Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 22

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

” دی یہ کیا بات ہوئی آپ نے کہا تھا کہ ماہر کی دلہن میری عریشہ بنے گی تو پھر یہ سب ماہر ہی شادی۔۔۔ ؟؟ ” شہناز کی چھوٹی بہن نے اس سے فون پر کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔

” ارے۔۔۔ چاہتی تو میں بھی یہی تھی لیکن پتہ نہیں یہ عالیہ کہاں سے آگئی ہے۔۔۔ اور مجھے حیرانگی اس بات کی ہے ماہر نے اس رشتے کے لیے ہاں کیسے کہہ دیا ہے۔۔۔ پتہ نہیں کیوں۔۔۔ ؟؟ ایسا کیا دکھا اسے اس لڑکی میں اس کو۔۔۔ ” اس نے اپنی چھوٹی بہن کو تسلی دی۔۔۔

” پر دی مجھے کچھ نہیں پتا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کو نبھائے اب۔۔۔ !! ” اس نے شہناز کو اس کا وعدہ یاد کروایا۔۔۔

” مجھے یاد ہے۔۔۔ اور تم۔فکر نہیں کرو یہ شادی ہوگی تو ضرور پر میں اسے ٹکنے نہیں دو گی۔۔۔ !! ” شہناز نے یہ کہا تو دونوں کے چہروں پر شیطانی مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔

” ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے اس وقت کا انتظار رہے گا۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے اس نے فون بند کردیا۔۔۔

اسے لگا تھا کہ وہ کمرے میں اکیلی ہے لیکن پیچھے سے عریشہ کو اپنے سامنے آتا دیکھ کر اس کے رونگھٹے کھڑے ہوگئے۔۔۔

” امی۔۔۔ یہ کیا کررہی ہیں آپ۔۔۔ ؟؟ کیوں کر رہی ہیں آپ ایسا۔۔۔ !! ” عریشہ اس کے سامنے آتے ہی اس پر برس پڑی۔۔۔

” تیرا گھر بنا رہی ہو۔۔۔ شادی بھی تو کرنی ہے نہ تیری۔۔۔ ” اس نے کہا تو اسے اور غصہ آیا۔۔۔

” میری شادی۔۔۔ کسی کا گھر تباہی کرکے۔۔۔ !! کسی کا گھر اجاڑ کر۔۔۔ !! ” عریشہ کی باتوں سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ ان دونوں کی باتیں سن چکی ہے۔۔۔

” بکو مت۔۔۔ مجھے کیا کرنا ہے میں اچھے طریقے سے جانتی ہوں۔۔۔ تمھیں زیادہ بیچ میں بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ !! “

یہ باتیں سنتے ہی اس کی ماں نے اسے جھڑک دیا۔۔۔

” میں آپ کو آخری دفعہ کہہ رہی ہوں کہ میں ماہر سے کبھی بھی شادی نہیں کرو گی چاہے جو مرضی ہو جائے۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے عریشہ اس کمرے سے نکل گئی۔۔۔

اور پیچھے اس کی ماں نے ماتھا پیٹ لیا۔۔۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی ایسے گھر جو کسی کہ گھر کو توڑ کر بنائے جاتے ہیں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔۔۔

اور جب وہ اس سے شادی ہی نہیں کرنا چاہتی تھی تو پھر اس کی والدہ اس سے زبردستی کیوں کررہی تھی۔۔۔۔

وہ کیوں اس کی بات نہیں سمجھ رہی تھی۔۔۔ آخر وہ کیوں اس پر زور زبردستی کرنا بند کرتی تھی۔۔۔

لیکن یہ باتیں اس کی امی کو کون سمجھائے ؟؟

” یا اللہ ! اسے ہدایت دے۔۔۔ !! ” سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے ہوئے اس کی والدہ نے کہا۔۔۔

اور پھر اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

واسم ہوسپٹل میں کمرے کے سامنے چکر کاٹ رہا تھا۔۔ اسے یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کرے تو کیا کرے۔۔ ؟؟

ایلف کی طبعیت یوں اچانک اتنی زیادہ کیسے خراب ہوگئی۔۔۔ کہ وہ بے ہوش ہی ہوگئی۔۔۔

وہ اسی پریشانی میں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔

کہ دروازہ کھلنے کہ آواز پر اس کے قدم رکے اس نے مڑ کر دیکھا تو وہاں سے ایک لیڈی ڈاکٹر باہر نکلی تھی۔۔۔۔

واسم اسے دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھا۔۔۔

” Doctor!! How is my wife now… ?? “

اس کے پاس پہنچتے ہی اس نے سوال کیا تھا۔۔۔

” Now she is fine.. !! BUT you have to take care of them… “

ڈاکٹر نے کہا تو اسے پھر بھی کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اسے ہوا کیا تھا۔۔۔

” ڈاکٹر لیکن میری وائف کو ہوا کیا ہے۔۔ کین یو ٹیم می۔۔۔ !! ” واسم کے پوچھنے پر ڈاکٹر نے بولنا شروع کیا۔۔۔

” انھوں نے رات سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے جس کی وجہ سے ویکنیس ہوگئی ہے انھیں۔۔۔ اسی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگئی تھی۔۔ پر فکر نہیں کریں ہم نے میڈیسنز دے دی ہے وہ جلد ہی ریکور کر لیں گی۔۔۔ “

ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ ایلف نے رات سے کچھ بھی نہیں کھایا تو اسے ایک بار پھر سے ایلف پر شدید غصہ آیا کہ وہ اپنا بالکل بھی حیال نہیں رکھتی۔۔۔رات کو کرنا تھا کرلیا ایٹ لیسٹ صبح اٹھ کر ناشتہ تو کرتی۔۔۔

ڈاکٹر نے اس کی طرف ایک چٹ کی جس دوائیاں لکھی ہوئی تھی۔۔۔ وہ لیتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

فون بج رہا تھا لیکن عالیہ کمرے میں نہیں تھی تو اسے اس کی آواز سنائی نہ دی۔۔۔

ماہر اسے کافی دیر سے فون کررہا تھا لیکن جب کچھ دیر تک اس نے فون نہیں اٹھایا تو وہ ڈر سا گیا۔۔ کہ کبھی اتنی دیر تو نہیں کرتی عالیہ۔۔۔

عالیہ کمرے میں داخل ہوئی تو فون کی آواز سنتے ہی فون کی طرف بڑھی۔۔۔ دیکھا تو ماہر کی کال تھی۔۔۔

ناجانے کیوں اس کا نام دیکھ اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔

” ہیلو۔۔۔ !! ” عالیہ نے فون اٹھاتے ہی کہا۔۔۔

” عالیہ کہاں ہیں آپ۔۔۔ ؟؟ میں آپ کو کب سے کال کررہا تھا۔۔۔ از ایوری تھنگ از فائن۔۔۔ !! ” اس نے جیسے ہی کہا تو ماہر ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ دیا۔۔۔

” سوری۔۔۔ وہ مجھے پتہ نہیں چلا میں روم نہیں تھی۔۔۔ گھر میں تھوڑی پریشانی چل رہی تھی۔۔۔ !! ” اس نے بتایا تو اس نے افسردہ سا منھ بنایا۔۔۔

” گھر میں سب حیریت تو ہے نہ۔۔۔ !! ” ماہر نے عالیہ سے پوچھا۔۔۔

” وہ دراصل میری کزن کی طبعیت بہت خراب ہوگئی تھی تو اسی وجہ سے۔۔۔ وہ ہوسپٹل میں ہے۔۔۔ ” عالیہ نے اسے بتایا۔۔۔

” اللہ انھیں صحت عطا فرمائے۔۔۔ “

” آمین۔۔۔ !! ” اس کی بات سنتے ہی ماہر نے ایلف کی تندرستی کی دعا کی تو اس نے آمیں کہا۔۔۔

اور پھر یوں ہی وہ دونوں باتیں کرتے رہے۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

واسم ایلف کو گھر لے کر آیا تھا۔۔۔

اب وہ بہتر تھی لیکن پھر بھی ڈاکٹر نے ریسٹ کی خاص تاکید کی تھی۔۔۔

جس پر واسم نے کافی عمل کیا تھا۔۔۔ ایلف کے کھانا کھانے کی زمہ داری اور دوائیاں وغیرہ بھی وہ خود کھلاتا تھا۔۔۔

یہاں تک کہ وہ ایلف کو کوئی کام بھی نہیں کرنے دیتا۔۔۔ جس سے ایلف سخت تنگ آگئی تھی۔۔۔

لیکن واسم کو اس کی اتنی پرواہ نہیں تھی جتنی اس کی صحت کی تھی۔۔۔ابھی بھی اس نے اسے زبردستی کھانا کھلایا تھا جبکہ ایلف کا بالکل بھی دل نہیں تھا کھانا کھانے کا۔۔۔ یہ اس کی دوائی کھانے کا ٹائم ہو رہا تھا۔۔۔

” ایلف یہ لیں کھا لیں۔۔۔ ” اس کی طرف دوائی کا پتہ بڑھاتے اور پانی کا گلاس آگے کرتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔۔

لیکن ایلف صاحبہ منھ بنا کر بازو باندھ کر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ جسے واسم نوٹس کر چکا تھا۔۔۔۔

” ایلف۔۔۔ !! ” اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو پہلے ایلف نے اسے اور پھر دوائیوں کو گھورا۔۔۔۔

” مجھے نہیں کھانی۔۔۔ !! ” وہ یوں منھ بنا کر بیٹھی ہوئی بولی تو واسم نے اسے گھورا۔۔۔

” کیوں نہیں کھانی یہ لاسٹ ڈوز ہے۔۔۔ کھا لیں۔۔۔۔ !! ” واسم نے پھر سے پانی اور دوائی اس کی طرف بڑھائی پر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔۔۔

” فرسٹ ہو یا لاسٹ آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔ !! ” اس نے غصہ میں کہا۔۔۔

” آپ اس طرح نہیں کھائے گی۔۔۔ !! ” گولی نکالتے ہوئے اپنے ہاتھ اس کے منھ کی طرف بڑھائے اور کھلانے کی کوشش کی۔۔۔

اس کے ہاتھ اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر ایلف نے اس کے ہاتھوں کو روکا۔۔۔ اور گولی پکڑ کر منھ میں ڈالی اور پانی پی لیا۔۔۔

واسم نے یہ بات نوٹ کی تھی کہ اسے یہ بھی گورا نہیں تھا کہ وہ اسے چھوئے۔۔۔

۔۔

اب ایلف ٹھیک ہو چکی تھی اور ایک ماہ کے اندر اندر ماہر اور عالیہ کی شادی کی ڈیٹ فکس کی گئی۔۔۔ !!

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *