ اس میں ہچکجانے والی کیا بات ہے۔۔۔ !! ” اسے ہچکاتا دیکھ اس نے کہا۔۔۔
” زاویار !! بات یہ ہے کہ۔۔۔ ہمیں شادی کرنی ہوگی۔۔۔ !!” عالیہ نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔۔۔ ” شادی… !!! تم پاگل تو نہیں ہوگئی ہو۔۔۔ !! شادی۔ ” اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔
” ہاں شادی۔۔۔ !! کبھی نہ کبھی تو ہم شادی کریں گے ہی نہ۔۔۔ !!” اس کے اس طنز پر عالیہ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو اس نے کہا۔۔۔ ” اور تمھیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تم سے ہی شادی کروں گا۔۔۔ ” زاویار نے پھر تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
” کیوں کہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ !!” عالیہ نے کہا۔۔۔ ” محبت۔۔۔ !! ہاہا !! پاگل ہو گئی تم۔۔ !! کیا اس دنیا میں تمہی رہ گئی ہو جس سے زاویار خان شادی کرے گا۔۔۔ !! ارے لڑکیاں مجھ پر مرتی ہیں۔۔۔ !! اور تمھیں لگتا ہے کہ میں تم سے شادی کروں گا۔۔۔ اپنے دماغ کا علاج۔۔۔ !!! “
اس کی یہ باتیں سن کر عالیہ کو اب بھی سمجھ نہیں آیا تھا کہ زاویار اس کے ساتھ صرف ٹائم پاس کرہا تھا۔۔۔
” زاویار !! یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔۔۔ !! ؟ مطلب ا۔۔اب ت۔۔تک۔ جو بھی تھا سب جھوٹ۔۔۔ !!!” عالیہ کی آنکھ سے آنسو نکلنے کے مقام پر تھے۔۔ پر وہ خود کو اس کے سامنے کمزور ثابت نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
” ارے واہ یار !!! تم بہت ہی جلدی سمجھ گئی۔۔۔ !! ہاں عالیہ شاہ دھوکا تھا یہ سب مجھے ٹائم پاس کرنا تھا۔۔ دل بہلانا تھا۔۔۔ جس کے لیے میں نے تمھیں یوز کیا۔۔۔ !! اب میں چلتا ہوں۔۔ ” اپنا مقرو چہرہ اسے دکھا کر وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
عالیہ نے سر ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔ اور رونے لگی۔۔۔ “اس شخص کے لیے میں اپنے گھر والوں کے خلاف جارہی تھی۔۔ بھاگنا چاہتی تھی گھر سے۔۔ !! ” اس نے دل میں سوچا اور آنسو صاف کرتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھی۔۔
___![]()
![]()
___
عالیہ حویلی پہنچی۔۔۔ گاڑی سے نکلی۔۔۔۔ اور اپنے آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کیے۔۔۔ اور اندر بڑھی۔۔۔
” عالیہ !! آپ۔۔۔۔۔ !!” اپنی والدہ کی آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں میچی۔۔۔ اور آنسو آنکھ سے الگ ہوکر اس کی گال پر بہہ گئے۔۔۔ اور وہی رکی۔۔۔۔ اس نے فوراً آنسو صاف کیے۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی امی کو لگے کہ وہ روئی ہے۔۔۔۔
” جی امی۔۔۔۔ !!! کچھ کہا آپ نے۔۔۔ !! ” وہ پیچھے مڑی اور نہایت ہی ادب سے کہتی ہے۔۔۔ ” ہاں بیٹا۔۔ !! پوچھنا یہ تھا کہ۔۔۔ آپ اتنی جلدی کیوں آگئی۔۔۔ !!” اس کی والدہ نے سوال کیا۔۔۔۔
” دراصل کلاسز ختم ہوگئی تھی تو سوچا کہ میں گھر ہی آجاتی ہوں۔۔۔۔ ” وہ بامشکل ہی ظاہر کرنے کے لیے مسکرائی۔۔۔۔ ” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ جاؤ کمرے میں۔۔۔۔ !!” اس کی والدہ نے کہا اور مڑی۔۔
” امی۔۔۔!!” وہ مڑی ہی تھی کی عالیہ نے آواز دے کر انھیں روکا۔۔۔
” جی بیٹا !! کوئی کام ہے۔۔۔ ” اس کی والدہ نے سوال کیا۔۔۔ جس پر اس نے آنکھیں میچی۔۔۔ ” امی !! میں واسم سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ !!” اس نے کہا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
” یہ ہمارے کانوں نے سچ ہی سنا ہے۔۔۔ ” اس کی والدہ خوش ہوئی اور یہ خبر سنانے کے لیے رخسار کے پاس گئی۔۔۔ یہ خبر سفینہ بھی سن چکی تھی اور آنکھوں میں آنسو لیے وہاں سے چلی گئی۔۔۔ پر سب کی نظروں سے چھپی رہی۔۔۔
عالیہ کمرے میں آئی اور دروازہ بند کردیا۔۔۔ اور بیڈ پر منھ کے بل لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔ اور آنسو بہانے لگی۔۔۔
اس کی زندگی میں یہ سب کیوں ہورہا ہے۔۔ واسم اس کی زندگی میں آچکا تھا۔۔۔ اور جس سے اس نے محبت کی اور جس پر بھروسہ کیا اسی نے دھوکا دے دیا۔۔۔۔یہی سوچتے ہوئے وہ آنکھوں سے بےتحاشا آنسو بہانے لگی۔۔۔
__![]()
![]()
___
سفینہ کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ کہ اچانک کسی کے کندھے سے ٹکرائی۔۔۔۔ ” دھیان سے چلو سفینہ کیا ہوا ہے۔۔۔ ؟؟” ایلف کو دیکھ کر سفینہ کو لگا کہ اب ایک ایلف ہی ہے جو اس کی مدد کرسکتی ہے۔۔۔
” عالیہ !! نے شادی کے لیے ہاں کہہ دی۔۔۔ ” اس کی بات کا جواب دیے بغیر اس نے کہا۔۔
” ہاں تو میں کیا کروں۔۔۔۔۔ ! ” ایلف نے کہا۔۔۔
” کیا کروں مطلب۔۔۔۔ !! آپ واسم کو پسند کرتی تھی۔۔۔ شادی ہونے والی تھی۔۔۔ اور کسی اور کے ساتھ۔۔۔ !! ” سفینہ نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔
” تو اب جو ہونا تھا ہوگیا۔۔۔ میں کیا کروں اس میں۔۔۔۔ !! ” ایلف مزید بہث نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔
یہ سنتے ہی سفینہ کمرے میں گئی۔۔۔۔
وہ جو اس کے سامنے کافی بڑھ چڑھ کر کہہ رہی تھی کہ وہ کیا کرے ؟؟ درحقیقت میں تو وہ اندر سے کٹ گئی تھی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔۔۔۔
” یہ تھی محبت آپ کی۔۔۔ دھوکے باز ہیں آپ۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ رونے لگی۔۔۔
یہ کس موڑ پر لے آئی تھی زندگی اسے۔۔۔ !!
۔۔۔۔
سفینہ کمرے میں یوں ہی چکر کاٹ رہی تھی۔۔۔ اور غصے سے پاگل ہوچکی تھی۔۔۔
اس کا دل کررہا تھا کہ پورے کمرے کو ٹہس نہس کردے۔۔۔۔
” میری آخری امید تھی وہ اور اس نے وہ بھی توڑ دی۔۔۔ پر میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔ !! ” وہ چلائی۔۔۔
__![]()
![]()
___
