Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 10
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 10
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
مہندی کے فنکشن کے بعد آج بارات کا کنکشن تھا۔۔۔ اور حویلی میں اسی کی تیاریاں ہو رہی تھی۔۔۔ لیکن جو ہونے والا تھا اس سے سب انجان تھے۔۔۔۔ سفینہ اپنی چال چل چکی۔۔۔ کیا ہو پائے گی یہ شادی۔۔ ؟؟
عالیہ کمرے میں بیٹھی اپنی بربادی کا ماتم منا رہی تھی۔۔۔ دروازے پر دستک سنتے ہی اپنے آنسو صاف کیے اور اٹھ کر بیٹھی۔۔۔ ” آجائیں۔۔۔۔ !! ” یہ سنتے ہی اس کی والدہ نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئی۔۔۔
” بیٹا !! آپ اٹھ جائیں اور پارلر جا کر تیار ہو جائیں۔۔۔۔ فنکشن سٹارٹ ہونے والا ہے۔۔۔ ” اس کی والدہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔
” جی امی !! ٹھیک ہے۔۔۔۔ ” اس نے جواب دیا اور با مشکل ہی چہرے پر مسکراہٹ لائی۔۔۔ ” ٹھیک ہے۔۔۔ !! میں ڈرائیور سے کہتی ہوں کہ آپ کو چھوڑ آئے پارلر۔۔۔ ” اس کی والدہ نے کہا۔۔۔
” جی امی۔۔۔ !! ” یہ کہہ کر وہ فریش ہو کر واشروم میں چلی گئی۔۔۔
اور فریش ہوکر نکلی اور پھر باہر کی طرف بڑھی۔۔۔۔
اسے جاتا دیکھ سفینہ کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ اور اس نے کسی کو فون کیا۔۔۔
” سنو میری بات !! وہ گھر سے نکل گئی ہے جیسے ہی پہنچے پکڑ لینا اور دھیان رہے کہ وہ بچ کر۔ حویلی نہ آسکے۔۔۔ ” اس نے فون بند کیا۔۔۔
” دیکھتے ہیں کیسے ہوتی ہے یہ شادی۔۔۔ !! ” اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
عالیہ ڈرائیور کے ساتھ پارلر پہنچی۔۔۔ اور گاڑی سے اتری۔۔۔
اور ڈرائیور کام کے تحت وہاں سے چلا گیا۔۔۔ عالیہ بھی ہاتھ میں کچھ سامان لیے اندر کی طرف بڑھی۔۔۔ لیکن پھر اس کے قدم رکے جب اسے اپنے چہرے پر کچھ محسوس ہوا۔۔۔
اسے لگا جیسے وہ سانس نہیں لے پائیں گی اب۔۔۔ !!
اس کے چہرے پر وہ رومال سختی سے دبایا گیا تھا۔۔۔ جس پر بخوشی کی دوا تھی۔۔۔۔
اس نے آپ کو چھڑوانے کی ہزار کوششیں کی پر ہر دفعہ ناکامی اس کا مقدر بنی۔۔۔ اور وہ آنکھیں موندے گئی۔۔۔
ان نقاب پوشوں نے اسے ایک گاڑی میں بٹھایا اور ایک گودام میں لے گئے۔۔۔ اسے وہاں چھوڑ کر وہ وہاں سے چلے گئے۔۔۔
__![]()
![]()
___
ڈرائیور کے انتظار میں سب لوگ ہلکان ہورہے تھے۔۔۔ لیکن دو گھنٹے ہوچکے تھے ۔۔۔ نہ ہی عالیہ آئی تھی اور نہ ہی ڈرائیور۔۔
سفینہ اپنے چہرے پر پریشانی ظاہر کرتے ہوئے وہاں پہنچی اور اپنی والدہ کو پکارہ۔۔۔۔
اس کے چہرے پر پریشانی دیکھتے ہوئے سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
” کیا ہوا ہے ؟؟ اتنی پریشان کیوں ہو بیٹا۔۔۔ !! ” اس کی والدہ نے کہا۔۔۔۔
” و۔۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔ ” اس نے جان بوجھ کر جھجکتے ہوئے بولا۔۔۔۔ جس پر سب لوگ اور پریشان ہوئے۔۔۔
” یہ کیا وہ وہ کر رہی ہو سیدھی طرح بتاؤ ہوا کیا ہے۔۔۔ ؟ ” اسے جھجکتا دیکھ حمید شاہ نے غصے سے کہا۔۔۔۔
” وہ چچا جان۔۔۔ !! میں نے پارلر فون کیا تھا اور وہاں سے مجھے پتہ چلا کہ عالیہ کبھی پارلر گئی ہی نہیں تھی۔۔۔۔ ” سفینہ کی یہ بات سنتے ہی سب لوگوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔۔۔
” یہ کیا کہہ رہی ہو تم سفینہ۔۔۔ !! ” اس کی بات سنتے ہی حمید شاہ تپ اٹھے۔۔۔۔
” چچا جان !! میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔ !! ” سفینہ نے معصومیت سے کہا۔۔۔ اتنی ہی دیر میں ڈرائیور بھی وہاں پہنچ چکا تھا۔۔۔
” تم نے کیا عالیہ کو پارلر نہیں اتارا تھا۔۔۔۔ ” رخسار نے اس سے سوال کیا۔۔۔
” وہ بی بی جی میں نے انھیں پارلر ہی اتارا تھا۔۔۔۔ اور پھر آپ نے کچھ کام کیے تھے تو میں وہاں چلاگیا تھا۔۔۔ ” اس نے کہا۔۔۔
” اگر تم نے عالیہ کو پارلر اتارا تھا تو وہ وہاں سے کہاں چلی گئی۔۔۔ ؟ ” رخسار نے غصے سے کہا۔۔۔۔ ” پتہ نہیں بی بی جی ” یہ کہہ کر وہ ڈرائیور وہاں سے چلا گیا۔۔۔
” دادو مجھے یاد آیا۔۔۔۔ !! کل میں نے عالیہ آپی کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ مجھے پارلر سے لے جانا اور پھر فون کاٹ دیا۔۔۔ !! ” سفینہ نے کہا۔۔۔
” تو یہ تم ہمیں پہلے نہیں بتا سکتی تھی۔۔۔ !! کیا ؟؟؟ ” رخسار اس پر برہم ہوئی تو اس نے آنکھیں موند لی۔۔۔۔ “جھے کیا پتہ تھا کہ وہ بھاگ جائیں گی۔۔۔ !! ” سفینہ نے کہا۔۔۔
” اور تم لوگ میرا منھ کیا دیکھ رہے ہو جاؤ جا کر ڈھونڈو اس لڑکی کو۔۔۔۔ !! ” رخسار نے گھر کے مردوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔ یہ سنتے ہی وہ سب وہاں سے چلے گئے۔۔۔
” اس لڑکی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔ اگر یہ شادی نہیں کرنی تھی تو پہلے بتا دیتی۔۔۔ !! ” اس کی والدہ کا رو رو کے برا حال ہورہا تھا۔۔۔
دو گھنٹے مزید گزر چکے تھے پر عالیہ کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔۔۔ سب لوگ دھونڈ رہے تھے۔۔۔ لیکن کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔
جب کچھ دیر تک نہ عالیہ کا پتہ چلا تو رخسار نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔
” عالیہ نہیں آئے گی واپس۔۔۔۔ اس لیے آج واسم کا نکاح عالیہ کی بجائے ایلف سے ہوگا۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اٹھی اور ایلف کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔ کسی میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ ان کے فیصلے کو منع کرسکے۔۔۔۔
__![]()
![]()
_
رخسار ایلف کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔ اور اس کے پاس آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اور اسے سارا ماجرا بتایا۔۔۔
” لیکن اس سب میں میں کیا کرسکتی ہوں دادو ۔۔۔ !! ” ساری بات سننے کے بعد ایلف نے کہا۔۔۔
” بیٹا !! اب اس حویلی کی عزت تمھیں ہی رکھنی ہوگی۔۔۔ عالیہ یہ حویلی چھوڑ کر چلی گئی ہے۔۔۔ اب اگر تم نے بھی نہ کیا یہ نکاح تو اس حویلی کی عزت کو کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔۔۔۔”
رخسار بیگم اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔۔ لیکن وہ ساکت رہی۔۔۔۔
” ایلف !! میری بچی کچھ تو جواب دو۔۔ تمھیں یہ کرنا ہی ہوگا۔۔۔ ورنہ تمھاری بی جان مر جائیں گی۔۔۔۔ ” ایلف کو یوں ساکت دیکھ وہ پھر سے بولی تو وہ ہوش میں واپس آئی۔۔۔۔
” بی جان یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ میں اس شخص سے کبھی بھی نکاح نہیں کروں گی۔۔۔ آپ جانتی ہیں کہ وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا تھا اور میں اسی سے نکاح کر لوں۔۔۔ “
ایلف آنکھیں بھینجتی ہوئی ہوئی بولی کیونکہ کہ وہ واسم شاہ سے کبھی بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ منھ بنا کر کھڑی تھی۔۔۔ پر بی جان بھی اسے منا کر ہی رہیں گی۔۔۔
___![]()
![]()
____
