Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 24
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 24
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
مہندی کا فنکشن مکمل ہونے کے بعد آج بارات کا فنکشن اور ماہر اور عالیہ کا نکاح تھا۔۔۔ ماہر کافی خوش تھا کہ اللہ نے اس کو اس کی جھولی میں ڈال دیا جس سے وہ شدید محبت کرنے لگا تھا۔۔۔
لیکن کیا وہ بھی اس سے محبت کرنے لگی تھی۔۔۔۔ ؟؟ کیا عالیہ بھی ماہر کو اس ہی شدت سے چاہنے لگی تھی جیسے وہ اسے چاہنے لگا تھا۔۔۔
شائید ابھی نہیں۔۔۔ !!
وہ سفید رنگ کی شیروانی کو پہنے ہوئے شیشے کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔ خود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
” کیسا لگ رہا ہوں۔۔۔ ؟؟… یہ کیسا سوال ہوا۔۔۔ اچھا ہی لگ رہا ہوں۔۔۔ !! “
حود سے ہی پوچھے ہوئے سوال پر وہ مسکرا گیا۔۔۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کہ اسے حور کے کمرے میں آنے کے بارے میں بھی پتہ نہ چلا۔۔۔
حور اس کی حرکتوں کو خوب پہچان گئی تھی۔۔۔
” دلہے میاں پوری رات یہی گزارنی ہے کیا۔۔۔ ؟؟ ” اس کے سامنے ہاتھ کو لہراتے ہوئے حور نے کہا تو وہ ہوش میں واپس آیا۔۔۔
” کچھ کہا۔۔۔ !! ” وہ اتنا ہی مگن تھا کہ حور نے جو بھی کہا اسے سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔
” ہممم !! سمجھ رہی ہوں میں یہ سب۔۔۔ ایسی بھی کیا بات سوچ رہے تھے کہ میری بات ہی نہیں سنی۔۔۔۔ !! “
حور نے شرارت سے کہا تو وہ مسکرانے لگا۔۔۔۔
” آپی۔۔۔ !! ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے۔۔۔۔ اچھا مجھے یہ بتائیں کہ وہ زاویار کب ٹرپ سے واپس آئے گا۔۔۔ !! “
مسکراتے ہوئے ماہر نے زاویار کے متعلق بات کی تو اس نے منھ بنا لیا۔۔۔
” تم فکر نہیں کرو آ جائے گا آج رات تک۔۔۔ !! ” حور نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔
” آپی فکر کیسے نہ کرو میں۔۔۔ !! ایسے اچھا تھوڑی لگتا ہے کہ ایک بھائی کی شادی ہو اور دوسرا بھائی اس شادی پر آئے ہی نہ۔۔۔۔ لوگ کیا سوچے گے۔۔۔ !! “
ماہر نے کہا۔۔۔
” ماہر۔۔۔ !! یہ تمھیں کب سے لوگوں کو پرواہ ہونے لگی ہے۔۔۔ حیر زاویار کو چھوڑو اور موڈ ٹھیک کرو۔۔۔ اور چلو ورنہ لیٹ ہو جائیں گے ہم۔۔۔ !! “
حور نے باہر کی طرف دھکیلتے ہوئے کہا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ عروسی رنگ کے جوڑے میں مبلوث آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ وہ مکمل طور پر تیار ہو چکی بس سر پر دوپٹہ لینا باقی تھا۔۔۔۔
وہ لیتے ہوئے اس نے اپنی تیاری مکمل کی۔۔۔۔ اور آکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
” کیا واقع میں ہی میں ماہر کو پسند کرنے لگی ہوں۔۔۔ !! ؟؟ “
عالیہ نے حود سے ہی سوال کیا۔۔۔
” نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟؟. ہمیں ملے ہوئے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے۔۔۔ !! ” اس نے حود ہی اس کا جواب دیا۔۔۔
” ہو بھی سکتا ہے۔۔۔ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔۔۔ جن پر میں بھروسہ بھی کرسکتی ہوں۔۔۔ !! اگر وہ مجھے پسند نہ ہوتے تو میں ان سے شادی کے لیے ہاں کیوں کہتی۔۔۔۔ ؟؟؟…. “
اپنے خیالات پر وہ خود ہی مسکرا گئی…..
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” ایلف جلدی کر لیں پلیز۔۔۔۔ !! نانو سے دانت پڑے گی۔۔۔ !! “
ایلف شیشے کے سامنے کھڑی ہوکر بال سیٹ کررہی تھی۔۔۔ کہ وہ کسی طوفان کی طرح آتا اس کے پیچھے کھڑا ہوا اور اور بال سیٹ کرتے ہوئے بولا۔۔۔
” میں تیار ہوں اور جا رہی ہوں۔۔۔ !! “
منھ بنا کر کہتی ہوئی وہ کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی اور وہ اس کے پیچھے چل دیا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
بارات پہنچ چکی تھی اور اب نکاح کی باری تھی۔۔۔۔ ماہر اور عالیہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھایا گیا۔۔۔ اور درمیان میں پھولوں کے پتے لٹکائے گئے۔۔۔
مولوی صاحب نے اجازت طلب کرتے ہی نکاح شروع کیا۔۔۔
” عالیہ بنت حامد شاہ آپ کا نکاح بعوض حق مہر ایک کڑوڑ روپے سکی راجالوقت ماہر خان کے ساتھ کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے۔۔۔ ؟؟ “
یہ سنتے ہی عالیہ نے چہرہ اوپر اٹھا کر عالیہ کی طرف دیکھا تو نظر ماہر سے جا کر ٹکرائی۔۔۔
جو اس کی طرف مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
” قبول ہے۔۔۔ !! “
اسے دیکھتے ہی وہ نظریں جھکا گئی اور اس نکاح کو قبول کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟ “
” قبول ہے۔۔۔ !! “
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ ؟؟ “
” قبول ہے۔۔۔ !! “
تیسری دفعہ قبول ہے ان کر ماہر کی روح تک کو سکوں پہنچا تھا۔۔۔ وہ آج اپنا آپ مکمل طور پر اسے سونپ چکی تھی۔۔۔
عالیہ سے پیپیرز پر سائن کرواتے ہی مولوی صاحب ماہر کی طرف بڑھے۔۔۔
” ماہر خان ولد زوالفقار خان آپ کا نکاح بعوض حق مہر ایک کڑوڑ روپے سکی راجالوقت عالیہ بنت حامد شاہ کے ساتھ کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ ؟؟ “
” قبول ہے۔۔۔ !!! “
مولوی صاحب کے پوچھنے پر ایک سیکنڈ لگائے بغیر اس نے کہا تو حور اس کی بے قراریاں دیکھتے ہوئے مسکرا گئی۔۔۔ اور وہی کھڑی شہناز جل گئی۔۔۔
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟ “
” قبول ہے”
” کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ ؟؟ “
” قبول ہے۔۔۔ !! “
پیر سائن کرتے ہوئے وہ اسے مکمل طور پر اپنی بنا چکا تھا۔۔۔۔
اس کے بعد دعا مانگی گئی اور پھر آخر میں رخصتی کی رسم کی گئی۔۔۔۔ اور عالیہ کو حویلی سے قرآن کریم کے زیر سایہ رخصت کیا گیا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
وہ عروسی رنگ کے جوڑے میں مبلوث بیڈ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ جب وہ پہلے اس گھر میں آئی تھی تو اس وقت ایک انجان لڑکی تھی لیکن اب وہ اس گھر کی بہو بن چکی تھی۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھلنے پر اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے سے ماہر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
جسے دیکھتے ہی وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔ اس کی یہ حرکت بھی اس کی نظروں سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔
دروازے کو بند کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھا اور پاس آکر بیٹھ گیا۔۔۔ کمرے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔
” ہمممم۔۔۔ !! ویسے کافی پیاری لگ رہی ہیں۔۔۔ !! ” ماہر اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور اس کی تعریف کی تو اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
” تھینکس۔۔۔ !! ” اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اور نظریں پھر سے ایک دفعہ جھکا گئی۔۔۔
” ویسے اس تھینکس کی جگہ اس بندہ ناچیز کی بھی تعریف کی جا سکتی تھی۔۔۔۔ !! ” اس نے منھ اوپر کیا اور پھر بولا۔۔
تو عالیہ نے نظریں اٹھا کر اسے غور سے دیکھا۔۔۔
” ہممم ۔۔ !! تو آپ کو اپنی تعریف سنی ہے اپنی۔۔۔ !! ” اس نے شرارت سے کہا تو ماہر بھی مسکرا گیا۔۔۔۔
” جی بالکل کیوں نہیں سن سکتا آپ کے منھ سے اپنی تعریف۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا تو عالیہ نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔
” تو سنیں۔۔۔ آپ آج بالکل بھی برے نہیں لگ رہے تھے۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا تو اس نے آئیبرو اچکائے۔۔۔۔
” یعنی آپ کے کہنے کا مطلب ہے پہلے میں برا لگتا ہوں۔۔۔ ” وہ جان بوجھ کر سنجیدہ چہرہ بناتے ہوئے بولا۔۔۔ تو عالیہ کی ساری شرارت ہوا ہوگئی۔۔۔
” نہیں نہیں میں مزاق کررہی تھی آپ ہمیشہ کی طرح اچھے لگ رہے تھے۔۔۔ !!” عالیہ کے منھ سے خود کی تعریف سن کر روح تک کو سکون پہنچا۔۔۔
” مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ ” عالیہ نے سنجیدگی سے کہا تو وہ بھی سنجیدہ ہوا۔۔۔
” جی کہیں اس میں پوچھنے والی بات کیا ہے۔۔۔ ؟؟ ” ماہر نے کہا۔۔۔
” دیکھیں ہماری شادی میں بہت جلدی کردی گئی۔۔۔ آپ میری زندگی کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔۔۔ مجھے کچھ وقت چاہئیے ہوگا کہ میں اس تعلق کو قائم کرنے میں۔۔۔ !! “
اس نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرا گیا۔۔۔
” آپ کو جتنا وقت چاہئیے آپ کے سکتی ہیں۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا تو وہ مسکرا گئی۔۔۔
ماہر ان مردوں میں سے بالکل بھی نہیں تھا جو اپنی بیوی کی باتوں پر اسے باتیں سنائے کہ تم اپنی محبت کا رونا رو رہی ہو میرے سامنے وغیرہ۔۔۔ اس معاملے میں عالیہ کافی خوش قسمت تھی۔۔۔
” اچھا اپنی بیوی کو منھ دکھائی کی رنگ تو پہنا سکتا ہوں نہ میں۔۔۔ !! اس کی تو اجازت ہے نہ۔۔۔ “
اپنے جیب سے ایک خوبصورت سی رنگ نکالتے ہوئے اس نے اس کے سامنے کی اور مسکراتے ہوئے شرارت سے کہا۔۔۔
” جی بالکل۔۔۔ !! “
اس کی اجازت پاتے ہی ماہر نے عالیہ کا ہاتھ تمام کر اسے رنگ پہنائی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
