Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 21
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 21
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
” ہیلو۔۔ !! اسلام علیکم۔۔ !! آنٹی کیسی ہیں آپ۔۔۔ ؟؟ ” حور نے عالیہ کی والدہ کو فون کیا اور سلام لیتے ہوئے ان سے ان کا حال پوچھا۔۔۔
” وعلیکم اسلام۔۔ !! بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں۔۔۔۔ تم۔سناؤ۔۔۔۔ ” عالیہ کی والدہ نے بھی دوسری طرف سے جواب دیا۔۔۔
” اللہ کا شکر ہے میں بھی بالکل ٹھیک ہوں۔۔ تو پھر میری ہونے والی بھابھی کا کیا جواب ہے۔۔۔ !! ” ہونے والی بھابھی سے وی سمجھ گئی کہ حور کے بھائی ماہر نے اس رشتے کے لیے ہاں کہہ دیا ہے۔۔۔
” آپ کی ہونے والی بھابھی کا جواب ہاں ہے۔۔۔۔ !! ” انھوں نے بھی حور کو خوشخبری سنائی تو اس کا چہرہ بھی کھل اٹھا۔۔۔
” یعنی اب ہمیں دیر نہیں کرنی چاہئیے۔۔۔۔ بھئی میں تو اپنی بھابھی کو جلد از جلد گھر لانا چاہتی ہوں۔۔۔ !! ” حور نے انھیں اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔
” اتنی جلدی نہیں کچھ تو صبر کرنا ہی ہوگا نہ کچھ وقت تو ہمیں بھی درکار ہوگا۔۔۔ شادی کے لیے۔۔۔ “
عالیہ کی والدہ نے کہا تو وہ مسکرا گئی۔۔۔
” بالکل بھی نہیں آنٹی۔۔۔ مجھ میں تو تھوڑا سا بھی صبر باقی نہیں ہے۔۔۔۔ ” حور نے اپنی بےصبری کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔
جس پر وہ دونوں مسکرا گئے۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” ہیلو۔۔۔۔ !! ” کسی ان ناؤن نمبر سے آتے فون کو دیکھ کر عالیہ نے فون اٹھایا اور کہا۔۔۔۔
” تو پھر آپ نے ہاں کہہ ہی دیا۔۔۔ !! ” دوسری طرف سے ماہر بات کررہا تھا۔۔۔۔ لیکن عالیہ اسے نہیں پہچان پائی تھی۔۔۔
” آپ کون ہیں۔۔۔۔ !! ” عالیہ نے کہا تو وہ مسکرا گیا۔۔۔
” ارے آپ نے مجھے پہچانا نہیں ہے۔۔۔۔ میں ماہر ہوں۔۔۔ ” اس نے اپنا تعارف کروایا تو عالیہ کو سکون ملا۔۔۔
” آوو اچھا۔۔۔ مجھے نہیں پتہ چلا۔۔ سوری۔۔۔ ” اس نے کہا۔۔۔
” ویسے آپ نے میرا نمبر کس سے لیا۔۔۔ !! ” عالیہ کے چہرے پر سوالیہ تاثرات پیدا ہوئے۔۔۔ ” آپ کا نمبر مل گیا مجھے۔۔۔ !! ” اس نے جلدی سے کہا تو وہ لب بھینج گئی۔۔۔
” بتائیں کیوں فون کیا ہے۔۔ ؟؟ ” عالیہ نے ایک ہی سانس میں کہہ دیا۔۔۔
” شکریہ کہنے کے لیے۔۔۔ !! ” ماہر نے بھی فوراً جواب دیا۔۔۔ جس پر عالیہ کنفیوز ہو گئی کہ ماہر نے کس بات کے لیے شکریہ کہنا ہے۔۔۔ !! “
” شکریہ۔۔۔ !! کس بات کے لیے۔۔۔ !! ” اس نے ماہر سے پوچھ ہی لیا۔۔۔
” رشتے کے لیے ہاں کہنے کے لیے۔۔۔ آپ کی زندگی میں اتنا سب کچھ ہوا اس کے بعد مجھ پر اعتبار کرنے کے لیے۔۔۔ !! اس کے لیے شکریہ۔۔۔ “
اس نے یوں کہا تو عالیہ مسکرا گئی۔۔۔۔
” شکریہ کی کوئی بات نہیں۔۔۔ جس طرح آپ نے میری مدد کی ہے۔۔۔ مجھے ان درندوں سے بچایا ہے۔۔۔ اس کے بعد تو میں آپ پر آنکھ بند کر کے بھی بھروسہ کرسکتی ہوں۔۔۔۔ “
عالیہ نے کہا تو وہ بھی مسکرا گیا۔۔۔۔
” بلکہ شکریہ تو مجھے آپکا ادا کرنا چاہئیے کہ آپ مجھے اتنے کھلے دل سے قبول کر رہے ہیں۔۔۔ میری زندگی کا اتنا بڑا سچ جاننے کے بعد بھی۔۔۔ ورنہ لوگ تو ایسی لڑکیوں کو منھ بھی لگانا پسند نہیں کرتے۔۔۔ !! “
اس نے اپنی بات مکمل کی تو ماہر نے بولنا شروع کیا۔۔۔۔
” ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے۔۔۔ وہ بس ایک غلطی تھی آپ کی۔۔۔ آپ کا ماضی تھا۔۔۔ اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ ” اس نے مسکرا کر کہا۔
عالیہ بھی اس کی باتوں پر مسکرا گئی۔۔۔۔ اور اس سوچ میں گم ہوگئی جو شخص اس کی جان بچا سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ شادی کیوں نہیں۔ کرسکتی۔۔۔۔ ؟؟
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ایلف واش روم سے نکل کر کمرے کے دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
” ایلف۔۔۔ !! ” ایک بھاری آواز پر وہ رکی اور منھ بنایا۔۔۔
” کھڑوس کہیں کا۔۔۔۔ ” اس نے دل میں سوچا۔۔۔۔۔ ” کہاں جا رہی ہیں۔۔۔ ؟؟ ” واسم کے سوال پر اسے شدید غصہ آیا۔۔۔۔
” اب کیا مجھے کہیں جانے کے لیے بھی آپ سے اجازت لینی پڑے گی۔۔۔ ” اس نے غصے میں کہا لیکن وہ خاموش رہا اس نے اس پر غصہ نہ کیا۔۔۔
” میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھ سے اجازت لے کر جایا کریں۔۔۔ میں نے یہ پوچھا ہے کہ آپ کہاں جارہی ہیں۔۔۔۔ ؟؟ اور اس کا جواب تو آپ کو مجھے دینا ہی ہوگا۔۔۔ “
واسم نے کہا تو وہ طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔۔
” اور اگر میں آپ کو نہ بتاؤ تو کیا کر لیں گے آپ۔۔۔۔ !! ” اس نے اسے چیلنج کیا۔۔۔
” ایلف میرا ضبط مت آزمائیں۔۔۔۔ اور بتا دیں نہ کہ کہاں جارہی ہیں۔۔۔۔ ؟؟ اتنی بھی۔بڑی بات نہیں۔۔۔ !! ” وہ تھوڑا سنجیدہ ہوا۔۔۔۔
” ضبط۔۔۔۔ !! وہ تو آپ میرا آزما رہے ہیں۔۔۔۔ بات بات پر مجھے روکتے ہیں ٹوکتے ہیں۔۔۔۔ ” اس نے کہا لیکن واسم کے چہرے پر کوئی تاثرات نہ آئے۔۔۔
” میں آپ کو روک بھی سکتا ہوں اور ٹوک بھی سکتا ہوں۔۔۔ کیونکہ کہ میں آپ کا شوہر ہوں۔۔۔ !! ” اس نے کہا تو ایلف ایک بار پھر طنزیہ مسکرائی۔۔۔۔
” جب میں آپ کو اپنا شوہر نہیں مانتی تو پھر۔۔۔ کس چیز کا غرور ہے آپ کو۔۔۔ آج کے بعد مجھے روکنے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔۔۔ ” اسے انگلی دیکھاتے ہوئے وہ ک۔رے سے باہر نکلنے لگی۔۔۔۔
جب واسم نے اس کے بازو کو پکڑا اور اسے اپنی طرف دکھیلا۔۔۔ اس شدید جھٹکے سے وہ سنھبل نہ سکی اور اس کے سینے سے جا لگی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ پیچھے ہٹتی۔۔۔ واسم نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اپنی گرفت کو اور زیادہ مضبوط کیا۔۔۔۔
” آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے کچھ بھی نہیں ہوگا آپ کے کہنے سے کچھ بھی نہیں ہوگا۔۔۔ آپ میری بیوی ہیں اور میں آپ کا شوہر۔۔۔ ہمارا نکاح ہوا ہے پیپرز سائن کیے ہیں۔۔۔۔ تو یہ مت بولیے گا کہ میں شوہر نہیں ہوں آپ کا۔۔۔ !! “
اس نے سنجی دی لہجے میں کہا تو وہ لب بھینج گئی۔۔۔۔ اور اس کے جواب میں کچھ بھی نہیں کہا۔۔۔
” چ۔۔۔چھوڑ۔۔۔۔چھوڑیں مجھے۔۔۔۔ ” جب کچھ دیر تک واسم نے اسے نہ چھوڑا تو وہ کسماسانے لگی۔۔۔۔
جس پر اسے واسم۔چھوڑتے ہوئے بنا کچھ بھی کہے کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
اور ایلف لب بھینج گئی۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
” واسم بیٹا۔۔۔۔ !! ایلف کدھر ہیں۔۔۔۔ صبح ناشتے کی میز پر بھی نہیں تھی۔۔۔۔ “
سامنے بیٹھی رخسار نے واسم جو ہاتھ میں چائے کا کپ لیے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
” نانو کمرے میں ہی ہوں گی۔۔۔ ” اس نے لاپرواہی سے کہا تو رخسار نے اسے گھورا جسے واسم نے محسوس نہیں کیا۔۔۔۔
” کیا مطلب کمرے میں ہی ہوں گی۔۔۔ آپ کو نہیں پتہ کہاں ہیں وہ۔۔۔۔؟؟ ” رخسار نے کہا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ایلف وہاں پہنچی۔۔۔
” دادو۔۔ میں ادھر۔۔۔۔ !! ” ایلف نے اتنا کی کہا تھا کہ اس کا سر زور سے چکرایا۔۔۔
اور اسے یوں لگا جیسے سارے کا سارا گھر گھوم۔رہا ہے۔۔۔
واسم کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی تو اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی ہو۔۔۔ وہ فوراً اس کی طرف بھاگا۔۔۔ چائے کا کپ تو نیچے ہی گر گیا تھا۔۔۔
دانیال اور سفینہ وہی موجود تھے۔۔۔ لیکن ان کے علاؤہ اور کوئی گھر میں سے نہیں تھا۔۔۔۔
وہ دونوں کی واسم کو ایلف کے لیے فکر مند ہوتا دیکھ کر جل بھن گئے تھے۔۔۔
اس سے پہلے کہ ایلف زمین بوس ہوتی واسم اس کی طرف لپکا اسے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔
رخسار بھی اس کی طرف بھاگی۔۔۔ ” ایلف ۔۔۔ میری بچی۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔ !!” رخسار نے فکر مندی سے کہا۔۔۔
” میں اسے ہوسپٹل لے کر جاتا ہوں۔۔۔ آپ رکیں۔۔۔ ” یہ کہتا ہوا واسم اسے اپنی باہوں میں ہی گاڑی تک لے کر گیا۔۔..
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
