Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 16

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

عالیہ اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ لاک کرلیا۔۔۔ اور وہی زمین پر بیٹھ کر بلک بلک کر رونے لگی۔۔

” ایسا کیسے سوچ سکتے ہیں میرے گھر والے۔۔۔ !! انھوں نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ میں ایک ایسا قدم۔اٹھاؤں گی جس سے میرے گھر والوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔۔۔ !! ارے بھاگنے کا تو سوچا میں نے اس وقت بھی نہیں تھا جب آپ لوگ میری شادی زبردستی کررہے تھے۔۔ اس وقت میں یہی چاہتی تھی کہ زاویار اپنے گھر والوں کو بھیجے اور میں جیسے تیسے کر کے آپ لوگوں کو منا لیتی مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ سب کچھ ہو جائے گا۔۔۔ !! “

دل ہی دل میں سوچتے ہوئے آنسو عالیہ کی آنکھوں کی زینت بنے ہوئے تھے۔۔۔

” عالی۔۔۔۔ !! دروازہ کھولو۔۔۔ !! میری بات تو سنو یار۔۔ !! ” دروازے کی دستک اور ایلف کی آواز سے وہ اٹھی لیکن دروازہ نہیں کھولا۔۔۔

ایلف دو سے تین دفعہ دروازہ کھڑکا چکی تھی لیکن عالیہ نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔۔۔

” عالیہ۔۔۔ !! دیکھو پلیز میری بات تو سنو۔۔۔ پلیز یار۔۔۔ دروازہ کھولو۔۔۔ ” ایلف کے بار بار انسسٹ کرنے پر وہ اٹھی اور بولنے کی ہمت کی۔۔۔

” ا۔۔۔ایلف۔۔ !! پلیز ابھی جاؤ یہاں سے پلیز ایلف مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا ایلف اس کی آواز سے جان گئی تھی کہ وہ رو رہی ہے۔۔۔

عالیہ اس وقت اکیلا رہنا چاہتی تھی لیکن وہ بھی ایلف تھی۔۔

” عالیہ۔۔۔ !! دیکھو اگر تم نے دروازہ نہیں کھولا تو میں یوں ہی دروازہ کھٹکھٹاتی رہوں گی۔۔۔ اور اس وقت تک یہاں سے نہیں ہلو گی جب تک تم دروازہ نہیں کھولا گی۔۔ !!”

ایلف نے اس سے کہا تو عالیہ سمجھ گئی کہ اتنی آسانی سے تو اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی وہ۔۔۔

وہ ہمت کرتے ہوئے اٹھی اور کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔

” بولو کیا ہے۔۔۔ ؟؟ ” عالیہ نے دروازہ کھولا اور سامنے کھڑی ایلف کو دیکھا اور پھر کہا۔۔

اس کی آنکھوں سے آنسو ابھی بہہ رہے تھے۔۔ جو دیکھ کر ایلف سے رہا نہ گیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کیے۔۔۔۔

” عالیہ۔۔۔۔ !! یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔ کیوں رو رہی ہو۔۔۔ ؟؟ ” ایلف اس کی آنکھوں سے بہتے آنسووں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔

” ایلف تم ہی بتاؤ کیا میں ایک غلط لڑکی ہو۔۔۔ ؟؟ ” عالیہ کے سوال پر وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔۔۔۔ ایلف نے لب بھینج لیے۔۔۔

” عالیہ۔۔۔ !! میری جان ایسا کیوں کہہ رہی ہو تم۔۔۔ ؟؟۔ بولو۔۔۔ ” ایلف نے اس یہ سوال پوچھنے کی وجہ معلوم کی۔۔۔

” نہیں تم۔اڈے چھوڑو مجھے یہ بتاؤ کہ کیا میں ایک غلط لڑکی ہوں۔۔ ؟ ” اس کی بات کا جواب دیے بغیر عالیہ نے پھر وہی سوال پوچھا۔۔۔

” نہیں۔۔۔ !! بالکل بھی نہیں۔۔۔ !! تم ایک بہت ہی اچھی لڑکی ہو۔۔۔ !! تم۔ایسا کیوں سوچ رہی ہو۔۔۔ ؟؟ ” ایلف نے اس سے سوال کیا۔۔۔

” تو پھر گھر والوں نے ایسا کیسے سوچ لیا کہ میں گھر سے بھاگ جاؤں گی۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا۔۔۔

” عالیہ !! ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔۔۔ اور مجھے پتہ تھا کہ تم کہیں نہیں جاؤں گی اسی وجہ سے میں نے وہ ایسی ٹی وی فوٹیج نکلوائی تھی۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔

” ایلف۔۔۔ !! جب اس رات میں گھر نہیں پہنچی تھی تو اس دن کیا ہوا تھا ؟؟ لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع مل گیا ہوگا ۔۔ ” عالیہ نے اس سے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرا گئی۔۔۔

” نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع نہیں ملا۔۔۔ ” ایلف کی باتیں عالیہ کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔۔۔

” کیا مطلب۔۔۔ ؟؟ ” اس کے ذہن میں وہ باتیں ہی نہیں تھی جو کچھ دیر پہلے واسم نے کہا تھا۔۔۔

” اس دن میرا اور واسم کا نکاح ہو گیا تھا۔۔۔ !! ” ایلف کی بات سن کر عالیہ کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔

” کیا۔۔۔ ؟؟ !! میری وجہ سے تمھیں اس شخص سے شادی کرنی پڑی ہے۔۔۔ جس سے تم اتنی نفرت کرتی ہو۔۔۔ !! ” یہ سن کر ایلف ہلکا سا مسکرا گئی۔۔۔

