Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 17)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

وہ اپنے بابا کی اجازت کے بغیر اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ،، اسی لیے عون چوہدری کو فون کرتے اجازت لی ،، ۔۔۔

دل میں عجیب سی گدگدی سی ہو رہی تھی جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی ” اپنی خالت وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی ،، کچھ نور اور دوستوں نے مل کر اُس کی ناک میں دم کر رکھا تھا ،، بار بار اُسے جملے کستی جس کے سبب وہ لال ٹماٹر ہو جاتی ۔۔

یونی کے بعد وہ باہر نکلی تو وہ سامنے اپنی سفید رنگ کی فورچونر کے سامنے اس کے لباس کے سے ملتا جلتا ،، رنگ والی شلوار کرتے ملبوس کھڑا اُسکا منتظر تھا ۔

آزان تھوڑی سی گھبرائ تھی اسکو سامنے دیکھ کر وہ جو اپنی آنکھوں سے سب کچھ سمجھانے کا ہنر رکھتا تھا وہ جانے جب بولے گا تو وہ کیا کرے گی ۔۔لیکن اب آر یان پاڑ ۔

جانا تو تھا ،، اسی لیے قدم اُسکی جانب بڑھائے اور اس کے دروازہ کھولنے پر گاڑی میں بیٹھ گئی ۔

گاڑی میں بیٹھتے اس کی نگاہ اتنے قریب بیٹھی دشمن جان پر پڑی جو نگاہیں جھکائے اپنی انگلیاں مروڑ رہی تھی ۔۔

ریلیکس رہیں آپکو کیڈنیپ نہیں کر رہا جو آپ اتنا گھبرا رہی ہیں ،، جذبات کی لو سے بھاری لہجے میں کہتے اس نے گاڑی سٹارٹ کی ۔۔۔

فضا میں بلکل خاموشی چھائ ہوئی تھی ،، اُس کے وجود سے اُٹھتی خوبصورت مہک گاڑی کے ماحول کو اور پرفسوں بخش رہی تھی ،، قریب بیٹھی آزان اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتی اس کے بولنے کی منتظر تھی ۔

یہ جانے بغیر کے مقابل تو اُسکی چھائ خشبو میں سانس لیتا اسکو اپنے اندر اتار رہا تھا اُسے کچھ بولنے کا ہوش کہاں تھا۔

راستہ خاموشی سے کٹا ،، گاڑی ایک خوبصورت ہوٹل کے سامنے روکتے اس نے آزان کی جانب کا دروازہ کھولتے ہتھیلی اس کے سامنے پھیلائ ،، تو وہ اپنے لرزتے ہاتھوں پر قابو پاتے اُسکی چوری ہتھیلی پر اپنا سپید ہاتھ رکھ گئی ۔

طیب کمال نے محبت سے اُسکا ہاتھ تھامتے اپنی بک کروائ ٹیبل پر اس کی کرسی گھسیٹتے پہلے اُسے بٹھایا اور پھر اس کے سامنے خود بیٹھا ،،، اُسکا یوں اسکو عزت دینا اور آپ کرکے محاطب کرنا آزان کو بہت پسند آیا ۔

نرم لہجہ اور آواز اُسکی شخصیت کا خاصہ تھی ۔۔

آرڈر دیتے وہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے بولا اجازت ہے ؟؟..

آزان نے نرمی سے اثبات میں سر ہلایا ۔

اُسکا ہاتھ تھامے وہ بولنا شروع ہوا ،، میں جانتا ہوں آپ اس سب کے لیے تیار نا تھی ،، اور یقین جانیں میں عمر بھر آپکا شکر گزار رہوں گا ” میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا آپ میرے لیے کیا ہیں ۔۔

میں نے آپ سے سچے دل سے محبت کی ہے ،، میں پیار محبت میں یقین نہیں رکھتا تھا ،،لیکن جب سے آپکو دیکھا میں خود کو بھول بیٹھا ہُوں ۔

اُسکی باتیں سنتے وہ متعجب نگاہوں سے اُسے دیکھ رہی تھی ،،

اور جیسے جیسے وہ بولتا جا رہا تھا آزان چوہدری کے دل کو وہ بھا رہا تھا ۔

اس سب میں وہ اس سے تھوڑی بہت بے تکلف ہوئ ،،

خوشگوار ماحول میں لنچ کیا گیا ،، اسکے بعد وہ شاپنگ پر اس کے ساتھ گئی ،، تھوڑی بہت باتیں وہ اس سے کرنے لگی تھی ،،

طیب کمال نے نکاح کا تحفہ اُسے ایک خوبصورت وائٹ گولڈ رنگ پہنائ جو اُسے بہت پسند آئی ۔

طیب کمال کے ساتھ سارا دن گزرنے کا اسے اندازہ ہی نہ ہوا ۔۔

وہ بہت خوش تھی ” اُسے چاہنے والا محبت کرنے والا شخص ملا تھا ۔۔

وہ خوش تھی بے حد خوش ،، اپنی قسمت پر نازاں تھی ۔

گھر میں داخل ہوتے ہی ماریہ بیگم جو بے چینی سے اسکا انتظار کر رہی تھی اُسکی جانب بڑھی ،، میرا بچہ اتنی دیر کر دی ماں پریشان ہو رہی تھی ،، مما جانی آف کیا بتاؤں ،، بہت مزہ آیا ۔۔بابا جان کہاں ہیں ۔۔۔

وہ پوچھتی شاپنگ کے ڈھیروں بیگ صوفے پر رکھتے ان کے کمرے کی جانب بڑھی اور سامنے کرسی پر براجمان عون چوہدری کو حساب کتاب کرتے دیکھ ان کے قریب جاتے ان کے گلے میں بازوں ڈالے جھولتے بولی ۔۔

بابا جان آپ نے مجھے ایک بار بھی کال نہیں کی ۔۔

میں ناراض ہُوں آپ سے ،، منھ پھلاتے وہ ان سے دور ہوتے بیڈ پر بیٹھی ۔۔

ارے میرا گڈا ۔۔

میں نے سوچا کیوں آپکو ڈسٹرب کروں ،، بس اسلئے ۔۔

اچھا بتاؤں کیسا رہا دن ؟؟..

اس کے قریب آتے بیڈ پر بیٹھتے اس کے بالوں پر لب رکھتے استفسار کیا ۔۔

ماریہ بیگم بھی اپنی بیٹی کو کھوجتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔۔بس دل میں خوف تھا اب بھی طیب کمال کو لے کر ۔۔

کیا بتاؤں بابا جان اتنا مزہ آیا ۔

وہ واقعی بہت اچھے انسان ہیں ،، پہلے ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا پھر شاپنگ کے لیے گئے ،، وہاں ہم نے ۔۔وہ انہیں سارے دن کی روداد سنا رہی تھی اور وہ دونوں خوش ہوتے اپنی بیٹی کو بولتا دیکھ رہے تھے ۔

__________

اذلان چاہتے ہوے بھی رک نہیں سکتا تھا ،، دنین کے آنسو اسکو تکلیف دے رہے تھے لیکن اس کے پاس ابھی کوئی چارہ نہ تھا ۔۔

دنین جو اس کے جاتے ہی اپنے لرزتے وجود سمیت ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی تھی ،، نبیل صاحب اور لبنه بیگم اُسے گرتا دیکھ چیختے اس کے بے جان وجود کو تھامتے قریب موجود کلینک لے کر گئے ۔۔

وہاں اسے جو خبر ملی وہ اسے ساکت کر گئی ،، اُسکی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگی ،،

وہ اس کے ساتھ یہ خوشی محسوس کرنا چاہتی تھی ،، اسے انتظار تھا اس پل کا ،، جب نصیب ہوا تو وہ قریب نا تھا جسے وہ سب سے پہلے بتانا چاہتی تھی ۔

لبنھ بیگم نے بمشکل اسکو خاموش کروایا اور گھر لے کر گئے ،، گھر جاتے ہی وہ خاموشی سے لیٹ گئ ،، رو رو کے تھک چکی تھی کچھ دوائی کا اثر تھا کے فوراً آنکھ لگ گئی ۔

دنین کی آنکھ کھلی تو گھر میں مکمل خاموشی کا راج تھا ،، سناٹا چھایا ہوا تھا ۔۔۔ اس نے اٹھتے لبنہ بیگم کو آواز دی لیکن خاموشی ۔۔

اٹھ کر باہر آ کر دیکھا تو وہ کچن میں موجود اُسکی من پسند بریانی بنا رہی تھی ۔۔

امی آپ کیوں ان کاموں میں لگ گئی ہیں۔ میں ٹھیک ہوں بلکل آ جائیں باہر ۔

بس بیٹے آپ چلو میں دم لگا کے آ رہی ہوں وہ محبت سے اُسے دیکھتے نرمی سے بولی ۔۔۔

وہ باہر آ کے بیٹھی تو اسکا دل بے ساختہ دھک دھک کرنے لگا ،، تین دن ہو گئے تھے لیکن اسکا فون نہ آیا ۔۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کے اس دشمن جان کی ویڈیو کال آ گئی ۔

آنکھیں نم ہونے لگی جنہیں وہ جلدی سے صاف کرتی بظاہر چہرے پر مسکراہٹ سجائے کال يس کر گئی ۔

فون پر ابھرتی اُسکی تصویر کو دیکھتے آنکھوں میں ڈھیروں آنسو جمع ہونے لگے ۔۔

اس کے آنسو دیکھتے اذلان کا دل دکھنے لگا ،، اُسکی ہیزل گرین آنکھوں میں موجود آنسو اور اپنے لیے موجود شکوہ دیکھ کے اُسکا دل کیا بھاگ کر اُسکے پاس پہنچ جائے لیکن مجبور تھا ،، رزق کی تلاش میں انسان کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے ۔

کیسی ہو ….. آخر کار اسی نے خاموشی کا دورانیہ توڑا ” جو مزید بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔

دنین کے لب پھرپھراے ” ۔۔۔۔ دل میں موجود درد گھٹن کی شکل اختیار کر گیا ۔۔

کیسی ہو سکتی ہوں آپ کے بغیر ؟؟ ۔۔۔ الٹا اسی سے سوال داغا گیا ۔۔۔

بلکل میری نہیں لگ رہی ،، کیا حال کر لیا ہے میرے بغیر ،، میری زندگی میری جانم ،،، ۔میرا یقین کیوں نہیں کرتی ۔۔۔

میرا دل ” اُسے مختلف ناموں سے پکارتا وہ اُسے بڑی نرمی سے سمجھا رہا تھا ۔۔

میں ہر لمحے تمہارے ساتھ ہوں ،،،بس کچھ ضروری کام تھے کل سے وہ نپٹا رہا تھا اب میں ہر وقت تمہارے قریب ہوں میری جان ۔۔۔

بس رونا نہیں ” کیا حالت بنائ ہوئ ہے ،، اٹھو ریڈی ہو ،، اچھے سے کپڑے پہنو ۔۔مجھے میری بیگم ہر وقت سجی سنوی چاہیے ۔۔

میری جانم وقت کا تقاضا ہے کے مجھے یہاں آنا پڑ رہا ان شاء اللہ جلد ہی بندوبست کرتا ہوں میں ،، بس میں چاہتا ہوں کے اپنی بیوی بچوں کو بہترین ماحول دے سکون ،، وہ رسان سے بولتا جا رہا تھا اور دنین کا سارا دھیان اُسکی بچوں والی بات پر اٹک گیا تھا ۔۔۔ دھڑکن سست پڑنے لگی تھی ۔۔لیکن وہ اسکو اتنی بڑی خبر ایسے نہیں دینا چاہتی تھی ،، گھر جا کر ایک پیارا سا سرپرائز دینا تھا اس نے

آپکو میری یاد بلکل نہیں نہ آئی وہ آنسو صاف کرتی اپنی سرخ ہوتی ناک رگڑتے بولی ۔۔

اذلان نے ایک نگاہ اُس پر ڈالی ۔۔

تم گزرو اور وقت نہ ٹھرے

ایسے تھوڑی ہو سکتا ہے

یاد آؤ اور درد نہ بھرکے

ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے

صبر کیا ہے ،، شکر کیا ہے

لیکن دل کو چین آ جائے

ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے

ترک محبت کر لینے سے

ترک محبت ہو جائے

ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے ۔

یقین کر لو بیگم اُس نے مسکراتے دنین کو دیکھا تو وہ مبھم سا مسکرا دی ،، اُسکی آواز میں سحر تھا جیسے ،، جو اُسے اپنے لفظوں میں جکڑ لیتا ۔

،،یوں ہی باتیں کرتے جن میں زیادہ تو اذلان اُسے اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا وقت گزر گیا ۔

اچھے ماحول میں اس نے کھانا کھایا ،، نبیل صاحب اور لبنہ بیگم سے بھی اس نے اسلام دعا کی ۔

____________________

دنین اور طیب کمال کی ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھنے لگا ،، طیب کمال نے ان کے بنگلے میں آنا شروع کر دیا ،، اُسکی سب سے اچھی بات چیت ہونے لگی ۔۔

دن یوں ہی پر لگا کر گزرنے لگے ،، نور اور آزان کا سیکنڈ سمسٹر بھی ختم ہونے والا تھا ،، دونوں بہت خوش تھی ۔

دوسری جانب طیب کمال آزان کو رخصتی کے لیے فورس کر رہا تھا ۔

آزان مکمل طور پر طیب کمال پر منحصر کرنے لگی تھی ،، اس کی تمام باتیں مانتی ۔ لیکن ایک بات میں وہ ابھی بھی اپنی من مرضی کرتی

کے اُس نے آج تک اس رشتے میں حد بندھی لگائ ہوئ تھی کہ رخصتی سے پہلے اُسکا چھونا بھی آزان کو گوارہ نہ تھا ۔۔

رخصتی سے پہلے اُسکا چھونا بھی اُسے گراں گزرتا اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ طیب کمال ما جنوں بھرتا جا رہا تھا جس کا احساس وہ اُسے اپنے لفظوں سے کرواتا ،، اور آزان جو اُسکی نگاہوں کی لپک اور ذرا سی قربت سے گھبرا جاتی ،، اُس کے خواص سلب ہونے لگتے وہ رخصتی پر گھبرا جاتی ،، لیکن طیب کمال کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا ۔۔۔