Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt NovelR50486 Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 4
Rate this Novel
Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 4
Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt
واسم شاہ موبائل میں مصروف تھا۔۔۔ اس کے ذہن میں بس ایلف ہی تھی۔۔۔ کہ وہ ایسی تو بالکل بھی نہیں تھی۔۔۔ اس کے علاؤہ اس نے آج تک کسی لڑکے سے ڈنگ سے بات بھی نہیں کی تھی۔۔۔ وہ تو صرف اسے چاہتی تھی۔۔۔ پھر یہ کیوں ؟؟
یہی سوچتے ہوئے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا جو کچھ وہ اس ننھی سی جان کے ساتھ کر کے گیا تھا۔۔۔ باقی حویلی والوں نے تو شائید اسے معاف کردیا تھا۔۔۔۔ لیکن ایلف نے اسے ابھی بھی معاف نہیں کیا تھا۔۔۔
پسند تو وہ بھی ایلف کو کرتا تھا۔۔ پر اس ایک غلطی کی وجہ سے اس نے اپنی محبت کو کھو دیا تھا۔۔۔ واسم سے ایلف کی بے رخی برداشت نہیں ہورہی تھی۔۔
وہ اپنی سوچوں میں ہی گم تھا۔۔۔ اسے کسی کے آنے کی آہٹ محسوس ہی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ ” اہم !!” یہ آواز جیسے ہی اس کے کانوں تک پہنچی۔۔۔ وہ حال میں واپس آیا۔۔۔
” ارے سفینہ تم !!” سامنے سفینہ ہاتھ میں چائے کا کپ لیے کھڑی تھی۔۔۔ وہ اسے پسند کرتی تھی۔۔۔ اور یہ بھی چاہتی تھی کہ اپنی محبت سے اس کو اپنی طرف مائل کرے۔۔ اور واسم بھی اسے پسند کرنے لگے۔۔۔۔
لیکن واسم آج بھی ایلف کے عشق میں قید تھا۔۔۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس نے ایلف کا دل توڑا ضرور ہے پر اس کے ٹوٹے ہوئے دل کے ایک ایک ٹکڑے میں آج بھی واسم شاہ کی ہی محبت تھی۔۔۔۔
” چائے۔۔۔۔ !! میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔۔۔ یہ لیں پیئے اور بتائیں کیسی بنی ہے چائے۔۔۔۔ ” سفینہ نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔ لیکن وہ آنکھیں پھیر گیا۔۔۔
” نہیں سوری !! وہ کیا ہے کہ مجھے دراصل چائے پینے کی عادت نہیں ہے۔۔۔ تو ایک کام کرو یہ تم ہی پی لو۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اس کے ارمانوں پر پانی پھیرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔
___![]()
![]()
___
واسم لان میں بیٹھا کب سے انتظار کر رہا تھا کہ ایلف کب آئے گی۔۔۔ شام کے پانچ بج رہے تھے۔۔ سورج ڈھلنے کو تھا۔۔۔ لیکن ایلف ابھی تک نہیں آئی تھی۔۔۔ دانیال بھی گھر نہیں تھا۔۔۔۔
اسے جہاں تک معلوم تھا ایلف کی یونی کا ٹائم تین بجے تک کا ہی ہے لیکن پانچ بج گئے تھے وہ ابھی تک گھر نہیں آئی تھی۔۔۔
وہ یہی سوچ رہا تھا کہ گاڑی کا ہارن بجا اور گارڈز نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔ گاڑی گھر کے اندر داخل ہوئی۔۔ واسم اٹھ کر کھڑا ہوا۔۔۔ ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے۔۔۔
نظر سامنے گئی تو ایلف اور دانیال فرنٹ سیٹس پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔ دونوں کے چہروں پر کافی مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔۔۔ ایلف نے دروازہ کھولا اور دانیال بھی گاڑی سے اترا۔۔۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائے۔۔۔
جسے دیکھ واسم کا دل کیا سب کو آگ لگا دے۔۔۔ لیکن وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
وہ ان کے پاس گیا لیکن ایلف اسے مکمل طور پر اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔ جسے دیکھ واسم لب بھینج گیا۔۔۔ دانیال بھی اندر چلا گیا۔۔۔۔
ایلف اندر داخل ہوئی۔تو سب گھر والے لاؤنچ میں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ وہ ان کے پاس گئی اور سب سے سلام لیا۔۔۔ اور نے سلام کا جواب دیا۔۔۔
” ایلف آپ آج کچھ دیر سے نہیں آئی۔۔۔۔ ؟” رخسار نے ایلف سے سوال کیا۔۔۔ جس پر ایلف چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائی۔۔۔
” دادو !! وہ بات یہ ہے کہ دراصل میں نے ناشتہ نہیں کیا تھا۔۔۔ اسی وجہ سے چھٹی کے وقت چکر آرہے تھے تو دانیال کے ساتھ لنچ کرنے چلی گئی تھی اسی وجہ سے لیٹ ہو گئی میں۔۔۔ “
ایلف نے سب کو حقیقت سے آگاہ کیا۔۔۔ واسم اور دانیال بھی وہی موجود تھے۔۔۔
پر ایلف کا یوں کسی اور کے ساتھ جانا واسم کو بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔۔۔ یہ کہہ کر ایلف اٹھی اور کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔
سارے گھر والے اپنی باتوں میں مصروف ہو چکے تھے۔۔۔ واسم ایلف کے پیچھے گیا۔۔۔
___![]()
![]()
___
” ایلف رکو !!”
ایلف چل رہی تھی لیکن یہ آواز سن کر بھی اس کے قدم نہ رکے۔۔۔ یا شائید وہ روکنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ جب اس کے بار بار بلانے پر وہ نہ رکی تو واسم اس کے سامنے جا کر کھڑا ہوا۔۔۔ جس سے ایلف کو کافی غصہ آیا۔۔۔
” یہ کیا بد تمیزی ہے۔۔۔ ؟ آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرا راستہ روکنے کی۔۔۔ ؟” لہجہ کافی تلخ تھا۔۔۔ یوں جیسے وہ اس پر برس پڑی ہو۔۔۔
___![]()
![]()
____
