Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 9)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 9)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
عظمہ بیگم کے قریب بیٹھتے اس نے نرمی سے ان کے گرد حلقہ بنایا اور ان سے وعدہ کیا کے وہ اب زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارے گا ،، ان کی ابھی بیٹی بیاہنے والی تھی اور عظمہ بیگم بیٹے کے دل اور حساس طبیعت سے بخوبی واقف تھی کے کس وقت اور کیسے اُسے اپنی جانب متوجہ کرنا ہے ،،وہ گہری سانس بھرتے اٹھا اور ان سے اجازت طلب کرتا دانین کے گرد اپنی مضبوط بازو کا حصار بنایا تو وہ جو بھراے دل کے ساتھ ان کے قریب کھڑی تھی اس کے اٹھنے اور اپنی پشت پر رینگتی اس کی انگلیوں کے لمس سے يكلخت سرخ پڑتے ٹھٹھک کر اس کی جانب دیکھنے لگی جو اُسے آنکھوں سے چلنے کا اشارہ کرتے دہلیز پار کر گیا ۔
باہر آتے ہی اس نے احتیاط سے اُسے اپنے پیچھے بیٹھنے کی ہدایت کی ،، اذلان ملک سے وہ سارا راستہ ہم کلام نہ ہوئی ،، وجہ وہ اچھے سے جانتا تھا ،، گزرے بیس دن دانین کو وہ جان
گیا تھا کے وہ بہت حساس اور ڈرپوک قسم کی تھی ۔
راستے میں بیکری کے قریب وہ رکے تھے ،، ان کے لیے کچھ سامان لینے کے لیے ،، وہ جو اشتعال میں کھڑی اُسکا انتظار کر رہی تھی اذلان نے کیک اور بسکٹس کے شاپر آگے لٹکائے اور اسکی جانب دیکھا ،، کیا ہوا ہے تم کیوں اتنی خاموش ہو گئی ہو ۔۔
وہ بلکل خاموش رہی ،، سر ہلاتے وہ اس کے پیچھے بیٹھ گئی کے وہ اتنی بھری بیٹھی تھی کے وہ ذرا سا کچھ بولتی تو یقیناً رونے لگ جاتی ،،
انہیں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی تھی ،، اس کے سرخ پڑتے چہرے کی جانب دیکھتے وہ واپسی پر اس سے اس متعلق بات کرنے کا سوچتے اس نے بایک سٹارٹ کی۔
______________
بہتر یہی ہے کے آپ آزان سے دور رہیں ،، ابھی وہ بہت چھوٹی ہیں اور ہم ابھی ایسا کچھ نہیں چاہتے ____ خاموش بیٹھے زین چوہدری کی آواز نے ماحول میں چھائی ویرانی کو خاموشی تِری تو وہ جو سے جھکایا بیٹھا تھا ان کے الفاظ سے توڑا ،، تو قریب بیٹھے طیب کے چہرے ک رنگت متغیر ہونے لگی ،، یکلحت سر اُٹھائے اس نے زخمی نگاہوں سے انہیں دیکھا ۔
بچے آپ آزان کو بھول جائیں اور زندگی میں آگے بڑھیں ،، عون چوہدری نے پرسوچ انداز میں زین چوہدری کو دیکھتے سپاٹ انداز میں کہا تو وہ دل پر ہاتھ رکھتا گہرے دکھ سے بھرے لہجے میں بولا ،، آپ مجھ سے میرے جینے کی وجہ چهین کے مجھے زندگی جینے کا کہہ رہے ہیں ،،
آپ کہیں طیب کمال سانس لینا چھوڑ دو ،،میں چھوڑ دوں گا ،،
یہ دل ان کے بغیر دھڑکنے کو راضی نہیں ہے ” اپنے دل پر ہاتھ رکھتا وہ گھٹے گھٹے لہجے میں درد کی شدت سے بولا
آزان چودھری طیب کامل کی زندگی میں پہلی اور آخری عورت ہوگی ،، جسے دیکھ کر میرے دل نے انہیں اپنی دسترس میں لینے کی خواہش کی ،، جسے پانے کی چاہ میں ،، میں سابقہ تین مہینے سے گلی کوچوں میں دیوانوں کی مانند پھرتا رہا ۔۔
آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں اپنی من پسند عورت کو میں کیسے کسی اور مرد کے لیے چھوڑ دوں ،، ساری زندگی میں یہی سوچ کے دن رات پل پل سلگتا رہوں گا کے میری محبت کسی اور کی ملکیت بن چکی ہے ،، یہ مجھے گوارہ نہیں ،، اس سے بہتر ہے آپ ہنجر لے کر میرے ٹکڑے کر دیں ،،لیکن مجھے اتنی کری سزا مت سنائیں ،، دل میں بڑھتے درد کے سبب وہ اپنی حد
درجہ سرخ آنکھوں سے انہیں دیکھتا کوئی جنونی ہی لگا تھا ۔
عون چوہدری نے ایک نگاہ اس پر ڈالی جو ان کے قدموں میں سر گرائے اپنی محبت کا طلبگار تھا ،، اور دوسری نگاہ ماریہ بیگم پر ڈالی جنہوں نے آنکھوں سے انہیں تسلی بحش جواب دیا ۔۔۔
آخر کار ہر ماں کی طرح وہ بھی یہی چاہتی تھی کے ان کی بیٹی کو بے انتہا چاہنے والا شخص ملے______ اور طیب کمال کی محبت پر انہیں یقین تھا ۔
اُسکا سرخ چہرہ بھیگی آنکھیں ،، اور التجائیں کرنا ان کے دل کو نرم کر گیا تھا ،،اپنے سامنے دامن پھیلائے اس جوان مرد کی مان جو اپنے بیٹے کی زندگی کی طلبگار تھی ،،
سسکیوں کی آواز پر عون چوہدری نے نگاہ اٹھاتے دروازے کی جانب دیکھا ،، آزان چوہدری سپید پڑتے چہرے اور بے حال سے خلیہ میں دروازے کی اوٹ میں کھڑی سسکیاں بھر رہی تھی، کمرے کی فضا میں سناٹا سا چھایا تھا ،،
آزان جو سوئ اُٹھی تھی ،، اور اٹھتے ہی جو خبر اسے ملی اُسے سنتے وہ ننگے پاؤ بھاگتی باہر نکل آئ تھی ،،
اور جب کانو میں اسکی رنجیدہ آواز ،، اُسکی منتیں ،، التجایں،، پڑی تو وہ سن ہوتی وہی کھڑی رہ گئی ،، اُسے اپنے قدم اٹھانا مشکل ہو گیا ،، اسے اپنے بابا کے قدموں میں سر گرائے دیکھ کر اُسکا دل دماغ شل ہو گیا ،،
اس کے لفظوں کی باگزشت سے اُسے اپنا دم گھٹتے محسوس ہوا ،، تو کیا وہ شخص اُسکے سبب اتنی اذیت میں تھا ” اسکی نم آنکھوں اور بھیگا لہجہ اس کے دل میں اٹھتی درد کی شدت بڑھانے لگا
۔۔
اس کے وحشت میں لپٹے لفاظی اس کے دل کو ڈھرکانے کے لیے کافی تھے ،، کے اس کے سبب وہ شخص موت کو فوقیت دے رہا تھا ،،
اسکی ذات کسی کے لیے اذیت ک باعث بن رہی تھی
اُسکے نازک وجود پر لرزش طاری ہونے لگی خوف سے ،،
اس نے کانپتے ہاتھ اپنے لبوں پر رکھتے سسکتے وجود کو بمشکل گھسیٹا ، اور اپنا نازک وجود لیے واپس کمرے میں بند ہو گئی ،، لرزتے بدن اور سرخ روی آنکھیں ،،پھٹتے دماغ کے ساتھ وہ بیڈ پر گر گئی ۔
وہ ان کی التجائیں اور آہیں بھرتے وجود کو دیکھ کر
گہرا سانس ہوا کے سپرد حارج کرتے ایک فیصلے پر پہنچے ،،انہوں نے اپنے تمام تر اندیشوں کو فراموش کرتے اس کے سر پر ہاتھ رکھا ،، اٹھو برخردا ،، اب داماد یوں پاؤں میں بیٹھے تھوڑی نا اچھے لگتے ہیں ۔۔۔۔
طیب کمال نے خیرت و بے يقینی سے نگاہیں اُٹھائے ان کی جانب دیکھا جن کی چہرے پر اب مسکرہٹ احاطہ کیے ہوئ تھی
آپ کے الفاظ اور آپکی والدہ کی زبان پر ہم اس رشتے کے لیے آمادہ ہوئے ہیں ،، لیکن اگر آپ کے الفاظ یان آپ کے کسی بھی عمل سے ہماری بچی کو تکلیف پہنچی ،، یان آپ کے کردار میں ہمیں ذرا سی کھوٹ دکھائی دی تو لحظہ بھر کو وہ رکے ،، اس دن آپکا سامنا ایک چوہدری سے ہوگا ۔۔
اور یقیناً وہ دن آپکی زندگی کا آخری دن ہوگا ،، سرد لہجے میں کہتے انہوں نہ طیب کمال کو جانب دیکھا جو
نگاہیں جھکاتے ان کے سامنے بیٹھا تھا ،، عون چوہدری کے تنے چہرے اور سخت تاثرات سے وہ ان کے قریب بیٹھ گیا ۔
مم ——- میں ” میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جن سے میں آپکا شکریہ اد آکر سکون ،، وہ اُسے سمجھ نہ ا آرہا تھا کیا کیا بولے ،، لفظ جیسے ساتھ چھوڑ گئے تھے ،،
خوشی اسکی آنکھوں سے نمایاں ہو رہی تھی ،، اس کے روم روم سے خوشی پھوٹ رہی تھی آج وہ اتنا خوش تھا ،، اُسے تو لگا تھا وہ آج اپنی زندگی یہی ہار کر جا رہا ہے ۔۔
اس کی خاموشی اور آنکھوں میں محبت کی دنیا آباد تھی جسے سب دیکھ کر دبا دبا سا مسکرا دیے ۔۔
چندہ بیگم ان کی رضامندی سے اٹھتی خوشی اور خریت کے ملے جلے تاثرات سے سرشار ہوتے ماریہ بیگم کے ہاتھ تھام گئی ،، بہت شکریہ ” اور ان کے گلے ملتی مسکرا اُٹھی ۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں اپنی جان سے بڑھ کر ان کی خفاظت کروں گا ،، جس دن آپ کو ذرا سا بھی مجھ پر کوئی شک ہو میری گردن حاضر ہے ،، میرا سر قلم۔کر دیجیئے گا ۔۔
پرسکون انداز میں کہتا وہ سرشار سے ان کا شکر گزار تھا ،،، ان کا ہاتھ تھامے عقیدت سے ان پر لب رکھتا وہ نم آنکھوں سے انہیں دیکھتا ان کا مشکور تھا ۔
میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جن سے آپکا شکریہ ادا کر سکون ۔
__________________yumna writes
کھانے کے بعد وہ لوگ کافی در بیٹھے خوش گپیوں میں مشغول رہے ،، وقت کا خیال کرتے انہوں نے اٹھتے اجازت طلب کی اور
الوداعی کلمات ادا کرتے واپسی کی راہ لی ۔
گھر سے کچھ فاصلے کی مسافت پر وہ دونوں چہل قدمی کرتے اس راستے پر تھے مقصد صرف کچھ وقت اکیلے گزارنا تھا ۔۔
دنین امی کی بات سے حفا ہو تم ؟؟….
سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا وہ لب بینچتی نفی میں گردن ہلا گئ ،، نہیں میں خفا نہیں ہوں ۔
مجھے ان کی آواز سے خوف آتا ہے اذلان ،، اور ان کا مجھے دیکھنے کا انداز دیکھا تھا آپ نے ،، وہ مجھے بہت سختی سے گھور رہی تھے جیسی ساری غلطی میری تھی اس سب میں ۔
میں نے تو کبھی کچھ کہا بھی نہیں ، وہ آنسو روکتے نم لہجے میں کہتی نگاہیں جھکا گئ ۔۔
اوه _____میری معصوم بیوی ،، انہوں نے تم سے کچھ نہیں کہا ،، اس میں رونے والی کیا بات ہے ،، اس کے گرد اپنا مضبوط حصار بناتے وہ اس کا ہاتھ تھامے ان پر لب رکھتا پر تپش لہجے میں کہتا اس کو لرزنے پر مجبور کر گیا ۔۔
آپ نہیں روکتی لیکن میرا تو دل ،، دماغ ،، جذبات سب کچھ تو آپ کے گرد گھومتے ہیں ،، اب یہ کیا جانے کے آپ مجھ سے بچنے کے جواز تلاش کرتی ہیں اور ایک میں ہوں جو آپ پر اپنے جذبات لوٹانا چاہتا ہوں ،، اس کے معنی خیز جملے سے اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی ۔۔
قدرے سنسان سڑک پر چلتے وہ اپنے منہ زور جذبات سے اُسے آگاہ کرتا اس کے نازک دل کو پھرپھرانے پر مجبور کر گیا ۔
مٹے مٹے سے میک آپ میں وہ اس کے من موہنے چہرے کو گہری نگاہوں میں لیے وقتًا فوقتاً اُسے سرخ پڑنے پر مجبور کر دیتا ۔
گھر کے گیٹ کے قریب پہنچتے اس نے بکھری سانسوں کے ساتھ اس کا ہاتھ اپنی کمر سے نکالتے اُسے اشارہ کیا ،، پریشان کیوں ہوتی ہوے بیگم سب سو چکے ہوں گے کافی وقت ہو گیا ہے اس کی جانب شرارت سے دیکھتے وہ اس پر جھکتے بولا ایک تو تم ڈرتی بہت ہو ،، مان ہیں میری ،، اور تم ایسے خوف کھاتی ہو جیسے وہ تمہیں سالم نگل لے گی ۔
گیٹ کھولتے وہ اُسکا مذاق اڑاتے بولا تو وہ منہ بناتے ہوئے بولی،، تو اور کیا آپ کو تو آنٹی نے کچھ کہنا ن ہیں لیکن مجھے ایسے ی دیکھتی ہیں کیے سالم ہی نگل جائے ۔
دھیمے قدم اٹھاتے وہ کمرے میں داخل ہوے ،، آمد ہمم ایسا کچھ نہیں ،، ان کا بس انداز سخت ہے ورنہ امی بلکل بھی سخت طبیعت کی نہیں ،، اپنی والدہ کی صفائی میں وہ جلدی سے بولا تو وہ جو نیچے جھکے سٹریپ کھول رہی تھی ،، اس کے بے ساختہ ہاتھ رک گئے۔۔
نگاہیں اٹھا کر اسکی جانب ایک نظر دیکھا جو اس کی قریب جھکتے اب ہیل کا سٹریپ کھول رہا تھا ،،، اس کا نازک پاؤں جوتے کی قید سے آزاد کرتا وہ اس کی جانب دیکھتا سمجھانے والے انداز میں بولا ،، دانین میں تم سے کچھ نہیں چاہتا سوائے اس کے کے تم میری ماں بہن کا خیال رکھو اور ان کی عزت کرو ،، تمہاری جانب سے انہیں کوئی شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہیے ،، تمہیں جو کہنا ہے مجھ سے کہو میں سن رہا ہوں ،، تمہاری ہر خواہش کا احترام کرنا اور اسے پورا کرنا میرا فرض ہے ،،بدلے میں میں تم سے یہ چھوٹی سی ریکویسٹ ہے ،، کے میرے پیچھے سے امی اور انابيه کا خیال رکھنا ،، میں بہت محبت کرتا ہوں ان سے ،،
اس کے اپنے اتنے قریب گود میں رکھے ہاتھوں کو تھامے اس کے مضبوط کسرت سے دکھائ دیتی سبز دکھائ دیتی وینز پر نگاہ ٹکائے اس نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔ تو وہ مسکرا کر اُسے سینے میں بینچ گیا ۔
اس کی سخت گرفت میں مچلتی وہ تھوڑا فاصلہ بنائے بولی ،، نیند آئی ہے مجھے ” چینج کرنا ہے اس کی نگاہوں کی لپک کو سمجھتی وہ جھجک کے کہتی اٹھ گئی ۔
