Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 7

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

سب لوگ صحن میں بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ ایلف سفینہ عالیہ دانیال واسم وہاں موجود نہیں تھے۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ واسم اور عالیہ کا رشتہ پکا کرنے کے لیے وہاں بیٹھے تھے۔۔۔ اور کچھ ہی دنوں میں نکاح بھی تھا۔۔

جب وہ لوگ اٹھے تو عالیہ کی والدہ نے یہ خوشخبری سفینہ اور عالیہ کو سنائی۔۔ جسے سنتے ہی دونوں بہنیں سناٹے میں آگئی۔۔۔۔

” امی !! یہ کیا کہہ رہی آپ۔۔۔ !! واسم میرے بھائی کی طرح ہیں۔۔ میں ان کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔ اور نہ ہی میں کبھی ایسا سوچ سکتی ہوں۔۔۔ “

عالیہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ؟ کیونکہ وہ تو زاویار کو پسند کرتی تھی۔۔۔۔ پھر وہ واسم کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتی تھی۔۔۔۔ سفینہ وہی خاموش کھڑی یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

” عالیہ !! آپ کی دادی جان نے یہی فیصلہ دیا ہے اور یہی ہوگا اور اگر آپ نے کبھی واسم کے بارے میں ایسا نہیں سوچا تو پھر اب سوچ لیجئے اس میں کونسی بڑی بات ہے۔۔۔ “

اس کی والدہ نے صاف صاف کہا۔۔۔ اب سفینہ بھی ہوش میں واپس آچکی تھی۔۔۔ اور وہ ایسا کبھی بھی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔

” امی !! آپ کیوں آپی کو انسسٹ کر رہی ہیں کہ وہ واسم سے ہی شادی کریں۔۔۔ اگر وہ واسم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تو رہنے دیں کیوں زبردستی کررہی ہیں۔۔۔ “

سفینہ نے نہایت ہی ادب سے اپنی ماں کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔۔۔

” یہ کیا کہہ رہی ہو تم !! پاگل ہوگئی ہو۔۔۔ اب جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا ہے۔۔۔ اب تو عالیہ کی شادی واسم سے ہی ہو گی۔۔ آگلے سوموار بارات ہے۔۔۔ ” وہ دو ٹوک الفاظ میں کہتی ہوئی وہاں سے اٹھی اور کمرے سے نکل گئی۔۔۔

عالیہ یہ نہیں چاہتی تھی۔۔۔ صبح اس کی زندگی صرف زاویار سے جڑی تھی۔۔۔ پر اب یہ سب۔۔۔ !! اسے آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہہ گئے۔۔۔۔

___💕💕💕___

ایلف چائے کا مگ لے کر ٹیرس پر کھڑی ہو کر موسم سے لطف اندوز ہورہی تھی۔۔۔ موسم کافی اچھا تھا۔۔۔ آسمان بادلوں سے ڈھکا پڑا تھا۔۔۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔۔۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ بارش ہونے لگی ہے۔۔۔۔

” ایلف !! ” وہ یوں ہی کھڑی تھی کہ۔۔۔ دانیال کی بھاری آواز پر وہ اٹھی اور پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ دانیال کے چہرے پر خوشی کے تاثرات چھائے ہوئے تھے۔۔۔۔

” کیا ہوا بہت خوش ہو۔۔۔ ایسا بھی کیا ہو گیا۔۔۔ ” اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ایلف نے اس سے سوال کیا۔۔۔

” بات ہی ایسی ہے۔۔۔ آپ بھی سنے گی تو خوش ہو جائے گی۔۔۔ بات یہ ہے کہ واسم اور عالیہ کا رشتہ پکا کردیا گیا ہے۔۔۔ ” دانیال خوش تھا کیونکہ ایک واحد واسم ہی تھا جو ایلف اور اس کے درمیان آرہا تھا۔۔۔

یہ سنتے ہی ایلف کو جھٹکا تو لگا لیکن پھر مسکرا گئی اسے دکھ تھا کہ اس کی محبت کی واسم کی نظروں میں کوئی قدر نہیں تھی۔۔ وہ یہ دکھانے کے لیے مسکرا گئی۔۔کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو بھی ایسا لگے کہ وہ اس شادی سے خوش۔نہیں ہوئی ہے۔۔۔

” کیا ہوا تمھیں خوشی نہیں ہوئی واسم کی شادی کا سن کر۔۔۔ ” دانیال نے اس کی کیفیت کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا۔۔۔

” نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔ مجھے بلا خوشی کیوں نہیں ہوگی۔۔ مجھے خوشی ہے۔۔۔۔ ” اس نے اپنے چہرے پر خوشی کے تاثرات ظاہر کیے۔۔۔ پر دانیال بھی اس کی رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔

” اب جو بھی ہو جائے ایلف شاہ صرف دانیال شاہ کی ہے اور ہمیشہ اسی کی رہے گی۔۔۔ چاہے پھر مجھے پوری دنیا سے ہی کیوں نہ لڑنا پڑے۔۔۔ ” دانیال نے دل میں سوچا اور پھر مسکرا گیا۔۔۔

__💕💕💕___

عالیہ آدھے گھنٹے سے کمرے کے چکر لگا رہی تھی۔۔۔۔۔ اور سفینہ اسے کب سے یوں ہی دیکھتی جارہی تھی۔۔۔

سفینہ کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر وہ واسم سے شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی ہے۔۔۔وہ خود واسم کو پسند کرتی ہے۔۔ لیکن عالیہ کیوں منع کررہی ہے۔۔۔۔

” عالیہ آپی آپ کیوں واسم سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہیں۔۔۔ اچھا ہے گڈ لوکنگ ہے لڑکیاں مرتی ہیں اس پر۔۔۔ ” سفینہ نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔ وہ اسے کبھی بھی اس طرح نہیں کہتی اگر اسے یہ نہ جاننا ہوتا کہ عالیہ واسم سے کیوں شادی نہیں کرنا چاہتی ہے۔۔۔

” بس ہے ایک وجہ۔۔۔۔ “

عالیہ نے جلد بازی میں اس سے بولا۔۔۔ وہ کیا بتاتی اسے کہ وہ کسی اور لڑکے کو پسند کرتی ہے۔۔۔۔

” کیا وجہ ہے مجھے بتاؤ تو سہی دیکھو اگر بتاؤں گی نہیں تو میں کیسے پتا کر پاؤں گی اس مسئلے کا حل کیا ہے۔۔۔ ” سفینہ نے کہا۔۔۔

” سفینہ کیا تم مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ سکتی ہو۔۔۔ سامنے دروازہ نظر آرہا ہے نہ نکل جاؤ کمرے سے۔۔۔ ” عالیہ کو کافی غصہ تھا۔۔۔ اس لیے وہ سفینہ پر دھاڑی۔۔ اور سامنے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے جانے کا کہا۔۔۔

سفینہ منھ بنا کر کمرے سے نکل گئی تو عالیہ نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔

” جو بھی ہو جائے میں بھی پتہ کرکے ہی رہوں گی کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے جو عالیہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔جھے معلوم کرنا ہوگا شائید وہ وجہ ہی میرے کام۔آ جائے۔۔ اس شادی کو رکوانے کے لیے۔۔۔ ” سفینہ نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔۔

___💕💕💕___

” کیا !! ؟ امی آپ کو پتہ بھی ہے کہ آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔ ” جب نور بیگم نے واسم کو اس کے اور عالیہ کے رشتہ پکا ہونے کے بارے میں بتایا تو اسے کچھ سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا کرے۔۔۔

” ہاں واسم مجھے معلوم ہے کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔ اور تمھیں بھی اس پر یقین کرنا ہوگا۔۔۔ ” نور بیگم نے کہا۔۔۔

” امی آپ کہہ رہی ہیں کہ میں اس لڑکی سے شادی کرلوں جسے آج تک میں نے اپنی بہن مانا ہے۔۔۔ اور آپ جانتی ہیں کہ میں ایلف۔۔۔ !!” اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ نور نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروایا۔۔۔

” میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔۔۔ تمھیں جو کرنا ہے کرو۔۔۔ ” یہ کہہ کر نور بیگم کمرے سے نکل گئی۔۔ اور واسم نے اپنا سر ہاتھوں میں پکڑ لیا۔۔۔۔

___💕💕💕____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *