Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 16)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 16)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
گھر میں آئے سب مہمان باری باری جانے لگے تھے ،، سب جانتے تھے کے ابھی صرف نکاح ہی ہوا ہے ،،رخصتی بہت دور ہے ۔۔
لیکن پھر بھی جاتے جاتے اُسے تنگ کرنا اور آگے جلد رخصتی کا بتانے کا کہتے ان سے الوداعی ملاقات کرتے جا چکے تھے ۔
نور نے بھی آزان کے ساتھ ہی یونی سے چھٹیاں لی ہوئ تھی لیکن اب بہت چھٹیاں ہونے کی وجہ سے انہیں پریشانی نے آ گھیرا تھا کے اتنا سلیبس پیچھے رہ گیا ہوگا ،، اس لیے کل سے اپنی روٹین واپس اپنانے کا سوچا اور یونی کی ساری تیاری کی ۔
سب کے ساتھ ہلے گلے میں دنوں کا اندازہ ہی نہ ہو سکا کے کتنا وقت نکل گیا ۔۔اب جب نظر دوڑائ تو خیال آیا کہ وہ پچھلے ایک ہفتے سے یونی نہیں جا رہی تھی ۔
گھر میں ماحول بھی کافی اچھا تھا ،، نکاح کے بعد چندہ بیگم اپنی بہن کے ساتھ ان کے گھر مٹھایاں اور کچھ سامان دینے آئی تھی ،، اور معذرت بھی کر کے جا چکی تھی ۔
البتہ طیب کمال کی جانب سے بلکل خاموشی تھی جو آزان کو بری طرح چب رہی تھی ،، کچھ تو تھا جو وہ شخص اتنا خاموش بیٹھا تھا ،، جو اُسے دیکھے بغیر دن نہیں نکالتا تھا ،،دو دنوں سے کیسے گزارا کر رہا ہوگا ،، نہ کوئی کال نہ میسج ،، مقابل کی جانب سے بلکل خاموشی اختیار کی گئی تھی ۔
خیر آزان چوہدری کو کہاں پرواہ تھی اُسکی اتنی ،، ابھی تو شروعات تھی محبت ،،پسندیدگی جیسے جذبات سے روشناس ہونے کی ،، کلی کو پھول بننے میں کافی وقت درکار تھا جو آزان کے دل میں طیب کمال کے لیے کھلی تھی ۔
یہ طیب کمال پر منحصر تھا کے وہ اب اُسے کیسے اور کتنی جلدی کھلتا گلاب بناتا ۔
____________
دنین جو اس وقت عظمہ بیگم کی بات پر شرما رہی تھی ان کی بات کی گہرائی نہ جان پائ ،،، اور اذلان اسی میں بہت خوش تھا کے اسکی ماں دوسروں کی طرح اولاد کا راگ نہیں لاپتی ۔۔
یہ جانے بغیر کے ان کے دل اور ذہن میں کتنی کدورت اور مکاریت رکھے ہوئے ہیں ۔
ان دونوں کے جانے کے بعد وہ انابیہ کو دیکھتی سفاکیت کی انتہا کرتی بولی ،، میں تو ابھی ایسا کچھ نہیں چاہتی ،، ابھی اولاد نہیں ہے تو میرا جوان خوبرو بیٹا مجنوں بنا پھرتا ہے اس کے آگے پیچھے ،، اگر اولاد ہو گئی تو وہ تو اُسے سر پر بٹھانے سے بھی گریز نہیں کرے گا ۔۔ جب تک تمہاری کسی اچھے خاندان میں شادی نہیں ہوتی میں ایسا کچھ نہیں ہونے دو گی ۔۔
ایک بار جا لینے دو اذلان کو ،، اس لڑکی کو میں اُسکی اوقات یاد دلاؤ گی ۔۔۔ زہر ہند لہجے میں کہتی وہ انابیہ کو دیکھنے لگی جو دنیا جہاں کی بے ذاریت چہرے پر سجائے اپنے فون میں مگن ہو گئ .
