Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 5

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

” میں آپ کو کب سے بلا رہا ہوں۔۔ کتنی آوازیں دی۔۔۔ لیکن آپ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔ اس لیے مجبوراً مجھے آپ کے سامنے آنا پڑا۔۔۔ ” واسم نے اسے اپنی صفائی پیش کی۔۔۔

” آپ مجھے کیوں بلا رہے تھے۔۔۔ ؟ ” ایلف نے واسم کو گھورا۔۔۔

” بات کرنی ہے مجھے آپ سے۔۔۔ کیا کچھ دیر کے لیے ہم بات کرسکتے ہیں۔۔۔ ” واسم نے آنکھیں جھکائے کہا۔۔۔

” کیا بات کرنی ہے آپ کو بلکہ اب بات کرنے کے لیے بچا ہی کیا ہے۔۔۔ ؟ مجھے بتائیں۔۔۔ جو آپ میرے ساتھ کر کے ہیں نہ میں بھولی نہیں ہوں۔۔۔ اور میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔ واسم شاہ۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے خود پر قابو پاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ اور واسم۔اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔

کمرے میں آکر ایلف کو تین سال پہلے کا واقع یاد آگیا۔۔۔ اور نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔

ماضی۔۔

ایلف اور واسم کا رشتہ طہ کردیا گیا تھا۔۔۔ اس میں ان دونوں کی رضامندی شامل تھی۔۔ کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔

سفینہ اس وقت واسم شاہ کو پسند کرتی تھی لیکن بعد میں جو ہوا اس کے بعد کب اس کی پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔۔۔

ایلف اور عالیہ لان میں بیٹھ کر باتیں کررہے تھے۔۔ دونوں کے چہرے پر کافی مسکراہٹ تھی۔۔۔ واسم بھی کچھ فاصلے پر کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔ پر اس کی نظر تو ایلف کے چہرے پر تھی۔۔۔

کچھ دیر یوں ہی دیکھنے کے بعد وہ ان کے پاس گیا۔۔۔ ایلف کی اس کی طرف پشت تھی۔۔۔ ایلف کو جب اپنے اوپر کسی کی گہری نظریں محسوس ہوئی تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔ تو وہاں واسم کھڑا تھا۔۔۔ جو مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔

لیکن ایلف کے پیچھے مڑتے ہی اس نے اپنی آنکھیں چرائی۔۔۔ اور ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔ عالیہ نے بامشکل ہی اپنی ہنسی چھپائی۔۔۔

” عالیہ !! ایک کپ کافی ملے گی۔۔۔ ” واسم نے عالیہ سے کہا۔۔ تاکہ وہ اکیلے میں ایلف سے بات کرسکے۔۔۔ عالیہ بھی سمجھ گئی تھی۔۔۔ اسی وجہ سے وہ چپ چاپ ایک منٹ سے پہلے وہاں سے غائب ہوئی۔۔۔

ایلف کو تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا ہوا ؟؟۔۔۔ وہ تو واسم کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کے دیکھتے ہی وہ اس کے سامنے آکر بیٹھا۔۔۔۔

عالیہ بھی وہاں نہیں تھی۔۔ تو وہ اٹھی اور وہاں سے جانے لگی۔۔۔ لیکن جب اپنا بازو کسی سخت گرفت میں محسوس ہوا۔۔۔۔ اس کے قدم رکے۔۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتی کا سمجھتی۔۔

واسم نے اسے اپنی طرف کھینچا اور اس شدید جھٹکے سے وہ سنبھل نہ پائی۔۔۔ اور واسم کے سینے سے جا ٹکرائی۔۔۔ واسم نے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔

” چھ۔۔چھوڑیں۔۔۔ ی۔۔۔یہ۔۔یہ کیا کر۔۔ ر۔۔رہے۔۔ہ۔۔ہیں۔آ۔آپ۔۔۔ ” واسم کو اتنا قریب پاکر وہ کافی اہم گئی تھی۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔۔ کہ وہ اس شخص کو کیسے خود سے دور کرے۔۔۔۔ ؟

