Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 6
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 6
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
آج بارات کا فنکشن تھا۔۔۔ گھر میں شادی کی تیاریاں زورشور سے چل رہی تھی۔۔۔ ایلف کی بیوٹیشن بھی آچکی تھی۔۔۔ اور وہ ایلف کو تیار کر رہی تھی۔۔۔ واسم صبح سے ہی سب کو کچھ پریشان دکھ سا رہا تھا۔۔۔
سب کو اس کے چہرے پر پریشانی دکھی تھی۔۔ لیکن جس نے بھی پوچھا تھا۔۔۔ اس کو اس نے یہی کہا تھا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔
وہ کمرے میں بالکل اکیلا کھڑا تھا۔۔۔ چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔ ” کیسے بتاؤں ایلف کو کہ مجھے امریکہ جانا سٹڈیز کے لیے۔۔۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔۔ وہ ضرور میری بات کو سمجھے گی۔۔۔ لیکن گھر والے نہیں سمجھے گے۔۔۔ اگر یہ شادی ہوگئی۔۔۔ تو شائید میں کبھی بھی نہ جا پاؤں۔۔۔ لیکن یہ میری مجبوری ہے۔۔۔ میں جلد ہی واپس آجاؤں گا۔۔۔ ہم دوبارہ سے شادی کرلے گے۔۔۔ ” واسم خود سے ہی باتیں کرتا بوکھلا سا گیا تھا۔۔۔ اس نے فوراً بیگ پیک کیا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔ ایلف کو محبت کی راہ میں اکیلا چھوڑ کر۔۔۔۔
وہ کمرے میں سجی سنوری بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ بہت خوش تھی۔۔۔ اس نے بچپن سے ہی واسم سے محبت کی تھی۔۔۔ اس وقت سے جب وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ محبت لفظ کا مطلب کیا ہوتا ہے۔۔۔۔
وہ اس کا انتظار کر رہی تھی جو اسے چھوڑ کر جا چکا تھا۔۔۔ راہ محبت میں اکیلا چھوڑ کر۔۔۔ پر وہ اس بات سے لا علم تھی۔۔۔۔
” مما !!!” دانیال بھاگتا ہوا نور بیگم کے پاس آیا۔۔۔ جہاں باقی گھر والے بھی موجود تھے۔۔۔۔ ” کیا ہوا دانیال ؟؟ اتنے گھبرائے ہوئے کیوں ہو بیٹا۔۔۔ !!” نور بیگم کے بولنے سے پہلے ہی حمید شاہ نے کہا۔۔۔۔
” ماموں !! وہ !! واسم بھائی۔۔۔!! ” دانیال نے اتنا کی کہا تھا کہ سب نے اسے گھورا۔۔۔ ” کیا ہوا واسم کو۔۔۔ ” نور بیگم نے کہا۔۔۔
” واسم کو کچھ بھی نہیں ہوا۔۔۔ لیکن جو ہمارے ساتھ ہوا ہے وہ بہت ہی برا ہوا ہے۔۔۔ ” دانیال کے کہنے پر سب کا دل گھبرا سا گیا۔۔۔
” کیا کہہ رہے ہو ؟؟ کیا ہوا ہے ہمارے ساتھ۔۔۔ !! اور واسم کہا ہے۔۔۔ ؟ ” نور بیگم کو دانیال کی باتوں کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔ ” بھائی گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔۔۔ اس شادی کو چھوڑ کر۔۔۔ ” یہ تو سب جانتے تھے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔ پھر واسم نے ایسا کیوں کیا ؟؟ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔۔۔
” دانیال !! یہ کیا کہہ رہیں آپ ہوش میں تو ہیں نہ آپ۔۔۔ !! واسم کہاں گیا ہے۔۔ ؟؟ اور کیوں جائے گا۔۔۔ !!” جب کسی نے کچھ بھی نہیں کہا تو آخرکار رخسار ہی بولی۔۔۔
” دادو !! میں سچ کہہ رہا ہوں بھائی جا چکے ہیں۔۔ اپنا سامان لے کر۔۔۔ ” دانیال نے کہا۔۔۔ جس پر سب کو یقین ہوگیا کہ واسم جا چکا ہے۔۔۔ پھر یہ خبر ایلف تک پہنچی تو کافی دن تک وہ صدمے میں رہی پر کب تک رہتی۔۔ زندگی تو گزارنی تھی نا اس نے۔۔۔
__ حال ___
ایلف تکیے میں منھ دیے رو رہی تھی۔۔۔ پر آخر کب تک روتی۔۔ آنسو بھی ختم ہو چکے تھے۔۔۔۔
آج تین سال بعد وہ واقع اسے یاد آیا تھا۔۔۔ لیکن پھر ہمت کرکے واش روم گئی۔فریش ہو کر نکلی۔۔۔ تو کافی بہتر لگ رہی تھی۔۔۔ لینچ کا ٹائم۔تھا۔۔۔
وہ نیچے گئی اور ہمت کرکے سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔ اور لینچ کرنے کے بعد باہر گاڑدن میں آکر بیٹھ گئی اور کھلی فضا میں سانس لینے لگی۔۔۔
اتنی ہی دیر میں اسے اپنے اوپر کسی کی گہری نظریں محسوس ہوئی۔۔۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں واسم کھڑا تھا جس کی نظریں اس پر ہی تھی۔۔۔
” آ۔۔۔آپ۔۔۔ ی۔۔یہاں۔۔۔ ” اسے دیکھ وہ تھوڑا گھبرا سا گئی اور فوراً اٹھ کر کھڑی ہوئی ٹوٹے ہوئے الفاظ اس سے کہے۔۔۔ !!
” ہاں میں۔۔ کیوں میں نہیں آسکتا کیا یہاں۔ پر۔۔۔ !! ” واسم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو کافی گھبرا گئی تھی۔۔۔ اسے دیکھ کر۔۔۔
” نہیں !! آسکتے ہیں۔۔۔ کیوں نہیں آسکتے۔۔۔ آپ کا گھر ہے ۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے ایلف وہاں سے مکھی کی سپیڈ سے بھی زیادہ رفتار سے بھی زیادہ جلدی نکلی۔۔۔۔ واسم کو اس کی اس حرکت پر ہنسی آئی۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ ایلف آج بھی اس سے محبت کرتی ہے۔۔۔۔
” ایلف شاہ !! کتنا دور بھاگا کی مجھ سے ایک نہ ایک دن تو میں پھر تمھارے دل میں اپنے لیے محبت جگا ہی لوں گا۔۔۔ یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔ ” واسم نے مسکرا کر کہا۔۔۔
____![]()
![]()
____
عالیہ یونی کی کینٹین پر بیٹھی تھی۔۔۔ کسی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ پر وہ سنگدل تھا جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔ لیکن پھر عالیہ کی نظر اس پر گئی جو سامنے سے آرہا تھا۔۔۔
” کیا یار زاویار !! تم نے اتنی دیر کردی ہے۔۔۔ میں آدھے گھنٹے سے ویٹ کررہی ہوں تمھارا۔۔۔ ” عالیہ نے سامنے بیٹھے شخص سے کہا۔۔۔
” سیوٹ ہارٹ۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ کچھ کام تھا مجھے اس ی وجہ سے تھوڑا سا لیٹ ہوگیا۔۔۔ آئیندہ نہیں ہوں گا۔۔۔۔ پرومس۔۔۔ ” اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔
” اچھا ٹھیک ہے اگر لیٹ ہو ہی گئے تھے تو ایٹ لیسٹ مجھے مسیج ہی کردیتے تا کہ میں پریشان نہیں ہوتی۔۔۔ ” عالیہ نے پھر سے منھ بنایا جس پر وہ مسکرانے لگا۔۔۔۔
” ہنس لو۔۔۔ ” عالیہ نے اسے مسکراتا دیکھ غصے سے کہا۔۔۔۔
عالیہ اور زاویار خان ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔ پر شائید جو عالیہ کی زندگی میں اب ہونے والا تھا وہ دل دھکا دینے والا تھا۔۔۔۔
___![]()
![]()
_____