کمرے میں داخل ہوتے اذلان اُسے معنی خیز نگاہوں سے دیکھتے بولا ،، آج تو کوئی لال ٹماٹر بنا ہوا ہے ۔۔۔
اذلان پلیز _____ مجھے تنگ کرنا ہے تو کمرے سے باہر چلے جائیں ،، باہر بھی آپ مجھے ایسی ہی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ،، وہ اسکی حرکت سے تنگ آتی پھٹ پڑی ۔
ویسے میں سوچ رہا تھا کے تمہارا اکیلا پن بھی ختم ہو جاتا اگر تم بھی مصروف ہو جاتی ،، سمجھ رہی ہو نہ میں کس کی بات کر رہا ہوں ،، ازلان نے اپنے ہونٹوں کے گوشوں سے پھوٹتی مسکراہٹ کا گلا گھونٹتے اُسے مزید تنگ کرنا چاہا تو وہ جو الماری سے اپنا ڈریس نکال رہی تھی اس کی بات کا پس منظر سمجھتی وہی سے ہی اپنے ڈریس کا گولا بناتے اس پر نشانہ باندھ گئی ،، وہ قہقہ لگاتا باہر کی جانب بھاگا ۔
اپنا ڈریس پریس کرتی دنین ریڈی ہوتی فریش ہوتی باہر نکلی ،، عجیب سی بے چینی اور گھبراہٹ ہونے لگی جو اُسے گزشتہ کئی روز سے محسوس ہوتی ۔
معاً اسی وقت اذلان کمرے میں داخل ہوا اُسے واشرم کے باہر کھڑے ہوتے دیکھ اُسکی جانب بڑھا ،، کیا ہوا ہے طبیعت ٹھیک ہے ؟؟ ۔۔۔
اُسکا ہاتھ تھامے پریشانی سے استفسار کیا ۔۔۔۔
جی کہتی وہ آگے بڑھتے ہلکا پھلکا سا تیار ہوتی جانے کے لیے کھڑی ہو گئی ۔۔آج انہوں نے اُسکی امی کی طرف جانا تھا ،، اُسکا دل اُداس ہو رہا تھا اپنے بابا ،،ماں سے ۔
کچھ ہی دیر وہ دونوں عظمہ بیگم سے ملتے چلے گئے ۔
لبنہ بیگم اور نبیل صاحب بیٹی کو خوش دیکھ دیکھ کے جیتے تھے ،، خوش ہوتے کے ان کے بیٹی ان کی آنکھوں کے سامنے اپنے گھر میں خوش آباد ہے ۔۔
تقریباً ایک دو دن بعد ہی وہ ان سے مل کے جاتی تاکہ وہ اُداس نہ ہو ۔۔ دنین اذلان کو نبیل صاحب کے ساتھ محو گفتگو نرم نگاہوں سے دیکھتے مسکرا دی ۔
__________
وہ دونوں کار میں آرام دہ حالت میں بیٹھی ہوئ تھی ،، نور اسے سب کی باتیں اور خیالات کا اظہار بتا رہی تھی جو انہیں دیکھ کر کیا گیا تھا اور وہ تقریباً سونے والے انداز میں آنکھوں کو موندے سب سن رہی تھی ۔
جھٹکے سے گاڑی رکی تو وہ اپنی شہد رنگ آنکھیں کھولتی باہر دیکھنے لگی ۔۔
چلو میڈم یونی آ گئی ہے اب كس کا انتظار ہے ،، اسے چھیڑتے نور نے ٹوکا لگایا تو وہ نفی میں سر ہلاتے اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے باہر نکلی ۔
ذہن میں اسی شخص کا خیال گردش کر رہا تھا کے کیا وہ وہاں موجود ہوگا کے نہیں ۔۔
ابھی وہ انہی پراگندہ سوچوں کے بھنور میں اٹکی تھی کے گیٹ سے کچھ پیچھے وہ اپنی متعلقہ جگہ پر محصوص اسٹائل میں کھڑا اُسکا منتظر تھا ،، اسکو سامنے کھڑے دیکھ کر آزان کے دل میں ہلچل سی مچنے لگی _____
بے ساختہ ہی اس کے قدم اُسکی جانب بڑھے ،، آج وہ اس شخص کو حالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہتی تھی ،، اُسکی نگاہوں میں ایسی لپک تھی کے وہ چاہتے ہوے بھی خود کو روک نہ پائ ٫،،، وہ جو ہجر کی آگ میں جھلس رہا تھا اُسے اپنی جانب قدم بڑھاتے دیکھ سانس تک روک گیا ۔
ہلکے نیلے رنگ میں بالوں کو کھلا چھوڑے ،، بڑی بڑی آنکھوں میں کاجل لگائے ،،، وہ اس کے دل کے تار چھیڑ گئی ۔
وہ عین اس کے مقابل کھڑی ہوتی اسے دیکھے گئی جو اسے اپنی گہری محمور نگاہوں سے دیکھتا کوئی دیوانہ سا لگ رہا تھا ۔۔
آنکھوں کا تصادم ہوا تو دونوں کے دلوں میں محبت کے جذبات اور احساسات جنم لینے لگے ۔
تھکتے نہیں ہیں آپ یہاں کھڑے ہو کر ؟؟….
سوال تھا جس کا جواب طیب کے پاس نہیں تھا ۔۔
اب تو آپ یہاں کھڑے نا ہوا کریں ،، سب دیکھتے ہیں اور اب تو آپکی ضد بھی پوری ہو چکی ہے تو پھر ” اُسکی نگاہوں میں جھانکتے وہ اس کے سامنے سراپا عشق کھڑی سوال گو تھی ،، اور طیب کمال کا روا روا اُسے اپنے اتنے قریب کھڑے دیکھ کر ہوا میں گہرے سانس لیتے اس کی معطر کر دینے والی خوشبو کو اپنے اندر اُتار رہا تھا ۔
ضد نہیں محبت ،،عشق جنوں جو کسی کو ہو جائے تو کہاں دنیا کی ہوش رہنے دیتا ہے ،، میری آنکھیں تو بس آپ کے دیدار کے لیے نے قرار رہتی ہیں ،، دیکھیں ان میں ،،
یہ کیسے آپ کے نقش نقش کو حفظ کرتے دل میں اتارا رہی ہیں ۔۔
پہلے مجھے یقین کے لینے دیجئے کے آپ میرے سامنے میرے اتنے قریب کھڑی ہیں ،، ان ہواؤں میں آپکی خوشبوں موجود ہے جو مجھے دیوانہ سا بناتی ہے ،،
آپ کی اتنی سی قربت مجھے دنیا جہاں بھلا رہی ہے ،، میں جو تین دن سے اپنے دل پر پہرے ڈالے اُسے سمجھا بجھا کر سلائے بیٹھا ہُوں اُسے دھڑکنے دیجیئے ۔۔۔
آزان اُسکی باتوں سے آنکھیں پھیلائے اُسے تکنے لگی جو اسے کوئی عاشق سا لگ رہا تھا ۔۔
پلیز ______ اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
وہ فقط اتنا بولی ____________ ۔
طیب کمال اس وقت تک یہاں سے نہیں جائے گا جب تک آپ مجھے میری مکمل ہونے کہا احساس نہیں دلوا دیتی ،، اُسکی نگاہوں میں جھانکتے وہ جھکتے محبت کی شدت سے گہرے آنچ دیتے لہجے میں بولا تو اسکی ایسی گفتگو پر وہ اپنے اعصاب کو معطل ہونے سے روکتی اس سے نگاہ چراتے بولی
مطلب کیا چاہتے ہیں آپ اب ؟؟ ۔۔۔۔
تجھ کو دیکھنے سے آنکھیں تھکتی نہیں ۔۔۔
ہے کہاں کوئی تجھ سا نظارہ یہاں ۔۔۔
ماہیا میرے ماہی ۔۔۔۔۔۔
اسکی گھمبیر اواز گونجی
آپ کے ساتھ کچھ وقت بیتانا چاہتا ہوں ،، پرمیشن لے چکا ہوں آپ کے بابا سے ،، اب بس آپکی رضامندی کے لیے یہاں کھڑا ہوں ۔۔۔
غلام آپکا منتظر ہے ” اس کو زاد راہ دے دیجئے ” ۔۔۔
آزان نے اسے الجھن بھری نگاہوں سے دیکھا ” مطلب سمجھا دونگا ،، آج یونی کے بعد میرے ساتھ لنچ پر چلے گی ؟؟….
وہ گہری سانس بھرتی اثبات میں سر ہلا گئی ۔
نور جو یونی کے گیٹ پر کھڑی اس کے انتظار میں سلگ رہی تھی ،، قدم اُسکی جانب بڑھاتے چیخی “
آ جاؤ آزان یان آج یہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے ۔
طیب کمال ایک نگاہ اس پر ڈالتا جا چکا تھا اور آزان چودھری اس کے لب و لہجے میں کھوئ نور کے ساتھ گھسیٹتے يونی کے گیٹ کو پار کر گئی ۔
_______________
دنین کی وہی روٹین شروع ہو گئی تھی ،، اذلان نے کام کاج کے لیے ملازمہ کا بندوبست کر دیا تھا جس پر بھی عظمہ بیگم نے خوب شور برپا کیا کے اسکی بیوی انوکھی نہیں تھی جو کام نہیں کر سکتی ،، اتنا کام نہیں ہوتا لیکن اذلان نے ان کی ایک نہ سنی ،، کام والی صفائی ،، برتن ،، کپڑے دھو کر جاتی لیکن عظمہ بیگم کو کہاں چین تھا ،، کام والی آنے کے باوجود انہوں نے دنین کی ڈیوٹی لگا دی کے وہ اس کے سر پر کھڑے خود اس سے کام کروایا کرے گی ،، دنین بھی خاموش رہی جانتی تھی وہ کتنی کڑھت خاتون تھی ،،
سارا دن دنین کا مصروفیت میں گزرنے لگا ” اذلان واپس جرمن جانے کے لیے کام کروانے لگا کے اس کے پیپرز میں کچھ مسئلہ درپیش تھا جسے وہ یہی سے ختم کرکے جانا چاہتا تھا وہ صبح کا گیا رات میں آتا ،، پیچھے عظمہ بیگم اور انابیہ دنین کو خوب تنگ کرتے ،، سارا دن وہ معصوم مختلف کاموں میں کھانے پکانے میں لگی رہتی ،، اذلان نے اسے کہا تھا کے عظمہ بیگم اسکی بھی ماں ہیں تو آنٹی یان پھوپھو نہیں بلکہ امی کہا کرو ،، لیکن کہنے سے کیا فرق پڑتا ،، دنین منھ سیتی سر اثبات میں ہلا گئی ۔
اذلان کی واپسی میں ایک دن رہ گیا تھا اور دنین کے دل میں ہلچل مچی پری تھی ،، ۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ رونے لگتی ۔۔۔ اذلان اسے خاموش کرواتا اس کو بھی سامان پیک کرنے کا کہتا باہر اپنی والدہ کے پاس بیٹھ گیا ۔
پیچھے دنین اس شخص کی بے حسی پر مزید رو دی ۔
اس کے آنسو تواتر سے بہتے اس کے چہرے کو بھگو رہے تھے ،، ۔۔۔ اس کا دل خراب ہو رہا تھا ۔۔جانے کس چیز کا اندیشہ تھا اسے کے آج جب وہ کا رہا تھا تو دنین کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا ۔
اس کی آنکھوں پر لب رکھتے وہ محبت کی مہر ثبت کرتے بولا ۔
جانتی ہو میں نے کہی پڑھا تھا اپنی محبوب کی آنکھوں کو اس وقت چومنا ۔۔۔۔۔
جب اس کی آنکھوں اندیشوں ک شکار ہوں ۔۔۔
کس بات کا خوف ہے تمہیں میں ہوں نہ ساتھ ” میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں ،،ہر حال میں ۔۔۔۔
لیکن میں اکیلی ہو جائو گی
دنین ایسے نہیں کرو میں بول تو تھا ہوں جلد لوٹ آؤں گا ۔۔ وہ اُسے ملتے اپنا خیال رکھنے کا کہتا واپس اپنی منزل کی جانب روا ہو گیا ۔
پیچھے وہ لب بینچے گہرے سانس بھرتے روتی تقریباً کانپنے لگی کے لبنہ بیگم کو اسے سمبھالنا مشکل ہو گیا۔
