Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 17
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 17
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
ماہر گھر واپس آیا تو اس کے گھر والے واپس آ چکے تھے۔۔۔ وہ لوگ اپنے فارم ہاؤس گئے ہوئے تھے چھٹیاں گزارنے کے لیے۔۔۔
لیکن آج ہی وہ لوگ واپس آئے تھے۔۔۔ اس بات کا ماہر کو کوئی بھی علم نہ تھا۔۔ اسے یہی تھا کہ وہ لوگ آج جمعہ کو نہیں بلکہ کل ہفتے کو آئے گے۔۔
ان کی عدم موجودگی میں عالیہ وہاں رہ رہی تھی اس بات کا علم نہیں تھا انھیں۔۔۔
ماہر گاڑی پارک کرکے کے لاؤنچ میں پہنچا تو وہاں اپنی آپی حور کو دیکھ کر دنک رہ گیا۔۔
ماہر کی فیملی زیادہ لمبی چوڑی نہیں تھی۔۔ اس کی ایک بہن تھی اور چچی اور ایک اس سے چھوٹا بھائی زاویار تھا۔۔۔ اس کے والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔۔۔
” ارے حور۔۔۔ آپی۔۔ !! آپ۔۔ ! ” اسے دیکھتے ہوئے اس نے کہا تو حور نے اس کی طرف نظریں دوڑائیں اور دیکھا تو اس کے چہرے پریشانی صاف ظاہر ہورہی تھی۔۔
” ہاں میں۔۔ !! کیوں نہیں ہونا چاہئیے تھا۔۔ !! ” اس کے چہرے کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔
” ارے نہیں۔۔۔ !! ایسی بات نہیں ہے۔۔ آپ لوگ تو کل آنے والے تھے نہ تو پھر آج کیسے۔۔۔۔ ؟؟؟ !! ” اس نے چہرے پر مسکراہٹ سجائی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔
” ہاں وہ زاویار۔ !! ضد کر رہا تھا نا۔۔۔ اس لیے ہی بس آج ہی آگئے !! ” حور کے کہنے پر وہ پھر مسکرایا۔۔۔
” ایک تو یہ زاویار۔۔۔ اسے جانے کی بڑی جلدی تھی۔۔۔ اور اب آنے کی بھی بہت جلدی تھی اسے۔۔۔ سمجھ نہیں آتا یہ لڑکا کیا کرے گا۔۔۔ ؟؟ ” ماہر نے کہا۔۔
” ہاں بالکل صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔ !! بالکل بھی نہیں پتہ چلتا ہے اس کے مزاج کا۔۔۔ !! ” حور نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا۔۔۔
” ویسے کیسا رہا آپ کا وقت۔۔۔ !! ” ماہر نے مسکرا کر پوچھا تو حور بھی مسکرا گئی۔۔۔
” بہت ہی اچھا رہا وقت۔۔ کافی مزہ ہمیں۔۔۔ پر تم نے سب مس کردیا تمھیں بھی ہمارے ساتھ جانا چاہئیے تھا۔۔۔ !! ” حور نے کہا۔۔۔
” آپی۔۔۔ آپ کو پتہ ہے کہ میری ایمپوڑٹینٹ میٹینگز ہوتی ہیں۔۔ اسی وجہ سے میں نہیں گیا۔۔۔ ” ماہر نے کہا۔۔۔
” جانتی ہوں کہ تمھارا کام ہوتا ہے۔۔۔ لیکن ایسی بھی کیا مصروفیت ہے آپ کی جناب جو گھر والوں کے ساتھ وقت بھی نہیں گزار سکتے۔۔۔ !! “
حور نے منھ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔
” بس کچھ مصروفیات تھی۔۔۔ !! ” اگر وہ ان کے ساتھ چلا جاتا تو عالیہ سے کیسے ملتا۔۔ ؟؟ اس کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔
جو حور کی نظروں سے نہ بچ سکی۔۔۔
” ہمم !! بڑی مسکراہٹیں ہیں چہروں پر ویسے جب لڑکے جب یوں مسکرانے لگے نہ تو اس کا تو کچھ اور ہی مطلب ہوتا ہے۔۔۔ !! ” حور نے شرارت سے کہا۔۔۔۔۔
” کیا کہہ رہی ہیں آپی آپ۔۔۔ !! ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ ! ” ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔ تو بھی مسکرا گئی۔۔۔
” تو بنا لیں ایسی بات کرلیں شادی۔۔۔ !! ” اپنے چھوٹے بھائی زاویار کی آواز پر اس نے سامنے دیکھا تو وہ کھڑا تھا۔۔
” کیا کہہ رہے ہو نو آئم نوٹ انٹرسٹڈ ان شادی۔۔۔ ” ماہر نے کہا تو زاویار مسکرانے لگا۔۔۔
” بھائی۔۔۔ !! آپ کو بیوی نہیں چاہئیے تو کیا ہوا مجھے تو ایک بھابھی چاہئیے نہ۔۔۔ پلیز مان جائے نہ۔۔۔ !! ” زاویار نے شرارت سے کہا۔۔۔
” ایک کام کیوں نہیں کرتے میری جگہ تم شادی کیوں نہیں کرلیتے۔۔۔ !! ہمم بولو۔۔ ” ماہر نے کہا تو اس کی بولتی بند ہو گئی۔۔۔۔
” نہیں نہیں اس کی ابھی شادی نہیں کرنی ہے۔۔۔ پہلے کچھ اسے کرنے تو دو پھر ہی کچھ شادی کے بارے میں سوچا جائے گا۔۔۔ !! ” حور کے کہنے پر زاویار کی چہرے پر مسکراہٹ چھائی۔۔۔
” ایگزیکٹلی میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ اسے آفس جوائن کرنا چاہئیے میرے ساتھ کام کرنا چاہئیے۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا تو اس کا چہرہ بن گیا۔۔۔
” کیوں بھئی ۔۔۔ !! ابھی میری سٹڈی چل رہی ہے۔۔۔ !! ” زاویار نے اپنا موقف پیش کیا تو ماہر نے اسے بھی رد کردیا۔۔۔
” لاسٹ سمسٹر چل رہا ہے۔۔۔ پیپر ہونے والے ہیں یہ بھی تمھارا بہانہ ختم ہو جائے گا۔۔۔ ویسے چچی کہاں ہیں۔۔۔ ؟؟ ” ماہر نے زاویار سے کہا اور پھر حور سے بات کی۔۔۔
” چچی نماز پڑھ رہی ہیں۔۔۔ !! ” حور نے کہا تو وہ مسکرا گیا۔۔۔
اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے بھائی کو ایک ہی کام آتا ہے لڑکیوں کو پیار کے جھانسے میں پھنسانا اور پھر ان کو چھوڑ دینا۔۔۔
حور ان دونوں سے بڑی تھی۔۔۔ اس کی منگنی ہوچکی تھی لیکن شادی نہیں ہوئی تھی۔۔ اس کا فیونسی اس وقت لندن میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
ابھی چھ ماہ پڑے ہوئے تھے اس کی شادی میں۔۔ ماہر کے لیے کئی رشتے دیکھے تھے انھوں نے لیکن سب کے لیے اس نے انکار کردیا تھا۔۔۔
اس کی چچی اپنی بہن کی بیٹی عریشہ سے اس کی شادی کروانا چاہتی تھی لیکن نہ تو اس رشتے کے لیے ماہر راضی تھا اور نہ ہی عریشہ۔۔۔
اس کی چچی حانم اس بات سے مطمئن تھی کہ وہ کسی بھی رشتے کے لیے فل وقت ہاں نہیں کرے گا۔۔ اور ایک نہ ایک دن وہ اسے عریشہ کے لیے منا ہی لیں گی۔۔۔
لیکن کب کیا ہو جائے اس رب کی ذات کے علاؤہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کچھ دن بعد۔۔۔۔
ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔۔ عالیہ اب کافی بہتر ہو چکی تھی۔۔۔ اس ایک ہفتے میں تین بار ایلف اور واسم کی لڑائی ہوئی تھی۔۔۔
جس بات سے کوئی اور تو گھر میں نہیں بلکہ سفینہ بہت خوش تھی۔۔۔ دانیال کو بھی ایک سکون سا تھا۔۔۔
صبح کے وقت نئی حاشیوں کو حوش آمد کرنے کے لیے سب ناشتے کے میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔
سب لوگ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔۔
ایلف اور واسم کو ایک ساتھ دیکھ کر سفینہ جل بھن جاتی تھی۔۔۔
” واسم۔۔۔ !! آپ اور ایلف کہیں گھومنے کیوں نہیں جاتے۔۔۔۔ کافی دیر ہوچکی ہے آپ دونوں کی شادی کو۔۔ ” ناشتہ کرتے ہوئے رخسار نے کہا تو ایلف کا نوالہ حلق میں ہی پھنس گیا۔۔ اور وہ کھانسنے لگی۔۔۔
واسم نے فورا پانی کا گلاس بھرا اور اسے پلایا۔۔۔
” آر یو آکے۔۔ !! ” واسم اس کے لیے فکر مند ہوا۔۔۔ ” یس آئم۔آکے۔۔۔ ‘ پانی پی کر ایلف نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
واسم کو اس کی کئیر کرتے دیکھ سفینہ کے تن بدن میں آگ لگی۔۔۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان کے درمیان کوئی بھی تعلق پیدا ہو۔۔
دانیال کو بھی یہ بات کچھ حاصل نہ بھائی۔۔۔
اس کے بعد ناشتے کی میز پر کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی۔۔۔ جسے دیکھتے ہوئے رخسار بولی۔۔۔
” واسم ہم نے کچھ کہا تھا۔۔۔ !! ” رخسار نے اپنی بات کی یاد دہانی کروائی۔۔۔
” نانو۔۔ ابھی نہیں۔۔۔ بہت کام ہے آفس میں۔۔۔ !! ” اس نے بہانہ بنانے کی کوشش کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ایلف ابھی اس سب کے لیے مینٹیلی طور پر تیار نہیں ہے۔۔۔
وہ چاہتا تھا یہ بات وہ خود کہے۔۔
” کوئی بہانہ نہیں چلے گا آپ کا ہم نے کہہ دیا تو کہہ دیا جو بھی کام ہوں گا۔۔ وہ دانیال دیکھ لے گا۔۔۔ اور ایک ہی دن کی تو بات ہے۔۔۔ کیوں دانیال۔۔۔۔ !! ” رخسار واسم سے کہتے ہوئے دانیال سے مخاطب ہوئی۔۔۔
وہ لب بھینج گیا۔۔۔
” ج۔۔۔جی نانو۔۔ !! ” اس نے بامشکل ہی کہا۔۔۔
” ہاں واسم۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ اماں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔ آپ کو ساتھ وقت گزارنا چاہئیے۔۔۔ ” حمید شاہ کے کہنے پر وہ لاجواب ہوگیا۔۔۔۔
اور ایک نظر ایلف کی طرف ڈالی۔۔ جو چپ چاپ ناشتہ کررہی تھی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ایلف کمرے میں آئی۔۔۔ اور ڈریسنگ سے ایک سوٹ نکال کر واش روم میں گھس گئی۔۔۔
واسم باہر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں وہ واش روم سے باہر نکلی۔۔۔ پنک کلر سوٹ میں وہ کسی آسمان سے اتری ہوئی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
واسم نے اسے دیکھتے ہی کچھ لمحوں کے لیے پلک بھی نہ چھپکی۔۔
لیکن پھر حال میں آیا۔۔۔ ” ایلف۔۔۔ !! ” جو شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔ اس کی آواز سن کر اس کی طرف مڑی۔۔۔
” جی۔۔ کوئی کام ہے آپ کو۔۔۔ !! ” اس کی طرف مڑتے ہی اس نے کہا۔۔۔
” اگر آپ میرے ساتھ نہیں جانا چاہتی تو کوئی زبردستی نہیں ہے میں نانو سے بات کرلوں گا۔۔۔۔ ” اس نے کہا تو وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔
” جانا تو میں نہیں چاہتی ہوں آپ کے ساتھ لیکن پھر بھی جاؤ گی۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ رکی۔۔۔
” کیوں۔۔۔ ؟؟! “
” کیونکہ اس حویلی میں میرا دم گھٹنے لگا ہے اب۔۔۔ !! تو اس لیے کھلی فضا میں سانس لینا چاہتی ہوں میں۔۔۔ !! ” اس کا جواب سن کر واسم بولا۔۔۔
” ٹھیک ہے۔۔ میں گاڑی میں انتظار کررہا ہوں آجائیں آپ۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ ک۔رے سے نکل گیا۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
