Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 27) Last Episode (Last Part)

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 27) Last Episode (Last Part)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

کچھ دن ایسے ہی خاموشی سے گزرنے لگے ،، طیب کمال آزان سے روز ملنے آتا اور اسے ساتھ چلنے کا کہتا لیکن وہ نہ مانی ،، آخر کار تھک ہار کر آزان کو اس کے ساتھ جانا پڑا ۔

عون چوہدری سے اُسکی ملاقات سب سے پہلے ہوئ تھی اور انہوں نے صاف الفاظ میں اسے حکم دیا تھا کے آزان اُس کے ساتھ صرف چند دن کے لیے جائے گی وہ بھی اپنا ضروری سامان لینے ،، آزان کی کزن کی شادی تھی مہینے بعد اور کچھ آزان کی سالگرہ بھی آنے والی تھی تو وہ چاہتے تھے کے آزان کو اب یہی رکھ لیں ۔

آپ کے اس بچکانہ روّیے سے آزان کی ممی بھت پریشان ہو گئی ہیں اور و نہیں چاہتی آزان وہاں رہے ،،ہم اپنی بیٹی کو اب اپنی آنکھوں کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں اگر آپ نے ساتھ آنا ہوا تو ٹھیک لیکن ہماری بچی اب وہاں نہیں رہے گی عون چوہدری نے سنجیدگی سے اُسے دیکھتے وہ سرخ چہرے سمیت لمبے لمبے ڈھگ بڑھتے وہاں سے چلے گئے پیچھے طیب کمال سر پر ہاتھ پھیرتا

مکاری سے مسکرا دیا یہی تو وہ چاہتا تھا ،، ان کی تمام تر دولت آزان کی تھی اور آزان اُس کی مٹھی میں تھی ۔

وہ ہونٹوں کو گول کرتا سیٹی بجاتا آزان کے کمرے کی جانب بڑھ گیا ،، آزان جو سامنے بیٹھی لیپ ٹاپ گود میں رکھے کچھ کام کر رہی تھی اسکو کمرے میں داخل ہوتا دیکھ حفگی سے چہرہ جھکاتے واپس اپنے کام میں مگن ہو گئی ۔

بس بھی کر دو ناراضگی میری جان ،، کب تک یھاں رہنے کا ارادہ ہے چلو گھر چلتے ہیں ۔۔۔پھر آ جانا وعدہ کرتا ہوں میں خود تمہارے ساتھ اؤ گا لیکن فلحال کے لیے گھر چلو میں کچھ وقت تمہارے ساتھ اکیلے میں بیتانا چاہتا ہوں ،، پہلے ہی تم مجھے یہاں رہ کر کافی خوار کر چکی ہو ،، اب تو مجھے معاف کر دو ۔۔

اپنی گہری آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ اس کی جھکی پلکوں پر لب رکھتا بولا تو اسکے قریب آنے پر وہ جو خود کو سخت کیے بیٹھی تھی آنکھیں پل میں نم ہونے لگی ،، چہرہ الگ بھاپ اڑانے لگا ۔۔۔ سفید رنگت سرخ پڑنے لگی ۔

طیب کمال کو اُس پری ویش جو دیکھ کر دیکھتا ہی رہ گیا ،،دل اُسکی خوبصورتی کو دیکھ کر بے قابو ہونے لگا ۔

اچھا بس کرو اب اٹھ بھی جاؤ میں تمہیں ساتھ لے جانے آیا ہوں ،، زبردستی اُس کا ہاتھ تھامے اُسے اٹھاتے بولا ۔۔۔

کیا ہو گیا ہے طیب مجھے ابھی کام ہے ،،میرا سب سامان بکھرا پڑا ہے ۔اُس کی طرف غصے سے دیکھتے وہ سختی سے بولی ،، چھوڑوں سب کچھ تم بس گھر چلو میں مزید تمہارے بغیر ایک پل نہیں گزار سکتا ،، اُسکا ہاتھ تھامے وہ اُسے ساتھ لیے نیچے آیا اور وہ ماریہ بیگم سے ملتی باہر آئ ،، چلو آ جاؤ بیگم بس بھی کر دو اُسکا ہاتھ تھامے وہ اُسے لیے تیزی سے باہر آیا اور گاڑی کا فرنٹ ڈور اوپن کرتے اُسے زبردستی اندر بٹھایا خود آ کر بیٹھتے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔

آزان جو اُسکی اس حرکت سے خیران پریشان سی تھی اُس کی جانب دیکھتے ماتھے پر ڈھیروں بل ڈالے چیخی ،، آپ کا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا طیب ۔۔۔۔ مجھے ابھی بابا جان سے ملنا تھا کیوں مجھے اتنی جلدی میں لے کر جا رہے ہیں ،،آخر مسئلہ کیا ہے آپ کے ساتھ وہ تنگ آتے مشتعل ہوتی چیخ پری ۔

طیب کمال اُسکی اونچی آواز سنتا خیران سا اُسے دیکھنے لگا اور پھر ایک سیکنڈ کی دیر کیے بنا اُسکا بازو جکڑتے اُسے اپنی جانب کھینچتے وہ سرخ نگاہوں سے اُسے دیکھتا بولا ،، کیونکہ نہیں رہ سکتا میں تمہارے بغیر ،، میری سانسیں رکنے لگتی ہیں تم کیوں نہیں سمجھتی اُس کے چہرے پر اپنی گرم سانسیں چھوڑتا وہ شدت بھرے انداز میں بولا تو آزان چہرہ موڑتے باہر کی جانب دیکھنے لگی ،، طیب کمال نے اُسے پھر مخاطب نہیں کیا وہ جانتا تھا اُسے غصّہ ہے اور اُسے کیسے قابو کرنا ہے۔

گھر پہنچتے ہی وہ تیزی سے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھولتی باہر نکلی اور ایک غلط نگاہ ارگرد ڈالے بغیر سیدھا اپنے کمرے میں چلی گئی ،،طیب پیچھے اُس کے اکھڑے انداز کو دیکھتا رہ گیا ۔۔

جب گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیری کرنی پڑتی ہے طیب کمال وہ زیر لب بربراتا اندر کی جانب بڑھ گیا اطراف میں نگاہ دوڑائے دیکھا تو گھر میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا ،،چندہ بیگم شاید سو چکی تھی وہ گاڑی کی چابی انگلی پر گھماتا کمرے میں داخل ہوا اور نگاہ کمرے میں دوڑائے دیکھا تو آزان نہیں تھی ،،غصے کی شدید لہر دماغ میں دوڑ گئی ۔۔۔

باتھروم سے گرتے پانی کی اواز سنتے وہ اپنے تنے اعصاب سمیت تھوڑا نرم پڑا اور دروازہ دھاڑ سے بند کرتا بیڈ پر لیٹتا اُس کا انتظار کرنے لگا ۔

آزان فریش ہوتی باہر آئ تو وہ آرا ترچھا لیتا اسی کا منتظر تھا اسے آتے دیکھ کر اٹھ بیٹھا ٫٫ اور وہ جو اسے خود کو دیکھتے گلال ہوتے چہرے سے آگے بڑھنے لگی تھی اُس کے قدم جیسے جم سے گئے ۔

طیب کمال مضبوط قدم اٹھاتا اُس تک آیا ،،جانے کیوں اُسکا اکھڑ لہجہ اُسے بہت چب رہا تھا آزان نے کبھی اُس سے سختی سے بات نہ کی تھی اور آج اُسکی یہ سردمہری طیب کمال سے برداشت نہیں ہو پا رہی تھی ۔

اُس کے قریب جاتے اس کے ہاتھ تھامے وہ اُس کو مخمور نگاہوں سے دیکھتا اُس کے چہرے پر جھکتا گھمبیر سرگوشی نما لہجے میں بولا ۔۔

تمہارے بغیر یہ دس دن میں نے ایک عذاب میں گزارے ہیں میری زندگی ،،

مجھے معاف کر دو میں دوبارہ کبھی ایسا نہیں کرو گا بس کر دو اب روٹھنا ” تم جانتی ہو میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں ،، اُس کے چہرے پر اپنی پرتپش سانسیں چھوڑتا وہ جھکتا اُس کے گال پر لب رکھ گیا ۔۔۔

آزان اپنی سرخ ڈورو والی آنکھوں سے اُسے دیکھتی اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اُسے خود سے پیچھے دھکیل گئی ۔

آپ کا یہ جھوٹ مجھے کتنی ازیت دے گا کبھی سوچا آپ نے ،، میں نے وہ وقت کس ازیت میں گزارا آپ کو اندازہ ہی نہیں ــــــــــــــ آپ کے لیے یہ محض مذاق تھا لیکن میری زندگی اس لمحے ختم ہو رہی تھی وہ ہزیانی کیفیت میں مبتلا ہوتی اُسے گھورتے سختی سے چیخی ۔۔۔

میں جانتا ہوں میری مون ،، میرا بچہ ،، میری جان مجھے معاف کر دو میں بہت شرمندہ ہوں ۔

اُس کو سینے میں بنچتے سختی سے وہ اس کے ماتھے اور لب رکھتے اس کی حسین زلفوں کو پیچھے کرتے اُسے بازو میں اٹھاتے بیڈ تک لایا ،، اُس کے نرم و گداز وجود کو دیکھتے اُس کی آنکھوں میں ڈھیروں جذبات عیاں ہونے لگے ،، طیب کمال جھکتا اُس کے خوبصورت چہرے پر اپنا لمس چھوڑتا اُسے لرزنے پر مجبور کر گیا

اُس کی دھونکنی کی مانند تیز ہوتی دھڑکن کو محسوس کرتے وہ اپنی گہری بھوری آنکھوں سے اُسے دیکھتا اُس کی کمر کے گرد اپنا حصار بناتا اُس کی گردن پر لب رکھتا اُسے نگاہیں جھکانے پر مجبور کر گیا ” اُس کی آنکھوں میں جھلکتے تقاضوں کو وہ سمجھتی اُس کے سینے پر سر رکھ گئی” طیب کمال اُس کے چہرے پر جھکتا چلا گیا ۔

آزان اُس کی آگ کی مانند دہکتی قربت میں جلتی خاموش پڑی رہی ،، آنکھیں کھولے جانے وہ کن سوچوں میں ڈوبی تھی کے طیب کمال کو محبت بھری سرگوشیاں اور لمس بھی اُسے گراں گزر رہے تھے لیکن وہ لب سيئے خاموش تماشائی کی طرح لیٹی رہی ۔

طیب کمال سو چکا تھا لیکن آزان جاگ رہی تھی ،، اُس نے اٹھتے کسی خیال کے تخت بڑی خاموشی سے قدم اپنی الماری کی جانب بڑھائے اور اپنا لاکر کھولتے اس میں اپنے زیورات دیکھے جو آدھے سے بھی کم تھے ۔

انہیں اپنا ایک سوٹ نکالتے اُس میں چھپا گئی ۔

اور مرد قدموں سے واشروم چلی گئی ،، جانے کتنا ہی وقت وہ روتی رہی اُسے وقت کا اندازہ نہ ہو سکا ،، شاور لیتے وہ آ کر کب سوئی اُسے یاد نہ تھا ۔

ذہن اب شدید تھکن کا شکار تھا ،، وہ اپنے ساتھ ہوتے معملات کو سمجھ نہ پا رہی تھی ،، یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کے وہ اُس شخص کی جسمانی اور ذہنی ازیت دینے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی تھی اور ایک عرصے تک خود پر جھیلتی ازیت نے اُسے اب عجب وحشت میں مبتلا کر دیا تھا کے اسکا دماغ سن پڑنے لگ گیا تھا ،، اُسکی سفید رنگت تاریک پڑنے لگی تھی ،، آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑنے لگے تھے ۔

طیب کمال کے لیے

محض وہ ایک مہرہ تھی ،، اور آزان چودھری جو کم عمری میں اُسکی محبت میں مبتلا اُس کے ساتھ رہنے لگی اور اس کی ہر طرح کی ڈیمانڈز اور اُسکی محبت میں چھپی حوس جسے وہ اپنے عشق کا نام دیتا تھا اس پر لٹانے لگا ۔

اس کے کچے ذہن میں وہ ایک بات اچھے سے ڈال چکا تھا کے ان کی ذاتی زندگی میں جو بھی مسائل چل رہے ہوں وہ کسی کے ساتھ انہیں ڈسکس نہیں کرے گی اور وہ معصوم اُسکی باتوں پر ایمان لاتے اُسکی جائز نہ جائز تمام خواہشات کا اخترام کرتی خاموش رہتی

اذلان ملک کے ساتھ دنین بے انتہا خوش تھی وہ اسے سچے دل سے معاف کر چکی تھی ۔

اذلان کے دوست حمزہ کا انابیہ کے لیے رشتہ آیا تھا جو اس کی رضامندی سے طے پایا تھا ،،سب بے انتہا خوش تھے ۔

اذلان ملک اپنی فیملی سمیت عمرے پر جانے کی تیاری کر رہا تھا،، دنین اور انابیہ سارا وقت مصروف رہتی ” موسی کو وہ اُس کے نانا کے گھر چھوڑ جاتے اور عیسی کو اُسکی دادی اور بابا سمبھال لیتے ۔

دنین نے اپنے چھوٹے شہزادوں کے لیے خوبصورت سفید رنگ کی توپ بنوائی تھی جو حرم پاک میں حاجی پہنتے تھے ،، ان کے بابا اور ان دونوں کے کپڑے لیتی وہ دونوں اب اپنے لیے عبائے اور اسکارف دیکھ رہی تھی ۔

کچھ دن میں ہی وہ لوگ جانے والے تھے اور کام ڈھیر پڑے تھے ان کی واپسی پر انابیہ کا نکاح رکھا گیا تھا۔