” کیا کر رہا ہوں مطلب۔۔۔ ؟ اب تو تم میری بیوی بننے والی ہوں نہ ایک ہی دن ہے آج مہندی اور کل بارات۔۔۔۔ !! تو تم اتنا ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔ ؟ ” واسم کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔

” و۔۔۔ وہ۔۔۔ ا۔۔اگر۔۔۔ ک۔۔۔کسی۔۔ ن۔۔۔نے دیکھ۔۔ل۔۔لیا۔۔ت۔۔۔تو۔۔۔ ” اس نے لڑکھڑاتے ہوئے الفاظ ادا کیے۔۔۔ اس کی سانسیں کافی بڑھ چکی۔۔۔ دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں۔۔ آج پہلی بار وہ واسم کے اتنا قریب تھی۔۔۔۔ اس کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔

” دیکھ لیا تو کیا۔۔۔ ہماری تو شادی ہونے والی ہے نہ۔۔۔ ” واسم ایلف کی بڑھتی دھڑکنوں کو پہچان گیا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے قریب آنے سے ڈر گئی ہے۔۔۔ ایلف کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔۔۔ اس لیے اس نے آہستگی سے اسے پیچھے کیا۔۔۔ اور پھر مسکرا کر بولا۔۔۔

” ہاں !! ہونے والی ہے۔۔۔ ہوئی نہیں ہے۔۔۔ اور ویسے بھی دادو نے کہا ہے کہ شادی سے پہلے میاں بیوی آپس میں بات نہیں کرسکتے تو نکاح تک آپ مجھ سے دور ہی رہیں گے۔۔۔۔” ایلف کی جان میں جان آئی۔۔۔ اس نے سانسیں بحال کی۔۔۔ اور پھر اس کی بات کا جواب دیا۔۔۔

” کوئی بات نہیں۔۔۔ ! کتنی دور ہے۔۔۔ کل ہی ہے نہ بارات۔۔۔ کل رات میں بھی دیکھتا ہوں کہ کیسے تم مجھے خود سے بچاؤ گی۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لیے واسم وہاں سے چلا گیا۔۔۔ پر ایلف کا چہرہ کانوں تک سرخ پر گیا تھا۔۔۔

___💕💕💕___

آج مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔ پوری حویلی کو گلاب کے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔ پوری حویلی میں گلاب کے پھولوں کی مہک تھی۔۔۔

ایلف کمرے میں بیٹھی تیار ہورہی تھی۔۔۔۔۔۔ ہلکا سا میک اپ۔۔ پیلے رنگ کی میکسی جو زمیں کو چھو رہی تھی۔۔ پیلے رنگ کا دوپٹہ۔۔۔ بہت ہی خوبصورت لگ رہے تھے۔۔۔

وہ تیار ہو کر سج سنور کر کمرے میں ہی تھی۔۔۔ پھر کچھ لڑکیاں آئی اور اسے اپنے ساتھ لے کر لان کی طرف بڑھی۔۔۔ مہندی کے فنکشن کا ارینجمینٹ لان میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔۔

ایلف ہلکے ہلکے قدم لیتے آگے بڑھی۔۔۔۔۔ سامنے سٹیج پر واسم پہلے ہی موجود تھا۔۔۔ جو پیلے رنگ کے کرتے اور سفید شلوار میں کافی خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔

واسم کی نظریں جیسے ہی واسم کی طرف گئی تو وہ نظریں جھکا نا سکا۔۔۔۔ اور بے ساختہ کھڑا ہوگیا۔۔۔ اور پھر دوبارہ بیٹھ کر بے عزتی تھوڑی کروانی تھی۔۔۔

اس لیے جیسے ہی ایلف سٹیج کی طرف بڑھی۔۔۔ تو اس ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ تھاما اور پھر وہ دونوں صوفے پر بیٹھے۔۔۔

مہندی کی رسومات شروع کی گئی۔۔۔ سب لوگ بہت خوش تھے۔۔۔ پر زندگی میں کب کیا ہو جائے کسی کو کچھ پتہ نہیں سوائے خدا کی ذات کے۔۔۔۔

___💕💕💕____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *