Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Raah E Mohabat (Season 1) Episode - 18

Raah E Mohabat (Season 1) By Abdul Ahad Butt

واسم اور ایلف گھوم پھر کر کھانا کھا کر آئے تھے۔۔۔

ایلف کے دل کو کافی راحت مل چکی تھی۔۔۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا حویلی میں اس نے تو شکر ادا کیا کہ باہر نکلے اس قید خانے سے۔۔۔

لیکن واسم کی طرف سے اس کا دل بالکل بھی صاف نہیں ہوا تھا۔۔

وہ دونوں مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے تو سامنے ہی سفینہ ان کا انتظار کررہی تھی۔۔۔۔ وہ تو یہ چاہتی ہی نہیں تھی کہ ان دونوں کا دن اچھا گزرے۔۔۔۔

ان دونوں کے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر اس کے چہرے کا رنگ فق سے اڑا۔۔۔۔ جسے واسم اور ایلف دونوں ہی نوٹ کر چکے تھے۔۔۔

” سفینہ۔۔۔ !! تم۔ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔ ایسے کیا دیکھ رہی ہو جیسے تم نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا تو وہ حال میں واپس آئی۔۔۔

اور ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

” نہیں۔۔ نہیں تو۔۔۔۔ ایسا کیوں کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ !! ؟ ” سفینہ نے آنکھیں میچتے ہوئے کہا۔۔۔۔

” میں نے اسی لیے کہا کیونکہ ہمیں دیکھ کر تمھارے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔۔ بس اسی وجہ سے۔۔۔ !! ” ایلف نے کہا تو اس نے اپنی پلکوں کا گیرا تنگ کیا۔۔۔

” نہیں ۔۔۔ !! ویسے ہی آپ کو لگا ہو گا۔۔۔۔ !! ” سفینہ نے کہا تو ایلف نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔

” ہاں ہو سکتا ہے۔۔۔ !! ” چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لائے اس نے کہا تو وہ جل بھن کر رہ گئی۔۔۔

” اچھا حیر۔۔۔ !! دادو آپ دونوں کا انتظار کررہی ہیں۔۔۔ کھانا کھا لیں۔۔ ” یہ کہتے ہوئے وہ مڑی اب اس کی ان دونوں کی طرف پشت تھی۔۔۔

” ہم کھانا کھا کر آئے ہیں۔۔۔ !! ” واسم جو اس وقت سے چپ تھا اب بولا تو وہ مڑی اور انھیں دیکھنے لگی۔۔۔

” مجھے نیند آرہی ہے میں سونے جا رہی ہو۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے ایلف اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

” مجھے بھی نیند آگئی ہے۔۔۔ تم دادو کو بتا دینا۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے واسم بھی کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

اور سفینہ انھیں دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔

” کھانا کھا کر آئے ہیں۔۔۔ !! کہیں ایلف کو پھر اس سے محبت تو نہیں ہو گئی ہے کیا۔۔۔ !! ؟ نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ہے۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی کبھی بھی۔۔۔ !! “

حود سے ہی باتیں کرتے ہوئے وہ کھانے کی میز کی طرف بڑھے۔۔۔۔

واسم کو ایک ایمپوڑٹینٹ فون کال آگئی تھی جس کی وجہ سے وہ کمرے میں نہیں گیا تھا۔۔۔

کمرے میں داخل ہوا تو لائٹس نیم تھی۔۔ ایلف چینج کر کے سو چکی تھی۔۔۔

وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن وہ سو گئی۔۔۔ اسے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ کیوں ہی وہ اسے چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔

اگر نہ جاتا تو شائید آج وہ اس سے بہت محبت کرتی۔۔۔ اتنی محبت کہ شائید وہ بھی اس سے اتنی محبت نہیں کرتا۔۔۔۔

لیکن ابھی وہ اس سے صرف نفرت کرتی ہے۔۔۔ اور شائید آگے بھی کرتی رہے گی۔۔۔

سوچتے ہوئے ہی وہ واش روم گیا اور چینج کرکے آیا اور صوفے پر ڈھ گیا۔۔۔

اور کب اس کی آنکھ وہ خود بھی نہیں جان پایا۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” ماہر۔۔۔ !! ” اسے جاتا ہوا دیکھ کر حور نے اسے آواز دی۔۔۔

