Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 5)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 5)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
ماریہ بیگم کی آواز سے وہ اٹھتی کوفت اور بیزاری سے منہ بناتے اُٹھی اور اپنے سلکی گولڈن زلفیں کیچڑ میں قید کرتے
اپنے خوبصورت مومی پاؤں ٹھنڈے فرش پر رکھتے ،، ٹھنڈک کا احساس ہوتے ہی چہرے کے زاویے بناتے پاؤں میں چپل ارستی پاؤں پٹکتی زینے طے کرتے نیچے طویل لاؤنج میں داخل ہوئی اور باورچی خانے سے کھٹ پٹ کی آواز سنتے برے موڈ سے بولی ،، ماما چائے بنا دیں ۔۔
اچھا آپ چلو میں لے کر آتی ۔۔۔۔
آزان نے لان میں قدم رکھتے لکڑیوں کے خوبصورت بنے جھولے کی جانب قدم بڑھائے اور بیٹھتی ،، سر پشت پر موجود بڑی سے ٹیڈی پر ٹکاتے وہ سامنے کسی غیر مرئی نقطے پر نظر ٹکائے دیکھی جا رہی تھی ،،
اریشہ جو قریب آ کر بیٹھی تھی اُسے تاحد پھیلے خوبصورت لان میں سامنے کیاریوں میں موجود خوبصورت پھولوں کی جانب دیکھتا پا کر متعجب سی نگاہ اس کے پر سوچ چہرے پر ڈالی ،،
زانو میری جان کیا بات ہے ،، کہاں کھوی ہوئ ہو ۔۔
متفکرانھ لبوں لہجہ آزان کو سوچوں کے دھاگوں سے نکالتا حقیقت سے روشناس کرواتا اسکی جانب دیکھنے پر مجبور کر گیا ۔۔
وہ چونکتے ان کی جانب دیکھتے متوجہ ہوئے ،، ہیں ،،جی “
ہاں نہیں کہیں نہیں ________ وہ گہری سانس بھرتے گویا ہوئ ۔
آپ پریشان نا ہوں یار __________ ایک تو میں آپ لوگوں کو حساس طبیعت سے بری تنگ ہوں۔
اس کے خوبصورت چہرے پر چھائے بے زاری اور جنجھلاہت ،، گلابی پھولے گال ،، اور اُداس آنکھیں کسی کا بھی دل دھڑکانے کے لیے کافی تھے ،، اُسکا غیر معمولی حسن ،، اکثر ان سب کو خوف میں مبتلا کر دیتا تھا ،،
اریشہ اکثر اوقات ماریہ بیگم سے یہ بات کہتی تھی کے میں نے سنا تھا اور کبھی اس بات پر یقین نہیں کیا لیکن جب جب میں آزان چوہدری کو دیکھتی ہوں میرا یقین حقیقت ک روپ دھارے میرے سامنے آزان چودھری کی شکل میں کھڑا ملتا ہے۔۔
لوگ کہتے ہیں نہ وہ جو سادگی میں قیامت دھاتی ہے ،، سجنے پر آئے تو قیمت برپا کر دے ۔۔
یہ جملے ازن چودھری کی لیے لکھے گئے تھے ۔
ماریہ بیگم اس بات پر کبھی پریشان نا ہوئی کے یہ خوبصورتی اس نے اپنی ماں سے ہی چرای تھی ،، وہ اس عمر میں بھی بے انتہا کی خوبصورت تھی ،، کے چہرے پر چھائ معصومیت ان کو ہمیشہ ان کی عمر سے چھوٹا ہی بتاتی تھی۔
ماریہ بیگم کے والدین پیچھے سے کشمیر کے رہنے والے تھے ،، اور انہیں یہ حسن تحفے میں ملا تھا اپنے والدین سے۔
___________________
وہ متفکر لہجے میں بولتی اس کی جانب دیکھ رہی تھی جو اب بھی خاموشی سے بس انہیں دیکھی جا رہی تھی ۔۔
خدارا !!!! کچھ تو بولو زینو کیوں میری جان نکالنے کے چکروں میں ہو ،، طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔
کچھ ہوا تھا یونی میں ،، انہوں نے ایک ہی سانس میں تابر طور سوال جواب شرع کر دیے ۔۔
تو ان کی پریشان صورت دیکھ کر وہ کھلکھلا دی ۔۔
اور اپنی سابقہ حالت میں آتی ان کے گال کھینچتے پیار سے گویا ہو ،، میری پیاری چچی جان ،،کچھ خاص نہیں بس یونی ورسٹی میں آج بہت کام تھا تو کافی سر درد ہے اور تھوڑا بخار بھی ہو رہا ،،
دماغ میں ڈھیروں سوالات کا بوجھ تھا جنہیں وہ بھلائے اب ان کی جانب متوجہ تھی ،،
میرا بچہ ،، آ جاؤں ڈاکٹر پر چلتے ہیں ،، کیا ہو گیا میری جان کو ،،ماریہ بیگم چائے کا مگ اور نگٹس ہاتھ میں تھامے قریب آتے ٹیبل پر رکھتے متفکر ہوتے اس کے ماتھے پر ہاتھ کی پشت لگاتے بخار کی حدت دیکھنے لگی ۔۔
انہیں يوں اپنے لیے فکر مند دیکھ کے وہ ہلکا سا مسکرا دی اور ان کی کلائی تھامے انہیں اپنے قریب بٹھایا ،، پریشان نہیں ہوں ماں جان تھوڑی سی طبیعت خراب ہے ،، ٹھیک ہو جائے گی۔ آپ پریشان نا ہوں ،، وہ چآئے کا مگ اٹھاتے لاڈ سے ان کے ساتھ لگتی بولی ۔۔ تو انہوں نے اس کی سرخ و سفید چہرے پر شفقت سے حیات پھیرتے اس کی کھنکھتی مسکان کو دل میں اُتارا ۔۔
فائق یہاں آؤ میری جان!!!
آج تو اپوا پاس آئے ہی نہیں آپ _____ پیار سے فائق کو بلاتے وہ بارہا اس منظر کو اپنی آنکھوں سے ہٹانے کی خاطر اپنی توجہ دوسری جانب کرنے لگی۔۔۔
اریشہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کے ایسی کیا بات ہے جو اُسے پریشان کر رہی ہے لیکن ماریہ بیگم کو سامنے سے آتا دیکھ خاموش ہو گئی کے وہ انہیں مزید پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اتنی بچی نہ تھی کے اس کے اچانک بخار اور پھیکی پڑتی رنگت کو نظر انداز کر دیتی ۔۔کچھ تو تھا جو وہ چھپا رہی تھی ،، وہ تو اتنی نازک طبیعت کی تھی کہ ذرا سی پریشانی بھی اسے بیمار کرنے کے لئے کافی تھی ،، اور وہ جانتی تھی کے آزان ضرور کچھ چھپا رہی ہے
_______________
ملک ہاؤس کو آج خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ،، ایک ہفتہ سے ان کے گھر میں خوب رونق اور ہلا گلا مچا ہوا تھا ،، ہوتا بھی کیوں نے آخر کو ان کے لاڈلے سپوت کی شادی تھی ،، آج برات کا فنکشن تھا اور سب خوب ڈھول ڈھمکے سے ہال پہنچے تھے جہاں تقریب منعقد کی گئی تھی ،، ا اذلان ملک شہزادوں کی آن بان رکھنے والا شخص اپنے کزنز کے ساتھ کھڑا ان کی ہلر بازی سے خوب لطف اندوز ہو رہا تھا،، خوبرو چہرے پر فتح مندی کی چمک ہی انوکھی تھی ،،
گولڈن اور سرخ امتزاج کی شروانی پر وہ گولڈن کلا سر پر پہنے کئ لڑکیوں کا دل دھڑکانے کا سبب بنا تھا ۔۔
سرخ و سفید رنگت پر چھائ اس کی گہری سرمئی آنکھیں ،، جن میں چمک لیے وہ اسٹیج کی جنب قدم بڑھاتا براجمان ہوا تھا
جلد ہی عجاب و قبول کا سلسلہ مکمل ہوا اور دنین کو نبیل صاحب اور اپنی دوستوں کے حالے میں آتا دیکھ وہ ساکت سے دل تھامے بےساختہ کھڑا ہوا اور نگاہیں سامنے سے آتی دنین پر مرکوز تھی جو پور پور سجی نیٹ کے دوبٹے میں چھپی قدم اس کی جانب بڑھا رہی تھی ۔۔
اس کے کانپتے ہاتھوں کو تھامتے اس نے اپنے قریب کھڑا کیا ،،حال میں موجود لوگوں کی آنکھیں مارے ستائش کے چمکنے لگی،، تو کچھ لوگ حاسد بھی تھے ۔۔
اذلان ملک اپنی تمام تر مردانہ وجاہت سمیت اس کے ہاتھ تھامے کھڑا تھا ،، اور دنین اس کے اس عمل سی کانپتے اس کے بلکل قریب نیٹ کے گنگھت میں سر جھکاتے کھڑی تھی ۔
قریب کھڑی اس کی کزنز نے دلہن پر سے دوپٹہ ہٹانے کا کہا تو اس نے صاف انکار کر دیا کے وہ اس روپ میں صرف خود اپنی بیوی کو دیکھنا چاہتا ہے اور اس کی بات سنتے ہی سب نے مہوٹنگ کرتے معنی خیز اور شوق نگاہوں سے انہیں دیکھتے شور مچایا ،دنین مزید کنفیوز ہونے لگی ،،،
اس کے نیٹ کے دوبٹہ میں چھپے چاند سے چہرے پر نگاہ ڈالتے قریب ہوتے اس نے سرگوشی کی ،، تو اس کی سانسوں کی تپشِ محسوس کرتے دنین کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگنے لگی ،، مسز میں بندہ بشر ہوں اس طرح کانپ کر آپ کیوں لوگوں کی نظر میں مجھے مشوق بنا رہی ہیں ،،
اس کے گرد اپنا توانا بازو لپیٹے وہ پرشوق گہرے لہجے میں گویا ہوا تو اپنی مسکارے سے بھوجل نگاہیں اٹھاتے دنین نے اُسے نظر اٹھا کر دیکھا تو اذلان کو لگا جیسے اس سے حسین منظر اس نے پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں ،، اس سے نگاہ اٹھانا مشکل ترین عمل تھا ،، اس کے لب پھرپھراے کے اپنے دل کی آواز سنتا وہ ہوش میں لوٹا ،،
چلیں سب آنا ش روع کریں اسٹیج پر ۔۔۔
عظمہ بیگم کی آواز نے اُسے جھنجھوڑ کر واپس سب کے درمیان لا پٹخا کے وہ جو سرعت سے گہری سانس بھرتے سب کی جانب نگاہ ڈالتے مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہوئے تھا
اور پھر سب سے ملتے ملاتے اور کھانے سے فارغ ہوتے انہیں کافی وقت بیت گیا ،، ۔
رخصتی کے وقت وہ روتے نبیل صاحب کے سینے سے لگی ہوئ تھی لبنہ بیگم نے بڑی مشکل سے اُسے خاموش کرواتے گاڑی
میں بتایا تھا اور وہ سارے راستے سو سون کر رتی رہی ،، گاڑی رکتے ہی عظمہ بیگم باہر نکلتی اندر کی جانب چل دی ،،
ان کے دیکھا دیکھی انابیہ بھی ماں کے پیچھے اپنا فراک اٹھاتے چل دی ،، تو اذلان نے گاڑی سے باہر نکلتے اس کی جانب کا دروازہ کھولا اور اس کا ہاتھ نرمی سے تھامے اُسے باہر نکلنے میں مدد دی ،، دنین نے نگاہ اٹھاتے روشنیوں سے مزین اس چمکتے دمکتے گھر کی جانب دیکھا جس پر ملک ہاؤس کا بورڈ جگمگا رہا تھا ،،، گھر بہت زیادہ بڑا نہ تھا ،،لیکن بلڈنگ کافی خوبصورت بنی ہوئ تھی کے دیکھنے میں کافی بڑا لگتا ۔
اذلان نے اس کی کمر کے گرد اپنا بھاری بازو لپیٹے اس کے ساتھ قدم اندر کی جانب بڑھائے ،، ویلکم ٹو آور ہاؤس مسز ،،
چھوٹے سے گیراج میں داخل ہوتے اس نے صدر دروازے کو لوک لگایا ،، دنین نے نگاہ اردگرد درائ تو گیراج کے اطراف میں جاتا چھوٹا مگر خوبصورت لان تھا جو اس وقت رنگ برنگی روشنیوں میں ڈوبا پڑا تھا ،، اس کے ہمقدم ہوتے اندر کی جانب چھوٹا لکری کا دروازہ تھا ،،قریب پہنچے تو عظمہ بیگم وہاں دروازے کے قریب تیل گراتے ان کا استقبال کیا ،،
اور اسے لا کر لاؤنج میں بٹھایا گیا ،، اور کچھ رسمیں کرنے کے بعد ہی اسے اس کے کمرے تک پہنچا دیا گیا ،، اذلان کے حکم کے مطابق ،، وہ جانتا تھا وہ پہلے ہی کافی تھک چکی تھی ،،مزید رسموں سے اس نے انکار کیا تھا ۔ اور اسکی کزنز نے دنین کو کمرے تک پہنچا دیا ،،
وہ جہازی سائز خوبصورت پھولوں سے سجے بیڈ پر بیٹھی اپنا نیٹ کا دوبٹہ اٹھا کر کمرے کو دیکھنے لگی ،، جس کو مکمل۔طور پر تازہ گلاب اور موتیے کے پھولوں سے سجایا گیا تھا ،، کمرہ کافی بڑا تھا ،، بیڈ کے عین سامنے ڈریسنگ تھا جس پر طرح طرح کی پرفیومز موجود تھی ،،
سیاہ پردے کھڑکیوں پر پڑے تھے ،، کمرے میں زیادہ سامان سیاہ رنگ کا تھا ،، ایک دیوار مکمل طور پر سیاہ تھی جس پر سفید رنگ کے خوبصورت پھول اور بیلے بنی ہوئی تھی ،، کمرے کی خوبصورتی کو دیکھ کر وہ صحر زدہ سی ایک ایک چیز میں کھو سی گئی ،، گہرے سانس لیتے اس نے اپنا بھاری لہنگا پھیلاتے پیچھے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتے خود میں سکون اترتا محسوس کیا ،، مزید اس میں ایسے اکڑ کے بیٹھنے کی ہمت نہ تھی ،، کمر تو جیسے بیٹھ بیٹھ کر تختہ ہو چکی تھی ،،
گہری سانس حارج کرتے اپنے اندر گلاب اور موتیے کی معطر کر دینے والی خوشبو کو محسوس کرنے لگی ،، دفعتاً دروازہ کھلنے کی آواز نے اسے جنجھور کے رکھ دیا ۔۔
اُسکا دل پل میں دھک دھک کرنے لگا ،،آنے والے لمحات کا سوچتے ہی جسم و جان کانپنے لگا
ایک بازو پر لٹکی شروانی کو اس نے ایک جانب صوفے پر پھینکا اور کلا ڈریسنگ پر رکھا ،، اور قدم اپنی شریک حیات کی جانب بڑھائے جسے پہلے نظر میں دیکھتے ہی اس کے دل نے اپنا بنانے کی ضد کی تھی۔
اسلام علیکم!! ________
اس کے قریب آتے اس کے کانپتے وجود کو دیکھتے اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ تھامے تھے ،،اس کے چمکتے دمکتے روپ ،،دو آتشہ حسن کو دیکھتا دلکش لہجے میں سلام کرتا اس کے چہرے کو فوکس میں رکھے ہوئے تھا جبکہ دوسری جانب
اُسکا دل اس کے ہاتھ تھامنے پر لحظہ بھر کو لگا کے ہاتھ میں آ جائے گا ۔
بڑی مشکل سے لرزتے وجود اور کانپتے لہجے پر قابو کرتے اس نے جواب دیا تھا ۔
متبسم ہوتے اذلان نے اس کے چہرے سے دوبٹہ ہٹایا تو نگاہ اس کے دلفریب چہرے پر جم سی گئی ،، مہندی سے سجے اس کے خوبصورت ہاتھوں کو وہ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیے اُسے سرخ عروسی لباس میں وہ پور پور سجی اس کے سامنے اس کے قریب تھی ،، مسکارے سے بھاری مژگاں ،، بلڈ ریڈ لپسٹک ،، ناک میں موجود نتھ ،، اس کی خوبصورتی سامنے بیٹھتے مردانہ وجاہت سے بھرپور مرد کے دل کو قابو کر رہی تھی ،،
اپنی پاکٹ سے گولڈ کی رنگ نکالتے اس نے نرمی سے اس کی مومی انگلی میں ڈالی جس پر اے ڈی لکھا گیا تھا ۔۔
بہت حسین ،،، اس نے جھکتے اس کے ہاتھوں پر اپنے لب رکھے تھے ،، آپ جانتی ہیں جب میں نے آپکو پہلی نظر دیکھا تو فیصلہ کر لیا کے آپ صرف میری ہیں ،،، اذلان ملک کی ،”
اس کے بھاری خوبصورت لہجے اور آواز سے دنین نے نگاہ اٹھاتے اُسے دیکھا تو نگاہیں اس کے جذبات سے لبریز ٹھاٹھے مارتے نگاہوں سے ٹکرائی ،، تو اس نے فوراً اپنی بھاری پلکیں جھکا لی اس کے اظہار پر اس کے گال سرخ پرنے لگے ،،
میں اپنی والدہ اور بہن سے بہت محبت کرتا ہوں دنین ،، اور آپ سے بھی یہی چاہتا ہوں کے آپ بھی انکا میری طرح خیال کریں ،، مجھے آپ سے اور کچھ نہیں چاہیے بس میرے گھر والوں کا خیال رکھیے گا ۔
اذلان شاہ نے جھکتے اس کے ماتھے پر اپنی محنت کی مہر ثبت کی ،، اور اس کے چہرے کو اپنے لمس سے مہکانے لگا ،،اس کی گردن میں موجود بھاری سیٹ کو اتارتے اس نے حمار آلود نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا جو اس کی نگاہوں کا مطلب سمجھتی کانپ سی گئی ،،۔۔۔
مجھے چینج کرنا ہے ،، وہ میچی آنکھوں اور اتھل پتھل ہوتی سانسوں سے بولی تو اذلان کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی ۔۔۔
میں مدد کر دوں ،، معنی خیزی سے کہتا وہ اس کی جانب دیکھتا جذبات سے بوجھل لہجے میں بولا تو وہ پٹ سے آنکھیں کھولتی انکار میں سر ہلانے لگی ،،اسکی اس حرکت پر اُسکا زور دار قہقہ کمرے کی فضا میں گونجھا ۔
اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اس پر جھکتا وہ کچھ دیر بعد الگ ہوا تو اسکی سانسیں تھمنے لگی ،، وہ سینے پر ہاتھ رکھتی گہرے گہرے سانس لیتی اُسے دیکھنے سے گریز کر رہی تھی ،،بیگم ابھی تو آپکو اپنے جذبات سے روشناس بھی نہیں کروایا اچھے سے ،، ابھی سے ایسی حالت ،،___ اس کے سرخ تمتماتے چہرے پر چوٹ کرتا وہ پر شوق نگاہوں سے اُسے تکتا
اپنے سینے سے لگا گیا ،،اور جھکتے اس کے کان میں محبت
بھری سرگوشیاں کرنے لگا ،، کمرے میں موجود روشنیوں کو بجھاتے وہ ان خوبصورت پلو میں کھو سے گئے ۔
