Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 20
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 20
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
” بیٹا۔۔۔ !! یہ ماہر کہاں ہے نظر نہیں آرہا کیا ابھی تک آفس سے لوٹا نہیں ہے کیا۔۔۔ ؟؟ ” حور کی چچی اس کے پاس آکر بیٹھی اور اس سے سوال کیا۔۔۔
” چچی۔۔۔ !! میں نے بھیجا ہے کسی ملنے۔۔۔ !! ” حور نے یوں کہا تو اس کی چچی شہناز کر شق ہوا کہ وہ کسی کوئی لڑکی تو نہیں۔۔۔ وہ کوئی بات دل میں کہاں رکھتی ہے۔۔۔ ؟؟ اس لیے جو منھ میں آیا بول دیا۔۔۔
” کیا وہ کوئی لڑکی ہے۔۔۔ !!” شہناز نے پوچھا تو حور نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلا دیا۔۔ وہ بھی مسکرا گئی کہ ماہر نے کونسا اس لڑکی سے رشتے سے شادی کے لیے ہاں کر دینی ہے۔۔۔
وہ یہی سوچ رہی تھی جب ماہر لاؤنچ میں داخل ہوا۔۔۔
” وہ آگیا ماہر۔۔۔ !! ” حور کی نظر اس پر پڑتے ہی اس نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
ماہر کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ جو انھوں نے پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔
جسے دیکھ شہناز کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔
” ماہر۔۔۔ کیا بات ہے بہت خوش لگ رہے ہو۔۔ !! اچھا بتاؤ تم نے کیا فیصلہ کیا۔۔۔ ؟؟ ” حور نے اسے کہا۔۔۔ ماہر ان دونوں کے سامنے والے صوفوں پر بیٹھ گیا۔۔۔
” بتاتا ہو سب کچھ بتاتا ہو۔۔۔۔ رکیں تو سہی۔۔۔ ” اس سے مسکراہٹ چھپائی نہیں جارہی تھی۔۔۔
لیکن شہناز کی تو جان پر بن آئی تھی کہ کہیں ماہر ہاں نہ کردے اس رشتے کے لیے۔۔۔
” جلدی بتاؤ۔۔۔ ” حور نے کہا تو اس نے بولنا شروع کیا۔۔۔
” آپ ان لوگوں کو رشتے کے لیے ہاں کہہ دیں۔۔۔ ” ماہر کا کہنا ہی تھا کہ جہاں حور خوشی سے کھلکھلا اٹھی وہاں ہی شہناز کا منھ بن گیا کیونکہ وہ ایسا بالکل بھی نہیں چاہتی تھی۔۔۔
” سچ۔۔۔ سچ تم سچ کہہ رہے ہو نہ۔۔۔ !! ” حور کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
” جی آپی میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا تو وہ پھر مسکرائی۔۔۔ لیکن شہناز کا تو دل کر رہا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کردے۔۔۔
” زرا دوبارہ کہنا۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا ہے۔۔ پلیز ایک دفعہ کہنا پلیز۔۔ !! ” حور نے کہا۔۔۔
” میں اس شادی کے لیے تیار ہوں۔۔ !! ” یہ سنتے ہی حور نے خود کو چٹکی کاٹی کہ کہیں یہ کوئی دھوکا تو نہیں ہے۔۔۔ لیکن یہ تو حقیقت ہے۔۔۔
” میں تمھیں بتا نہیں سکتی ہوں کہ آج میں کتنی خوش ہوں۔۔۔ !! ” حور کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا کیونکہ پہلی بار ماہر کسی لڑکی کے لیے مانا تھا۔۔۔
” مجھے معلوم تھا کہ تمھیں عالیہ پسند آئے گی۔۔۔ ” حور نے شرارت سے کہا۔۔
” آپی۔۔۔ آپ بھی نہ۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ اٹھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
شہناز ماہر کی ہاں اور حور کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ دیکھ کر جل بھن گئی تھی۔۔ لیکن حور نے نوٹس نہ کیا اور وہ کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
۔۔۔
ماہر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ اور اپنی باتوں پر خود ہی مسکرا گیا۔۔۔
” شٹ شت شٹ۔۔۔ !! ایسا بھی کیا ہے اس لڑکی میں جو میں اس کی طرف کھینچا چلا جارہا ہوں۔۔۔ میں ماہر خان۔۔ جس نے آج تک کسی ایری غیری لڑکی کو منھ نہیں لگایا۔۔۔ وہ کیسے اس لڑکی طرف کھینچا چلا جارہا ہے۔۔۔ !!
کیا بات ہے اس میں۔۔۔ ؟؟ کچھ تو بات ضرور ہے۔۔۔ جو میں اس کی طرف کھینچا چلا جا رہا ہوں۔۔۔ “
اپنے خیالات پر وہ خود ہی مسکرا گیا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عالیہ اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو اپنے کمرے میں اپنی والدہ اور ایلف کو دیکھ کر ایک دم ڈر گئی۔۔۔۔ وہ کافی تھک گئی تھی اور آرام کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو وہاں بالکل بھی ایکسپیکٹ نہیں کررہی تھی۔۔
” آپ دونوں یہاں کیا کر رہی ہیں۔۔ ؟؟ ” اپنی سانس بحال کرتے ہوئے عالیہ نے کہا۔۔۔
” تم ہمیں چھوڑو یہ بتاؤ کہ تم اتنی دیر سے کہاں تھی۔۔ ؟؟؟؟ ” ایلف اٹھی اور اس سے سوال کیا۔۔۔
” کیا مطلب کہاں تھی۔۔۔ ؟؟ وہی تھی جہاں بھیجا تھا مجھے آپ دونوں نے۔۔۔”
عالیہ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔
” ہاں تو کیا جواب ہے پھر آپ کا۔۔۔ ” اس کی والدہ اٹھی اور اس کے پاس آئی اور پوچھا۔۔۔
” امی !! بیٹھنے تو دیں پھر بتاتی ہوں۔۔۔ !! ” منھ بسورا کرتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
” عالیہ۔۔۔ !! ہم آپ کی ناں بالکل بھی نہیں سنیں گے۔۔۔ !! ” اس کی والدہ نے تھوڑا سا تلخ ہو کر کہا۔۔۔
” تو میں نے ناں کی بھی نہیں ہے۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ خود تو رخ موڑ گئی لیکن ان دونوں کے چہروں پر خوشی بکھر گئی۔۔۔
” کیا آپ سچ کہہ رہی عالیہ۔۔۔ !! ” اس کی والدہ نے ایک بار پھر سے پوچھا۔۔۔
” امی۔۔۔ مجھے جھوٹ بولنے کی عادت نہیں ہے۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے اس نے پھر رخ موڑ لیا۔۔۔
لیکن وہ دونوں یہ خوشی کی خبر باقی گھر والوں کو سنانے کے لیے چلی گئی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
واسم آفس سے تھکا ہارا واپس پہنچا۔۔۔ اور کمرے میں داخل ہوا تو دشمن جاں کمرے میں نہیں تھی۔۔۔۔
اسے دیکھ کر اس کی ساری تھکن دور ہو جاتی تھی۔۔۔ لیکن آج وہ نہیں تھی تو یوں ہی تھکا سا صوفے پر ڈھ گیا۔۔۔
” یہ ایلف کہاں ہیں۔۔۔۔ ؟؟ ” وہ ادھر ادھر دیکھتا ہوا بولا۔۔۔
اتنی کی دیر میں وہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر دیکھی تو سامنے ایلف تھی۔۔
ایلف جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے واسم کو بیٹھا دیکھ کر حیران ہوگئی کیونکہ آج واسم تھوڑا جلدی آگیا تھا۔۔۔
” آپ آج جلدی آگئے۔۔۔ ؟؟ ” وہ بیڈ کی طرف بڑھتے ہوئے اس سے سوال کرتی ہے۔۔۔۔ !!
” کہاں تھی آپ۔۔۔۔ ؟؟۔ ” اس کے سوال کا جواب دیے بغیر اس نے ایلف سے سوال کیا۔۔۔
” حویلی میں ہی تھی۔۔۔ ” ایلف نے نرم لہجے میں کہا تھا۔۔۔
” حویلی میں تو تھی لیکن کہاں تھی۔۔۔ ؟؟ میں نے یہ پوچھا ہے۔۔ !! ” واسم نے اس کا جواب کر سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
” اب کیا مجھے آپ کو پل پل کی خبر دینی ہو گی مجھے۔۔۔۔ ” کہنا کافی تلخ تھا اس کا دل ابھی بھی واسم کی طرف سے صاف نہیں تھا۔۔۔یہ سنتے ہی واسم لب بھینج گیا۔۔۔ اور ایلف کی طرف بڑھا۔۔۔
اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔ لیکن اب یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔
واسم نے اس کا بازو پکڑا اور اپنی طرف کھینچا۔۔۔ اس شدید جھٹکے سے وہ سنھبل نہ سکی۔۔۔
اور اس کے سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔۔
ایلف کو واسم کی اس حرکت پر شدید غصہ چڑھا۔۔۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔ !! آپ کی جرات بھی کیسے مجھے روکنے کی۔۔۔ میرا ہاتھ تھامنے کی۔۔۔!! ” اس نے غصے میں کہا۔۔۔
” میرا سوال کا جواب دیے بغیر آپ نہیں جاسکتی۔۔۔ سمجھ گئی آپ۔۔۔۔ !! ” اس نے غصے میں کہا۔۔۔
” کیوں میں آپ کی پابند ہوں۔۔۔ کس حثیت سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں۔۔۔ !! ” اس نے شدید غصے میں کہا۔۔۔
” پوچھ سکتا ہوں۔۔۔ بالکل پوچھ سکتا ہوں۔۔۔ کیونکہ میں آپ کا شوہر ہوں۔۔۔ !! ” اس نے شوہر ہونے کا حق جتایا۔۔۔ جس کے جواب میں اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔
” چھوڑیں مجھے۔۔۔ درد ہو رہا ہے۔۔۔ ” اس کے ہاتھ پر واسم کی گرفت کافی سخت جس سے اسے درد ہونے لگا تھا۔۔۔
” ہاں درد مجھے بھی ہوتا جب اس طرح سے بات کرتی ہیں مجھے اگنور کرتی ہیں۔۔۔ میرے درد کا آپ۔کو کوئی خیال نہیں یے۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ اس پر برس پڑا تھا۔۔۔
” آپ نے اس وقت میرے درد کا خیال کیا تھا جب مجھے چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔ تین سال پہلے۔۔۔ ” نرم سی آواز میں کہتے ہوئے وہ اسے لاجوب کرگئی۔۔
اپنے ہاتھ پر واسم کی نرم ہوتی گرفت کو محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔
واسم کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
