Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 15
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 15
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
” آپ۔۔۔ !! تیار ہو جائیں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کرکے آنا ہے۔۔۔ !! ” ماہر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ عالیہ کمرے میں بیڈ پریٹی ہوئی تھی۔۔۔ اس کو آتا دیکھ وہ بیڈ سے اٹھی۔۔۔
” جی۔۔۔ !! ” سر ہاں میں ہلاتے ہوئے اس نے کہا اور واش روم میں چلی گئی اور وہ کمرے سے نکل گیا۔۔ماہر اسے ڈراپ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ لیکن کیوں اسے وہ یہاں رکھتا۔۔۔ کس حق سے ؟؟ کس رشتے سے ؟؟
لیکن اس کے چہرے پر جو خوشی اس نے دیکھی تھی۔۔۔ وہ خوشی ماہر ختم نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ یہی سوچتے ہوئے نیچے آیا اور وہ بھی تیار ہوکر نیچے آئی۔۔۔
” چلے۔۔۔۔ !! ” اس کی آواز پر ماہر اٹھا اور بامشکل ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھائی۔۔۔
” جی۔۔ !! چلیں۔۔ ” یہ کہتا ہوا وہ باہر کی طرف بڑھا اور عالیہ بھی اس کے پیچھے گئی۔۔۔
فرنٹ سیٹ پر وہ دونوں بیٹھے۔۔۔ اور ماہر نے گاڑی حویلی کے راستے پر ڈالی۔۔۔ پورے راستے ماہر نے اس سے بات نہ کی اور نہ ہی عالیہ نے اس سے بات کرنا مناسب سمجھا۔۔
کچھ فاصلے پر اس نے گاڑی روکی۔۔۔
” آگئی ہے آپ کی حویلی۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے اس نے سامنے اشارہ کیا۔۔۔
” آپ میرے ساتھ اندر چلے۔۔ ” عالیہ نے اسے اندر چلنے کا کہا۔۔۔
” نہیں۔۔ !!! ” سر نفی میں ہلاتے ہوئے ماہر نے صاف انکار کردیا۔۔۔ عالیہ لب بھینج گئی۔۔۔
” کیوں نہیں۔۔۔ !! آپ چلے میرے ساتھ۔۔۔ اتنی مدد کی ہے آپ نے میری اتنا خیال رکھا ہے آپ نے میرا۔۔۔ ” اس نے کہا تو وہ مسکرایا۔۔
” کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ !! میں ضرور چلتا لیکن مجھے ایک نہایت ہی ضروری کام ہے۔۔۔ !! ” ماہر نے اسے وجہ بتائی۔۔۔ جب کہ وہ جانا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔ یہاں تک بھی وہ پتہ نہیں کیسے پہنچا۔۔۔
” ٹھیک ہے۔۔ لیکن آپ کا بہت شکریہ۔۔۔ !! ” اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ لیے وہ گاڑی سے اتری۔۔۔ ماہر بھی ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
اس کے اترتے ہی اس نے گاڑی واپس موڑی اور چلا گیا۔۔۔ عالیہ بھی حویلی کی طرف بڑھی۔۔۔
ماہر کو عجیب سا دکھ محسوس ہورہا تھا۔۔ عجیب سی بے چینی تھی۔۔۔ جو پیلے کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔۔۔
۔۔۔
سارے حویلی والے لاؤنچ میں ہی موجود تھے۔۔۔
سارے گھر کے بڑے اور چھوٹے بھی وہی موجود تھے۔۔۔
” امی۔۔۔ !!! ” نرم پتلی سی آواز جو ان میں سے (وہاں بیٹھے لوگوں) میں سے کسی کی بھی نہیں تھی۔۔۔ سن کر سب حیران ہوئے اور دیکھا تو وہاں عالیہ کھڑی تھی۔۔۔
” تم۔۔۔ !! تم یہاں کیا کرہی ہو۔۔۔ ؟؟؟ ” رخسار اور باقی حویلی والے اسے دیکھ کر اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے۔۔۔ اور رخسار نے نے اسے دیکھ کر کہا۔۔
” م۔۔۔میرا گھر ہے یہاں ہی آؤں گی نہ۔۔۔ !! ” آنکھیں نیچے کیے اس نے صاف لفظوں میں جواب دیا۔۔۔
” نہیں۔۔۔ تم یہاں نہیں آسکتی۔۔۔ پہلے بھی سوچنا تھا۔۔۔ اب کیوں آئی ہو دفعہ ہوجاؤ۔۔۔ !! ” اس کی ماں کا اسے دیکھ کر دل کیا کہ اسے سینے میں بھینج لے لیکن رخسار کے سخت الفاظ نے اسے روک دیا۔۔۔
” کیا کہہ رہی ہیں دادو آپ کہ مجھے پہلے بھی جانے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا۔۔۔ ” عالیہ کے ماتھے پر بل آئے کہ ایک تو وہ پورے چار دن سے گھر نہیں آئی اور کسی کو بھی اس کی پرواہ نہیں تھی۔۔۔اور اگر خود آگئی ہے تو اوپر سے کیا کہہ رہیں ہیں۔۔۔ ؟؟
” کیا مطلب ہے ۔۔۔ ؟؟ دادو اس وقت کی بات کرہی ہیں جب تم اس گھر سے بھاگ گئی تھی۔۔۔ !! ” سفینہ کہ کہنے پر اس کے چہرے پر اور غصہ آیا۔۔۔
” کیا بکواس کررہی ہو تم۔۔ سفینہ۔۔۔ ہوش میں تو ہو نہ تم۔۔۔ !! ” عالیہ نے کافی غصیلے انداز میں کہا۔۔۔
لیکن رخسار کو بالکل بھی پسند نہیں آیا۔۔۔ اور وہ آگے بڑھی۔۔۔ اور اس پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہوا میں لہرایا لیکن کسی نے یہ ہاتھ ہوا میں ہی روک دیا۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں ایلف تھی۔۔۔
” ایلف کیوں ہاتھ روکا آپ نے ہمارا۔۔۔ !! ” رخسار نے اس کا چہرہ دیکھ پر اپنا ہاتھ جڑکا اور شدید غصے میں کہا۔۔۔
” دادی جان۔۔۔ !! مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو عالیہ کی بات سنے بغیر اس پر ہاتھ اٹھانا چاہئیے۔۔۔۔ !! ” ایلف نے اپنا موقف پیش کیا تو رخسار کو اس پر بھی غصہ آیا۔۔۔
” اب سننے کو بچا ہی کیا ہے بتائیں۔۔۔ !! یہ عین شادی والے دن گھر سے بھاگ گئی۔۔۔ !! ” رخسار کی بات سن کو شدید تپ گئی۔۔
” اینف۔۔۔ !! کیا لگا رکھا ہے بھاگ گئی بھاگ گئی۔۔۔ !! کیا آپ میں سے کسی نے دیکھا اسے بھاگتے ہوئے کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے۔۔۔ کوئی۔۔۔ !! ” ایلف نے باآواز بلند کیا تاکہ سب لوگوں تک آواز پہنچے۔۔۔
” نہیں دیکھا تو کیا یہ بھاگی تھی ورنہ کہاں گئی۔۔۔ !! ” سفینہ یہ نہیں چاہتی تھی کسی کو بھی پتہ چلے کہ عالیہ کا کڈنیپ ہو اور اسے حویلی سے نکال دیا جائے۔۔۔
” چٹاخ۔۔۔ !! “
ایک زناٹے دار تھپڑ سفینہ کے چہرے پر ایلف کی طرف سے رسید کیا گیا۔۔۔
” کیا بکواس کررہی ہو۔۔۔ !! اپنی بہن ہے تمھاری ہے وہ۔۔۔ !! اور کوئی گھر سے نہیں بھاگی تھی وہ آئی سمجھ۔۔۔ سنا سب نے۔۔۔ ” ایلف جان چکی تھی کہ عالیہ کا کڈنیپ ہوا تھا۔۔۔
” میں بھاگی نہیں تھی۔۔۔ بلکہ میرا کڈنیپ ہوا تھا۔۔۔ !! ” عالیہ کے کہنے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے اور سفینہ کے چہرے کا رنگ اڑا۔۔۔
” کیا کہہ رہی ہو۔۔ !! ” رخسار نے کہا۔۔۔
” بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے وہ۔۔۔ !! اس کا کڈنیپ ہوا تھا۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا تو سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔
” اگر یہ بات آپ کو پتہ تھی تو ہمیں کیوں نہیں بتائی۔۔۔ ؟؟ ” رخسار نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
” مجھے بھی آج ہی پتہ۔چلا کچھ دیر پہلے۔۔۔ جب میں نے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی تھی۔۔۔ اور میں یہی بتانے آرہی تھی آپ کو لیکن آپ سننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔۔ اور اپنی ہی مار رہے ہیں۔۔۔ ” ایلف نے غصے سے کہا۔۔۔
” یہ کیا کہہ رہی ہو تم۔۔۔ !! اگر کڈنیپ ہوئی بھی تھی تو کہاں تھی اتنے دن۔۔۔ !! ” سفینہ نے کہا۔۔۔
” سفینہ بس۔۔ !! ” رخسار نے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروایا۔۔۔
” دادی آپ اس لڑکی کی بات پر یقین کر رہی ہیں۔۔۔ !! ” سفینہ نے کہا۔۔۔ اور اب واسم کی برداشت ختم ہوگئی۔۔۔
” اس لڑکی سے مراد کب سے سن رہا ہو تمیز سے بات کرو اس سے میری بیوی ہے وہ واسم شاہ کی بیوی ۔۔۔ نیکسٹ ٹائم اس کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہزار بار سوچنا۔۔۔ !! ” واسم نے اسے انگلی دیکھاتے ہوئے کہا۔۔۔
لیکن ایلف کے چہرے کے تاثرات نہیں بدلے۔۔۔
سفینہ لب بھینج گئی۔۔۔
” مجھے تو سمجھ نہیں آتی۔۔۔ کہ آپ نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا میں گھر سے بھاگ جاؤ گی۔۔۔ !! مجھے کڈنیپ کیا گیا اور میرا پتہ بھی نہیں کروایا آپ لوگوں نے۔۔۔ واہ۔۔۔ !! اور یہ نہیں پوچھا کہ میں کیسی ہوں۔۔ بلکہ یہ پوچھا کہ کہاں تھی کس کے ساتھ تھی۔۔ !! ” روتے ہوئے اس نے کہا عالیہ کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی صورت نکل رہی تھے۔۔۔
اس کی والدہ نے اسے سینے میں بھینج لیا۔۔۔
” جاننا ہے نہ میں کہاں تھی۔۔ تو سنیں۔۔۔ ایک نیک دل شخص نے اس دن میری جان بچائی۔۔۔ لیکن میری طبعیت بہت خراب ہوچکی تھی اسی وجہ سے مجھے کچھ دن اس کے ساتھ رہنا پڑا ۔۔۔ انھوں نے میرا بہت خیال رکھا۔۔ اور جب میں بہتر ہوگئی تو مجھے یہاں چھوڑ گئے۔۔” روتے ہوئے عالیہ نے کہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔
ایلف بھی اس کے پیچھے گئی۔۔ سب کو اپنی اس غلطی پر شدید شرمندگی ہوئی۔۔۔
__![]()
![]()
___