اس طرح وہ تمام رشتے داروں سے ملاقات بھی کر لیتے اور نکاح کی تقریب بھی ہو جاتی ۔

اذلان آپ نے سب اتنی جلدی میں کیا ہے اب ہمارے پاس وقت بہت کم ہے مجھے ان دونوں کے سوٹ بنوانے تھے ،، اپنی ہیزل گرین آنکھوں میں حفگی سموئے وہ منھ پھلائے بولی تو اذلان ملک لب دانتوں تلے دبا گیا ۔

بیگم میں تو آپ کو ابھی بھی بتانے پر رضامند نہ تھا یہ تو امی نے مجھ سے کہا ،، ورنہ میں تو آپکو سرپرائز دینا چاہتا تھا ۔ اُس کے قریب جھکتے اُس کی کان کی لو پر اپنا پرتپش لمس بکھیرتا وہ گھمبیر لہجے میں کہتے اُس کے بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی میں لپیٹنے لگا ۔

انہوں ــــــــــــــــــــــــــــ نہیں کریں دیکھ بھی رہیں ہیں میں سامان سمیٹ رہی ہوں اُسے سنجیدگی سے دیکھتے وہ بچوں کے کپڑے سیٹ کرنے لگی ۔

اچھا سرپرائز دینا تھا آپ نے کے آپ اچھے سے جانتے بھی ہیں کے آپ کے جو یہ دو عدد شیطان ہیں مجھے ہلنے نہیں دیتے اپنے قریب سے ،، ایسے میں اتنی جلدی کیسے کچھ خریدوں گی ۔

آج رکھ کے دیکھ لیا ہے نہ اپنے بیٹے کو کیسے تگنی کا ناچ نچایا ہے دادی اور باپ کو ،، وہ منھ پھلائے اُسے گھورتے سختی سے باتیں سنا گئی

بیگم یہ بات تو سچ ہے جانے تم کیسے دونوں کو سمبھال لیتی ہو میں تو تمہارے پیچھے سے ایک کو نہیں سمبھال پا رہا تھا اُس نے امی اور میرا جینا حرام کر دیا تھا ۔

جب سے اس نے کرالنگ شروع کی ہے زیادہ شرارتی ہو گئے ہیں ،، میں امی کو دوا دے رہا تھا ایک منٹ میں یہ میری نظروں سے اوجھل ہوا تھا اور جا کے سارا ٹیبل الٹ دیا ۔

مجھے سارا سامنا سمٹنا پڑا وہ چہرے پر مسکنیت طاری کرتا بولا ،، اسی لیے تو دوسرے کو بابا کے پاس چھوڑا تھا ۔

اب جائیں اُسے لے کر آیں جانے اُس نے وہاں کتنا اودھم مچایا ہوگا وہ سارا سامان رکھتی اٹھ گئی

میرا ویسے ارادہ تھا کچھ وقت اکیلے نہ گزارا جائے ،،جب سے آیا ہوں تم مجھے بلکل وقت نہیں دیتی وہ اُس کے چہرے پر جھکتے وہ محبت بھرے انداز میں بولا ۔۔۔۔۔۔

دنین جو اس کے خود پر جھکنے سے پل میں سرخ قندھاری ہوئ تھی اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی اُسے خود سے دور دھکیلتے آنکھوں دکھاتے بولی جا کے میرے بیٹے کو لے کر آئیں اذلان ملک ” ناک سکورتی اُسکی بات پر وہ اُس کا موڈ پل میں غارت کرتی بولی تو وہ جو اس کے سینے پر ہاتھ رکھنے پر اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں سے اسے سرخ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اس کے دور کرنے پر ساری خماری جھاگ کی طرح اُتری ،، وہ اُسے سرخ نگاہوں سے دیکھتا بولا بیگم بدلے لے رہی ہو اچھے سے سمجھ رہا ہوں میں ۔

کوئی نہیں اپنا ٹائم آئے گا “

اُسے الماری کی جانب بڑھتا دیکھ وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے بولا تو دنین نے اسے پلٹ کر دیکھا ،، اس کے خوبرو چہرے پر نگاہیں ٹکائے وہ اسے جوتے پہنتا دیکھ رہی تھی ،، واپس الماری کی جانب چہرہ کرتی وہ وہی سے ہانک لگاتے بولی زیادہ ڈائیلاگ بازی کرنے کی ضروت نہیں جا کر میرے بیٹے کو لے کر آئیں ۔۔ لب دبائے اپنی مسکراہٹ روکتی وہ اُسے جاتا دیکھ رہی تھی جو پاؤ پٹخھتا اچھا خاصا جنجھلا گیا تھا

طیب مجھے مما کی طرف لے چلیں میرا دل گھبرا رہا ہے،، آزان رات کے دس بجے اُسے کمرے میں آتا دیکھ بولی ،، یار ابھی کل تو آئ ہو تھوڑا صبر کر لو اور یہ کیا پکڑا ہوا ہے تم نے ،، اس کے ہاتھ سے شاپر لیتے وہ دیکھنے لگا ۔

کچھ نہیں بس میرے ڈریس ہیں ،، ٹیلر کو ناپ کے لیے دینے تھے ایسی لیے تو بول رہی ہوں لے چلیں ۔ پھر شادی آ جانی ہے اور وقت کم ہے وہ منت کرنے والے لہجے میں بولی

اچھا میں گاڑی نکالتا ہُوں آ جاؤ ” وہ سر ہلاتے کمرے سے باہر نکلی تو چندہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی تھی کہاں جا رہی ہو ،، مما کی طرف کچھ ڈریس چینج کروانے ہیں وہ کہتی عجلت میں باہر نکلی کہیں وہ اسے روک ہی نہ لیں ،،جانے کیوں وہ اتنی اُداس اور مضطرب سی تھی اُسکا دل بے چین سا ہو رہا تھا وہ خود اپنی خالت سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔

گھر پہنچتے ہی وہ سب سے ملتی اپنے کمرے میں گئ تھی اور ماریہ بیگم کو اپنے زیورات نکال کر دیے ۔۔ بیٹے یہ کیوں لے کر آئی ہو اس کی کیا ضرورت تھی وہی رہنے دیتی ماریہ بیگم اُسکی جانب سوالیہ نگاہوں سے دیکھتے مستفسر ہوئ ” نہیں مما جانی وہاں نہیں رہنے دے سکتی تھی باقی سب کچھ تو طیب نے بیچ دیا اب یہ میرا بہت قیمتی سامان ہے میں نہیں چاہتی کے یہ بھی وہ بیچ دیں ۔۔یہ آپ کے زیورات ہیں جو آپکو نانو جانی نے دیے میں اس لیے انہیں چھپا کر لائی ہوں آپ لاکر میں رکھ لیں میں ایک دو دن میں ویسے بھی آ جاؤ گی ۔

وہ کچھ دیر سب کے ساتھ بیٹھتی اٹھ گئ

کچھ دنوں میں ہی وہ اپنا سامان پیک کرتی واپس آ گئی تھی اُسکی کزن کی شادی تھی جس کے لیے نور اور وہ مل کر تیاریاں کر رہے تھے وہ دونوں بہت خوش تھی ۔

ماریہ بیگم اور عون چودھری اپنی بیٹی کو دیکھ کر خوش تھے ،، آزان کی سالگرہ تھی آج وہ اکیس سال کی ہی گئی تھی سب نے بہت اچھے سے اُسکی سالگرہ کا جشن منایا ،، سارے بنگلے کو سجایا گیا ،،، قریبی رشتے داروں کو مدعو کیا گیا ،آزان سب سے ملتی بے انتہا خوش تھی ۔۔۔

اُسکی کزنز ان کے گھر ہی ٹھری تھی اور سب رات تک باتیں کرتے رہے ۔

ایک خوبصورت دن گزار کر سب اگلے دن اپنے گھروں کو چلے گئے ۔

آزان اور نور بری طرح اپنے پیپرز کی تیاری میں مصروف تھی ان دنوں ،، آزان کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی اُسکا دل گھبراتا رہتا ۔۔۔۔۔ عجیب سی کیفیت آنکھیں بند ہونے لگتی ۔

سب پریشان تھے ڈاکٹر کو دکھایا لیکن اس نے کچھ خاص نہیں بتایا ،،بس زیادہ اسٹریس لینے سے منع کیا ۔لیکن یہ اب روز کا معمول بن گیا تھا کے اُسکا سر چکرانے لگتا ،، دماغ پھٹنے والا ہو جاتا ۔

دن بدن صحت گرتی جا رہی تھی سب اس کے لیے بے حد متفکر تھے ،، ڈاکٹر کہتے کے اسے کچھ نہیں ،،بیماری کی تشخیص ہے نہیں ہو رہی تھی کتنے ڈاکٹروں کے پاس وہ جا چکے تھے لیکن کوئی اُسکی بیماری تک نہ پہنچ پا رہا تھا ۔

بس اسے ٹینشن لینے سے منع کرتے اور طاقت کی دوا دے دیتے ۔۔

طیب کمال کو کوئی ہوش نہیں تھی اس بیچ اُسکی بیوی کس حالت میں ہے جانے وہ کن کاموں میں مصرف تھا یان جان بوجھ کر لا تعلق بنا پھر رہا تھا ۔

آزان میرے بیٹے کیا ہوا ہے میری جان نور کی بڑی بہن سارا اس سے ملنے آئی تو انہیں واشروم سے دھڑام کی اواز آئ ۔۔

سارا تیزی سے اُٹھتی واشروم کے قریب جاتے تشویش ناک ہوتی مستفسر ہوئ زانو جان تم ٹھیک ہو میں اندر اس جاؤ بیٹے ،،

آزان جو اپنی بگڑتی حالت اور اس صورتحال کو سمجھ نہ پا رہی تھی ،، کے وہ کیا کرے ،، لباس سارا گیلا ہو چکا تھا ــــــ وامٹ اور موشن کے سبب اُسکا دل خراب ہونے لگا تھا ،، اپنے خوبصورت نین کٹوروں میں وہ نمی لیے لرزتے لبوں سے بمشکل انہیں اندر آنے کا کہتی بیسن پر بازو جمائے کھڑی تھی ۔

وہ اندر آتی اُسکی نم نگاہیں اور بھیگا سراپا دیکھتے عجلت میں آگے بڑھی اور متفکر سے اُسکی جانب دیکھتے بولی ،،، میری جان کیا ہو گیا ۔۔۔

اسے ساتھ لگاتے وہ باہر لاتے بیڈ کے قریب بٹھائے اُس کی سلکی گھنی زلفیں پیچھے کرتے وہ شدید پریشانی میں اُٹھتی اُس کا لباس نکالتے اُس کے قریب آئ ۔

آپی میرے میں بلکل ہمت نہیں آزان بہتے آنسو کے ساتھ اٹکتی بولی تو سارا نے آگے بڑھتے خود اسکا لباس تبدیل کروایا اور اس ہاتھ جیسے تھم سے گئے وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُسکے نازک آبگینے جیسے بدن پر موجود لاتعداد نیلے گہرے نشان دیکھتی دم سادھ گئی ۔۔

یہ نشان وہ اُس کے کندے پر ہاتھ پھیرتے ان نشانوں پر ہکلاتے بولی تو آزان مکمل خاموش رہی ،، اُسکی جانب سے کوئی کارروائی نہ ہوتے دیکھ اُس نے اسکا لباس تبدیل کروا کر اُسے بیڈ پر لٹایا اور قریب بیٹھتے اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔

زانو میری جان مجھے بتاو یہ نشان کس چیز کے ہیں اپنے اندر اٹھتے لاوے کو دباتے وہ نرمی سے مستفر ہوئ ،،

اپنے سوال کو فراموش ہوتے دیکھ وہ ایک بار پھر اُس کے قریب ہوتے پوچھ بیٹھی ،،

اس سے نظریں چراتی وہ لبوں کو تر کرتی بولی ـــــ آپی وہ ہمارے پرسنل مومنٹس میں ” اور پھر ایک لمحہ لگ تھا اسے ساری بات سمجھنے میں ۔

دل و دماغ میں جیسے غصے کے جوار اٹھنے لگے ،، آنکھیں پل میں نم ہونے لگی اُسکی تکلیف اور ازیت کا سوچ کر ۔

نہیں بچے اسے محبت نہیں کہتے اُسے درندگی کہتے ہیں آپ نے کیوں نہیں کسی کو بتایا ،، پیار میں ایسے نہیں ہوتا ۔

پیار میں جسم کو نوچنا نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کے احساسات کا خیال رکھا جاتا ہے ذہنی اور جسمانی طور پر ،، اور پھر وہ اسے سمجھاتی رہی ۔

لیکن وہ تو کہتے ہیں کے اسے پیار کہتے ہیں اور وہ جیسے جیسے بولتی جا رہی تھی سارا کا وجود دہل کے رہ گیا تھا ،، اُسکی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھی اور وجود بے جان ہونے لگا دو سال سے ان کی معصوم بچی اس تکلیف میں تھی ،، اتنا ظلم ـــــــ اتنی سفاکیت ــــــ اتنی وہشت ۔

اسکا دل کیا چیخ چیخ کر وہ سب کو بتائے اور اس شخص کا گریباں چاک کرتے اُسے سر بازار کھڑے کرتے اس پر کوڑے برسائے ،ان کی پھول سی بچی کی کیا حالت کر دی تھی ۔

دل میں اُٹھتی تکلیف کو دباتے وہ اس کی جانب دیکھنے لگی جو اسے سب کو بتانے سے روک رہی تھی وہ اپنے سن ہوتے دماغ سے سر ہلاتے اس پر کمفرٹر سیٹ کرتی باہر آ گئی ۔

نیچے آ کر بیٹھتے وہ کتنی ہی دیر خاموش سب کو باتیں کرتا دیکھتی رہی ،، دماغ اُس شخص کے رچائے گھٹیا کھیل میں اٹکا تھا وہ جانتی تھی کے اس کے چاچو اس شخص کو بہت دے چکے ہیں لیکن اس سب میں آزان کا کیا قصور تھا ۔

وہ اپنے پھٹتے دماغ سے سب کا خاموشی سے جواب دینے لگی ،، آزان نہیں آئی آپ کے ساتھ بچے ماریہ بیگم نے قریب آتے استفسار کیا تو وہ انہیں دیکھتی ہلکا سا مسکرائی ، چچی اُسکی طبیعت تھوڑی خراب ہے کہہ رہی ہے آرام کروں گی کوئی بات نہیں ویسے بھی میں یہی پر ہوں ،، پھر آ جاؤں گی وہ کہتے ان کے بہت روکنے پر بھی نہ رکی اور پھر آنے کا کہتے اپنے بہتے آنسو صاف کرتے دہلیز پار کر گئی

رات میں ماریہ بیگم اس کے کمرے سے باہر نہ نکلے پر متفکر ہوتی اس کے کمرے میں گئی اور روشنی جلاتے اس کے قریب جاتے اس کے ماتھے پر ہاتھ لگایا ،، تھوڑی حدت محسوس کرتے وہ جھکتے اُس کے ماتھے پر لب رکھ گئی میری جان میری گڑیا اٹھ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔

اس کے بال سہلاتے وہ پیار کرتی بولی ،، مما میرا دل عجیب ہو رہا ہے مجھے ڈاکٹر پر لے چلیں ،، میرے بچے اٹھو میں آپ کے بابا کو کہتی ہوں اسے اٹھاتے وہ بے حال سی تیزی سے باہر نکلی ،، اپنی بچی کو اُس حال میں دیکھ کر ان کا جی کٹنے لگا ۔

آزان کو لے کر وہ تینوں جلدی سے ہاسپٹل گئے ۔

ڈاکٹر نے اپنے سامنے بیٹھی اس کم عمر حسین لڑکی کو دیکھا جس کا مہکتا گلاب وجود کسی کو بھی اپنا آسیر کر دیتا ۔

اس پر مستزاد اُسکی گھنی مژگاں ،، آپ کو بچے کوئی مسئلہ نہیں آپ بلکل ٹھیک ہیں ماشاء اللہ سے اتنی حسین ہیں ۔

اس کے پھولے گالوں کو چھوتے لیڈی ڈاکٹر نے انہیں کوئی دوا نہ دی انکا کہنا تھا کے بس کچھ سٹریس کی وجہ سے اس کی طبیعت ایسی ہو رہی ہے ۔

وہ خاموشی سے گھر آ گئے سارے راستے وہ ماریہ بیگم کے سینے پر سر رکھے بیٹھی رہی اور وہ بار بار اس کے ہاتھوں پر لب رکھتی کبھی اس کے گالوں پر پیار کرتی ۔

ماں تھی اپنی بیٹی کی تکلیف پر دل پریشان ہو رہا تھا عون چوہدری بھی پریشان تھے ۔

گھر دخل ہوئے تو طیب کمال بیٹھا ان کا منتظر تھا ،، آزان کیا ہوا ہے اسے آتا دیکھ وہ بے تاثر لہجے میں مستفسر ہوا ۔

کچھ نہیں بس تھوڑی طبیعت خراب تھی آپ کب آئے ہو عون چوہدری نے آگے بڑھتے سنجیدگی سے کہتے اُسے دیکھا اور اندر کی جانب بڑھ گئے۔

آزان بچے آپ آرام کرو میں آپ کے لیے کچھ ہلکا پھلکا لے کر آتی ہوں

اسے زبردستی دودھ کا گلاس دیتی وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھی اس کے سونے کا انتظار کرتی رہی ۔

طیب کمال بھی خاموشی سے اس کے قریب بیٹھا رہا ،، اپنے دل پر پتھر رکھتی وہ اس کے قریب سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی تھی ،، دل کو چین نہیں آ رہا تھا جانے کیسا دھڑکا لگا ہوا تھا وہ پھٹتے دل سے عون چوہدری کے سینے سے لگی کافی وقت تک دل ہلکا کرتی رہی بیگم کیا ہو گیا ہے اب ہماری بیٹی کوئی چھوٹی بچی نہیں ہے ،، سب بیمار ہوتے ہیں آپ کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہیں آپکی اپنی طبیعت بگڑ جائے گی انہیں سمجھاتے زبردستی دوا دیتے وہ لیٹ گئے رات کے ایک بج چکے تھے ۔

کرب سے آنکھیں موندے وہ سو گئی ،، فجر کے وقت ان کی آنکھ کھلی عون چوہدری مسجد چلے گئے ۔

گھر وہ اکیلی تھی اریشہ اپنی ماں کے گھر گئیں ہوئ تھی اٹھتے انہوں نے نماز ادا کی اور کچھ سورتیں پڑہتی وہ آزان کے کمرے میں گئی ۔

طیب کمال دوسری جانب رخ کیے گہری نیند میں تھا ، انہوں نے آزان کے سر پر پیار کرتے اس کے چہرے سے کمفرٹر ہٹاتے جھکتے پھونک ماری لیکن جوں ہی نگاہ اُس کے سپید پڑتی رنگت پر پری ان کا دل کٹ کے رہ گیا ۔

آزان میری جان ان کی پکار کا اس پر کوئی اثر نہ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔

اس کی خوبصورت آنکھیں جو ہمہ وقت چمکتی دمکتی تھی آج خاموش تھی انہوں نے کسی انہونی کے تحت اُسے پکڑ کر جنجھوڑ ڈالا ۔

آزان میری بچی آزان ــــــــــــ

بے یقینی سے پھٹی نگاہوں اور پتھر دل کے ساتھ وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھتی چیخی تھی طیب کمال ان کی دل سوز چیخیں سن کر اٹھ بیٹھا تھا ۔

ماریہ بیگم کا دل بند ہونے کو تھا ،، میری بچی میری آزان اپنے دوبٹے کی پرواہ کیے بنا وہ چیختی حلق کے بل گیٹ کھولتی باہر کو بھآگی تھی دماغ شل ہونے لگا تھا لبوں سے لفظ نکلنے سے انکاری تھے ۔

ننگے پاؤں وہ باہر بھاگتے وہ اس کے تایا کے گھر بھاگی تھی ،، ان کا گیٹ پیٹتے وہ چیخ رہی تھی ،، میری بچی میری بچی ۔۔۔

لبوں پر بس یہی ورد تھا ” سب بھاگتے ہانپتے ان کی آہ و زاریاں سنتے باہر نکلے تھے ۔

زین چوہدری اور عون چودھری سب کو گھر کی جانب آتا دیکھ

ان کی آہیں سب کے سینے جیسے چیر گئی کسی انہونی کے احساس کے تحت سب کے چہرے زرد پڑنے لگے ،، ان کا پتھر وجود جیسے بے جان ہونے لگا وہ گھٹنوں کے بل گرتی اپنی تکلیف کو بھلائے چیخ رہی تھی ،، ان کی دلدوز چیخیں آہیں سنتے سب کے دل پھٹنے والے ہو گئے زین چوہدری نے انہیں دیکھتے جو مسجد سے ابھی نکل رہے تھے انہیں دیکھتے ان کا دل جیسے کٹ کے رہ گیا وہ بھاگتا اپنی ماں جیسی بھابھی کے قریب گیا تھا اور ان کے شانوں پر ہاتھ رکھے انہیں اٹھاتے اپنے ساتھ لگا گیا ۔

بھابھی ،، بھابی کیا ہوا ہے ان کی اجری حالت سب کے زرد پڑتے چہرے دیکھ کر اُسکا دل پھٹنے والا ہو گیا ۔

زین چوہدری نے اپنی متاع حیات کو یوں سڑک کے بیچو بیچ کھڑے روتے بلکتے دیکھ کر ترپتے انہیں سینے سے لگایا ۔

بخدا کوئی ایسی خبر نہ سنائیے گا جسے سن کر میرا دم گھٹ جائے اپنی نم آواز اور کانپتے لہجے پر قابو پاتے وہ بولے تو سب کی سسکیاں ماحول میں گونجنے لگی ۔

ان کے سینے پر سر مارتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی میری بچی میری جان میری آزان ـــــــــــ عون چوہدری نے پٹھتے دل اور بے یقین نگاہوں سے انہیں دیکھا ۔

جلدی چلیں وہ آپ کی بات مانتی ہے نہ چل کر اسے اٹھائیں وہ ان کا ہاتھ تھامے سیاہ آسمان جو سورج کے طلوع ہونے سے کچھ روشن ہو رہا تھا اس کے تلے انہیں ننگے پیر سر لیتے آگے بڑھی

ازیت سے دو چار ہوتے وہ ان کے ساتھ اس کے کمرے میں داخل ہوئے تھے اور ان کے پیچھے سب ہی تیزی سے کمرے میں آئے تھے طیب کمال ایک جانب کھڑا تھا نہ کوئی آنسو نہ کوئی افسردگی ،، بس خاموشی سے وہ کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا ۔

عون چوہدری نے آگے بڑھتے اُس کے قریب جھکتے اسے ہلایا تھا ” آزان میری گڑیا اٹھ جاؤ دیکھو مما جانی پریشان ہو رہی ہیں اس کے بے سدھ وجود کو دیکھتے وہ نم نگاہوں سے اُس کے چہرے کو دیکھنے لگے ،،اسکے لب نیلے پڑ رہے تھے ،، اٹھ جاؤ نہ بابا کی جان یوں ہمیں تکلیف نہ دو وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتے رو دیے ،، اس منظر کو دیکھتے سب کی آنکھیں اشکبار ہونے لگی ۔

زین چوہدری تیزی سے ڈاکٹر کو لیے کمرے میں داخل ہوا ” اور جو خبر انہیں سننے کو ملی وہ ان سب کو سناٹوں کی ضد میں دھکیل گئی ۔

ڈاکٹر جو ان کے قریب ہی رہتا تھا وہ بھی آزان کو آ کے کئی مرتبہ دیکھ چکا تھا لیکن اس نے بھی کوئی بیماری تشخیص نہیں کی ۔۔

اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔ مجھے بہت افسوس سے کہنا پر رہا ہے چودھری صاحب بچی

کی جان تو کب سے نکل چکی ہے ۔۔

الفاظ تھے کہ گویا پگلا ہوا سیسہ جو سب کے کانوں میں انڈہیلا گیا تھا ۔

ماریہ بیگم اس پر جھکتے پاگلوں کی طرح اُسے پیار کر رہی تھی اٹھ جا ماں کا بچہ ماں مر جائے گی میری شہزادی ۔۔۔۔۔

ان کی سسکیاں آہ و زاریاں سنتے سب روتے بے یقین تھے ۔

دادی جنہیں ابھی اس کے کمرے میں لایا گیا تھا چیخیں مار کر اپنا سینا پیٹتے لگی ، نور پھٹی بہتی نگاہوں سے اس کے بے جان وجود کو دیکھ رہی تھی اس کی سہیلی کہاں چلی گئی تھی ۔

عون چوہدری نے زین چوہدری کو سنبھالا تھا جن کے قدم لڑکھڑائے تھے وہ اپنے پورے قد سے زمین بوس ہوتے اس سے پہلے زین چوہدری نے انہیں اپنے توانا بازو میں سنبھالا ،، آنسو سے تر چہرہ ،، جسم میں موجود خون کا لوتھڑا لگتا تھا باہر آ جائے گا ،،، ماریہ بیگم تو اسے سینے سے لگاتے چیخ رہی تھی ، سسک رہی تھی عون چوہدری ان کے قریب آتے اپنی بچی کو دیکھتے ضبط کھوتے بے آواز سرخ لہو رنگ نگاہوں سے رونے لگے دل تھا کے غم سے نڈھال اس حقیقت کو ماننے سے انکاری

اور پھر ماریہ بیگم اپنے ہوش و حرد سے بیگانہ ہوتی وہی ڈھیر ہو گئی تھی ۔

سب اس ازیت اور وحشت ناک ماحول میں جیسے اس کے ساتھ ہی مر جائے گے ،،

کفن دفن کا انتظام کیا گیا ،، اس کے پر نور چہرے کے گرد گلاب کے پھول بچھائے گئے ،، سفید کفن میں اُسکا وجود لپٹا جیسے سب کے سینے چیر گیا ” اردگرد والے لوگ ” رشتے دار جیسے صدمے کی ضد میں تھے جوان بچی کی موت ہوئ تھی اس خوبصورت حسن کی ملکہ کا حسین چہرہ دیکھتے ہر آنکھ اشک بار تھی ،، ان کے بنگلے میں جیسے قیامت برپا تھی ،، سب کی آہیں سسکیاں روح کو جنجھوڑ رہی تھی ۔

جس جس نے اسکی موت کا سنا تھا وہ رویا تھا ” اتنی پیاری بچی دیکھتے ہی دیکھتے اُسے کیا ہوا ہر شخص کی زبان پر بس ایک ہی سوال تھا ۔

اُسکی دادی جو عمرے پر گئی تھی اپنے لیے وہاں سے کفن لے کر آئیں تھی آج انہیں ہاتھوں سے اپنی جوان بچی کو پہناتے دیکھ پھوٹ پھوٹ کر روتے سینا پیٹتے لگی تھی ،، ہ میری بچی یہ تو میری عمر تھی جانے کی میری لاڈو ۔۔۔۔ تو کیوں چلی گئی اٹھ دیکھ تیری ماں مر جائے گی تیرے بغیر ۔

ماریہ بیگم جو اس کے پاؤں پر ہاتھ رکھے قریب بیٹھی بہتی آنکھوں سے روتی کسی کے قابو نہیں آ رہی تھی ۔

آزان کو لے جانے کا وقت آیا تھا لیکن وہ کسی کو قریب نہیں آنے دے رہی تھی ،، عون چوہدری جو ان کو سینے سے لگائے خود بھی ت کر رونے لگے تھے بولے آخری بار دیکھ لیں بیٹی کو ،، پھر وہ کبھی واپس نہیں آئے گی ،، ان کی درد بھری اواز سنتے ماریہ بیگم نے نفی میں سر ہلاتے انہیں دیکھا تھا دل درد سے پھٹ رہا تھا گرم سیال آنکھوں سے بہہ رہا تھا نہیں ایسا نہیں کہیں عون ہم کیسے رہیں گے اپنی بچی کے بغیر ،، یا اللہ رحم وہ دل پر ہاتھ رکھے لرزتی درد سے بلک پری ۔

ساتھ ہی سب مردوں نے آگے بڑھتے جنازہ اٹھایا ،، عون چوہدری نے آگے بڑھتے اپنی بیٹی کو آخری بار اپنے کندھے پر بٹھایا ،، جیسے وہ کبھی جب وہ چھوٹی تھی تو بٹھاتے تھے ،، سینے میں اتنا درد تھا کے لگتا تھا پھٹ جائے گا ،، نہیں میری آزان کو نہ لے کر جاؤ ماریہ بیگم کی کرب ناک چیخیں ،، ماحول میں وحشت برپا کر رہی تھی ان کا چیخ چیخ کر خدا کو پکارنا ،، قریب جو لوگ موجود تھے ان کا دل کیا اس ماں کی چیخوں پر اپنے کان بند کر لیں ،، جو روح کر جنجھوڑ رہی تھی جو دل اسے دیکھ کر دھڑکتے تھے آج جیسے جسم میں بس وہ خون کا لوتھڑا تھا جو پتھر بن رہا تھا ۔۔

دل تو جیسے بند ہو گئے ” وہ اکیلی نہیں مری تھی وہ ان سب کو مار گئی تھی جو اس سے محبت کرتے تھے ۔

سب لوگوں کا دل ڈوبنے لگا اس مان کے لیے سب دعا کرتے وہاں سے جانے لگے کے وہاں رکتے تو کہیں خود نہ پاگل ہو جاتے ان کی ازیت آمیز سسکیوں سے ۔

یا اللہ میری بچی لوٹا دے مجھے لے جا ،، میری بچی واپس دے دے ” وہ ہچکیاں بھرتے بلند آواز میں آسمان کی جانب دیکھتے صدائیں دے رہی تھی ” اللہ میری بچی ـــــــــــــ

چندھ بیگم بھی قریب ہی بیٹھی تھی خاموش ۔ جو کوئی پوچھتا کیا ہوا تھا بچی کو تو کہتی پیپرز کی ٹینشن لی ہے ۔

کوئی اس بات کو نہ جان پایا کے وہ معصوم جان دو سال سے ازیت میں مبتلا تھی ” اریشہ نے بڑی مشکل سے ماریہ بیگم کو دوا دے کر سلایا تھا جس طرح وہ رو رہی تھی اسے ڈر تھا کے کہیں انہیں نہ کچھ ہو جائے ۔

عون چوہدری کسی ہارے ہوے جواری کی طرح لاؤنج میں بیٹھے تھے ،، اپنے ہاتھوں کو دیکھتے وہ ڈوبتے دل سے بیٹھے رو رہے تھے ۔

بس کر میرے بچے اگر تو اس طرح روئے گا تو ماریہ کو کون ہمت دے گا عون چوہدری کی والدہ جو سگی تو نہ تھی لیکن وہ سگو سے بھر کر ان سے محبت کرتی تھی ان کے چہرے پر ہاتھ پھرتے شفقت سے بولی ۔

چہرے پر جھریوں کا جال تھا ،، کافی ضعیف تھی ،، امان میری بچی چلی گئی میری دنیا اجر گئی ” تیرہ سال میں نے انتظار کیا تھا امان ۔۔

کیا میں اتنا گناہ گار ہوں کے خوشی مجھے راس نہیں آتی ،،وہ چہرے پر ہاتھ رکھتے پھوٹ پھوٹ کر روتے انکا دل چیر گئے ۔

نہ میرے بچے ایسے نہیں کہتے ،، اس رب کی وہی جانے ، تکلیف بہت ہے لیکن تو نے صبر سے کام لینا ہے۔

انہیں سینے سے لگائے وہ خاموش کرواتی بولی تو وہ درد سے پھٹتے دل سے بولے ۔

امان صبر نہیں آنا کبھی صبر نہیں آنا یہ تکلیف بہت بڑی ہے ۔ امان مجھے لگ رہا ہے میں مر جاؤ گا لیکن مر کیوں نہیں رہا میرے جگر کا ٹکڑا چلا گیا میں کیوں زندہ ہوں ۔

میں کیوں نہیں مر رہا یہ دل کیوں دھڑک رہا ہے ،، امان یہ دل ،، اس کی رونق تو چلے گئی ۔۔۔

وہ اپنے بند ہوتے دل اور بہتے اشکو سے کہتے قریب بیٹھے سب ہی کو رلا گئے ۔

زین چوہدری اپنے بھائ کے درد پر ان کے گھٹنوں پر سر رکھتا خاموش پڑا رونے لگا وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کرب سے بولے ۔

تم سے ضدیں لگانے والی چلی گئیں زین وہ چلی گئ ہمیشہ کے لیے ،، قریب کھڑی اریشہ لبوں پر ہاتھ رکھے اپنی بلند ہوتی سسکیاں روکنے لگی ۔

اس روح فرسان تکلیف میں سب کی سسکیاں ماحول کو وہشت ناک بنا رہی تھی ۔

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ۔

آزان کو گزرے تین دن ہو چکے تھے اور ان تین دنوں میں کوئی لمحہ بھی ایسا نہ تھا کے وہ لوگ خاموش ہوے ہوں ،، رو رو کر آنکھوں سوج چکی تھی لیکن خشک نہیں پر رہی تھی ۔

تکلیف حد سے سوان تھی ،، عون چوہدری اور ماریہ بیگم ایک ایک لمحہ اسے یاد کرتے ت کر گزار رہے تھے ۔۔

ان کا دکھ کبھی کم نہیں ہونا تھا ،،کیسے ہوتا ان کے جسم سے روح کھینچ لی گئی تھی ،، ان کی بیٹی ان کے جگر کا ٹکڑا نہیں تھا ان کے پاس ۔

طیب کمال دوبارہ نہیں آیا ہاں البتہ چندھ بیگم دن میں آ جاتی لوگو کو بتانے کے اُسکی موت کیسے ہوئ تھی صرف اس خیال کے تحت کے لوگ انہیں الزن نہ دیں ۔

وہ خاموش رہی تھی کچھ نہ بولی ،،طیب کمال کے پاس آزان کا فون تھا اس کی تمام دوستوں کو اسی نے خبر دی اور یہی کہاں جو اسکی ماں نے کہا تھا ۔

کسی کو اس وقت ہوش نہ تھی کے وہ ان کی جانب دیکھتا ،،

وقت گزرنے لگا تھا لیکن انکا زخم وہی تازہ تھا جب کسی سے ملتے تو لگتا زخم مزید گہرا ہو رہا ہے ۔

زین چوہدری اذلان ملک اچھے دوست تھے اور ان کے عمرے سے واپسی پر جیسے ہی انہیں خبر ملی تھی تو فوراً ان کے گھر پہنچے تھے ،، اذلان ملک باہر لاؤنج میں بیٹھا تھا جبکہ دنین اوپر آزان کے کمرے میں موجود ماریہ بیگم کے پاس تھی جو روتے بار بار یہی دہراتی تھی کے اپنی بچیوں کی شادی نہ کرو ،، انہیں مار دو پر شادی نہ کرو ـــــــــــ وہاں سے بھی وہ زندہ واپس نہیں آتی ۔

ان کی آہیں سنتی دنین بے آواز آنسو بہانے لگی اس خوبصورت حسین پری کی تصاویر دیکھتے جیسے دنین کا دل درد سے بھرنے لگا ۔

اس قدر خوبصورت ” اور اتنی جوان موت ۔۔۔۔۔ ماریہ بیگم اس کی الماری میں لگے نئے لباس اسے دکھانے لگی جو اس نے کزن کی شادی پر پہننے کے لیے بنوائے تھے ۔

الماری قیمتی لباس سے بھری پڑی تھی ،، دنین کا دل ڈوبنے لگا ” انہوں نے مار دیا میری بچی کو جانے کیا دکھ دیا تھا اسے جو وہ ہم سے چھپاتے پھرتی تھی میں پوچھتی رہ جاتی اذان بچے بتاؤ مجھے کوئی مسئلہ تو نہیں لیکن وہ کچھ نہ کہتی بس مسکرا دیتی ۔

وہ محبت کے دعوے کرنے والا شخص مکار نکلا ،، میں کہتی ہوں مرد پر بھروسہ نہ کرو خاص طور پر اس مرد پر جو آپ کے سامنے روئے ۔

وہ جھوٹا تھا اس نے مار دیا ۔۔

وہ تکلیف و ضبط کے باوجود سسک پری ،، دنین نے آگے بڑھ کر انہیں سمبھالا ،، اور خود بھی ان کے ساتھ مل کر رو دی ۔

آنٹی آپ نے اس پر کیس کیوں نہیں کروایا اسے سخت سے سخت سزا دلوائیں ،، دنین غصے اور غم میں ڈوبی بولی ۔

کیا ہوگا اب میری بچی تو چلے گئی لیکن اسے اس جہاں نہیں اگلے جہاں سزا ملے گی ،، میں دعا کرتی ہوں اپنے رب سے وہ میری بیٹی کو انصاف دے گا ۔۔ اس شخص کو اتنی عبرت ناک موت دے کے اسکی روح کانپ جائے ۔میری آہیں اسے لگیں گی وہ روتے بولی ،، اس کی دوستوں نے بتایا تھا کے وہ میری پھول سی بچی کو مارتا تھا اور ہمیں علم بھی نہ تھا ۔

جانے کیسے دکھ دیکھیں ہیں میری بچی نے کتنی اذیتیں برداشت کی ہیں اور ہمیں کبھی بتایا بھی نہیں ۔

وہ کہتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ،، اس کے بابا روز اس کے کمرے میں جاتے ہیں ” جیسے پہلے جایا کرتے تھے اس کے لیے چائے کا کپ لے کے جاتے ہیں اسلام کرتے ہیں اسے اور جب جواب نہیں آتا تو خود ہی بیٹھ کر روتے ہیں ۔

ان کی سسکیاں میرا دل چیر دیتی ہیں ہمیں کیسے صبر آ سکتا ہے ہمیں موت ہی صبر دے گی

وہ جو انہیں عون چوہدری کو ہمت دینے کا بول رہی تھی ان کی بات سنتی اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی ۔

دل درد سے پھٹنے والا ہوا تو ان سے ملتی اٹھ گئ ۔۔

اذلان ملک کو وہ بھیگی آنکھوں سے دیکھتی اشارہ کرتی باہر نکلی اور گھر آ کر بھی جانے کتنا ہی وقت وہ روتی رہی ۔

انکا رویا چہرہ ان کی سسکیاں اور آزان کی تصاویر ،، اس کے بیڈ کے بلکل اوپر جو اس کا لارج فوٹو فریم تھا اس میں وہ کسی بات پر کھلکھلا رہی تھی اور اس کی خوبصورت آنکھیں بھی اس ہسی میں شامل تھی ،، لیکن وہ اب نہیں رہی تھی یہ یقین کر پانا ناممکن تھا ۔

یہ سوچ ہی اسکا دل چیر رہی تھی اور اس شخص کے لیے دل کی گہرائیوں سے بد دعائیں نکل رہی تھی ۔

اذلان ملک نے اسے جانے کتنے ہی لمحے روتے دیکھ خاموش کروایا تھا اور وہ اس کے سینے سے لگتی رب کی شکر گزار تھی

جس نے اس کو سمجھنے والا محبت کرنے والا انسان دیا تھا ۔

ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا لیکن کچھ مرد نہیں بلکہ مرد کی کھال میں چھپے بھیڑیے ہوتے ہیں جو معصوم کلیوں کو چیر پھار دیتے ہیں ۔

اس کو احساس ہوا تھا کے اس نے اذلان ملک سے دور رہ کر خود کی خفاظت کرکے کتنا اچھا فیصلہ کیا تھا ۔

آج بھی دنیا میں معصوم بچیاں ہیں جو اپنے لیے اواز نہیں اٹھا پاتی جو خاموش رہ کر دکھ سہتی ہیں ۔

جنہیں محبت اور ازیت میں فرق نہیں بتایا جاتا ۔۔۔

اس کا دل کیا چیخ چیخ کر سب کو کہے بخدا اپنی بچیوں کی شادی عمر دیکھ کر جلدی نہ کریں بلکہ انکا ذہن دیکھ کر کریں ۔۔کے انکا ذہن اس اتنا مضبوط ہے کے وہ ایک مرد کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہیں۔

آزان جا چکی تھی لیکن اپنے پیچھے زندہ لاشوں کو چھوڑ گئی تھی ۔ جو اسے یاد کرتے روز جیتے روز مرتے تھے ۔اسکا کمرہ آج بھی ویسا ہی تھا جیسا وہ چھور کر گئی تھی اس کمرے کی ایک ایک چیز میں اسکی خوشبو بسی تھی ۔

وہ دونوں اپنا سارا دن اس کمرے میں گزارتے ۔۔

طیب کمال کا انجام انہوں نے خدا پر چھوڑا تھا

وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

ختم شد ۔۔۔۔۔۔