Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 23
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 23
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
کچھ دن بعد۔۔۔
واسم آفس سے واپس آتے ہی سو گیا تھا۔۔۔ ایلف کو شاپنگ کے لیے جانا تھا۔۔۔ اور واسم صاحب سوئے ہوئے تھے۔۔۔۔ وہ کافی دیر سے انتظار کر رہی تھی کہ وہ اٹھے تو وہ واسم سے کہے اسے شاپنگ پر لے جائے۔۔۔
لیکن وہ موصوف اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔۔
” ایک تو یہ عالیہ کی شادی سر پر آگئی اور انھیں سونے کی پڑی ہے۔۔۔ !! ” ایلف کہتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کیا۔۔۔ لیکن اس نے کوئی بھی حرکت نہ کی۔۔۔
” واسم۔۔۔ واسم۔۔۔ اٹھ جائیں۔۔۔ ” وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی۔۔۔ تو اس نے اچانک آنکھیں کھولی۔۔۔
” کیا بات ہے ایلف سونے تو دیں مجھے۔۔۔ !! ” اس نے منھ بنا کر کہا اور سونے لگا۔۔۔۔
” استغفر اللہ تین گھنٹے ہوچکے ہیں آپ کو سوئے ہوئے۔۔۔۔ اور کتنا سوئے گے۔۔ !! ” اس نے بھی منھ بنا کر کہا۔۔۔ جس پر وہ سیدھا ہوا۔۔۔
” آپ کو کوئی کام ہے۔۔۔ !! ” اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” جی بالکل۔۔۔ !! ” اس نے اسی ٹون میں کہا تو واسم نے اسے دیکھا اور پھر سے بولا ۔۔
” کیا کام ہے آپ کو مجھ بندہ ناچیز سے۔۔۔ ” شادی کے بعد ہلی بار ایلف نے اس سے کچھ کہا تھا۔۔۔
” مجھے شاپنگ پر جانا ہے۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو واسم نے سامنے لگی گھڑی کی طرف دیکھا جس پر رات کے نو بج رہے تھے۔۔۔۔
” اس وقت۔۔۔ !! ” واسم نے ٹائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” جی بالکل۔۔۔ ابھی اور اسی وقت۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو وہ اسے گھورنے لگا۔۔۔
” ویسے آپ بہت ہی بری سونے نہیں دے رہی مجھے۔۔۔ !! ” اس نے شرارت سے کہا تو ایلف نے اسے ایک گھوری بھری۔۔۔۔
” میری بات سنیں۔۔۔ میں آپکے ساتھ جانے کے لیے نہ مری نہیں جارہی ہوں۔۔ جانا ہے تو میرے ساتھ ورنہ میں اکیلی بھی جاسکتی ہوں۔۔۔ !! “
ایلف نے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگا۔۔۔
” نہیں نہیں۔۔ میں مزاق کررہا تھا مجھے صرف پانچ منٹ دیں میں ریڈی ہو کر آرہا ہوں۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے واسم اٹھا اور کپڑے لے کر واش روم میں لا گیا۔۔۔
اور ایلف بھی کمرے سے باہر نکل کر آئی۔۔۔ ایلف گاڑدن میں آئی تو دانیال وہی کھڑا تھا۔۔۔
دانیال کی نظر اس پر پڑی تو وہ کافی تیار تھی۔۔۔ دانیال چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔۔۔
” کہیں جا رہی ہیں آپ۔۔۔ !! ” دانیال کے سوال پر وہ اس کی طرف مڑی اور اسے دیکھا۔۔۔
” جی۔۔۔ وہ شاپنگ پر جا رہی ہوں۔۔۔ ” ایلف نے مسکرا کر کہا تو اس نے بھی وقت دیکھا۔۔۔۔
” رات کو اتنی لیٹ اکیلے جا رہی ہیں۔۔۔ ایک کام کریں میرے ساتھ چلی جائیں۔۔۔ ” اس نے ایلف کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا اور نہ اسے بتانے دیا کہ وہ واسم کے ساتھ جارہی ہے۔۔۔۔
” وہ میرے ساتھ جارہی ہیں۔۔۔ !! ” وہ بول ہی رہا تھا کہ ایک بھاری بھرکم آواز پر ایلف پیچھے مڑی تو سامنے ہی واسم کھڑا تھا۔۔۔
وہ چل کر ایلف کے ساتھ آکر کھڑا ہو گیا۔۔۔
” ایلف اور میں جارہی شاپنگ پر۔۔۔۔ !! ” اس نے مسکراتے ہوئے چڑھانے والے انداز میں کہا کیونکہ اسے دانیال کا ایلف کو اسکے ساتھ جانے کے لیے کہنا بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔
” چلیں ایلف۔۔۔ !! ” واسم نے کہا تو وہ سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔
اور وہ دونوں گاڑی کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ دانیال کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔۔
لیکن وہ دونوں جا چکے تھے۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
عالیہ اور ماہر کی شادی میں بچے کچے دن پر لگا کر اڑ چکے تھے۔۔۔ آج ان دونوں کا مہندی کا فنکشن تھا۔۔۔ لیکن اس شادی پر زاویار نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
کیونکہ اسے اپنی سکول ٹرپ پر جانا تھا۔۔۔ جس کی وجہ سے اس نے اپنے بھائی کی شادی مس کردی۔۔۔
جس چیز پر حور اور ماہر دونوں نے ہی اعتراض کیا۔۔۔۔ لیکن وہ کہاں سنتا ہے کسی کی۔۔۔۔ اپنی مرضی کا ملک ہے چلا گیا۔۔۔ اور اس کی واپسی ان دونوں کی بارات کی رات کو تھی۔۔۔۔
حیر اس کی کس کو پرواہ تھی۔۔۔۔ ؟؟
آج پھر حویلی کو ایک بار پھر سے اسی کی مہندی کے لیے سجایا گیا تھا۔۔۔ پوری حویلی کو پھولوں میں لاد دیا گیا تھا۔۔۔۔
پر طرف پیلے رنگ کے پھول کھلکھلا رہے تھے۔۔۔ ان کی خوشبو بھی بہت اچھی تھی۔۔۔۔
عالیہ اپنے کمرے میں بیٹھی تیار ہورہی تھی۔۔۔ ایک دفعہ پہلے بھی وہ تیار ہورہی تھی لیکن صرف اپنی گھر والوں کی وجہ سے اس شادی کے لیے وہ دل سے خوش تھی۔۔۔۔
ایک عجیب سی کشش تھی جو اسے ماہر کی طرف کھینچتی تھی جس کی وجہ سے اس نے اس شادی کے لیے ہاں کہا تھا۔۔۔۔
وہ یوں ہی تیار ہورہی تھی کہ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے مڑ کر اس طرف دیکھا تو اس کی والدہ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔
اسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی۔۔۔
” ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہے میری بچی۔۔۔۔ !! اللہ ہمیشہ تمھیں خوش رکھیں۔۔۔ صدا سہاگن رکھے۔۔۔ آمین۔۔۔۔ ” عالیہ کا ماتھا چومتے ہوئے اس کی والدہ نے اسے دعا دی۔۔۔۔
” آمین۔۔ ” عالیہ نے کہا۔۔۔
” اچھا بیٹا۔۔۔ اماں کہہ رہی لے آؤ آپ کو کافی دیر ہو گئی ہے۔۔۔ ” اس کی والدہ نے کہا تو وہ مسکرائی۔۔
” امی میں تیار ہوں چلیں چلتے ہیں۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو اس کی والدہ سمیت کچھ لڑکیاں اسے نیچے لے جانے لگی۔۔۔۔
ماہر اور عالیہ کی مہندی کا فنکشن اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔۔۔۔
ماہر اسٹیج پر بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا پر وہ ظالم آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” ایلف جلدی سے تیار ہوجا۔۔۔۔۔ “
واسم واش روم سے تیار ہوکر نکلا اور ایلف سے مخاطب ہوا لیکن جیسے ہی اس کی نظر اس پر پڑی تو اس کی آنکھیں اس پر ٹک گئی اور الفاظ منھ میں کہیں رہ گئے۔۔۔۔
وہ پہلے رنگ کے لہنگے میں اور جیولری پہنے اس قدر حسین لگ رہی تھی کوئی بھی دیکھے تو فدا ہو جائے۔۔۔۔
” میں تیار ہوں۔۔۔ چلیں۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔۔
” ہممم چلیں۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ دونوں کمرے سے نکلے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
اپنی والدہ اور کچھ لڑکیوں کے ہمراہ وہ اسٹیج کے پاس پہنچی۔۔۔ ماہر نے جیسے ہی اسے دیکھا تو اس کی نظریں اس پر ٹک سی گئی۔۔۔ وہ پلک چھپکنا بھی بھول گیا۔۔۔
ماہر کھڑا ہوا اور ہاتھ پکڑنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔ جسے پر عالیہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔
اور اسٹیج پر چڑھی اور اس کے ساتھ جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
دوسری طرف واسم اور ایلف مسکراتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔۔ جسے دیکھ کر سفینہ اور دانیال دونوں ہی جل کر رہ گئے۔۔۔۔
” ارے بچو۔۔۔ !! کافی دیر کر دی آپ نے۔۔۔ !! ” رخسار ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر مسکرا گئی اور جب وہ پاس آئے تو اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
” نانو یہ آپ کی پوتی نے نے ہی لیٹ کروا دیا۔۔۔ ” واسم نے شرارت سے کہا تو ایلف نے اسے گھورا اور فوراً بولی۔۔۔۔
” بالکل بھی نہیں نانو ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے میں تیار تھی انھوں نے ہی لیٹ کیا۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا تو واسم نے اسے گھورنے لگا۔۔۔
یہ دیکھ کر سب مسکرا گئے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
” اچھی لگ رہی ہیں۔۔۔ !! ” ماہر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو وہ ہلکا سا مسکرا گئی۔۔۔
” تھینکس۔۔۔ !! آپ بھی اچھے لگ رہے ہیں۔۔۔ !! ” اس نے بھی شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تعریف کردی۔۔۔
عالیہ کے منھ سے اپنی تعریف سن کر وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔
پھر مہندی کی رسومات شروع کی گئی۔۔۔ سب سے پہلے رخسار اور پھر باری باری کرکے سب نے کی۔۔۔
اب باری تھی واسم اور ایلف کی۔۔۔۔
واسم ماہر کی طرف بڑھا اور ایلف بڑھنے کی لگی تھی کہ سفینہ اس کا رستہ کاٹتے ہوئے اس سے آگے نکل گئی۔۔۔ جو ایلف کو بہت ہی ناگوار گزرا۔۔۔
” سفینہ۔۔۔ رکیں۔۔۔ !! ” سفینہ اس پہلے کہ وہاں پہنچتی رخسار کی آواز پر رکی۔۔۔
” جی دادو۔۔۔ ” اس نے معصوم منھ بنا کر کہا۔۔۔ اسے خود کے ساتھ آتا دیکھ کر واسم کو کافی غصہ آیا لیکن موقع کا لحاظ کر گیا۔۔۔
” آپ پیچھے ہٹیں بعد میں کر لیجئے گا رسم۔۔۔ واسم کے ساتھ ایلف کو رسم کرنے دیں۔۔۔ ” رخسار نے کہا تو وہ لب بھینج گئی۔۔۔ اور ایلف آگے بڑھ گئی۔۔۔
سفینہ نے اسے گھورا۔۔۔
” دادو میں تو بس۔۔۔ ” منھ میں ہی کہتی غصے سے پیچھے ہٹ گئی۔۔۔
دانیال کو ایلف اور واسم کو ایک ساتھ رسم کرتا دیکھ کر اسے کافی جلن ہوئی۔۔۔ وہ جتنا بھی کر لے نہیں روک پاتا اس جلن کو۔۔۔
اسی طرح مہندی کا فنکشن پورا ہوا۔۔۔ اور سب کمروں کی طرف بڑھ گئے۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
