Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 14

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

ایلف کمرے میں داخل ہوئی تو واسم۔اس وقت کمرے میں نہیں تھا۔۔۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔ اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ دروازہ کھلا اور واسم کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ رات کے دس بج رہے تھے۔۔

اسے دیکھتے ہی ایلف نے خود کو کوسا۔۔۔

” آخر آئی ہی کیوں میں اس کمرے میں۔۔۔۔ !! ” دل میں ہی سوچتے ہوئے وہ اٹھی اور پھر دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔

وہ دروازے کے پاس ہی تھا۔۔۔ ایلف کے بڑھتے قدم دروازے کی جانب دیکھ اس نے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنے سامنے کیا۔۔۔

” یہ کیا بد تمیزی ہے یہ۔۔۔۔ !! ” اس شدید جھٹکے کی ایلف کو بالکل بھی امید نہیں تھی۔۔۔ اور خود کو اس طرح دھکیلے جانے پر وہ اس پر غصہ سوار ہوا۔۔۔۔

” کیا ہے مطلب۔۔۔ ؟؟ ” واسم نے جان بوجھ کر انجان بننے کی کوشش کی۔۔۔۔۔

” مطلب مجھے اس طرح کیوں روکا ہے۔۔۔ ؟؟ کس خوشی میں اور آپ بھول گئے کہ میں نے آپ کو صبح بھی منع کیا تھا کہ مجھے مت ہاتھ لگایا کریں۔۔۔ لیکن آپ کو شائید سمجھ نہیں آتی ہے۔۔۔

ایلف نے اسے آنکھیں دکھائی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔ ابھی بھی واسم نے اس کا بازو تھاما ہوا تھا۔۔۔

” سو کیوٹ۔۔۔۔ !!! ” واسم نے کہا تو اسے اور غصہ آیا۔۔۔

” کیا۔۔۔۔ ؟؟؟ ” ایلف نے واسم کو گھورا۔۔۔ ” آپ کا یہ انداز۔۔۔ !! بہت ہی پیارا ہے۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے اس نے اس کے گال پر اپنے ہاتھ جمائے۔۔۔

” ی۔۔یہ ہاتھ ہٹائیں۔۔۔۔ اپنا۔۔۔ ” ایلف کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھیں۔۔۔ وہ سہم گئی تھی۔۔۔

” اور اگر نہ ہٹاؤ تو۔۔۔ کیا کرلیں گی آپ۔۔۔ ؟؟ ” واسم نے مسکرا کر کہا جس پر وہ بھی ہلکا سا مسکرائی۔۔

” واسم صاحب۔۔۔ !! آپ مجھے چیلنج کررہے ہیں۔۔۔ !!! ” ایلف نے واسم کو گھورا۔۔۔ ” یس۔۔۔ !! میں آپ کو چیلنج کررہا ہوں۔۔۔ ” اس نے فخریہ انداز میں کہا۔۔۔

” سوچ لیں مجھے چیلنج کررہے ہیں۔۔۔ !! ” اس کے چہرے کے تاثرات بدلے۔۔۔

یہ کہتے ہوئے ایک ہی جھٹکے میں اس نے اپنے بازو اور اپنے چہرے سے اس کا ہاتھ ہٹایا۔۔۔۔

جسے دیکھ کر واسم کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔

” نائس ۔۔۔ !! ” واسم نے کہا۔۔۔

” نائس نہیں ۔۔۔ !! ہٹے میرے راستے سے۔۔۔ !! مجھے جانا ہے۔۔۔ !! ” اس نے واسم کو پیچھے کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام۔۔

” کہاں جانا ہے۔۔۔ ؟؟ رات کے ساڑھے دس بج رہے ہیں۔۔۔ !! ” اس نے تھوڑا غصے سے کہا۔۔۔

” جہاں بھی جانا ہے اس سے آپ کو کوئی مطلب نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ پھر آگے بڑھی لیکن کوشش ناکام۔۔۔ !!

” میں آپ کا شوہر ہوں جھے مجھے معلوم ہونا چاہئیے کہ آپ کو کہاں جانا ہے۔۔۔ ؟؟ ” اس نے شوہر ہونے کا حق جتایا۔۔۔

” شوہر۔۔۔ !! میں نے آپ کو شوہر نہیں مانا تو آپ کیسے میرے شوہر ہوگئے۔۔۔ ” اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔۔

” جو بھی کہو تم۔۔۔ !! ہمارا نکاح ہوچکا ہے۔۔ اور تم اب میری بیوی ہو۔۔ تم مجھے روک نہیں سکتی۔۔۔ ” واسم نے کہا۔۔۔

” صرف پیپر سائن کردینے سے میں آپ کی بیوی نہیں بن گئی ہو۔۔۔ اور نہ ہی آپ میرے شوہر۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا۔۔۔۔

واسم کو کافی غصہ چڑ چکا تھا۔۔۔

” آخر تمھیں ایک بات سمجھ کیوں نہیں آتی کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ !! ” واسم نے کہا۔۔۔ اس کی رگیں تن چکی تھی۔۔۔

” محبت کا لفظ بدنام مت کریں آپ اتنی ہی محبت تھی مجھ سے تو اس نفرت کی آگ کو جگانے سے پہلے سوچنا تھا۔۔۔ مجھے بارات والے دن چھوڑ کر جانے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔ ” آنکھوں میں آنسو لیے اس نے کہا اور اسے پیچھے کرتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گئی۔۔۔

___💕💕💕___

آج وہ دن بعد اس کمرے سے نکلی تھی۔۔۔ اسے اب اس کمرے میں گھٹن ہونے لگی تھی۔۔۔ اس لیے کمرے سے نکلی تو سامنے سیڑھیاں تھی۔۔۔

سیڑھیاں عبور کرکہ عالیہ نیچے آئی۔۔۔

” یہ ماہر کہاں چلے گئے ہیں۔۔۔ ؟؟ ” وہ سوچتے ہوئے نیچے آئی۔۔۔ اور سامنے ہی بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔

اس نے نظر ادھر ادھر دوڑائی تو وہ پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔

” ارے آپ۔۔۔ آپ یہاں۔۔۔ ؟؟ ” اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی اور حیرانگی بھی۔۔۔

” کیوں کیا یہاں نہیں آنا چاہئیے تھا مجھے۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا۔۔۔ تو وہ بے ساختہ مسکرا گیا۔۔۔

” نہیں نہیں۔۔۔ ایسی بھی بات نہیں ہے۔۔۔۔ !! آپ آسکتی ہیں بیٹھے نہ کھڑی کیوں ہیں۔۔۔ !! ” ماہر نے سامنے پڑے صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔

عالیہ کو اب اس کے ساتھ بات کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔۔۔

” کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے کوئی بھی نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔

” آپ چائے پئیے گی۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

” نہیں۔۔۔ ابھی دل نہیں۔۔۔ مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔۔ !! ” وہ تھوڑا سنجیدہ ہوئی۔۔۔

” جی کہیں۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا۔۔

” مجھے گر۔۔۔ “اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ماہر نے اپنی بات شروع کی۔۔۔

” گھر ۔۔۔ !! آج شام کو جانا ہے۔۔ جھے بتانا نہیں یاد رہا ۔ !! ” ماہر نے کیا تو اس نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔

ماہر ایسا نہیں چاہتا تھا کہ وہ جائے لیکن کیوں۔۔۔ ؟؟

___💕💕💕___

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *