Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 10)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
حال میں بیٹھے تمام نفوس عون چودھری کی جانب متوجہ تھے،، جو اپنی پروقار شخصیت سمیت بیٹھے بھاری رعب دار آواز سے بولتے ختمی فیصلہ سنانے لگے ،، ہم اب فیصلہ آزان چودھری پر چھوڑتے ہیں اگر انہیں اس رشتے سے کوئی اعتراض نہ ہوا تو ہم جلد ہی نکاح کی تاریخ فائنل کریں گے ،، آزان کی پڑھائ مکمل ہونے تک رخصتی نہیں ہوگی ۔
رخصتی کی بات پر طیب کمال کا سانس خشک ہوا تھا ،، اُسکا گزارا تو اُسے دیکھے بغیر ممکن نہیں تھا ،، اور ابھی تو بہت وقت تھا اسکی پڑھائی مکمل ہونے میں ۔۔
اپنا فیصلہ سناتے وہ اٹھ گئے تھے ،،تو مجبوراً انہیں بھی اٹھنا پڑا ۔
__________________
اریشہ کمرے کا دروازہ کھولتے جیسے ہی اندر داخل ہوئ تو وہ سامنے بیڈ پر اوندھے منہ پری تھی ،،
اریشہ کو تشویش نے آ گھیرا ،، تو وہ پل کی تاخیر کیے بنا اس کے قریب جاتے اُسے سیدھا کیا تو وہ جو روتی روتی غنودگی میں گئی تھی کسی کے سیدھا کرنے پر ہربرا کر اُٹھی ،،سرخ سوجی آنکھیں ،، برف جیسے بھیگے گال ،،ان پر مٹے آنسو کے نشان اریشہ نے ترپ کر اس کے ماتھے پر بکھرے بل ہٹائے ،،میری جان ،، میری گڑیا کیا ہوا ہے ۔۔۔
اُسکا معصوم چہرہ اس سوگواریت پر مزید دلکش لگ رہا تھا ،،
اریشہ نے ت رپ کر اس کی روئے چہرے پر ہاتھ پھیرتے استفسار کیا ،،
کیا ہوا ہے زانو ؟؟…….
مجھے بتاؤں کیوں میرا دل بند کرنے پر تلی ہوئی ہو ،، متفکرانہ ہوتے اُسکے سرخ گالوں پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
چچی وہ _____ میم۔۔۔میری وجہ سے سب ہوا ،، اگر انہیں کچھ
ہو جاتا تو وہ کہتی چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی سسکنے لگی ۔
ایک سیکنڈ میں سارا معاملہ سمجھتی وہ اُس کے گال پر ہاتھ رکھتی سمجھانے والے انداز میں محاطب ہوئی۔۔۔
ایسا کچھ نہیں ہے میری جان ” آپ کی وجہ سے کچھ نہیں ہوا ،
اُسے سینے میں بینچتی وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتی بولی ،،
وہ درد کرتی آنکھوں سے خاموش اس کے ساتھ لگی بیٹھی تھی ،، اور نفی میں سر ہلاتے روتے ان کی جانب دیکھتے لرزتے لبوں سے بولی ،، اگر اُسے کچھ ہو جاتا تو میں خود کو کبھی معاف نہ کر پاتی
،، اس کا سرخ چہرہ اریشہ کے دل کو مٹھی میں جکڑ گیا ،، نہ گڑیا وہ بلکل ٹھیک ہے ” بلکل خا موش ،، جانتی ہو نہ بابا نے یان مان نے آپ کو اس طرح دیکھ لیا تو کتنا پریشان ہوں گی ،، اُسے نرمی سے سمجھآتے خاموش کروایا ۔
اس کی حالت کے پیش نظر وہ نرمی سے گویا ہوئ ،، وہ لوگ یہی تھے ______ ہو سکتا ہے ان کے جاتے ہی آپ کے بابا آئیں بات کرنے ۔
میں تو آپکو تنگ کرنے کی غرض سے آی تھی اور آپ یھاں بیٹھی آنسو بہا رہی ہو ،، چلو جلدی سے اٹھو فریش ہو کر آؤ ،، اس نے گہرا سانس حارج کرتے اس کے روئے چہرے کو تیکھے نقوشو سے دیکھ کر کہا ۔۔
اب نو رونا دھونا “
______________
وہ جو گہری نیند میں مگن تھی ،، دروازے پر دستک کی آواز سے مشکل سے اپنی بند ہوتی آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا ،، باہر انابیہ کھڑی اُسے بلا رہی تھی ” ۔۔۔۔۔۔ واپسی دیر سے آنے اور اذلان ملک کی شوریدہ جذبات کو برداشت کرتے وہ تھکن سے چور تھی ۔۔
اس نے اٹھنا چاہا تو اپنی گردن پر اس کی سانسوں کی تپشِ محسوس ہوی وہ گہری نیند میں اس پر مضبوط گرفت کیے سویا ہوا تھا ۔۔
اذلان ،،، اُسکا نام پکارتے اُسے پڑے کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نازک جان کہاں اس لمبے اونچے کسرتی بدن والے جوان مرد کو ہلا سکتی تھی ۔
باہر سے آتی مسلسل اس کی پکار اور دروازے پر ہوتی دستک سے تنگ آتے دنین نے اُس کے شانے پر ہاتھ رکھتے جنجھوڑا ،، تو وہ اپنی نیند کے حماد سے ڈوبی آنکھیں کھولتا اس کو دیکھتا ،، اس پر اپنی گرفت مضبوط کرتا اس کے گال پر لب رکھ گیا ۔۔۔
اذلان چھوڑیں مجھے باہر انابیہ آوازیں دے رہی ہے ،، اس کے پر تپشِ لمس پر وہ گھبراتے اپنے پہلو سے اس کے ہاتھ بٹانے کی کوشش میں تھی ۔۔
کیا مسئلہ گئی بیگم !!!
کیوں صبح صبح مجھے تنگ کر رہی ہو ،، جب میں نے کچھ کیا تو پھر آپ کو رونا آنے لگ جانا ،، آنکھیں موندتے ہی اس کو اپنی جانب کھینچتے وہ معنی خیز لہجے میں کہتا اس کے بالوں میں چہرہ چھپا گیا ،، تو وہ جو اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش میں بے حال سی تھی اُسکے بے باکیت سے کہے جملے پر سٹپٹا گئی ۔
نظر اٹھاتے سامنے دیوار گیر گھڑی پر نگاہ ڈالی تو صبح کے سات بج رہے تھے اسی لیے تو اسکی اپنی آنکھوں میں بھی نیند بھری تھی۔
وہ انابیہ باہر سے آوازیں دے رہی تھی ” دانین نے اس کے حصار میں قید ہی دھیمے لہجے میں بولا ،، ۔۔
جانے وہ کیوں اُسے بلا رہی تھے ،، سوچتے اُسے گھبراہٹ ہونے لگی ۔۔۔۔۔
اٹھ کر سن لینا سو جاؤ ،،،تھکی ہوئی ہو _______ پرسکون انداز میں کہتا وہ اس کے آرام کا خیال کرتا اُسے بھی سکون دے گیا ،، اور دانیں جو پہلے ہی آنکھیں کھولنے میں بے حال ہو
رہی تھی اس کے کہتے ہی سکون سے آنکھیں موند گئی ۔
__________________
وہ سب لاؤنج مین بیٹھے طیب کمال کے رشتے پر غور کر رہے تھے ،، زین چوہدری کو تو اپنی معصوم پری کے لیے یہ دیو پسند نہ آیا تھا جبکہ اریشہ ،، اس کے پرشدت انداز ،، آنسو وعدوں کو دیکھتے رضامند تھی ۔۔
اس کے نزدیک محبت صرف رنگت اور شکل و صورت پر منحصر نہ تھی
جبکہ ماریہ بیگم تو سرے سے ہی کسی رشتے کے حق میں نہ تھی ،، یکلہت طیب کمال کا ان کے بنگلے میں آنا اور پھر آزان کا ساتھ مانگنا ،، انہیں رضامندی پر مجبور کر گیا لیکن۔ وہ ابھی صرف منگنی یان نکاح تک رضامند تھی ۔۔
سارا اختیار آزان کو دیں ،، وہ کیا چاہتی ہے ” بھائی جی ۔۔۔
اس سے اسکی مرضی پوچھیں پھر بات آگے چلایں ۔
سب کی آپسی رضامندی سے سرعت سے وہ دونوں اٹھتے اوپر اس کے کمرے کی جانب چلے گئے
وہ واشروم سے چہرہ دھو کے باہر آئی تو سامنے ہی وہ دونوں بیٹھے اس کے منتظر تھے ،،
اُسے وہی کھڑے دیکھ کے عون چوہدری گویا ہوے آ جاؤ میری گڑیا ،، وہاں کیوں کھڑی ہو ۔۔۔
پیار سے کہتے وہ اُسے پنے قریب بیٹھنے کا عشارہ کرتے محبت بھرے لہجے میں بولے
تو وہ مرد قدم اٹھاتے ان کی سمت آتے بیٹھ گئی ۔
میرے بچے کو کیا ہوا ہے ؟؟
کیوں اتنی خاموش ہیں آپ ؟؟….
میرا بیٹا ،،میری چندا پریشان ہیں آپ ؟؟….
ایک ہی سانس میں وہ اس کے معصوم مرجھائے ہوے چہرے کو دیکھیے مفکرانہ لہجے میں اس کے بے شمار نام لیتے اس کو اپنے ساتھ لگا گئے ۔
کچھ نہیں بابا جان!!
بس طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ۔۔وہ ان کے گلے میں بازو ڈالتے ان کے سینے میں چہرہ چھپا کر نم آواز میں بولی تو قریب بیٹھی ماریہ بیگم ترپ اُٹھی ۔
آزان میرا بچہ ،، مان کا گڈا بتایا کیوں نہیں آپ نہ اس کے قریب آتے اس کی سوجھی آنکھوں پر لب رکھتے وہ متفکر لہجے میں گویا ہوئ ۔۔۔
اچھا میری جان آپ جانتی ہے نہ آج طیب کمال اپنی والد کے ساتھ تشریف لایا تھا ۔۔
اور اس کے یہاں آنے کے مقصد سے بھی آپ واقف ہو ۔
تو ہم یہاں اب اپنی بیٹی کی مرضی جاننے کے لیے آئے ہیں ۔۔۔
آپ کیا کہتی ہو اس بارے میں ” جو آپکی مرضی ہوگی وہی ہوگا ۔
بابا میں ،،میں نہیں جانتی کچھ بھی ______ بس میں نہیں چاہتی کے میری وجہ سے کوئ تکلیف میں رہے ،،باقی آپ کو جو بہتر لگے
مجھے آپ دونوں کے فیصلے پر یقین ہے کہتے اس نے آنکھیں میچ لی۔
کسی خیال کے تحت نگاہ اٹھاتے اس نے ماں کو دیکھا ،، بس میں آپ دونوں کو چھوڑ کے نہیں جانا چاہتی ۔۔
اُسے بولیں اگر وہ یہاں رہے گا تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔
نہ میری جان میرے بچے کو ہم کبھی خود سے دور نہیں کریں گے اس کے بال سہلاتے نرمی سے کہتے مبہم سا مسکرا دیے ۔ جبکہ ماریہ بیگم اُسکی بات پر سر ہلاتے اسے باپ سے چپکا دیکھ رہی تھی ۔۔
