Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 13
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 13
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
عالیہ اس وقت خان مینشن میں موجود تھی۔۔۔ وہ اس وقت کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ سر دوپٹے میں چھپا ہوا تھا۔۔ سفید رنگ کا سوٹ تھا۔۔۔ اور میک کا نام وہ نشان بھی نہیں تھا چہرے پر۔۔۔
کمرا کھلنے کی آواز پر بیڈ سے اٹھی اور کھڑی ہوگئی۔۔۔ سامنے دیکھا تو ماہر کھڑا تھا۔۔ جو اس کے لیے کھانا لایا تھا۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی جیسے ہی اس کی نظر عالیہ پر پڑی تو کچھ پلوں کے لیے تو وہ اس نظر ہٹا ہی میں پایا تھا۔۔
سفید رنگ کے سوٹ میں وہ کسی بھی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔ عالیہ نے اپنی نظریں جھکا لی تھی۔۔۔ اس لیے اس کی نظروں کو نہ دیکھ۔ سکی۔۔
اسے دیکھتے دیکھتے اچانک ماہر واپس ہوش میں آیا۔۔
” یہ کھانا لایا تھا میں آپ کے لیے۔۔ !! ” ہاتھ میں کھانے کی ٹرے کی طرف دیکھتے ہوئے ماہر نے کہا۔۔۔
” ن۔۔نہیں م۔۔مجھے بھوک ن۔۔نہیں ۔ہہ۔ہے ” اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کیے۔۔۔ تو ماہر نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” ایسے کیسے بھوک نہیں ہے آپ کو۔۔۔ دیکھیں اب آپ کو یہ کھانا تو ہو گاہی نہ کیونکہ آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔ اگر نہیں کھائے گی تو طبعیت زیادہ خراب ہو جائے گی۔۔ اس طرح تو آپ پھر اور کچھ دن یہاں رہنا ہوگا۔۔۔ اس سے اچھا یہی ہے کہ آپ یہ کھالیں۔۔۔ “
مزاق میں ہی وہ اسے کافی ڈرا گیا تھا۔۔۔ ماہر نے ٹرے کو ٹیبل پر رکھا۔۔۔ اور خود صوفے پر بیٹھ گیا۔۔
” ا۔۔اچھا ٹھیک ہے کھا لوں گی کھانا۔۔۔ !! ” یہ کہ کر وہ بھی بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
” یہ آپ کی میڈیسنز ہیں وقت پر لگا لیجئے گا۔۔۔ !! ” اپنی جیب سے کچھ دوایاں نکالتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔
” جی ٹھیک ہے۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا تو وہ اٹھا اور وہاں سے جانے کے لیے نکلا۔۔۔
” سنیں۔۔۔ !! ” اسے جاتا دیکھ کر عالیہ نے کہا تو اس کے قدم وہی جم گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” جی۔۔۔ !! ” ماہر نے پیچھے مڑ کر کہا۔۔۔
” شکریہ۔۔۔ ” وہ بیڈ سے کھڑی ہوگئی۔۔۔وہ بالکل ماہر کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ لیکن ماہر کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس نے کس چیز کا شکریہ ادا کیا ہے اسے۔۔
” شکریہ !! کس چیز کا۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو وہ بیڈ پر بیٹھی۔۔۔
” کس چیز پر مطلب۔۔۔ !! آپ میری اتنی مدد کررہے ہیں۔۔ اس کے لیے۔۔۔ !! ” عالیہ کے کہنے پر وہ مسکرایا۔۔۔
” نو پروبلم ۔۔۔ کھانا کھا لیجیے گا یاد سے” مسکرا کر اس نے کہا اور پھر ماہر کمرے سے نکل گیا۔۔۔ دروازہ بند کیا اور خود ہی مسکرا کر چلا گیا۔۔
عالیہ کے چہرے پر بھی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔۔۔
پھر اس کی نظر کھانے پر گئی۔۔ اسے کافی بھوک لگی ہوئی تھی۔۔۔ وہ تو اس کے سامنے ہی تیس مار خان بن رہی تھی۔۔۔
یہ بات ماہر بھی جانتا تھا کہ وہ اس کے سامنے کھانا نہیں کھائے گی اسی وجہ سے چلا گیا۔۔۔۔
__![]()
![]()
__
دانیال اپنے کمرے میں پہنچا۔۔۔ اس کی رگیں تن چکیں تھی۔۔ آنکھیں غصے سے لال ہوگئی تھی۔۔۔ جس سے اس نے محبت کی تھی اب وہ کسی اور کے نام ہوچکی تھی۔۔۔ لیکن اب وہ کبھی کیا سکتا تھا ان دونوں کا نکاح جو ہو چکا تھا۔۔۔
اس کا دل کررہا تھا کہ پورے کمرے کو تیس نہس کردے اور اس نے ایسا ہی کیا۔۔۔ پورے کمرے کا حشر بگاڑنے کے بعد وہ کمرے سے نکلا اور حویلی سے چلا گیا۔۔
سفینہ بھی اپنے کمرے میں پہنچی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آچکے تھے۔۔۔ پہلے بھی اس کی محبت کو ایلف کے نام کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اب مکمل طور پر کی جا چکی ہے۔۔۔ لیکن وہ کیا کرسکتی تھی سوائے رونے دھونے کے۔۔
” یہ میں نے کیا کردیا۔۔۔ ؟؟ م۔۔مجھے یوں ک۔۔کمرے میں بی جان کا انتظار ن۔۔نہیں کرنا چاہئیے تھا۔۔۔ اگر م۔۔میں کمرے سے باہر ہوتی تو شائید میں یوں تو نہ رہی ہوتی۔۔۔ میرا نکاح ہوا ہوتا واسم۔سے اس ایلف کی ب۔۔بجائے۔۔ “
اس نے ڈریسنگ ٹیبل سے چیزیں اٹھا کر زمین بوس کردی تھی۔۔۔
” پر میں تم دونوں کو کبھی بھی ایک نہیں ہونے دوں گی۔۔۔ تم دونوں کو اس دفعہ ایسا الگ کروں گی ہ تم لوگ کبھی ایک نہیں ہوسکوں گے۔۔۔ “
وہ خود سے عہد کررہی تھی لیکن وہ کیا جانتی تھی کہ جو رشتہ خدا جوڑ دیتا ہے وہ کبھی توڑا نہیں جاسکتا ہے۔۔۔ !! “
وہ خود سے ہی باتیں کررہی تھی جب اس کا فون بجا۔۔
” ہاں بولو !! اور کتنی دفعہ کہا ہے کہ مجھے یوں باربار فون مت کیا کرو۔۔۔ ” سفینہ نے فون اٹھاتے ہی کہا۔۔۔ یہ فون اسی لڑکے کا تھا جس سے اس نے عالیہ کو کڈنیپ کروایا تھا۔۔
” وہ جس لڑکی کو آپ نے کڈنیپ کرنے کا کہا تھا اسے کوئی بچا کر لے گیا۔۔۔ ” اس کی بات سنتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔۔۔
” کیا !! یہ کیا بکواس کررہا ہے تو تجھے معلوم بھی کیا کہہ رہا ہے۔۔۔ !! ” سفینہ کا پارا ہائی ہوا۔۔
” جی جانتا ہوں !! معزرت ہم اسے نہیں روک پائے۔۔۔
” بھاڑ میں جاؤ۔۔۔ ایک کام دھنگ سے نہیں ہوسکا۔۔۔ تم لوگوں سے۔۔۔ !! ” یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔۔۔
” ویسے اب اگر آبھی جائے عالیہ تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا مجھے۔۔۔ کیونکہ اب ایلف اور واسم کا نکاح ہوگیا ہے۔۔۔ تو اب اس سے مجھے کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔ ” اس نے دل میں ہی سوچا۔۔۔
__![]()
![]()
___
ایلف کمرے میں بیٹھ کر موبائل یوز کررہی تھی۔۔۔ دروازے کی آہٹ پر بھی نہ ہلی۔۔۔۔ واسم کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
” ایلف !! میری شرٹ نکال دیں۔۔ مجھے کہیں جانا ہے۔۔۔ !! ” یہ کہہ وہ واشروم کی طرف بڑھا جانا تو اس نے کہیں بھی نہیں تھا۔۔۔ لیکن وہ صرف اس کو اپنی طرف مائل کرنے کوشش کررہا تھا۔۔
یہ سنتے ہی ایلف کے چہرے پر غصے کے تاثرات آئے۔۔۔
” کیوں۔۔۔ ؟؟! کس خوشی میں آپ خود نہیں لے سکتے کیا۔۔ ؟ ” ایلف نے واسم کو گھورا۔۔۔
” نہیں ۔۔۔ !! آپ ہی کا کر دے گی مجھے شرٹ۔۔۔۔ !! ” وہ اس کے پاس آکر کہتا ہوا پیچھے ہوا۔۔۔
” میں نہیں دو گی۔۔۔ ” غصے سے کہتی ہوئی وہ پھر موبائل میں مصروف ہوگئی۔۔
“جب شاور لےلو شرٹ نکال دے۔۔۔ !! ” یہ کہہ کر وہ واش روم میں گھس گیا۔۔۔ ایلف غصے سے اٹھی اور ایک شرٹ نکالی۔۔۔
جب واپس آئی تو اس کا دھیان موبائل کی طرف تھا۔۔۔
واسم واش روم سے نکلا۔۔۔ تو اس کی طرف شرٹ کی۔۔۔ لیکن جیسے ہی اس کی طرف نظر کی اس نے منھ پھیر لیا۔۔۔
وہ شرٹ لیس تھا۔۔۔
” یہ لیں آپ کی شرٹ۔۔۔ !! ” اس کی طرف شرٹ کرتے ہوئے ایلف نے کہا۔۔۔ وہ کافی گھبرا چکی تھی۔۔۔
ایلف کی اب بھی اس کی طرف پشت ہی تھی۔۔۔
” پکڑ بھی لیں۔۔۔ !! ” جب واسم نے کچھ دیر تک شرٹ نہ پکڑی تو اس نے پھر کہا۔۔۔ وہ اس کی تیز ہوئی دھڑکنوں کو اور اس کی گھبراہٹ کو اچھی طرح پہچان گیا تھا۔۔۔
” یہ آپ اتنا گھبرا کیوں گئی ہے۔۔۔ مجھے ہی دیکھا نہ کوئی غیر محرم۔تو نہیں ہوں میں۔۔۔ شوہر ہوں آپ کا۔۔۔ ” وہ اس کے قریب ہوا اور بولا۔۔۔
” یہ پکڑے شرٹ۔۔۔ !! اس کی طرف شرٹ اچھالتے ہوئے اس نے کہا اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔ واسم اس کے جانے کے بعد مسکرا گیا۔۔۔
__![]()
![]()
__