” جی آپی۔۔۔۔ !! ” اس کی آواز پر اس کے بھی قدم رکے۔۔۔ اور وہ اس کے پاس آتا ہوا بولا۔۔۔

” مجھے تم سے بہت ہی ضروری بات کرنی ہے ایک۔۔۔۔ بیٹھ جاؤ۔۔۔۔ !! ” حور کے کہنے پر وہ اس کے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔

” اور وہ ضروری بات کیا ہے۔۔۔ ؟؟ ” ماہر نے کہا۔۔۔

” میں نے تمھارے لیے ایک لڑکی پسند کی ہے۔۔۔ !! ” حور کے کہنے کی دیر ہی تھی جو اس کی ساری مسکراہٹیں ہوا میں اڑ گئی۔۔۔

” دیکھو ماہر۔۔۔۔ !! میں جانتی ہوں کہ تمھارے لیے مشکل ہے لیکن پلیز میرے لیے ایک دفعہ مل وہ لڑکی بہت ہی زیادہ اچھی ہے۔۔۔۔ اور اس کی والدہ ہماری مما کی دوست بھی تھی۔۔۔۔ !! “

حور کے کہنے پر ماہر نے سر جھکایا۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ کبھی بھی نہیں مانے گا اس لیے اس نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔

” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اس لڑکی کی کوئی تصویر وغیرہ۔۔۔ ؟؟ ” ماہر کے کہنے پر اس نے نظریں چرائی۔۔۔

” آپی اب یہ مت کہیے گا کہ اس کی آپ کے پاس کوئی تصویر نہیں ہے۔۔۔۔ ” ماہر ۔ے اسے نظریں چراتا ہوا دیکھ اس کو گھورا۔۔۔

” نہیں۔۔۔۔ تصویر تو ہے لیکن وہ میں ابھی تمھیں نہیں دو گی۔۔۔۔ !! ” حور کے کہنے پر اس نے مٹھیاں بھینجی۔۔

” کیوں۔۔۔۔ ؟؟ ” اس نے پوچھا تو وہ مسکرائی۔۔۔

” کیونکہ میں جانتی ہوں کہ اگر اس کی تصویر میں نے تمھیں دی تو تم کوئی نہ کوئی نقص نکال کر اسے ریجکیٹ کر دو گے۔۔۔۔ ” اس نے اپنا موقف بیان کیا۔۔۔۔

” اور میں ایسا کیوں کرو گا۔۔۔ ؟؟ ” وہ ایسا ہی کرنا چاہتا تھا۔۔ اسی لیے نہایت ہی معصوم شکل بنا کر اس نے کہا۔۔۔۔

” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ اس لڑکی کی تصویر تو تمھیں اس وقت ہی ملے گی جب تم اس لوکیشن پر جاؤ گے جہاں میں نے کہا ہے۔۔۔ ” حور نے بھی اسی کی طرح معصومانہ چہرہ بنایا جسے دیکھ وہ سنجیدہ ہوگیا۔۔۔

” آک فائن۔۔۔۔ چلا جاتا ہوں۔۔۔ !! ” یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھا اور چلا گیا۔۔۔

حور کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

” امی مجھے نہیں جانا کسی سے بھی ملنے۔۔۔۔ !! ” عالیہ نے منھ بسورتے ہوئے اپنی والدہ سے کہا۔۔۔۔

” کیوں نہیں جانا۔۔۔۔ ؟؟ تمھارے تو اچھے بھی جائیں گے۔۔۔ !! “

اس کی والدہ نے کہا تو وہ مسکرائی۔۔۔

” تو آپ اچھوں کو بھیج دیں مجھے نہیں جانا۔۔۔۔۔۔ ” یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی ماں کا جوڑا دور کیا جو انھوں نے اس کے لیے نکال کر رکھا تھا۔۔۔۔

اسی دوران ایلف بھی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

” ایلف دیکھو امی کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔۔ ! ” اس نے ایلف کو دیکھتے ہی اس کی ترف داری حاصل کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔

” ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔۔ !! ” یہ سنتے ہی عالیہ کا رنگ اڑ گیا۔۔۔ اس کی والدہ نے اس سے پہلے ایلف سے بات کی تھی۔۔۔۔

” اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ !!” یہ کہتے سوٹ اٹھا کر وہ واشروم میں چلی گئی۔۔۔۔

ایلف اور اس کی والدہ مسکرانے لگی

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *