Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 2
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 2
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
ایلف کمرے میں داخل ہوئی اور پھر فریش ہونے کے لیے واشروم چلی گئی۔۔۔ جب باہر نکلی تو فون کے بجنے کی آواز سنائی دی۔۔۔۔۔ فون اٹھا کر دیکھا تو اس کی دوست فانیہ کا تھا۔۔۔
” اسلام علیکم !! ایلف !! تم فون کیوں نہیں اٹھا رہی تھی میں کب سے فون کررہی تھی تمھیں۔۔۔ ” فون اٹھاتے ہی فانیہ اس پر برس پڑی۔۔۔
” کچھ نہیں یار وہ دراصل میں تھوڑا مصروف تھی۔۔ اسی وجہ سے میں نے فون نہیں اٹھایا۔۔۔ سوری۔۔۔ !!” اس نے آہستگی سے کہا تو فانیہ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔ کیونکہ ایلف جب پریشان ہوتی تو ہی اس طرح بولتی ورنہ تو ہر وقت چہکتے رہتی تھی۔۔۔۔
” ایلف !! آر یو آکے۔۔۔ !! تم ٹھیک ہو نہ کچھ پریشان سی لگ رہی ہو۔۔۔ ” اس کے سوال پر ایلف نے آنکھیں میچی اس نے تو بہت ہی زیادہ کوشش کی تھی کہ فانیہ کو کسی بھی طرح کچھ بھی نہ پتہ چلے۔۔۔ لیکن وہ بھی اس کی دوست تھی۔۔۔۔۔۔
” یار مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ تم ایسے ہی سوچ رہی ہوں۔۔ کچھ بھی نہیں ہوا مجھے۔۔۔ ” ایلف نے ابھی بھی صبح کا پیش آیا ہوا واقع نہیں بتانا چاہتی۔۔۔ پر فانیہ بھی اس کی رگ رگ سے واقف ہے۔۔۔۔
” دیکھو ایلف !! مجھے پتہ ہے کہ کچھ تو بات ہے۔۔۔ وہ الگ چیز ہے کہ تم مجھے بتانا نہیں چاہتی۔۔۔ پر اگر تم نے مجھے سچ سچ نا بتایا تو یاد میں ابھی تمھارے گھر پہنچ جاؤ گی۔۔۔۔ ” فانیہ نے اسے دھمکی کہ شائید وہ اسے بتا دے۔۔۔ اور دھمکی سننے کی وجہ سے ایلف کو اسے بھی ساری حقیقت سے واقف کروایا۔۔۔۔
ایلف نے اسے سب بتایا کہ صبح جب وہ کمرے سے نکلی تو اس کی والدہ اور اس کی دادی اماں نے پھر سے رشتے کی بات کی۔۔۔ لیکن اسے تو شادی سے چڑ آج سے تین سال پہلے ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔
” کیا ؟؟ ایک اور رشتہ۔۔۔ یار اگلے رشتے پر نہ تمھاری بھی سینچری پوری ہو جائے گی۔۔۔۔ ” فانیہ نے شرارت سے کہا تو ایلف کو اس پر بہت ہی زیادہ غصہ آیا۔۔۔
” مجھے پریشان۔دیکھ کر تمھیں بہت ہی زیادہ ہنسی آرہی ہے۔۔ کوئی بات نہیں فانیہ بی بی تمھارا بھی وقت آئے گا۔۔ کیا تمھاری شادی نہیں ہونی کیا۔۔۔ پھر میں دیکھو گی کہ تم کیسے انکار کرتی ہو رشتے سے۔۔۔ ” ایلف نے غصے میں کہا اور پھر فون بند کردیا۔۔۔۔
____![]()
![]()
_____
سارے گھر والے کھانا کھا کر باہر لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ حمید شاہ ان کے بڑے بھائی۔۔ ان کی بہن۔۔۔ اس کے علاؤہ ان کی والدہ رخسار بیگم تمام بڑے موجود تھے وہاں۔۔۔۔۔
” امی حضور !! آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔ ” حمید شاہ کے کہنے پر سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ “جی کہیے ہم سن رہیں آپ کی بات۔۔۔۔ ” رخسار نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
” امی حضور !! آپ ایلف کے لیے رشتے دیکھنا چھوڑ دیں۔۔۔ ہم نہیں چاہتے کہ وہ دوبارہ احساس کمتری کا شکار ہوں۔۔۔ اور ویسے بھی وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے حمید شاہ نے اپنی بات مکمل کی۔۔۔
” پر بیٹے !! کبھی نہ کبھی تو شادی کرنی ہی ہوگی نہ انھیں۔۔۔ ” رخسار نے پھر وہی بات کی۔۔۔۔
” امی جان !! جب شادی ہونی ہو گی تب ہو جائے گی۔۔۔ لیکن فلحال ابھی وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔ اور ہم نہیں چاہتے کہ ان پر کسی بھی قسم کی کوئی بھی زبردستی کی جائے۔۔۔۔ ” حمید شاہ نے اپنا موقف بیان کیا۔۔۔
” ٹھیک ہے جیسا آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔ ” رخسار نے آہستگی سے کہا۔۔۔
____![]()
![]()
_____
” عالیہ سو بھی جا یار کیا ہر وقت پڑھائی ہی کرتی رہتی ہے تو۔۔۔۔ ” سفینہ نے تنگ آکر اس سے کہا۔۔۔
” یار مجھے سلانے سے بہتر اٹھ اور خود بھی پڑھ کل ٹیسٹ ہے ہمارا۔۔۔۔ اٹھ شاباش میں پڑھاتی ہوں نہ تجھے۔۔۔ ” عالیہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملانے سے اسے بھی پڑھائی کی تنقید کرنا زیادہ اہم سمجھا۔۔۔۔
” نا بابا نا !! کبھی بھی نہیں۔۔۔ اور اگر تم نے پڑھنا ہے تو پڑھو۔۔۔ مجھے تو کوئی شوق نہیں ہے پڑھائی کا۔۔۔۔ ” یہ کہہ سفینہ کنفرٹر میں منھ دے کر سو گئی۔۔۔
لیکن عالیہ نے اپنی پڑھائی جاری رکھی۔۔۔۔
دراصل عالیہ اور سفینہ حامد شاہ حمید شاہ کے بڑے بھائی کی بیٹیاں تھی۔۔۔ جنھیں اپنی بیٹیوں سے بہت ہی زیادہ محبت تھی۔۔۔ کبھی بھی ان کی کوئی بھی خوائش نہیں ٹالتے تھے۔۔۔۔
سفینہ چھوٹی تھی ایلف اور عالیہ دونوں سے ہی۔۔۔ ایلف اور عالیہ ہم عمر ہی تھے۔۔۔۔ سفینہ دونوں سے ڈھیر سال چھوٹی تھی۔۔۔۔
___ ![]()
![]()
___
واسم شاہ احمر شاہ کا بیٹا۔۔ ہاتھ میں کافی کا کپ لیے روم کے ٹیرس پر پہنچا۔۔۔ اور ایک ایک گھونٹ کرکے کافی پینے لگا۔۔۔
اس وقت وہ امریکہ میں تھا۔۔۔ اپنی سٹڈیز کے لیے۔۔۔ لیکن اب اس کی سٹڈیز مکمل ہوچکی تھی۔۔۔۔ اسی وجہ سے اب تین سال بعد وہ پاکستان جا رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کی والدہ حمید شاہ اور حا۔د شاہ کی بہن تھی۔۔۔ اس کے دادا ابو اس کے نانا بھی تھے۔۔۔ اس کی والدہ کی شادی حویلی میں ہی ان کے کزن کے ساتھ ہوئی تھی۔۔۔ اسی وجہ سے اب وہ حویلی ہی جارہا تھا۔۔۔ اس خوشخبری کو سنانے کے لیے۔۔۔ اس نے اپنی والدہ نور بیگم کو فون کیا۔۔۔
” امی اسلام علیکم!! کیسی ہیں آپ۔۔ ” فون اٹھاتے ہی اس نے ان سے سوال کیا۔۔۔
” میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا تم سناؤ کیسے ہو تم۔۔۔ کیا حال ہے۔۔۔ ؟” دوسری طرف سے نور بیگم کی آواز آئی۔۔۔
” میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ کو ایک خوشخبری دینی تھی میں نے۔۔۔ ” واسم نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” کیسی خوشخبری بیٹا !!” وہ ٹھوڑی سی خوش ہوتے ہوئے پریشان بھی ہو گئی تھی۔۔۔
___![]()
![]()
___