” نہیں عالیہ ۔۔۔ !! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ ؟؟ یہ مت سوچو جو قسمت میں لکھا ہوتا ہے وہ ہوکر رہتا ہے۔۔ !! ” یہ کہتے وہ اٹھی اور مڑی۔۔۔

” تو کیا تم واسم سے نہیں کرتی نفرت۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا تو ایلف مڑی۔۔۔

” پتہ نہیں ۔۔ !! حیر یہ سب چھوڑو اور ریسٹ کرو۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے ایلف کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ اور عالیہ کو کھ ہوا۔۔

°°°°°°°°°°°°°

ایلف کمرے میں داخل ہوئی تو واسم کمرے میں بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ اسے آتا دیکھ کر واسم نے ایک نظر ایک طرف دوڑائی اور پھر موبائل کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

ایلف۔۔۔ !! صوفے پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔ اور کانوں سے کانٹے نکال کر سائیڈ پر رکھے۔۔۔

” اب کیسی حالت ہے عالیہ کی۔۔۔ !! ” موبائل یوزر کرتے ہوئے ہی واسم نے اس سے سوال پوچھا۔۔۔

” کافی بہتر ہے۔۔ کافی ہرٹ ہوئی ہے دادو کی باتوں سے وہ۔۔۔ !! لیکن اب سو گئی ہے۔۔۔ !! ” ایلف نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔

” بہت اچھا کیا ہے آپ نے۔۔۔ جو آپ نے اس کا ساتھ دیا۔۔۔ ! ” واسم کی بات پر وہ مسکرائی۔۔۔

” میرا فرض تھا۔۔۔ یہ ۔۔ کیسے نہ اس کی سائیڈ لیتی میں۔۔۔ ” ایلف نے کہا۔۔۔

” جانتا ہوں میں۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ بیڈ سے اٹھا اور واش روم چلا گیا۔۔۔ اور نائٹ ڈریس پہن کر باہر نکلا۔۔۔

” ایلف۔۔۔ ” “

ایلف جو صوفے پر لیٹے ہوئی تھی۔۔۔ اس کی آواز پر آنکھیں کھولی۔۔۔

” جی ۔ ” اس نے کہا تو وہ صوفے کے پاس آیا۔۔۔

” آپ بیڈ پر جا کر سو جائیں۔۔۔ میں یہاں صوفے پر سو جاتا ہوں۔۔۔ ” واسم نے کہا تو اس نے منھ بسورا۔۔۔

” نہیں میں یہی ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ جا کر سو جائیں بیڈ پر۔۔۔ ” ایلف نے کہا اور پھر آنکھیں موند گئی۔۔۔۔

” نہیں ۔۔۔۔ میں کہہ رہا نو کہ آپ ہی بیڈ پر سوئیں گی تو پھر آپ ہی سوئیں گی جائیں جلدی سے سوجائیں۔۔۔۔ ” واسم نے اس سے کہا تو وہ منھ بناتے ہوئے اٹھی اور بیڈ پر جا کر سو گئی۔۔۔۔

واسم بھی صوفے پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند گیا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°

دانیال ٹیرس پر کھڑا ہو کر اپنی ہار کا ماتم منا رہا تھا۔۔۔ وہ خود کو اس بات کے لیے راضی کررہا تھا کہ شائید ایلف اس کی قسمت میں تھی ہی نہیں۔۔۔

اللہ نے اسے واسم کی قسمت میں لکھا تھا۔۔۔۔

سفینہ وہاں سے گزری۔۔۔

” یہ دانیال یہاں کیا کرہا ہے۔۔۔۔ ؟؟ رات کے اس پہر۔۔۔ !! ” سوچتے ہوئے اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھائی۔۔۔۔

” اؤ تو اپنی محبت کی چھن جانے کا سوگ منا رہے ہیں۔۔۔ نائس ۔۔ لیکن اس بیوقوف کو کیا پتہ کہیں ایسا کچھ بھی نہیں رہنے دو گی۔۔۔ !! “

اس نے دل میں ہی سوچا۔۔۔

سفینہ اس کے پاس گئی۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ کھڑی ہوئی۔۔۔ دانیال کو اس کے آنے کی آہٹ محسوس نہیں ہوئی۔۔۔

” کیوں نہ میں آپ کے لیے آپ کے یہ سارے دکھ ختم کردوں۔۔۔ آپ کی محبت کو آپ کے پاس لے آؤ۔۔۔۔ !! “

سفینہ کے کہنے پر وہ اس کی طرف مڑا اور اسے گھورا۔۔۔

” کیا بکواس کررہی ہو سفینہ۔۔ ” وہ لب بھینج گئی۔۔۔ دانیال کی رگیں تن چکی تھی۔۔۔

” کیا مطلب۔۔۔ !! میں جانتی ہوں کہ آپ ایلف سے محبت کرتے ہیں۔۔۔ تو اگر ہم انھیں الگ کردیں تو۔۔۔ مل کر۔۔۔ ” سفینہ نے اسے اپنے ساتھ ہاتھ ملانے کی پیشکش کی۔۔۔

لیکن دانیال کا پارہ ہائی ہو چکا تھا۔۔۔

” بکو مت۔۔ !! ان کا نکاح ہو چکا ہے اور نکاح توڑنے کی بات کرہی ہو۔۔۔ ؟؟ شیم آن یو۔۔ ” اسے بھسم کرتا وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔

” جو کرنا ہے کر لو ایک نہ ایک دن میرے پاس آؤ گے ہی۔۔۔ !! ” اس کے جانے بعد اس نے دل میں سوچا اور چہرے پر شیطانی مسکراہٹ لائی۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *