Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 19

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

وہ اس ریسٹورینٹ کے ٹیبل پر بیٹھ کر اس شخص کا انتظار کررہی تھی جس سے ملنے کے لیے اس کی والدہ نے اسے وہاں بھیجا تھا۔۔۔

لیکن اس کی امی نے ابھی تک اس لڑکے کی تصویر تک سینڈ نہیں کی تھی۔۔۔ تو وہ اس سے کیسے ملے گی ؟؟ عالیہ کا سر برے طریقے سے جھنجھلا گیا۔۔۔

اس نے اپنی والدہ کو فون کیا۔۔۔جیسے ہی انھوں نے فون اٹھایا وہ ان پر برس پڑی۔۔۔

” امی۔۔۔ !! مجھے اس لڑکے کی تصویر تو بھیج دے ورنہ میں واپس آجاؤں گی۔۔۔ ” اس نے غصے میں کہا تو ان کا دل گھبرا گیا کہ کہیں عالیہ واقع واپس نہ آجائیں۔۔۔

” نہیں نہیں۔۔۔ !! میں بھیجتی ہوں تمھیں تصویر۔۔۔ غصہ کیوں ہو رہی ہو۔۔۔۔ !! “

” جی جلدی بھیج دیں۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔۔ اور منھ بنا کر بیٹھ گئی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے تصویر صرف اسی وجہ سے نہیں دے رہی تھی کہ کہیں عالیہ انکار نہ کردے۔۔۔

°°°°°°°°°°°°

” آپی مجھے اس لڑکی تصویر آپ آج ہی بھیج دے گی کیا۔۔۔ ؟؟ پلیز ” ماہر نے حور کو فون کرکے کہا۔۔۔

” بڑی جلدی ہے اس لڑکی سے ملنے کی۔۔۔ بولو۔۔ !! ” حور نے شرارت سے کہا تو اس کو غصہ چڑھا۔۔۔

ایک تو وہ اس سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔ اور دوسرا ان کی یہ باتیں۔۔۔۔

” ٹھیک ہے نہ بھیجے میں نہیں جاتا ملنے۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کیا جبکہ حور مسکرا دی وی جانتی تھی کہ وہ اس کی بات کبھی بھی نہیں ٹالے گا۔۔۔۔

” ایسا سنجیدہ بن کر جاؤں گا کہ وہ لڑکی حود ہی انکار کردے گی اس رشتے سے۔۔۔ آئی پرومس تو میں۔۔۔ “

یہ کہتے ہوئے ماہر مسکرایا اس نے یہ رشتہ نہ ہونے کے پکے ارادے کر رکھے تھے۔۔۔۔

وہ گاڑی کی طرف بڑھا اور منعقدہ جگہ پر پہنچ گیا۔۔۔

ریسٹورینٹ میں داخل ہوا تو پہلی نظر ہی اس حسین بلا پر پڑی۔۔۔ جو عبایہ پہنے سر کو مکمل طور پر ڈھک کر۔۔۔۔ چہرہ بغیر میک اپ کے تھا۔۔۔

وہ بہت ہی حوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

” عالیہ۔۔۔۔ یہاں۔۔۔ !! ” اس کے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔۔۔

عالیہ نے اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ کیونکہ عالیہ نظریں جھکا کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔

شائید اللہ نے اس کے دل کی بات سن لی تھی۔۔ وہ کافی دنوں سے اسے یاد کررہا تھا اور ملنے کا خوائش مند بھی۔۔۔

وہ اس میز کی طرف بڑھا جس پر عالیہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کے وہ یہاں کیا کرنے آیا تھا۔۔۔ ؟؟ اس کی سنجیدگی ساری ہوا ہو چکی تھی۔۔۔

وہ سر جھکائے نظریں جھکائے بیٹھی ہوئی موبائل میں واٹس ایپ میں اپنی والدہ کے میسج کا انتظار کر رہی تھی کہ کب ان کا میسج آئے۔۔ ؟؟

” عالیہ۔۔۔ !! آپ۔۔ !! ” ماہر اس کے پاس پہنچا اور بولا۔۔۔

ایک بھاری سی آواز پر جو کہ جانی پہچانی سے تھی اور پھر اپنا نام سن کر اس نے فوراً سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ماہر کو پا کر پلک بھی نہ جھپک پائی۔۔۔۔

ماہر اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا۔۔۔

” ماہر۔۔ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔ ؟؟ ” اس کے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات چھائے۔۔۔ اسے بالکل بھی امید نہیں تھی کہ وہ اور ماہر کبھی زندگی میں دوبارہ بھی ملے گے۔۔۔

” یہی سوال میرا ہے۔۔۔ کہ آپ یہاں۔۔۔ حیر یہ چھوڑے یہ بتائے کہ اب آپ کیسی ہیں۔۔۔ ؟؟؟ ” اس نے کہا تو ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

” ٹھیک ہوں اور آپ کیسے ہیں۔۔۔ ؟؟؟ ” اپنے بارے میں بتا کر اس نے ماہر سے اس کی طبعیت دریافت کی۔۔۔۔

” میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔ آپ یہاں کسی دوست کے ساتھ آئی ہیں۔۔۔ ” اس نے آنکھیں کا گیرا تنگ کرتے ہوئے کہا۔۔۔

” نہیں۔۔۔ “

” تو پھر۔۔۔ !! ” اس کا انکار سنتے ہی ماہر کے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔۔۔

” مجھے یہاں میری مما نے بھیجا کسی لڑکے سے ملنے۔۔۔ ” یہ سنتے ہی جو اس وقت سے ماہر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ساری ہوا ہوئی۔۔۔

” کیا مطلب۔۔۔ ؟؟ ” اس نے سنجیدہ ہو کر کہا۔۔۔

” مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ میں ان سے شادی کرلوں۔۔۔ اسلیے ہی بھیجا ہے مجھے۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نظریں جھکا لیں۔۔۔ ماہر سختی سے لب بھینج گیا۔۔۔

” آپ جانتی ہیں اس لڑکے کو۔۔۔ ” ماہر نے کہا۔۔ تو وہ چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ لائی۔۔۔

” نہیں۔۔۔ میں نے اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھا ابھی تک۔۔۔ ” عالیہ کی بات سنے ہی وہ بے ساختہ مسکرا گیا۔۔۔

” بس ہے میری شادی۔۔۔ ویسے آپ یہاں کسی کام کے سلسلے میں آئے ہیں۔۔۔۔ !! ” عالیہ نے پوچھا تو اس نے ساری بات بتائی۔۔۔

” میرا بھی کچھ یہی سین ہے۔۔۔ آپی کے کہنے پر ملنے آیا ہوں کسی سے۔۔۔ !! ” اس نے منھ بنا کر کہا۔۔۔۔

” آپ جانتے ہیں اسے۔۔۔ !! ” اس نے پوچھا ہے تھا کہ دونوں کا موبائل ایک ساتھ بجا۔۔۔

” یہ لیں اب تصویر بھیجی ہے امی نے۔۔۔ ” عالیہ نے مسکرا کر کہا تو ماہر نے بھی موبائل چیک کیا۔۔۔

” مجھے بھی آپی نے ابھی تصویر سینڈ کی ہے۔۔۔ !! “

یہ کہتے ہوئے دونوں نے موبائل کھولا اور تصویر دیکھی تو دونوں کے چہروں کے رنگ اڑ گئے۔۔۔ کیونکہ کہ ماہر کے پاس عالیہ کی اور عالیہ کے پاس ماہر کی تصویر آئی تھی۔۔۔

دونوں کے چہروں پر حیرانگی چھا گئی تھی۔۔۔

اور دونوں نے ہی نظریں اٹھا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔ اور پھر موبائل سے تصویریں آمنے سامنے کی دونوں نے۔۔۔

” یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ !! ” عالیہ کے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔۔۔

” It’s a miracle.. !! “

ماہر نے فوراً جواب دیا کیونکہ وہ ایسا ہی تو معجزہ چاہتا تھا کوئی۔۔۔

جو آج ہو گیا تھا۔۔۔

” یعنی مما کی فڑنڈ آپ کی متھر ہیں۔۔۔ ” عالیہ نے کہا تو اس نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔

” اس کا مطلب ہم دونوں ایک دوسرے سے ملنے آئے ہیں۔۔۔ !! ” عالیہ نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” یس۔۔۔ !!! ” ماہر نے ہلکا سا مسکرا کر کہا لیکن دل میں تو لڈو پھوٹ رہے تھے۔۔۔ اس کے۔۔۔

” لیکن آپ مجھ سے شادی کیوں کرے گے۔۔۔ ؟؟ ” وہ طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے بولی تو اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات چھائے۔۔۔

” لیکن آپ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔ ؟؟ ” وہ تلخ لہجے میں بولا۔۔۔

” مطلب یہ کہ مجھ جیسی لڑکی جسے آپ نے ایک خالی گودام سے بچایا۔۔۔ آپ کیسے کریں گے اس سے شادی۔۔۔ !! ” وہ سمجھ گیا تھا کہ عالیہ کیا کہنا چاہ رہی تھی۔۔۔ وہ لب بھینج گیا۔۔۔

” بالکل بھی نہیں۔۔۔ آپ ایک بہت اچھی لڑکی ہیں۔۔۔ اور اگر آپ چاہیں تو ہم ایک نئی زندگی کی شروعات بھی کر سکتے ہیں۔۔۔ ” اس کے منھ اپنے بارے میں اتنا اچھا سن کر عالیہ کو کافی اچھا لگا۔۔۔

” شروعات۔۔۔ !! یہ جانے بغیر کہ میرا سچ کیا ہے۔۔۔ ؟!! ” یہ سنتے ہی ماہر کے چہرے پر سوالیہ تاثرات پھیل گئے۔۔۔۔

” اور وہ سچ کیا ہے۔۔۔ ؟؟ ” اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔۔۔

” وہ سچ یہ ہے کہ میں کسی کو پسند کرتی تھی۔۔۔ ” اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ اس کے رگیں تن گئی اور وہ ضبط کرتا مٹھیاں بھینج گیا۔۔۔

” لیکن شائید محبت میری قسمت میں نہیں ہے۔۔۔ اس کی محبت اس کا وہ پیار سب دھوکا تھا۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ رک گئی۔۔۔ اور عالیہ کی یہ بات سن کر ماہر تھوڑا سا سکون پہنچا۔۔۔

” کیا وہ اب بھی آپ کی زندگی میں ہے۔۔۔ ؟؟ ” اس نے اس سے سوال کیا۔۔۔

” نہیں۔۔۔ اس کی میری زندگی میں کوئی بھی جگہ نہیں ہے۔۔۔ !! ” یہ کہہ کر وہ چپ کر گئی۔۔۔

” ہونی بھی نہیں چاہئیے۔۔۔ !! ” وہ سخت لہجے میں بولا۔۔۔ جس پر عالیہ نے اسے دیکھا۔۔

” میرا مطلب ایسے لڑکوں کو اپنی زندگی میں رکھنا بھی نہیں چاہئیے۔۔۔ !! ” اب کی بار لہجہ تھوڑا نرم تھا۔۔۔

” تو کیا اب آپ میرے ساتھ شادی کے لیے راضی ہیں۔۔ میرا سچ جاننے کے بعد۔۔” عالیہ نے کہا تو اس نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔

” اب بھی۔۔۔ ” اسے سمجھ نہ آیا کہ وہ اب بھی اس سے شادی کے لیے تیار ہے۔۔۔

” مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ آپ کے ماضی کی ایک غلطی تھی۔۔۔ ” اس نے نرم لہجے میں کہا۔۔۔

“تو ٹھیک ہے۔۔۔ کر لیتے ہیں شادی دیکھتے ہیں کب تک چلتی ہے۔۔ ماہر ۔۔۔” اس کے لبوں سے اپنا نام سن کر دل میں ایک بار پھر لڈو پھوٹے۔۔۔

” ٹھیک ہے۔۔۔ !! ” ماہر نے کہا تو وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔

” ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ !! ” ماہر نے دل میں سوچا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *