Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 12

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

وہ ہوسپٹل کے کمرے کے سامنے بیٹھا سر دونوں ہاتھوں میں دیے ہوئے بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن پھر دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے سر اوپر کیا اور دیکھا تو سامنے ڈاکٹر کھڑا تھا۔۔۔

” Doctor !! How is she??”

ماہر فوراً کھڑا ہوا اور ڈاکٹر سے جا کر سوال کیا۔۔۔

” شہ ول بی فائن۔۔۔ !! اب وہ ٹھیک ہیں۔۔۔ دراصل انھوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا تو بس اسی وجہ سے بخوشی ہوگئی۔۔۔ بس دھیان رکھیے گا کہ کچھ دن تک وہ سفر نہ ہی کریں۔۔۔” یہ کہہ وہ وہاں سے چلے گئے۔۔۔

” آک ڈاکٹر !! ” ماہر نے مسکرا کر کہا۔۔۔

آخر ماہر اس کے بارے میں اتنا کیوں سوچ رہا تھا۔۔۔ وہ لڑکی جو اسے ایک گودام میں ملی وہ اس کی لگتی ہی کیا تھی۔۔۔ ؟؟ تو پھر اس کے لیے اتنی بے چینی کیوں ؟؟ وہ خود سے ہی یہ سوال کر رہا تھا پر ابھی ان سوالات کے جوابات اس کے پاس موجود نہیں تھے۔۔۔

وہ کمرے کا دروازا کھولتے ہوئے اندر چلا گیا۔۔۔ اور سامنے اس لڑکی کو دیکھا جو مکمل طور پر حسن کی مورت تھی۔۔۔ اب اس کی حالت کافی بہتر تھی۔۔۔

اور اب وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا جب عالیہ کی آنکھ کھلی۔۔۔

اس کی طرف دیکھتے وہ ہوش میں آیا۔۔۔ اور اسے دیکھا جو درد میں تھی لیکن بیٹھنے کی کوششوں میں تھی۔۔۔۔

” آپ بیٹھے مت۔۔۔ !! طبعیت ٹھیک نہیں ہے آپ کی۔۔۔ لیٹ جائے۔۔۔۔ !! ” ماہر نے اس کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔

اور وہ اسے دیکھتے اس کی بات سن کر لیٹ گئی۔۔۔

” م۔۔۔مجھ۔۔مجھے گ۔۔۔گھر ج۔۔جانا ہے۔۔۔ !! ” درد میں ہونے کی وجہ سے اس کی زبان سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہی نکلے۔۔۔

” آپ چلی جائیے گا گھر لیکن ابھی آپ سفر نہیں کرسکتی۔۔۔ اور ویسے بھی آپ کا کڈنیپ ہوا تھا۔۔۔ تو جنھوں نے کروایا تھا انھیں معلوم ہوچکا ہوگا کہ آپ وہاں نہیں ہیں۔۔۔ تو وہ آپ کو تلاش ہی کررہے ہوں گے۔۔۔ اس لیے کچھ باہر نہ نکلے۔۔۔ “

ماہر نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔

” ل۔۔لیکن میں اس وقت کہاں رہوں گی۔۔۔ یہ بات آپ کی بھی ٹھیک ہے۔۔۔ !! ” عالیہ نے اس کی بات پر ٹھنڈے دماغ سے سوچا اور کہا۔۔۔

” یہ بھی ہے۔۔۔ اگر آپ برا نہ منائے تو آپ میرے ساتھ رہ سکتی ہیں۔۔۔ !! ” ماہر نے اسے اپنے ساتھ رہنے کا مشورہ دیا۔۔۔جس پر عالیہ نے اسے حیرانگی سے گھورا۔۔۔

” ن۔۔۔نہیں۔۔ آپ پہلے ہی میرے لیے بہت کچھ کر کے ہیں۔۔۔ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتی ہوں۔۔۔ !! ” اس نے آنکھیں چرائی۔۔۔

” بوجھ کی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ آپ کچھ دن میرے ساتھ رہ لیں۔۔ جب آپ کی طبعیت ٹھیک ہو جائے گی تو میں خود آپ کو آپ کے گھر چھوڑ آؤں گا۔۔۔ اور اس وقت تک آپ کی جان بھی سیو ہو جائے گی۔۔۔ ” ماہر نے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے کہا۔۔۔

” پ۔۔۔پر !! میں آپ کے س۔۔ساتھ۔۔ کیسے ؟؟” عالیہ کو اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔

” You can trust me… !! “

ماہر نے یہ کہہ کر اسے لاجواب کردیا۔۔۔

” Ok.. !! “

عالیہ نے کہا۔۔۔ کیونکہ اب جو ہونا تھا وہ تو چکا تھا۔۔۔ اگر کچھ دن اور سہی تو ٹھیک ہے۔۔۔ اور وہ اس شخص پر بھروسہ کرسکتی تھی۔۔۔ جس نے اس کی جان بچائی۔۔۔

___💕💕💕___

صبح واسم کی آنکھ کھلی تو ایلف شیشے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔ اور اپنے بال سنوار رہی تھی۔۔۔ قریب صبح کے دس بج رہے تھے۔۔۔۔

وہ بھی فریش ہونے کے لیے اٹھا۔۔۔ لیکن اس سے پہلے وہ اس کے پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔۔۔

شیشے میں اس شخص کا آئینہ دیکھ کر اس کو شدید غصہ آیا۔۔۔ پر وہ اپنے غصے پر قابو پانا جانتی تھی۔۔۔

” کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔ !! ” اسے مسلسل خود کو گھورتا دیکھ وہ اس کی طرف مڑی اور بولی۔۔۔

” ویسے شادی کی پہلی رات بیویاں اپنے شوہر کا انتظار کرتی ہیں۔۔۔ اور جہاں تک مجھے یاد ہے۔۔۔ آپ میرے آنے سے پہلے ہی سو گئی تھی۔۔۔ ” واسم نے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لیے کہا تھا۔۔

” تو آپ کیا چاہتے تھے کہ میں آپ کا انتظار کرتی۔۔ !! ” وہ شیشے کی طرف مرتے ہوئے بولی۔۔۔

” ہاں کرنا چاہئیے تھا لیکن آپ نے نہیں کیا کیوں ؟؟ ” اس کے سوال پر وہ طنزیہ مسکرائی اور پھر اس کی طرف مڑی۔۔۔

” کیونکہ یہ میری کوئی من پسند شادی تو نہیں ہے۔۔۔ اسیے میں آپ کا انتظار کی روادار نہیں۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی طرف بڑھنے لگی۔۔۔ لیکن اپنے بازو پر واسم کا ہاتھ محسوس کرتے ہوئے وہ رکی۔۔۔

” ایلف۔۔۔ !! “

” ہاتھ چھوڑیں میرا۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔۔۔

” بھولیں مت ہمارا رشتہ صرف کاغز کی حد تک ہے بس۔۔۔ تو آئیندہ مجھے ہاتھ لگانے کی کوشش مت کیجیے گا۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گئی۔۔۔

ایلف کے الفاظ واسم کے دل پر لگ رہے تھے۔۔۔

وہ یہ سن کر واشروم میں چلا گیا اور فریش ہوکر نیچے آیا۔۔۔۔

ناشتے کی میز پر سب موجود تھے۔۔۔۔ سفینہ دانیال اور گھر کے سب بڑے صرف ایلف واسم اور عالیہ موجود نہیں تھے۔۔۔

ایلف واسم کے ساتھ نیچے آئی تو دانیال کو کچھ عجیب سا لگا۔۔۔ کہ وہ دونوں ایک ساتھ کیوں ؟؟ لیکن سفینہ جانتی تھی کہ وہ دونوں ساتھ نہیں ہیں۔۔۔

وہ تو رات کے ہوئے واقع سے انجان تھی۔۔۔ وہ اس بات سے انجان تھی کہ اس کی محبت کسی اور کے نام کردی گئی ہے۔۔۔

واسم کرسی پر بیٹھا اس کے ساتھ والی کرسی خالی تھی۔۔۔ ایلف اس کو چھوڑ کر سامنے والی کرسی کی طرف بڑھی۔۔

” ایلف۔۔ !! ” رخسار کی آواز پاتے ہی اس کے قدم رکے۔۔۔

” جی دادو ۔۔۔ !! ” اس نے مرتے کی کہا۔۔۔ اس کا چہرہ اس وقت معصومیت سے بھرا پڑا تھا۔۔۔

” آپ وہاں کہاں جارہی ہیں۔۔۔ یہاں بیٹھے۔۔ واسم کے ساتھ۔۔ !! ” یہ سنتے ہی وہ اس کرسی کی طرف بڑھی۔۔۔ دانیال اور سفینہ کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا کہ رخسار نے ایسا کیوں کہا کہ۔۔ وہ دونوں ساتھ بیٹھے۔۔۔

” پر دادو۔۔۔ !! وہ دونوں ساتھ ہی کیوں بیٹھے۔۔ ؟” دانیال نے چہرے پر سوال لیے کہا۔۔۔

” کیونکہ میاں بیوی ایک ساتھ ہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔ !! ” یہ سنتے ہی سفینہ اور دانیال دونوں کے چہروں پر بل نمودار ہوئے۔۔۔

” کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔ ” لہجہ تلخ تھا۔۔۔

” اس کا مطلب یہی ہے کہ ایلف واسم کی بیوی ہیں۔۔۔ ” یہ سنتے ہی اس کا دماغ گھوما۔۔۔

” کیا ۔۔۔ ؟؟؟ دادو آپ مزاق کر رہی ہیں نہ آپ۔۔۔ !! ” سفینہ اسے مزاق سمجھ رہی تھی۔۔۔ لیکن وہ کیا جانے کہ اتنی بڑی بات مزاق میں تھوڑی نہ کی جاتی ہے۔۔۔

” میں بھلا ایسا مزاق کیوں کروں گی۔۔۔ مجھے کیا ہی ضرورت ہے مزاق کرنے کی۔۔۔ ” رخسار نے کہا تو دانیال کرسی سے اٹھتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔

” اب انھیں کیا ہوا۔۔۔ ؟ ” رخسار نے کہا۔۔ سارے گھر والے اس وقت سے خاموش تھے۔۔ لیکن واسم کے چہرے پر الگ ہی مسکراہٹ تھی۔۔

” لیکن یہ کب ہوا۔۔۔ ؟ ” سفینہ نے کیا۔۔۔

” رات کو جب عالیہ کو پتہ نہیں چلا تو ہم نے ایلف اور واسم کا نکاح پڑھوا دیا تھا۔۔۔ ” رخسار نے کہا تو سفینہ بھی غصے سے اٹھی اور باہر کی طرف بڑھی۔۔

” اب آپ کہاں جا رہی ہیں۔۔۔ ؟؟ !! ” رخسار نے کہا۔۔۔

” جہنم میں کسی نے جانا ہے کیا۔۔۔ ؟؟ ” تلخ اور غصیلے انداز میں کہتی ہوئی سفینہ وہاں سے چلی گئی۔۔۔

__💕💕💕___

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *