Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 3

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

صبح کے دس بج رہے تھے۔۔۔ اور سب لوگ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے۔۔۔ نور بیگم کو یہ بتاتے ہوئے ہچکچاہٹ تو محسوس ہوئی لیکن بتانا تو تھا ہی کہ ان کا بیٹا آرہا ہے۔۔۔

” وہ مجھے آپ سب لوگوں کو کچھ بتانا ہے۔۔۔ ” نور بیگم کے یوں کہنے پر سب کی نظریں آکر ان پر ٹک گئی اور سب لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔

” جی کہیے !! نور کیا بات ہے۔۔۔ ؟” رخسار نے فوراً نور بیگم سے کہا۔۔۔

” وہ دراصل اماں بات یہ ہے کہ واسم آرہے ہیں پاکستان کل صبح کی فلائٹ ہے ان کی۔۔۔ میری ان سے رات میں ہی بات ہوئی تھی۔۔۔ ” نور کے کہنے پر کسی نے بھی خوشی کا اظہار نہ کیا سوائے سفینہ کے۔۔۔ سب لوگوں کے چہرے پر افسردگی چھا گئی تھی کیونکہ انھیں پچھلے تین سال پہلے کا واقع یاد آگیا تھا۔۔۔۔

” ارے پھپھو !! یہ تو خوشی کی بات ہے ہمیں تو ان کا استقبال کرنا چاہئیے نا آپ فکر نہیں کریں سارے انتظامات میں دیکھ لوں گی۔۔۔ ” سفینہ نے چیک کر بولا۔۔۔ جسے دیکھ ایلف وہاں سے اٹھی اور ٹیرس کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

” ارے اسے کیا ہوا ؟؟” جانتی تو سفینہ بھی تھی کہ تین سال پہلے واسم شاہ ایلف شاہ کے ساتھ کیا کر کے گیا تھا پھر بھی انجان بن رہی تھی شائید اس کے دل میں ابھی بھی اس کے لیے جذبات تھے۔۔۔۔

” سفینہ !! کیا واسم پہلی بار آرہیں حویلی کیا وہ پہلے کبھی بھی نہیں آئے یہاں۔۔۔۔ کسی کو کچھ بھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ” رخسار نے تلخ لہجے میں کہا جو سب کو لا جواب کر گیا۔۔۔۔

” پر دادو !! اتنی دیر بعد آرہیں۔۔ وہ حویلی۔۔۔ ” اس سے پہلے کے وہ کچھ اور بولتی رخسار نے اسے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروایا۔۔۔ اور ناشتہ کرنے کے لیے کہا۔۔۔۔

دانیال بھی کھانے کی میز سے اٹھ کر جا چکا تھا۔۔۔۔ ایلف کے پیچھے گیا تھا وہ۔۔۔ کیونکہ وہ اس کی کیفیت کو سمجھ سکتا تھا وہ۔۔۔ پہلے کچن میں گیا اور دو کافی کے کپ بنائے اور پھر ایلف کے پاس گیا ٹیرس پر۔۔۔۔

سب نے نوٹ تو کیا تھا لیکن وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے۔۔ کیونکہ آج سے تین سال پہلے واسم نے حرکت ہی ایسی کی تھی۔۔۔

ایلف ٹیرس پر کھڑی ہو کر اپنا سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔۔ اسے ناجانے کیوں اس شخص کے آنے سے اتنا فرق کیوں پڑ رہا تھا۔۔۔۔ ؟ یہ بات وہ خود نہیں جانتی تھی۔۔۔

شائید ایلف نے اس سے کبھی محبت بھی کی تھی۔۔۔ لیکن پھر جو واسم نے اس کے ساتھ کیا تھا۔۔۔ اس کے بعد محبت کو اپنے دل کے ایک کونے میں ڈال کر اس کونے کو تالہ لگا دیا۔۔۔ اور اب وہ صرف اس شخص سے نفرت کرتی تھی۔۔۔۔

” کافی۔۔۔ !!” ایلف اپنی ہی سوچوں میں گم تھی لیکن پھر ایک بھاری بھرکم آواز پر وہ ڈری اور پیچھے مڑی۔۔۔ تو دیکھا وہاں دانیال دونوں ہاتھوں میں کافی کے کپ لیے کھڑا تھا۔۔۔ اس نے ایک کافی کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔۔

” لی بھی لو کافی۔۔۔ میں نے خود بنائی ہے اپنے ہاتھوں سے۔۔۔۔ ” جب کچھ دیر تک ایلف نے کوئی ریپلائے نہیں کیا تو آخرکار اس نے پھر سے اپنی بات کو دہرایا۔۔۔۔ جس پر ایلف ہوش میں آئی اور اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ لے لیا۔۔۔۔

” تھینکس۔۔۔ ” کافی کا کپ لے کر ایلف نے اس کا شکریہ ادا کیا۔۔۔ کیونکہ ایک وہی تو تھا جو اس کی کیفیت کو سمجھتا تھا۔۔۔۔ اس کی کئیر کرتا تھا۔۔۔۔

” دوستی میں نو شکریہ نو تھینک یو۔۔۔ انڈرسٹوڈ۔۔۔۔ ” دانیال اس کے سامنے آکر کھڑا ہوا اور مسکرا کر بولا۔۔۔۔

” یس سر آئی کین انڈرسٹینڈ۔۔۔ ” یہ سن کر ایلف کے چہرے پر بھی بے ساختہ مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ اور کچھ لمحوں کے لیے تو وہ اپنی پریشانی کو بھول ہی گئی۔۔۔۔

” تم بھائی کے آنے پر پریشان ہو۔۔۔۔ ” کچھ لمحے گزرنے کے بعد اس کی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے۔۔۔ دانیال نے اس سے سوال پوچھا۔۔۔۔

” دانیال۔۔۔ نہیں میں اس شخص کے آنے پر پریشان کیوں ہونے لگوں گی وہ میرا لگتا ہی کیا ہے۔۔۔۔ پر اب مجھے دن رات اٹھتے بیٹھتے اس کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔۔ ” ایلف کی بات سن کر دانیال شاہ اپنے لب بھینج گیا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہی بات اس کی پریشانی کی وجہ ہے۔۔۔

” دیکھو !! تم تو پریشان مت ہو تم تو ایک بریو گرل ہو نہ۔۔۔ اور یاد ہے تم نے مجھے کیا کہا تھا۔۔۔۔ کہ اگر واسم شاہ کبھی واپس آبھی گیا تو تم پریشان نہیں ہوگی۔۔۔ تو بھئی اب کیا ہوا۔۔۔ اب کہاں گئی وہ ہمت۔۔۔ ” وہ اسے اس حال سے نکالنا چاہتا تھا۔۔۔۔

” تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ یو نو مجھے دکھ اس بات کا نہیں ہے کہ وہ واپس آرہا ہے کیونکہ واپس تو اس نے ایک نہ ایک دن آنا ہی تھا۔۔۔ اس کی مما رہتی ہیں یہاں بھائی رہتا ہے۔۔۔ لیکن دکھ تو مجھے اس بات کا ہے کہ کتنی جلدی گھر والوں نے اسے معاف کردیا۔۔۔۔ ” ایلف کے کہنے پر وہ لب بھینج گیا۔۔۔۔

” اچھا چلو کافی تو پئیو ٹھنڈی ہو رہی ہے۔۔۔۔ ” دانیال نے بات بدل دی۔۔۔۔

__💕💕__

آج واسم گھر واپس آچکا تھا۔۔۔ بلکہ سب سے مل بھی چکا تھا۔۔۔ سوائے اس کے جسے تین سال پہلے وہ چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔ وہ لان میں کھڑا ہوکر کسی سے موبائل پر بات کررہا تھا۔۔۔

” ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔ !! چلو میں کل کال کرتا ہوں۔۔۔ ” اس نے بات مکمل کی اور موبائل کو کان سے ہٹایا۔۔۔ ” چلو بھی یار دانیال۔۔۔۔ ” جیسے ہی اس نے فون کو کان سے ہٹایا ایک چہکتی ہوئی آواز اس کے کانوں میں گئی۔۔۔

جسے سنتے ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔ ” تو آخر تم آہی گئی۔۔۔ ” اس نے خود سے کہا اور پھر پیچھے مڑا تو دیکھا ایلف اور دانیال مسکرا کر ایک دوسرے سے باتیں کررہے ہیں۔۔۔ جسے دیکھ کر اس کے چہرے سے مسکراہٹ ختم ہو گئی۔۔۔۔

ایلف کے کندھے پر لٹکتا ہوا بیگ جب اس کی نظروں میں آیا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ دونوں کہیں جارہے ہیں۔۔۔ وہ ان۔کی طرف بڑھا۔۔۔

ایلف کی اس کی طرف پشت تھی۔۔۔ وہ مسکرا کر دانیال سے باتیں کررہی تھی۔۔۔ ” کہیں جارہے ہو کیا۔۔۔۔ ؟” اس شخص کی آواز سنتے ہی ایلف کے چہرے پر چھائی مسکراہٹ جھٹ سے غائب ہوئی اور آنکھیں بھینج گئی۔۔۔

” دانیال میں گاڑی میں ہوں جلدی کرو مجھے یونی سے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ گاڑی کی طرف بڑھی۔۔ اور دروازہ کھولتے ہوئے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔۔۔ اس سب میں اس نے واسم کو مکمل طور پر اگنور کیا تھا۔۔۔۔

جسے واسم نے بھی خوب پہچانا تھا اور دانیال نے بھی جسے دیکھ واسم لب بھینج گیا۔۔۔

” ایلف کو یونی چھوڑنے جا رہا ہوں۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور گاڑی یونی کے راستے پر ڈالی۔۔۔ واسم ایلف کے تیور ہی دیکھتا رہ گیا کہ یہ وہی لڑکی جس نے اس سے کتنی محبت کی تھی۔۔۔ کسی اور لڑکے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتی بھی نہیں تھی۔۔۔ اور آج اس کی طرف اس نے دیکھنا بھی پسند نہیں کیا تھا۔۔۔ اس سب میں بھی اس کی ہی غلطی تھی۔۔۔

__💕💕___

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *