Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 25
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 25
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
آج اس کی شادی کے بعد پہلی صبح تھی۔۔۔ وہ اٹھی اور تیار ہو کر ماہر کے ساتھ سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے نیچے بڑھی تھی۔۔۔
رسم کے مطابق ناشتہ اس کے گھر سے آنا تھا۔۔۔ جو کہ ایلف اور واسم لائے ہوئے تھے۔۔۔
زاویار بھی سب کے ساتھ وہی بیٹھا ہوا اپنے بھائی اور بھابھی کا انتظار کررہا تھا۔۔۔
حور بھی وہی موجود تھی اور اس کی چچی بھی۔۔۔۔
ماہر زاویار سے ناراض تھا کہ اس کے لیے اپنے بھائی کی شادی سے زیادہ ایمپوڑٹینٹ اس کی ٹریپ تھی۔۔۔ جس کی وجہ سے اس نے یہ شادی مس کی۔۔
لیکن شائید یہ شادی مس کرنا ہی اس کے لیے بہتر تھا۔۔۔۔
پر حیر اب ماہر اور عالیہ کی شادی ہوچکی تھی۔۔۔۔
زاویار ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھا ہی تھا کہ اس کی نظر سامنے سے آتے ہوئے ماہر پر پڑی جو کہ مسکرا رہا تھا۔۔۔
اور پھر اس نے نظر گمائی تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔ اس کے حواس باختہ ہوئے اور اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا جب اس نے ماہر کے ساتھ عالیہ کو دیکھا جو کہ مسکرا رہی تھی۔۔۔
حور کی نظر اچانک اس پر پڑی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا دیکھ کر اس کو غور سے دیکھا جو پلک بھی نہیں چھپک رہا تھا۔۔۔
حور نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔ تو وہ ہوش میں آیا۔۔۔
” کیا۔۔ ؟؟ ” حور نے ہاتھ کے اشارے کے ساتھ اس سے پوچھا تو بامشکل ہی مسکرا پایا تھا۔۔۔
” ک۔۔کچھ نہیں۔۔۔ !! ” زاویار کے کہنے پر وہ ایلف سے بات کرنے میں مشغول ہوگئی۔۔۔
” آپی یہ لڑکی کون ہے۔۔۔ ؟؟ ” وہ جانتا تھا کہ اگر عالیہ ماہر کے ساتھ اتنا مسکراتے ہوئے آرہی تو ظاہر سی بات ہے کہ وہی اس کی بیوی ہے۔۔۔
” عالیہ۔۔۔ !! تمھاری بھابھی ہے۔۔۔ !! ” حور نے کہا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔۔۔۔
عالیہ اور ماہر بھی اسی وقت وہاں داخل ہوئے۔۔۔ اور حور کے منھ سے بھابھی سن کر اس ۔ے چہرہ جیسے ہی اس کی طرف کیا تو وہاں زاویار کو دیکھتے ہی اس کے چہرے سے ساری مسکراہٹیں اڑ گئی۔۔۔
ماہر نے عالیہ کی طرف دیکھا جو زاویار کی طرف بڑی ناگواری سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
” عالیہ۔۔۔۔ !! یہ میرا بھائی ہے زاویار۔۔۔ ” مسکراتے ہوئے اس نے زاویار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو زاویار کب بھینج گیا۔۔۔
” اور یہ زاویار یہ عالیہ ہیں۔۔۔ تمھاری بھابھی۔۔۔ ” ماہر نے اب کی بار عالیہ کا تعارف کروایا۔۔۔۔
اور عالیہ کے لیے کرسی نکالی۔۔۔ واسم اور ایلف ابھی وہی موجود تھے۔۔۔
جب عالیہ بیٹھ گئی تو ماہر بھی اس کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
لیکن اسے عالیہ کی حالت کچھ ٹھیک محسوس نہ ہوئی۔۔۔ جو پہلے اتنا مسکرا رہی تھی اب وہ یوں چپ چاپ بیٹھی ہوئی ہے۔۔۔
” عالیہ۔۔۔ آر ہو آکے۔۔ !! ” ماہر نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر بولا۔۔۔
” یس۔۔۔ ” اس نے بھی بامشکل ڈرانے کی کوشش کی اور پھر سب ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئے۔۔۔
زاویار بہت ہی ناگواری سے عالیہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ وہ چاہتا تو سب کو سب کچھ سچ بتا سکتا تھا لیکن ابھی کے لیے وہ خاموش ہو گیا۔۔۔
” یہ لڑکی عالیہ۔۔ !! یہ یہاں۔۔ ؟ بھائی کی بیوی۔۔۔ ؟؟ کہیں یہ مجھ سے بدلہ لینے تو نہیں آئی۔۔۔۔ نہیں نہیں نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے کسی میں بھی اتنی جرات نہیں ہے کہ مجھ سے بدلہ لے سکے۔۔۔ یقیناً بھائی کو اس کے اور میرے بارے میں پتہ ہوگا تبھی تو بھائی اتنا پیار جتا رہے ہیں۔۔۔ اور آپی کو بھی یہی لڑکی ملی تھی بھائی کے لیے۔۔۔ بھائی کے لیے پوری دنیا کی لڑکیاں مر گئی تھی کیا……؟؟؟ “
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا اس کے چہرے سے غصہ صاف جھلک رہا تھا لیکن سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ تو اس کے چہرے کی طرف کسی بھی کا خاص دھیان نہ گیا۔۔۔۔
عالیہ بھی ٹھیک سے ناشتہ نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔ وہ اس بات کو اپنا ہی نہیں پارہی تھی کہ کیا زاویار واقع ماہر کا بھائی ہے۔۔۔ ایک بھائی اتنا اچھا اور ایک اتنا گھٹیا۔۔۔۔ !!
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ایلف اور واسم حویلی واپس پہنچے تھے۔۔۔ انھیں ساتھ دیکھ کر دانیال کی برداشت ختم ہو چکی تھی۔۔۔
کب تک وہ اپنا غصہ اپنے کمرے کی چیزوں پر نکالتا۔۔۔
اس نے ایلف سے محبت کی تھی۔۔۔ لیکن اب وہ کسی اور کی ہو چکی تھی۔۔۔ اس نے خود کو یہ بات سمجھانے کی لاکھ کوشش کی تھی لیکن شائید اب وہ ان دونوں کو ساتھ کر برداشت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔
وہ ان دونوں کو ساتھ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
اسی دوران اسے وہ آفر یاد آئی جو سفینہ نے اس سے کی تھی۔۔۔ اسے ہی سوچتے ہوئے وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
کمرے کے دروازے پر بغیر کھٹکٹائے وہ کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ سفینہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ کسی کے بھاری جوتوں اور کمرے میں کسی دوسرے کی آہٹ پاتے ہی بیڈ پر سے اچھل کر بیٹھی تھی۔۔۔۔
” آپ۔۔۔ !! آپ یہاں کیا کررہے ہیں۔۔۔ ؟؟ آپ کو کسی نے بتایا نہیں ہے کہ کسی کے کمرے میں بغیر اجازت لیے نہیں آتے ہیں۔۔۔ !!! “
سفینہ نے اسے تمیز سکھائی لیکن وہ اس وقت بہت ہی زیادہ رہا ہوا تھا کسی صورت اس کی بات نہیں سننا چاہتا تھا۔۔۔
” بکواس مت کرو۔۔۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو سفینہ کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جس دن وہ اس کی آفر کو قبول کرلے گا۔۔۔
” اور وہ بات کیا ہے۔۔۔ ؟؟ ” سفینہ نے کہا۔۔۔
” تمھارے مطلب کی ہی ہے۔۔۔ !! ” یہ سنتے ہی سفینہ کے دل میں لڈو پھوٹے اب جو اس نے سوچا تھا وہ پورا ہونے جارہا تھا۔۔۔
” مجھے تمھاری آفر قبول ہے۔۔۔ !! ” دانیال نے کہا تو سفینہ کو اپنے ہی کانوں سے سنی بات یقین نہیں آیا تھا۔۔۔
” کیا کہا آپ نے۔۔۔ ؟؟ مجھے سہی سے سنائی نہیں دیا۔۔۔ !! ” سفینہ نے کہا تو دانیال نے مڑتے ہوئے اسے گھورا تھا۔۔۔
” میں اپنی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں۔۔۔ !! ” دانیال نے کہا تو اس نے منھ بسورا کیا۔۔۔ جسے دانیال نے صاف اگنور کیا۔۔۔
” ایک اور بات تمھیں جو بھی کرنا ہو کر لینا لیکن یاد رکھنا اگر اس سب میں ایلف کو ایک کھروچ بھ آئی نہ تو تم اپنے حشر کی زمہ دار خود ہو گی۔۔۔ “
دانیال نے واضح طور پر کہا تو اس کے ماتھے پر بل آئے۔۔۔۔
” دھمکی دے رہو مجھے۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو اس نے کندھے اچکائے۔۔۔
” جو سمجھنا ہے سمجھ لو اگر شرط منظور ہے تو۔۔۔ ” اس نے ہاتھ ملانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔۔۔۔
ایسا موقع سفینہ ہاتھ سے نہیں جانے دے سکتی تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ سب کچھ اکیلے نہ کر پاتی جو وہ دانیال کے ساتھ مل کر کر سکتی تھی۔۔۔
اس لیے اس نے بھی ہاتھ بڑھاتے ہوئے ہاتھ ملا لیا۔۔۔
اور دونوں کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ایلف کمرے میں داخل ہوئی تو وہ صوفے پر ہی بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ اسے اگنور کرتی ہوئی وہ آگے بڑھی تھی۔۔۔
واسم کو خود کو اسے اگنور کرتا دیکھ کر شدید غصہ آیا۔۔۔ ایلف کوئی موقع نہیں چھوڑتی تھی کہ جب اس نے اسے اس کی غلطی کا احساس نہ دلایا ہو۔۔ پر اب جو بھی تھا وہ اس کا شوہر تھا۔۔۔
” ایلف مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔ !! ” ایلف ڈریسنگ کی طرف بڑھی ہی تھی کہ اس کی آواز پر رک گئی۔۔۔
اور مڑی اور اسے گھورا۔۔۔ ” کیا بات کرنی ہے۔۔۔ ؟؟ ” ایلف نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا تو وہ اٹھتا ہوا اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
” ایلف ہم کب تک یوں ایک دوسرے سے اجنبی بن کر رہیں گے۔۔۔ !! ” واسم کے سوال پر وہ طنزیہ مسکرا دی۔۔۔
” یہ بھی آپ ہی وجہ سے ہورہا ہے۔۔ یہ سب تو آپ کو مجھ سے شادی کے وقت سوچنا چاہئیے تھا نہ۔۔۔ !! “
اس نے طنزیہ کہا تو اس نے لب بھینج لیے۔۔۔۔
” میں مانتا ہوں کہ میری غلطی ہے لیکن اب کب تک ہم یوں رہے گے بولیں ؟؟ ” وہ ہاتھ باندھتا ہوا بولا۔۔۔
” پتہ نہیں۔۔۔ !! شائید پوری زندگی۔۔۔ !!! ” یہ کہتے ہوئے اسے لاجواب کرتے ہوئے وہ پھر ڈریسنگ کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
لیکن واسم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے سینے سے جا ٹکرائی تھی۔۔۔ !!
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
