Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 26

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

خود کو یوں کھینچے جانے پر اسے شدید غصہ آیا تھا۔۔۔

” یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔ ؟؟ ” ایلف اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی بے ساختہ کوشش کررہی تھی۔۔۔

” بد تمیزی کیا ہے۔۔ ؟؟ شوہر ہوں نہ میں آپ کا۔۔۔ !! آپ کو ہاتھ لگانے کا وارنٹ ہے میرے پاس۔۔۔ !! آپ بھول گئی کہ ہماری شادی ہوئی تھی۔۔۔ !! “

اس نے اسے وہ دن یاد دلایا جب ان دونوں کی شادی ہوئی تھی۔۔۔ اس نے اپنے شوہر ہونے کا حق جتایا۔۔۔

” مجھے نہیں پتہ۔۔۔ !! مجھے کام ہے چھوڑیں مجھے جانے دیں۔۔۔ !! ” اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ایلف نے کہا تو واسم سختی سے لب بھینج گیا۔۔۔

” آپ کہیں نہیں جائیں گی۔۔۔۔ آپ یہی رہیں گی اسی کمرے میں مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ !! ” واسم نے کہا تو ایلف نے اسے گھورا۔۔۔

لیکن واسم کو اب اس کے گھورنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔۔۔

” اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے آپ کون ہوتے ہیں۔۔۔ ؟؟ ” ایلف نے طنزیہ کہا تو واسم نے اسے مسکرا کر دیکھا۔۔۔

” آپ کا شوہر۔۔۔ !! ” اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی۔۔۔ یہ سنتے ہی ایلف لب بھینج گئی۔۔۔

واسم نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے ایک صوفے پر بیٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔

لیکن اس نے منھ موڑ لیا۔۔۔

” آپ کا غصہ جائز ہے۔۔۔ میں مانتا ہوں کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔۔۔ !! لیکن خدا کے لیے مجھے معاف کردیں۔۔۔۔ !! یہ ظلم نہ کریں۔۔ میں آج بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔ اور کرتی تو تم بھی ہو مجھ سے محبت۔۔۔ !! “

جب اس نے اپنا آخری جملہ بولا تو ایلف نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔

” میں نہیں کرتی آپ سے کوئی بھی محبت۔۔۔ !! ” ایلف نے رخ موڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔

جس پر واسم سختی سے لب بھینج گیا۔۔۔۔

” تو کیا تم مجھ سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ ؟؟ ” واسم نے ایک بار پھر سے کہا۔۔۔ لیکن ایلف نے رخ موڑی ہی رکھا۔۔۔

” نہیں۔۔۔ “

اس کی طرف بنا دیکھتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔۔۔

” تو یہ بات میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہیں نہ کہ آپ آج بھی مجھ سے محبت نہیں کرتی۔۔۔ !! “

واسم کے کہنے پر وہ اس کی طرف مڑی تھی۔۔۔

” مجھے ابھی بات نہیں کرنی ہے۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھی۔۔۔ اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

لیکن واسم کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی کیونکہ وہ اس کو دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی ہے اور اس کا مطلب تھا کہ وہ آج بھی اس سے محبت کرتی تھی۔۔۔۔

وہ کمرے سے باہر نکل کر آئی۔۔۔۔ تو آنکھوں سے آنسو بہہ گئے۔۔۔

نا جانے قمست اسے کس موڑ پر لے آئی تھی۔۔۔ ؟؟ جس سے اس نے اس قدر محبت کی تھی وہ ہی اسے چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔۔ اور اب تین سال بعد جب مجبوری کر تحت شادی کو گئی۔۔۔ تو اس سے معافی مانگ رہا ہے۔۔۔ کیا کرتی وہ۔۔۔

اس پر یقین۔۔۔ ؟؟ تین سال پہلے بھی تو کیا تھا اس نے اس پر یقین۔۔۔ پر نتیجہ کیا نکلا۔۔۔ ؟؟

یہی سوچتے ہوئے وہ گاڑدن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” تو زاویار صاحب۔۔۔ !! ماہر جی کے بھائی ہیں۔۔۔ !! ہمم گریٹ۔۔۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ ہر برائی کا کوئی نہ کوئی خاتمہ ہوتا ہی ہے۔۔۔ اور شائید اس برائی کا خاتمہ میں ہی ہوں۔۔۔

بہت لڑکیوں کی زندگی کے ساتھ کھیل چکے ہو تم زاویار صاحب۔۔۔

اب تمھارا چیپٹر ختم۔۔۔۔ !! شائید خدا نے مجھے تمھارے سامنے اسی لیے لا کر کھڑا کر دیا ہے۔۔۔

کہ میں تجھے تیرے انجام تک پہنچا سکوں۔۔۔ اور میں ایسا کروں گی بھی۔۔۔ تمھیں مجھے عالیہ ماہر خان کو دھوکا دینے کی سزا ضرور ملے گی۔۔۔ “

عالیہ کمرے میں چکر لگاتے ہوئے حود ہی دل ہی دل میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔

کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ مڑی تو دیکھا کہ ماہر کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔

” عالیہ مجھے ایک کام ہے۔۔۔۔ !! لیٹ ہو جائے گی مجھے شائید۔۔۔ !! ” آتے ہی اس نے کہا تو عالیہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔

لیکن وہ موبائل فون میں مصروف تھا اس کی ایک ضروری میٹینگ تھی اسے وہاں جانا تھا۔۔۔

” آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔ ؟؟ ماہر جی۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا تو ماہر کا سارا دھیان فون سے ہٹ کر اس کی بات پر آیا۔۔۔

” ماہر جی۔۔ !! ” اسے اس کو پکارنے کا انداز کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تھا۔۔۔

” جی۔۔۔ ” عالیہ نے سر ہاں میں ہلاتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا گیا۔۔۔

” You can say me Mahir only… !! “

ماہر نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا گئی۔۔۔۔

” نہیں بھئی میں تو آپ کو ماہر جی ہی کہوں گی۔۔۔ وہ کیا بات ہے نہ امی نے کہا تھا کے شوہر کو عزت سے پکارنا چاہئیے۔۔۔ !! اور ویسے بھی مجھے آپ کو آپ کے نام سے پکارتے ہوئے کچھ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ “

عالیہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ اس کی باتوں پر مسکرا گیا۔۔۔

” اچھا ٹھیک ہے جو کہنا ہے کہو۔۔۔۔ میں ایک کام سے جارہا ہوں جلدی آنے کی کوشش کروں اور رات میں تیار رہنا باہر چلیں گے۔۔۔۔ “

پیار سے کہتے ہوئے اس کی گال کو سہلا کر اس نے کہا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔

آج پہلی بار ماہر نے اسے چھوا تھا۔۔۔ اپنے گال پر ہاتھ رکھتی وہ خود ہی مسکرا گئی تھی۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

عالیہ کمرے سے نکلی اور کچن کی طرف بڑھی تھی۔۔۔ دوپہر کے دو بھج رہے تھے۔۔۔ اور اس نے صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا۔۔۔۔

اب کچھ کھانے پینے کے لیے آئی تھی وہاں۔۔۔

وہ فریج کی طرف بڑھی ہی تھی۔۔۔ کہ زاویار وہاں آیا اور اس کی نظر اس پر پڑی جو فریج میں جھانک رہی تھی۔۔۔۔

کسی اور کی موجودگی کو پہنچاتے عالیہ فوراً مڑی تھی۔۔۔۔۔ اور سامنے زاویار کو دیکھتے ہی وہ گھبرا سے گئی تھی۔۔۔۔

” تو تم میری بھابھی بن گئی ہو۔۔۔ !!! ہممم ویسے کیا ملے گا تمھیں میرے بھائی سے شادی کرکے۔۔۔ جو تم محبت تک نہیں کرتا۔۔۔ !!! “

زاویار نے اسے چڑھانے کی کوشش کی لیکن عالیہ مسکرا گئی۔۔۔۔

” مجھے جو ملنا ہوگا مل جائے گا لیکن تمھیں اس سے کیا۔۔۔ ؟؟ ” عالیہ نے اس پر طنز کیا تو وہ بھی ہلکا سا مسکرا گیا۔۔۔

” بھول رہی ہو تم ہمارا رشتہ کچھ اور ہے شائید۔۔۔ ” اس نے اسے اپنے اور عالیہ کے ریلیشن شپ کے بارے میں یاد کروایا تو اس کے ماتھے پر بل آئے۔۔۔

” ہے نہیں تھا۔۔۔ ” عالیہ نے اسے کہا تو اس کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو گئی۔۔۔

” بالکل۔۔۔۔ !! اب تو ہمارا ایک ہی رشتہ ہے دیور اور بھابھی۔۔۔ !! ” اس نے کہا۔۔۔ تو وہ مسکرا گئی۔۔۔

” میری بات کان کھول کر سن لو اگر اس گھر میں کسی کو بھی کچھ بھی بتانے کی کوشش کی تو چھوڑو گا نہیں۔۔۔ !! “

اس نے عالیہ کو انگلی دیکھاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔ لیکن وہ کونسا اس سے ڈرنے والی تھی۔۔۔۔

” شٹ اپ۔۔۔ !! یہ دھمکی کسی اور کو دینا مجھے نہیں۔۔۔ ” وہ بھی غصے میں کہتی ہوئی اسے انگلی دکھاتی ہے۔۔۔۔

” اسے تم دھمکی مت سمجھنا عالیہ۔۔۔ “

” یو نو واٹ مجھ تم سے بات ہی نہیں کرنی۔۔۔ !! ” اسے بھسم کرتی ہوئی وہاں سے جانے لگی۔۔۔۔ لیکن زاویار نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے روکا۔۔۔

” چٹاخ۔۔۔ “

اس کے سامنے آتے ہی عالیہ کے ہاتھ نے اس کے چہرے پر اپنی چھاپ چھوڑی تھی۔۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا کہ اس میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی۔۔۔ ؟؟

” Don’t touch me again… “

اسے انگلی دیکھاتے ہوئے اس نے کہا اور کچن سے نکل گئی۔۔۔۔ !!

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *