Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 11

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

وہ گاڑی چلاتا ایک جگہ پر آکر رکا۔۔۔۔ اور پھر دو سے تین دفعہ گاڑی چلانے کی کوشش کی لیکن نہ چلی۔۔۔ تو وہ اترا اور چیک کیا تو گاڑی میں کوئی مسئلہ تھا۔۔۔ پر وہ ایک انسان جگہ تھی۔۔۔ ہر طرف اندھیرا ہی چھایا ہوا تھا۔۔۔ آس پاس صرف حالی فیکڑیاں اور گودام ہی نظر آرہے تھے۔۔۔

ماہر نے موبائل کی لائٹ آن کی اور آگے کی طرف بڑھا کہ شائید کوئی مل جائے جو اس کی گاڑی ٹھیک کردے۔۔۔۔ وہ خود میکینک کو بلا لیتا اگر وہاں نیٹ ورک ہوتا۔۔۔ وہ چلتا چلتا کافی آگے پہنچا۔۔۔

لیکن پھر ایک جگہ پر آکر رکا اور ایک پتلی سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔

” بچاؤ !! پ۔۔۔پلیز کوئی ہیلپ کرو۔۔۔ !! ” اس آواز کا تعاقب کرتے ہوئے وہ آگے بڑھا۔۔۔ اور وہ ایک گودام میں پہنچا۔۔۔ اور آواز کے تعاقب میں آگے بڑھا۔۔۔

وہ بڑھتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور جیسے ہی اس پر روشنی ڈالی۔۔۔ تو سامنے ایک خوبصورت سی نازک کلی سفید شلوار قمیض دوپٹہ اس کا گاڑی میں ہی رہ گیا تھا۔۔۔

آنکھوں سے آنسو لڑی کی صورت بہہ رہے تھے۔۔۔ بال بکھرے ہوئے۔۔۔ اور اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے۔۔۔ اسے دیکھ کر تو وہ کچھ پل کے لیے ہوش کھو بیٹھا۔۔۔

اسے لگا اس نے اس سے زیادہ حسین لڑکی دنیا میں پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی۔۔۔ وہ کوئی اور نہیں عالیہ ہی تھی جس کا کڈنیپ اس کی اپنی ہی بہن سفینہ نے کروایا تھا۔۔۔

اس ہینڈ سم لڑکے کو دیکھ کچھ دیر وہ بھی ساکت ہوئی پر جب اسے اپنے ہاتھوں پر درد محسوس ہوا تو فورا حال میں واپس آئی۔۔۔

” تت۔۔ تم !! “

اس کی آواز سنتے ہی ماہر ہوش میں آیا اور اس کی طرف دیکھا۔۔۔ جو اسے دیکھ کافی گھبرا گئی تھی۔۔۔

” گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میں آپکی مدد کرنے آیا ہوں وہ تو میں گزر رہا تھا تو آپ کی آواز سنی۔۔۔ !! “

یہ کہتے ہوئے ماہر نے اس کے ہاتھ کھولے اور پھر پاؤں۔۔۔ اور لڑکھڑاتی ہوئی اٹھی۔۔۔

” سنے !! ٹائم کیا ہوا ہے۔۔۔ ؟ ” عالیہ نے ماہر سے سوال کیا۔۔۔

” رات کے گیارہ بج رہے ہیں۔۔۔ !! ” ماہر نے آہستگی سے جواب دیا۔۔۔۔ ” کیا ؟؟ گیارہ بج گئے اور ۔میری شا۔۔۔ ” اتنا کہتے ہوئے وہ رکی۔۔۔

اور پیچھے سے آتے ان نقاب پوشوں کو دیکھ کافی گھبرا گئی۔۔۔۔ اسے گھبراتا دیکھ وہ پیچھے مڑا اور ان کو دیکھا۔۔۔۔

” اے تو کون ہے۔۔۔ ؟؟ اور تیری جرات کیسے ہوئی اس لڑکی کو کھولنے کی۔۔۔ !!” ان سب لڑکوں میں سے ایک لڑکے نے کہا۔۔۔۔

” میری جرات تک نہ ہی جاؤ۔۔۔ تو تم لوگوں کے لیے اچھا ہے۔۔۔۔ ! ” وہ بھی ماہر کسی سے نہ ڈرنے والا۔۔۔ اور یہ تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی۔۔۔

” اچھا !! چل نہیں جاتے تو چپ چاپ یہاں سے نکل ورنہ تیری موت پکی ۔۔ ” ان میں سے ہی ایک نے کہا۔۔۔ تو وہ ہلکا سا مسکرا گیا۔۔۔

” کیا کہا مجھے آواز نہیں۔۔۔ زرا اونچی کہنا۔۔۔ !! “ماہر نے کان پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔ اور عالیہ تو اس کی ہمت کو ہی دیکھ رہی تھی کہ کیا چیز ہے وہ جو اتنے لوگوں کو سامنے دیکھ کر بھی نہیں ڈرا۔۔۔

” لگتا ہے کہ تو ایسے نہیں مانے گا۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے انھوں نے مٹھیاں بھینجی اور آگے بڑھے۔۔۔ ماہر نے سب کا ڈٹ کر مقابلہ لیا۔۔۔

عالیہ ڈر کے مارے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔ ماہر نے ایک ایک کی خوب دھلائی کی۔۔۔

اور سب کو نڈھال کردیا۔۔۔ اور پھر وہ اس حسین بلا کی طرف بڑھا۔۔ جو ڈر کے مارے کانپنے لگی تھی۔۔۔

” آر یو آکے۔۔۔ !! ” ماہر اس کے پاس آکر بالکل اس کے سامنے کھڑا ہوا اور اس سے سوال کیا۔۔۔ ” ی۔۔ی۔۔یس !! ” یہ کہتے ہی اس کا ایک دم سر چکرایا۔۔۔ اور اس نے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔

یہ عمل ماہر کی آنکھوں کے سامنے ہی ہوا تھا۔۔۔۔ ” آر یو آکے۔۔ ” اس سے پہلے کہ وہ اس کا جواب دیتی۔۔۔۔

وہ نیچے گرتی اس کی باہوں میں جھول گئی۔۔۔۔ اسے بخوشی دیکھ وہ کافی فکرمند ہوا اور اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔

___💕💕💕___

” دادو !! میں ہی کیوں ؟؟ سفینہ بھی تو ہے نہ اور اگر وہ نہیں تو آپ عالیہ کا ویٹ کرلے وہ آ جائے گی پر میں شادی نہیں کروں گی۔۔ !! ” وہ صاف صاف منع کرتے ہوئے اٹھی۔۔۔

وہ بس اس سے خود کی جان چھڑانی تھی ۔۔ جس کی وہ ہر کوشش کر رہی تھی۔۔۔

” آپ کو خدا کا واسطہ ہے ایلف !! پلیز یہ نکاح کرکے ہمارے خاندان کی عزت کو بچا لیں۔۔۔ ” رخسار کو یوں دیکھ اس سے رہا نہیں گیا اور مجبورا ہاں کہنا پڑا۔۔۔

رخسار اسے شادی کا جوڑا دے کر کمرے سے نکلی۔۔۔۔ پیچھے سے اس کی

آنکھوں سے نا چاہتے ہوئے بھی آنسو بہہ گئے۔۔۔

آنسو صاف کرکے اس نے شادی کا جوڑا لیا اور واش روم کی طرف بڑھی۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ تیار ہوکر نکلی اور پھر نکاح کی رسم کا وقت ہوا۔۔۔

ایلف اور واسم کو ایک دوسرے کے سامنے بٹھایا گیا۔۔۔ اور درمیان میں پھولوں کی لڑیاں لہرائی گئی۔۔۔

واسم کو بھی اس رشتہ سے کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔ وہ تو ایلف سے ہی شادی کرنا چاہتا تھا لیکن پھر اسی کی وجہ سے اس کی محبت اس سے دور ہوگئی تھی۔۔۔

” ایلف بنت حمید شاہ آپ کا نکاح واسم بنت سرور شاہ کے ساتھ بعوض حق مہر دس لاکھ روپے سکی راجالوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔ !! “

مولوی کی آواز سن کر بھی وہ کچھ دیر خاموش رہی۔۔۔ لیکن پھر بولی۔۔۔

ق۔۔قبول ہے۔۔۔ !! “

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟

قبول ہے !!

کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟

قبول ہے۔۔!!

ایلف کے بعد وہ واسم سے متوجہ ہوئے۔۔۔

” واسم بنت سرور شاہ آپ کا نکاح ایلف بنت حمید شاہ کے ساتھ بعوض حق مہر دس لاکھ روپے سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔ !! “

قبول ہے!!

قبول ہے!!

قبول ہے !!

سائیں کرنے کے بعد دعا مانگی گئی۔۔۔ ایلف اپنی زندگی اس کے نام کر چکی تھی جس سے کبھی اس نے محبت کی تھی۔۔ پر اب اس کے دل میں اس کے لیے صرف نفرت ہی تھی بس۔۔

رسمیں۔ ادا کرنے کے بعد ایلف کو واسم کے کمرے میں بٹھایا گیا۔۔۔ پر اس نے کونسا محبت کی شادی کی تھی۔۔۔ اس لیے وہ بیڈ سے اٹھی اور واش روم میں گئی۔۔۔ اور کپڑے جینج کرکے خود کو زیورات سے بجات دلا کر وہ صوفے پر لیٹ گئی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس شخص کے ساتھ ایک ہی بیڈ پر سوئے۔۔۔

صوفے پر لیٹتے ہی وہ گہری نیند سوگئی۔۔۔ کمرے کا دروازا کھلا لیکن اس سے ایلف کی نیند میں کوئی حلل نا ہوا اسے صوفے پر دیکھ کر واسم کو غصہ تو چڑھا لیکن پھر غصے پر قابو کرتا ہوا بیڈ کی طرف بڑھا اور آنکھیں موند گیا۔۔۔

___💕💕💕____

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *