Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 26) Last Episode (Part - 1)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 26) Last Episode (Part - 1)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
اپنے بابا کی رندھی آواز سنتے اُس نے لرزتی پلکوں کو کھولتے انہیں دیکھا اور پھر جھٹکے سے اٹھتے ان کے سینے میں سما گئی ، میری جان!!! میری بیٹی ________
انتہائی دکھ و تکلیف میں مبتلا ہوئے وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو سینے سے لگائے اس دل میں لگی آگ کو کم کرنے لگا ۔
زین چوہدری وحشت زدہ سا اُسے روتے دیکھ رہا تھا دل چاہ رہا تھا ایک منٹ سے پہلے طیب کمال کا کام تمام کردے ۔ آزان روتے ان کے سینے سے لگی تکلیف کی شدت سے تھر تھر کانپ رہی تھی ،، آنکھوں کے سامنے گھومتا منظر اُسے تکلیف دیتا رولا رہا تھا ۔
بابا اس نے ایسا کیوں کیا ۔۔۔ وہ ایسا نہیں ہے مجھے یقین نہیں آتا ۔
اُس نے ہچکولے کھاتے وجود سے سر اٹھاتے کہا تو عون چوہدری کے دل میں درد محسوس ہوا ۔۔کچھ نہیں بیٹا ابھی سب بھول جاؤ ہم گھر جا کر اس بارے میں آرام سے بات کریں گے آپ نے پریشان نہیں ہونا بس ۔
اسے خاموش کرواتے وہ نرمی سے کہتے اس کے ماتھے پر لب رکھ گئے
مجھے گھر لے چلیں بابا میرا دل بہت گھبرا رہا ہے وہ ملتجی نگاہوں سے انہیں دیکھتی بولی تو وہ سر ہلاتے اُسے ساتھ لگاتے زین چوہدری کو دیکھتے اشارہ کیا ۔
اُسکی میڈیسن اور ڈایٹ چارٹ ڈاکٹر نے دیا تھا ،، وہ لینے زین چوہدری چلے گئے اور وہ اپنے بابا کے ساتھ لگتی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی ۔
زین چوہدری نے بیٹھتے گاڑی سٹارٹ کی اور وہ اپنا سر عون چوہدری کے شانے پر رکھتی آنکھیں موند گئی۔
گھر پہنچتے ہی دہلیز ابھی پار بھی نہ کی تھی کے ماریہ بیگم بھاگتی اس تک پہنچی ،، میری بچی کیا ہوا ہے سب ٹھیک تو ہے نہ ۔۔
آزان کچھ ہوا تو نہیں نا میری جان _____ اسے سینے میں بینچ کر وہ جیسے اپنے دل کو تسلی دے رہی تھی ،،پیچھے سے آتے عون چوہدری کے چہرے کے تاثرات دیکھتے وہ اسے ساتھ لگاتے اندر کی جانب بڑھ گئی ۔
عون مجھے ساری بات بتائیں کیا ہوا ہے میری بچی کو آپ ہاسپٹل کیوں تھے ،، انہیں دیکھتے وہ نم آنکھوں سے متفکر سے مستفسر ہوئ ،، تو وہ جبڑے بینچے اپنے اندر اٹھتے آلاؤ کو کم کرنے کی کوشش کرتے بولے ۔
آپ چلیں پہلے آزان کو کچھ کھانے کے لیے دیں پھر بات کریں گے اس بارے میں وہ بات بدلتے ان کا دھیال آزان کی جانب مبذول کر گئے اور ماریہ بیگم ان کی اضطرابی کیفیت دیکھ کر جان گئی تھی کے کچھ تو ایسا ہوا ہے جو عون چوہدری ان سے چھپا رہے ہیں
زین چوہدری بھی پیچھے اپنی سرخ ڈورون سے بھری آنکھوں سمیت داخل ہوا ،،اریشہ ان کے قریب جاتی ان سے شاپر لیتی انہیں دیکھنے لگی ،،ان کی آزان میں جان تھی ۔۔۔۔ عون چوہدری اور زین چودھری میں بچپن سے بہت پیار اور اتفاق تھا ،، زین چوہدری عون چوہدری پر جان چھڑکتے تھے یہی وجہ تھی کے وہ باہر ملک میں رہتے بھی واپس آئے تھے ،،، صرف اپنے بھائی کا خیال تھا کے وہ زیادہ سخت طبیعت کے نہ تھے اور سادہ تھے ۔
لوگ جانتے تھے کے ان کی اولاد نہیں اور اسی سے وہ فائدہ اٹھاتے تھے
اور بس اسی سمے زین چوہدری نے واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا ،، اریشہ بھی عون چوہدری اور ماریہ بیگم کی پسند تھی وہ نازک سی لڑکی ماریہ بیگم کو پہلی نظر میں ہی بہت بھائی تھی اور انہوں نے زین کو دکھاتے سارا اختیار اسے سونپا تھا کے آخر کو ساری زندگی اس نے ساتھ گزارنی تھی ،، زین چوہدری نے اسے پسند کیا تھا اور یوں اریشہ ان کے گھر آ گئی تھی ۔
اللہ پاک نے ان دونوں پر رحم کیا تھا اور انہیں آزان سے نوازہ تھا ۔
کوئی آیت دم درود جو انہیں بتایا وہ کرتی کبھی اللہ پاک سے ناامید نہ ہوئ اور آزان کے ان کی زندگی میں آتے ہی جیسے ان کی دنیا بدل گئ ۔
وہ گول مٹول شہد رنگ آنکھوں والی گڑیا سب کی جان بن گئی اور چودھریوں کی کوٹھی میں ہر وقت رونق اور جشن کا سماں رہنے لگا ۔
گھر میں خوشیان ہی خوشیان تھی وہ پرسکوں تھے اپنی زندگیوں میں ۔
سب کے اپنے کاروبار تھے اور اللہ پاک نے سب کو اولاد عطا کی تھی ۔
عون چوہدری نے کمرے میں قدم رکھا تو کمرے میں چھائ خاموشی کو دیکھتے انہوں نے قدم آزان کے کمرے کی جانب بڑھائے ،، جہاں چھایا سکوت انہیں آج اندر سے مار رہا تھا ،، تھکے قدموں سے وہ ماریہ بیگم کے قریب آتے کھڑے ہوے جو بھیگی آنکھوں سے اپنی بیٹی کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی ،، عون چوہدری نے نگاہ اٹھا کر آزان کی جانب دیکھا جو دوا کے اثر کے سبب جلد ہی نیند میں چلی گئی تھی لیکن اس کی نم بھیگی پلکیں اور سپید چہرے کو دیکھتے دل و دماغ میں ٹیسیں اٹھنے لگی
ماریہ بیگم نے نگاہیں اٹھائے ان کی جانب دیکھا جن کی گہری شہد رنگ آنکھیں ہوبہو آزان جیسی تھی اس وقت تکلیف اور غصے کے باعث سرخ تھی ۔
عون __________ مشکل سے ہونٹوں سے ان کا نام ادا ہوا تھا اور وہ اپنی بیٹی کی تکلیف کو دیکھتے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتی رو دی ۔
عون چوہدری نے آج تک کبھی انہیں رونے نہ دیا تھا ختی کے تب بھی نہیں جب ان پر سخت آزمائش تھی جب وہ انہیں دوسری شادی کے لیے باربار کہتی تھی _______ وہ بس ایک بات کہتے کے اگر اولاد ہوگی تو آپ سے ہوگی ورنہ نہیں ۔
مرد کیوں اولاد نہ ہونے پر دوسری شادی کر لیتے ہیں جبکہ اللہ پاک نے جب انہیں اولاد دینی ہے جب نصیب میں لکھ دی گئی ہے تو کیوں اتنا جلد باز بنا جائے ۔
اور وہ سوچتی رہ جاتی تھی کے اگر دنیا میں مرد عون چوہدری جیسی سوچ والے ہو جائیں تو دوسری شادی اور مسئلے ہی نہ ہوں
عون چوہدری انہیں روتا دیکھ اپنے لب سختی سے کچل گئے ،، بھیگی آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ دیکھ ماریہ بیگم نے نگاہیں اٹھائے ان کی جانب دیکھا ۔۔۔
عون مجھے لگتا ہے ہم نے غلط فیصلہ کر دیا اپنی بیٹی کے لیے ۔۔۔ وہ کتنی تکلیف میں ہے اور زیادہ ازیت اس بات سے مجھے محسوس ہو رہی ہے کے وہ ہمیں کچھ بتاتی بھی نہیں ۔
وہ ہچکیاں بھرتے بولی تو انہوں نے ضبط سے سرخ ہوتی اپنی نگاہوں سے انہیں سینے سے لگاتے ہوئے مستفسر ہوئے ۔۔۔
اللہ پر بھروسہ رکھیں بیگم وہ بہتر جاننے والا ہے اور ہم سے زیادہ ہماری بچی سے پیار کرتا ہے ۔
انہیں ساتھ لگاتے وہ باہر آتے اس کے کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کرتے زینے طے کرتے اپنے کمرے میں انہیں لے آئے ،، وہ خود بھی کافی تھک چکے تھے یہ جو ذہنی ازیت انہیں پچھلے کچھ گھنٹوں سے ان پر گزری تھی وہ ان کے اعصاب شل کر گئی تھی ۔
اذلان ملک آج بہت خوش تھا وہ اپنی بیوی بچوں کو دیکھ دیکھ کے رب کا شکر ادا کر رہا تھا ۔
عظمہ بیگم جو سوئی ہوئی تھی دنین سے ملتی بری طرح سے رو دی اور ہاتھ جوڑتے اس سے معافی مانگی تھی دنین نے انہیں معاف کر دیا تھا انکا انصاف خود اللہ پاک نے کیا تھا تو اسے کیا ضرورت تھی ان کے ساتھ کچھ بھی خلش رکھنے کی ۔
اپنے اذلان کے بیٹے دیکھ کر وہ رونے لگی تھی ،، خوشی سے آنسو نہیں تھم رہے تھے ۔۔۔
غم کے بادل چھٹ گئے تھے ان کی زنگیوں کو روشنیوں سے منور کر دیا گیا تھا ۔
اللہ پاک انسان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر آزمائش نہیں ڈالتے ۔۔۔۔ بس اس بات پر کامل یقین رکھیں کے اللہ پاک مکافات عمل کرنے والا ہے ،، وہ دور گیا جب کہا جاتا تھا قیامت میں سوال ہوگا نہیں _____ بلکہ اب دنیا میں اللہ پاک حقیقت دکھاتا ہے اور انسان کو عرش سے فرش پر گراتا ہے وہ رب ہے وہ جانتا ہے کے کس کو کتنا عطا کرنا ہے ۔
اس لیے دوسروں سے حسد کرنے اور اسکی آگ میں جلنے سے بہتر ہے اللہ پاک سے مانگا جائے ،،،
دنین نے اللہ پاک پر یقین رکھا تھا اور سب سے بڑھ کر اس کے والدین نے اسے دنیاوی تعلیم کے ساتھ دین کی تعلیم بھی دی تھی جو اسے باشعور بناتی ہے اور اس پر یقین رکھنا سکھاتی ہے ۔۔۔
سب نصیبوں کی بات تھی ،، دوسری تمام ساسوں کی طرح عظمہ بیگم نے بھی یہی سوچا تھا کے وہ عام سی شکل و صورت والی بہو لا رہی ہے
جو ان سے دب کے رہے گی اور ان کے کام کاج کرے گی ،، انابیہ اپنی ماں کے کہنے پر چلتی رہی اور اس سے حسد میں جلتی رہی ۔۔۔ یہاں ان کی سوچ کے برعکس کام ہوا ،، اذلان ملک تھا تو عام مردوں کی طرح ،، سخت مزاج اور اپنے احساسات چھپانے والا پر ایک چیز اسے عام مردوں سے مختلف کرتی تھی اور وہ تھی اس کی بیوی کی عزت ۔۔۔ وہ عزت جو عام مرد کمرے میں تو بیوی کی کرتے ہیں پر باہر آتے ہی گھر والوں کے سامنے دم توڑ جاتی ہے ۔
اذلان ملک نے اپنی ماں بہن کے سامنے ہمیشہ اپنی بیگم کی عزت کی تھی اور اس پر اعتبار کیا تھا اور صرف اس ایک خوبی کو دیکھتے اس کی بیوی نے خود پر گزرے تمام دکھ بھلائے تھے اور اس کے ساتھ واپس آئی تھی
وہ خوش تھی مطمئن تھی اپنے بچوں اور خاوند کو دیکھ کر ،، اس کے دل میں زرہ برار بھی ان کے لیے کوئی خلش نہ تھی وہ بھلا گئی تھی سب کچھ اور بھول جانا ہی بہتر ہے
گاڑی کے ہارن پر چوکیدار نے عجلت میں آگے بڑھتے دروازہ کھولا تھا اور انہیں اشارہ کیا تھا ،، اریشہ جو اپنے پورشن سے وہاں آ رہی تھی پورچ میں گاڑی رکتے دیکھ سمجھ گئی تھی کے طیب کمال اور چندہ بیگم آئے تھے ،، وہ ایک اور تماشے کا سوچ کر جھرجھری لیتے اندر کی جانب بھاگی تھی
چندہ بیگم تو کافی ناراض تھی اور چہرہ الگ شرمندگی سے سرخ پر رہا تھا وہ جانتی تھی جو انکا بیٹا کر چکا ہے وہ دوبارہ کبھی عون چوہدری کے سامنے سر نہیں اٹھا پائیں گی
گھبراہٹ چہرے پر صاف عیاں تھی وہ اسے کہتی رہی تھی کے زرا سمبھل کر کام لو ،، لیکن وہ جلد باز انسان تھے ان کے بقول اور نالائق بھی ۔
وہ دونوں ماں بیٹا اچھے خاصے شاطر دماغ کے تھے ،، باپ کے مرنے کے بعد طیب کمال نے ان کا بزنس دوسروں کے حوالے کر دیا اور اندر بیٹھے مینجر اور ورکرز اپنا کام ہلکے میں لینے لگے اور انکی فیکٹری گھاٹے میں جانے لگی ۔
طیب کمال حسن پرست تھا اس نے آزان کو دیکھا تھا اور بس اس پر دل ہار بیٹھا ،، آزان سے پہلے بھی وہ بہت سی لڑکیوں سے اٹیچ تھا اور ان سے باتیں کرنا اور ملنا ملانا چلتا رہتا ،، لیکن آزان کو دیکھتے وہ پاگل ہونے کو ہو گیا تھا اُسکی خوبصورتی معصومیت کسی کو بھی بہکا سکتی تھی اور اس معصوم کو پھانسنے کا وہ پلان بنانے لگا ۔
دن رات اسکا انتظار کرنا اور پھر آخر کار سو جتن کرکے وہ اسے حاصل ہو گئی تھی ،، وہ آزان کو مکمل طور پر اپنا تابع کر چکا تھا ______ اُسکی گاڑی اُسکا کتنا ہی زیور اُسکے پیسے وہ لے چکا تھا۔
اس کے علاوہ بھی عون چوہدری سے وہ پچاس لاکھ لے چکا تھا بزنس میں گھاٹے کا بول کر ۔۔۔۔
اب وہ خود بھی گھبرا رہا تھا وہ ایک نئی مصیبت کو اپنے گلے کا طوق بنا چکا تھا اس نے اپنے تاثرات نارمل کرتے اندر کی جانب قدم بڑھائے اور لاؤنج میں داخل ہوا ۔
زین چوہدری جسے اُس کی آمد کا اریشہ نے بتایا تھا کھولتے خون سے باہر نکلا تھا اور بغیر کسی کی پرواہ کیے غیزو غضب میں آگے بڑھتے ایک زور دار مکہ اُس کے جبڑے پر جھرا تھا کے وہ لڑکھڑا کے چند قدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئ یہاں داخل ہونے کی ،،، بدذات ۔۔۔۔ کمینے انسان اس سے پہلے کے وہ اسے کچھ اور کہتے معااً عون چوہدری لاؤنج میں داخل ہوے ۔۔ اور انہیں روکا ۔
رک جاؤ زین ______ ہمیں کوئی ضرورت نہیں اس کے منھ لگنے کی نکال باہر کرو اسے بس ،، مزید ہمارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ۔
نکلو فوراً ہمارے گھر سے _____ اس سے پہلے کو کے چوکیدار کو بول کر دھکے دے کر نکالو ” زین چوہدری طیش میں آتے مٹھیاں بینچتے اپنی سیاہ سرخ ڈورون والی آنکھوں سے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے غرائے ۔
طیب کمال جو اس تمام صورت حال کے لیے تیار نہ تھا وہ تو بونچا کر رہ گیا ،، ساری گیم جو اس نے کھیلی تھی وہ پلٹ گئ تھی ۔
نہیں انکل پلیز میری بات تو سن لیں آپ لوگوں کو غلط فہمی ہوئ ہے ____ ہمیں کچھ نہیں سننا نکلو یہاں سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے وہ اسے پیچھے کو دھکیل گئے ۔
چندہ بیگم کی چیخیں نکل گئی ” انہیں ڈر تھا کے کہیں اس بیچ وہ انہیں بھی نہ لے آیں ۔
نکلو _______ خون آشام نگاہوں سے وہ اسے دیکھتے پوری قوت سے دھاڑے ” ۔۔۔۔۔
انکل پلیز ایک مرتبہ ” آنٹی پلیز آپ انہیں بولیں ماریہ بیگم جو ان کے پیچھے ہی کمرے سے نکلی تھی اس تمام صورت حال کو دیکھتے خیران پریشان سی تھی وہ آگے کو آتا ان کی منت سماجت کرنے لگا ۔
ماریہ بیگم نے بھیگی آنکھوں سے طیب کمال کو دیکھا کہو کیا کہنا چاہتے ہو اور اس کے بعد یہاں نظر نہ آنا ۔۔۔
وہ سرد و اسپاٹ لہجے میں کہتی اندر کی جانب بڑھ گئی ۔
وہ ان کے پیچھے دو قدم بڑھاتے آگے بڑھا ،، اس بیچ آزان نیچے سے آتا شور سن کر سیڑھیوں میں کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی ۔
آنٹی قسم سے میں نے سوچا بھی نہیں تھا ایسا ہو جائے گا میں تو بس آزان کے ساتھ ایک پرینک کر رہا تھا آپ اسے بلائے پوچھے وہ بھی تو میرے ساتھ آئے دن کوئی نہ کوئی پرینک کرتی ہے اور پھر بعد میں میرا مذاق بناتی ہے ،،
میں نے بھی اسے تنگ کرنے کی خاطر پرینک کیا تھا لیکن میں کیا جانتا تھا وہ اتنا سیریس ہو جائے گی ،، میں آج اسے بتانے والا تھا لیکن اس سے پہلے ہی چاچو نے مجھے دیکھ لیا اور میری بغیر بات سنے مجھ پر چڑھ دوڑے ۔
میں اس وقت انہیں بتاتا تو یہ کبھی یقین نہ کرتے ۔۔۔
آپکو یقیں نہیں تو آپ آزان کو بلا کر پوچھیں وہ بھی تو میرے ساتھ ایسے ہی کرتی ہے ______ ان سب کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھتے وہ گویا ہوا اور نگاہ اوپر کی جانب اٹھائی جہاں وہ کھڑی نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
آزان نیچے آؤ بتاؤ اپنے بابا کو سچ یار ____ دیکھو کسی کو میری باتوں پر اعتبار نہیں ۔ تم تو جانتی ہو نہ مجھے میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں میں کیسے تمہیں تکلیف دے سکتا ہوں ۔۔ میرا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہیں تھا یار تم جانتی ہو وہ بے بسی سے کہتا اس کی جانب دیکھنے لگا جو خاموش کھڑی تھی ۔
پرینک _________ یہ کیسا گھٹیا مذاق تھا جو کسی کی زندگی تباہ کر دے ۔
تم اسے مزاق کا نام دے رہے ہو نکل جائو طیب کمال یہاں سے اس سے پہلے کے میں اپنا ضبط کھو بیٹھو عون چوہدری غصے کے عالم میں اسے دیکھتے گرجے تھے ،، آزان ان کی گرج دار آواز پر سہم گئی تھی اس نے اپنے بابا کو کبھی غصے میں دیکھا نہ تھا ۔
نکلو یہاں سے سمجھ نہیں آئی تمہیں ایک سیکنڈ سے پہلے اپنی شکل گم کرو یہاں سے ورنہ میری بندوق سے نکلی گولی آج تمہارے سینے کے آر پار ہو جائے گی ،، اسکی بات سے طیش میں آتے زین چودھری نے اسے قہر برساتے لہجے میں دھمکایا تھا
انکل پلیز آپ مجھے معاف کر دیں ،، دوبارہ کبھی ایسا نہیں ہوگا وہ ان کے قدموں میں بیٹھتا ان کے پیر تھام چکا تھا ______ آزان لبوں پر ہاتھ رکھتے انہیں بہتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ،،آنسو زارو قطار سرخ روئی جیسے گالوں پر بکھر رہے تھے
وہ اس شخص کو تکلیف میں مبتلا نہیں دیکھ سکتی تھی اس کی تمام تر غلطیوں کوتاہیوں کو وہ صرف اس کی ایک پیار بھری نگاہ میں بھلا جاتی تھی اور آج وہ اس کے سامنے دامن پھیلائے بیٹھا تھا ۔
بھائی صاحب بچے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں کبھی ہو جاتی ہے غلطیاں بھی سرزد ،،، معاف کر دیں میرے بیٹے کو ،، میں خود اس سے بہت ناراض تھی ۔
دوبارہ نہیں کرے گا ایسے یہ پہلی اور آخری غلطی سمجھیں اسکی چندہ بیگم آگے بڑھتے بولی تو عون چوہدری نے ایک سرد نگاہ ان پر ڈالی ۔
یہ غلطی نہیں گناہ ہے بہن جی _____ میری معصوم بچی کا دل توڑا ہے آپ کے بیٹے نے ،، دو گھنٹے ہاسپٹل رہی ہے میری بچی اس خبیث کے مزاق کی وجہ سے ،، میری بچی بہت نازک دل کی ہے معصوم ہے میں نے پہلے بتایا تھا کے اسے میں نے بچپن سے کسی نازک آبگینے کی طرح رکھا ہے اور اس نے کیا کیا ۔
یہ میری بچی کو توڑنے چلا تھا ،، اس کے ایک گھٹیا مزاق کے سبب جانے کتنی دیر میری بیٹی تکلیف میں رہی ہے ۔اب وہی تکلیف یہ بھی محسوس کرے جو میری بیٹی نے کی ہے آنکھوں میں سرخیاں سمیٹے وہ اسے آگ اگلتی نگاہوں سے دیکھتے ختمی فیصلہ سنا گئے ۔۔
وہ جو اپنی بچی پر ایک آنچ نہ آنے دیتے آج اسے تکلیف میں دیکھتے اسے کیسے نہ ترپتے ،،، تم نے تکلیف صرف آزان کو نہیں بلکہ مجھے بھی پہنچائی ہے ۔
مجھے آج اپنا کیا فیصلہ غلط لگنے لگا ہے وہ اسے خود سے پیچھے کرتے افسردگی سے بولے ۔۔
انکل پلیز ایسا نہ کریں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا ” آزان ،،آزان بولو نہ کچھ _______ آزان مجھے معاف کردو پلیز دیکھو میں ہاتھ جوڑتا ہوں ۔
وہ بے بسی سے آگے بڑھتا چلایا لیکن بیچ راستے ہی زین چوہدری نے اسے روک دیا آزان پلیز کچھ کہو تمہیں خدا کا واسطہ وہ آنسو بہاتا بولا تو آزان کا دل کچھ نرم پرا ۔
بابا ______ معاف کر دیں انہیں ایک آخری بار میرے لیے ۔ آزان زینے طے کرتی نیچے آتی اپنے بابا کے سینے پر ہاتھ رکھتی نرم لہجہ میں کہتی ان کی جانب دیکھنے لگی جو آنکھوں میں ڈھیروں تکلیف لیے اسے دیکھ رہے تھے ۔
میری خاطر _____ وہ نم نگاہوں سے دیکھتی ان کے دل کے مقام پر ہاتھ رکھ گئی ،، بچپن سے اسے جب بھی کسی بات کو منوانا ہوتا تو ایسے کرتی ،، عون چوہدری نے اُسے اپنی محبت بھری نگاہوں سے دیکھا جن میں اس کے لیے محبت کا جہاں آباد تھا ۔
ٹھیک ہے لیکن کچھ دن آپ یہاں رہو گی آپکی مم آپکے لیے پریشان ہوتی رہیں گی اور میں انہیں پریشان نہیں دیکھ سکتا وہ نرمی سے کہتے ماریہ بیگم کی جانب دیکھنے لگے اور آزان ان کی بات سنتی نم نگاہوں سے کھلکھلا دی ۔
تم جا سکتے ہو اور یاد رکھنا کے آئندہ اس طرح کا گھٹیا مذاق نہ دہراو ۔۔ زین چوہدری آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ اور ناراضگی لیے سختی سے گویا ہوے تو طیب کمال کی جان میں جان آئی ۔
یہاں آو میری بچی میں خود اس سے بہت خفا تھی آخر اُس طرح کا بھی کوئی مذاق کرتا ہے چندہ بیگم اسے پیار کرتی بولی تو وہ بس سر اثبات میں ہلا گئی ۔
کچھ دیر میں وہ دونوں واپس چلے گئے طیب کمال نے سب سے بہت معافی مانگی ،، زین چوہدری کو سب بھی غصے میں دیکھتی آزان ان کے قریب جا کر بیٹھی اور ان کے گلے میں بازوں ڈالتے لاڈ سے بولی ،،بس بھی کر دیں چاچو جانی کب سے ایسے موگیمبو بنے ہوے ہیں ،، اتنا غصّہ کریں گے تو کالے ہو جائیں گے انہیں لاڈ سے کہتی وہ ان کے سینے سے لگ گئی ۔
میری جان ____ آج جو آپکے کھوتے کو سبق سکھایا ہے نہ کبھی نہیں بھولے گا اور نہ آپکو تنگ کرے گا ۔
اس کے ماتھے پر لب رکھتے وہ اس کی پل میں گلاب ہوتی رنگت دیکھتے نرم لہجہ میں بولے ۔
بہت اچھا کیا ہے ،،اتنا گھناؤنا مذاق کون کرتا ہے میرا ہارٹ فیل ہو جاتا تو ۔۔۔۔۔۔۔
انہہہہہہ __________ بری بات ماریہ بیگم نے ٹوکا ان کے دل پر ہاتھ پرا تھا اُسکی بات سے ۔
عون چوہدری بھی اپنی بیٹی کی آنکھوں میں محبت کے رنگ دیکھتے خاموش ہو گئے تھے ورنہ وہ طیب کمال کو کبھی گھر نہ داخل ہونے دیتے ۔
ماریہ بیگم نثار جاتی نگاہوں سے اپنی بیٹی کو کھلکھلاتے دیکھ رہی تھی ،،اریشہ بچوں کو دیکھنے باہر نکلی تھی ۔
آزان نے بھی پرسکون ہوتے آنکھیں صاف کی تھی جو صبح سے رو رو کر سوج چکی تھی
