Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 1

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

وہ کمرے سے نکل کر آئی تو دیکھا کہ اس کی والدہ اور دادی لڑکوں کی تصویریں لیے بیٹھی تھیں۔۔۔

وہ ان پر سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے آگے بڑھنے لگی لیکن پھر ایک آواز نے اس کا تعاقب کیا۔۔۔ جسے سن کر وہ رکی۔۔۔۔

” ایلف !! بیٹا یہاں آئیں۔۔۔ یہ دیکھیں۔۔۔ ” وہ پیچھے مڑی تو وہ اس کی طرف مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔۔ لہجے میں بےپناہ اپنا پن تھا۔۔۔۔

وہ لب بھینج گئی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ اس سے رشتے کے متعلق ہی بات کرے گے۔۔۔ پر وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔ اور نا ہی کرے گی۔۔۔ پر اللہ کے حکم کے آگے کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔۔

” جی دادہ !! کیا بات ہے۔۔۔ ” وہ ان کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔ جیسے ہی وہ بیٹھی۔۔۔ تو رخسار (اس کی دادی ) نے اس کے سامنے کچھ تصویریں جکی۔۔۔ جو مخض کچھ لڑکوں کی ہی تھی۔۔۔۔۔

” یہ کیا ہے ؟؟ ان کا میں کیا کرو ؟؟ ” تلخ لہجے میں بولتے ہوئے اس نے تصویریں واپس ٹیبل پر ہی رکھ دی۔۔۔۔

” بیٹا !! یہ کچھ تصویریں ہیں۔۔۔ رشتے کے لیے۔۔۔ تم دیکھ لو کونسا اچھا ہے۔۔۔” آمنہ (اس کی امی ) نے مسکرا کر کہا۔۔۔

لیکن ایلف کو یہی لگا کہ یہ تصویریں اس کی چچا زاد کزن سفینہ کے لیے ہیں۔۔۔۔۔

” یہ تصویریں آپ سفینہ کو دیکھائیں نہ مجھے کیوں دکھا رہی ہیں۔۔۔ ؟؟؟” اس نے لب بھینجے ہوئے بولا۔۔۔۔ وہ اس بات یہ کہہ کر ختم کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

” بیٹا !! جب شادی تم نے کرنی ہے تو سفینہ کا ان تصاویر سے کیا سروکار ؟؟؟” رخسار نے کہا۔۔۔۔

” میں نے شادی نہیں کرنی۔۔۔ یہ میں آخری دفعہ کہہ رہی ہوں اگر آج کے بعد مجھے کسی نے تنگ کرنے کی کوشش بھی کی تو میں یہ حویلی چھوڑ کر چلی جاؤ گی۔۔۔ اٹس لاسٹ ٹائم۔۔۔۔ “

وہ غصہ کی آگ میں جلنے لگی تھی۔۔۔۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان تصویروں کو آگ لگا دے۔۔۔ لیکن ان دونوں کا ادب لحاظ کرتے ہوئے اتنا ہی بولی۔۔۔۔

” بیٹا !! پر کبھی تو شادی کرنی ہی ہے نہ آپ نے تو اب کیوں نہیں۔۔۔ ؟؟؟ ابھی کیا مسئلہ ہے۔۔۔۔ ؟؟ اور میرے لیے۔۔۔ ” رخسار کو سمجھ نہ آئی کہ وہ شادی سے انکار کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔۔۔۔

” بس دادو !! میں یہ شادی نہیں کروں گی تو نہیں کروں گی۔۔۔۔ آپ نے پہلے بھی مجھ سے یوں ہی زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی لیکن دیکھیں کیا ہوا۔۔۔۔ اب بگت رہی ہو نہ۔۔۔۔ “

اس اپنے زندگی کے گزرے ہوئے تین سال پہلے کا واقع یاد آگیا۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ وہاں جانے لگی۔۔۔

” ایلف رکیں !! یہ شادی آپ کو کرنی ہو گی یہ ہم کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ ” رخسار نے حکم چلانے کی کوشش کی۔۔۔۔

” بس بہت ہو گیا !! میں وہی کروں گی۔۔۔ جو میرا دل کرے گا میں نہیں مانو گی یہ بات آپ کی۔۔۔ پوری زندگی ہر بات مانی ہے میں نے آپ کی۔۔۔۔ پر اس دفعہ نہیں۔۔۔ پہلے بھی ماننی تھی اور اس کا نتیجہ اب تک بگت رہے ہیں۔۔۔ “

وہ لب بھینج گئی۔۔۔ اور یہ کہہ فوراً وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔

” یہ دیکھیں انھیں بات ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں۔۔۔ ” رخسار اس کی ماں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔

” اماں جی !! چھوڑ دیں اس بات کو۔۔۔ وہ نہیں کرنا چاہتی اس شادی کو رہنے دیں انھیں۔۔۔ ابھی کسی اور لڑکی کا رشتہ طہ کر لیتے ہیں۔۔۔ ” آمنہ رخسار کو وجہ بتاتے ہوئے مشورہ دینا نہ بھولی۔۔۔

” وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن کبھی تو ایلف کو شادی کرنی ہی ہوگی نہ۔۔۔ ” رخسار نے کہا۔۔۔۔

” وہ جب اللہ چاہے گا تو ہو جائے گی شادی بھی۔۔۔۔ ” آمنہ کے کہنے پر وہ چپ کرگئی۔۔۔

____🌹🌹🌹🌹_____

” بابا۔۔۔ کیا میں اندر آجاؤں۔۔۔ !!” ایلف نے اپنے بابا کے کمرے میں تھوڑا سا جھانک کر دیکھا اور پھر بولی۔۔۔۔

” ہاں بیٹا !! آجاؤ۔۔۔ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ ” وہ مسکرا کر بولے تو ایلف کمرے میں فوراً داخل ہوئی۔۔۔۔

” بابا !!!” وہ اس کے سینے سے جا لگی اور رونے لگی۔۔۔۔ جسے دیکھ حمید شاہ تڑپ کر رہ گیا۔۔۔۔

” ایلف !! میرے بچے کیا ہوا ؟؟ کیوں رو رہیں آپ۔۔۔۔ ” حمید شاہ نے اپنی بچی کو کتنی دیر بعد یوں روتے ہوئے دیکھا تھا جسے دیکھ وہ تڑپ اٹھے تھے۔۔۔۔ ایلف ان کے سوال کا جواب دیے بغیر روئے جا رہی تھی۔۔۔۔

” دیکھیں ایلف !! اگر آپ چپ نہیں ہوئی تو پھر ہم آپ سے بات نہیں کرے گے۔۔۔ بیٹا !! اگر آپ نہیں بتائیں گی کہ ہوا کیا ہے۔۔۔ ؟ تو میں کیسے اس کا حل نکالو گا۔۔۔ “

وہ مسلسل اسے سمجھانے کی کوشش کررہے تھے۔۔۔۔ پر اپنے بابا کی یہ بات سن کر وہ پیچھے ہٹیں اور بولی۔۔۔۔

” بابا !! کیا میں آپ پر بوجھ ہوں۔۔۔۔ ” وہ جو پہلے ہی بیٹی کے آنسو دیکھ تڑپ رہے تھے۔۔۔ یہ بات سن کر ان کا دل کیا کہ آگ لگا دے پوری دنیا کو۔۔۔۔۔ لیکن وہ لب بھینج گئے۔۔۔۔

” ایلف بچے !! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔۔ ؟ مجھے سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔ ” حمید شاہ نے کہا۔۔۔۔

” بابا !! مجھے تو یہی لگتا ہے کہ میں آپ پر بوجھ ہوں۔۔۔ جسے آپ جلد از جلد اتارنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ ” ایلف اپنے باپ کے دل پر اپنی باتوں سے حملہ کر رہی تھی۔۔۔۔

” ایلف !! کسی نے کہا ہے کچھ آپ سے۔۔۔۔ ” وہ اب آئیبروز اٹھاتے ہوئے بولے تھے۔۔۔۔

” بابا !! میں کتنی دفعہ کہہ چکی ہوں کہ مجھے شادی نہیں کرنی پھر بھی کسی پر میری بات کا کوئی اثر ہی نہیں ہے۔۔۔۔ ” وہ روتے ہوئے بولی۔۔۔۔

” کیا ہوا ہے کیا اماں جی نے رشتے کی بات کی ہے۔۔۔ آپ سے۔۔۔ ” حمید شاہ اس بات سے کچھ تو سمجھ ہی چکے تھے۔۔۔۔

” بابا !!! میں شادی کبھی بھی نہیں کروں گی بتا رہی ہوں میں آپ کو۔۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گئی۔۔۔ حمید شاہ نے روکنے کی کوشش کی پر وہ نہ رکی۔۔۔۔۔

_____🌹🌹🌹_____

شام کے چھ بج رہے تھے۔۔۔ سرن ڈھلنے کو تھا۔۔۔ وہ کافی کا کپ ہاتھ میں لیے۔۔۔ ٹیرس پر ہوئی تھی۔۔۔ لیکن جب اسے اپنے اوپر کسی کی گہری نظریں محسوس ہوئی تو پیچھے مڑی۔۔۔

ایک منٹ کے لیے تو سانس کیسے ہے ہی نہیں۔۔۔ لیکن پھر پیچھے کھڑے شخص کو دیکھ کر سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔

” دانیال تم !! تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔۔۔ ” پیچھے بلیک کلر کے ٹراوئزر شرٹ میں ملبوس ہاتھ میں کافی کا مگ لیے ہوئے اس کی پھپھو کا بیٹا دانیال شاہ کھڑا تھا۔۔۔۔

” کیا ہوا اس پری کو۔۔ کافی اداس لگ رہی ہیں آپ۔۔۔ کوئی بات ہوئی ہے یونی میں۔۔ ” وہ کہتا خود ہی بولنے لگا۔۔۔۔

” نہیں یار وہ دادو !! آج پھر کسی لڑکے کا رشتہ لے کر آئی ہیں۔۔۔ !!” ایلف نے افسردگی سے کہا۔۔۔ جس پر دانیال کو اپنی سانس اکھڑتی محسوس ہوئی۔۔۔۔

” اور تم نے ہاں کردی۔۔۔ ” دانیال کی بات پر اس کا دل تو کیا کہ اسی مگ سے اس کا سر پھوڑ دے۔۔۔۔

” ہاں ہاں !! میں تو اسی کے انتظار میں تھی۔۔۔ جیسے وہ آئے اور میں فوراً اس سے شادی کرلوں۔۔۔۔ ” ایلف غصے سے دیکھتی ہوئی بول کر وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔

اس کی یہ بات سن کر دانیال کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ دانیال شاہ اس سے ننھی سی کلی سے محبت کرتا تھا۔۔۔ پر اس کی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے آج تک اس بات کا اظہار نہیں کیا تھا۔۔۔۔

___🌹🌹🌹_____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *