Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 12)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 12)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
نکاح کی تاریخ اگلے ہفتے کو مقرر کی گئ ،، دونوں جانب سے زورو شورو سے تیاریاں ہونے لگی ۔۔۔
طیب کمال اپنی قسمت پر نازا تھا ،، اُسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کے وہ آزان چوہدری کو کچھ دنوں میں مکمل اپنے نام لکھوانے والا ہے ۔۔
آزان اس کے حال سے آشنا ہوتے بھی اُسے پل پل ترپا رہی تھی ۔۔
دن رات اس کے میسیج موصول ہوتے جنہیں وہ دیکھ کر مسکرا اٹھتی لیکن جوابی کاروائی نا کرتی ۔۔
وہ اس شخص کے جذبات سے آگاہ تھی اور اس کا سامنہ کرنے اسے بھی گریزاں تھی ۔۔
گھر میں سارا وقت کزنوں کا ایک نہ ختم ہونے والا شور برپا رہتا ۔
____________
دانین اپنی شادی کے بعد مایکے نہیں گئی تھی ،، شادی کو دو ماہ ہونے والے تھے ،، وہ ازلان ملک کے ساتھ بے انتہا خوش تھی ۔۔
وہ ہر قدم پر اُسکا ساتھ دیتا تھا ۔۔
لیکن وہ کچھ دنوں سے بدلا بدلا سا تھا ،، دنین یہاں آؤ ” وہ جو لباس تبدل کرنے جا رہی تھی ،،اُسکی بات سنتے پلٹتے بولی بس میں ڈریس چینج کرکے آتی ہوں ۔۔
ابھی آدھے الفاظ لبوں پر ہی تھے کے وہ جو ایک ہاتھ میں اپنا لباس تھامے بغیر دوبٹہ کے جلدی سے دروازہ بند کرنے لگی تھی اذلان کے قریب آنے اور کپڑے چھین کر پھینکنے پر آنکھیں پھیلائے اُسکی جانب دیکھنے لگی ۔
آخر مسئلہ کیا ہے جب میں تمہیں اپنے قریب بلا رہا بوں تو فوراً میری بات پر عمل کیا کرو ،، اس کے چہرے کو دبوچے اس پر جھکتے اپنی پرتپش لمس کو بکھیرتا وہ دھاڑا ۔
وہ جو اپنے خیالوں میں کھوئی چینج کرنے جانے لگی تھی ،، اس کے اس قدر قریب آنے اور سخت لہجے پر تھر تھر کانپنے لگی ۔۔۔
میں ۔۔۔۔ میں تو لفظ ہونٹوں سے نکل سے انکاری تھے ،، کمرے میں چھائی معنی خیز خاموشی میں وہ اس کے اتنے قریب ہونے اور پہلو میں ہوتی اسکی سخت گرفت پر وہ آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ لیے اُسکی جانب نم نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
اُسکی نم نگاہوں کو دیکھتے اذلان نے اس پر گرفت نرم کی اور اس پر جھکتے اپنا تمام غصہ اور تشنگی نکالنے لگا ۔۔۔ دنین جو اس کی اس حرکت کے لیے تیار نا تھی اس کی دھڑکن ست پڑنے لگی ،، وہ مکمل اس پر چھایا کسی گھٹا کی مانند پیچھے ہٹنے سے انکاری تھا ،، دنین کو لگا اگر وہ اب بھی نہ پیچھے ہٹا تو اس کی سانسیں یہی دم توڑ دیں گی ۔
پھر بھی وہ پیچھے نا ہٹا تو اس نے اذلان کے سینے پر مکے برسانے شروع کر دیے ،، اذلان کو اُسکی سست پڑتی سانسیں محسوس ہوئی تو وہ اپنی تمام تر تشنگی اور اتنے دنوں کی دل میں پنپتی اذیت اور ذہنی دباؤ اس میں انڈیلتا پیچھے ہٹا تو دنین اپنی سانسیں ہموار کرتی اُس کے سینے پر سر رکھ گئی ،، دل سینے سے باہر آنے کو تھا ،، اسے اپنی سانسیں گھٹتے محسوس ہوی ،، آنکھوں سے آنسو روا ہوتے سرخ گالوں پر بہنے لگے ۔۔
اذلان اس کی حالت دیکھتا اُسے اپنے سینے میں بینچتا اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اُسے پرسکون کرنے لگا۔
آئے ایم ریلی سوری ،، میری جان !!!!
اس کے گلابی گالوں پر لب رکھتے وہ اس کے سرخ لبوں پر انگھوٹا پھیرتا جذبات کی شدت میں کہتا اُس کے گرد اپنے بازو لپیٹے اُسے بانہوں میں لیتے قدم بیڈ کی جانب بڑھا دیے ۔
دنین جو خود پر ضبط کیے ہوے تھی اتنے دنوں سے اُسکی بے اعتنائی برداشت کیے ہوئے تھی ہاتھوں میں چہرہ چھپاتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔
اس کے رونے پر اذلان آگے بڑھتا اُسے اپنے ساتھ لگاتا بولا ۔۔۔
آئے ایم ریلی سوری ۔۔ یار کیا ہو گیا ہے ،،
اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں بینچتی وہ مزید شدت سے رو دی ۔۔
دنین میری پیاری بیوی کیا ہو گیا ہے ،،یار بس غصّہ آ گیا تھا اب کیا ایک شوہر کو اتنا بھی حق نہیں کے وہ اپنی بیوی سے ناراض ہو سکے ۔۔ وہ معصوم بنتے بولا تو دنین آنکھیں صاف کرتے اسکی جانب دیکھتی بولی ۔
آپکو ذرا احساس نہیں کے گزشتہ کچھ دنوں سے آپکا رویہ میرے ساتھ کیسا تھا ۔۔ اس کے گزشتہ رویے کو یاد کرواتی وہ اسے بہت کچھ باور کروا گئی ۔۔
کیا ہمارے رشتے کی یہی حقیقت ہے کے کوئی آپ سے کچھ بھی کہے گا میرے بارے میں اور آپ بغیر اس بات کو تصدیق کیے مجھ سے حفا ہو جائیں گے ،، آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ اور اذیت لیے وہ اس سے سوال کر رہی تھی۔
اور وہ شرمندہ سا اسے دیکھتا خاموش تھا ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں بس کچھ کام تھے جن میں بری طرح پھنس گیا تھا ،، میں کیوں تمہیں اگنور کروں گا ،، حقیقت سے نظریں چراتے اس نے بہانہ گھرا تو وہ خاموش ہو گئی ۔۔
ایک بات یاد رکھیے گا اذلان بغیر بات کی تصدیق کیے کبھی مجھ پر شك نہ کیجئے گا ،، میں سب کچھ برداشت کی سکتی ہوں لیکن خود پر لگا کوئی الزام نہیں ،، سنجیدگی سے کہتی وہ اس سے نگاہیں پھیر گئی ۔
اس کے قریب جھکتے اس کے گھنے بالوں میں اپنا چہرہ چھپاتے وہ گہرے گھمبیر لہجے میں گویا ہوا ،، میں کبھی اپنی بیوی پر شک نہیں کر سکتا ،، کیوں کے آپ تو میری چھوٹی سی جان ہو ،، میری معصوم چڑیا ۔۔
مجھے تم پر خود سے زیادہ یقین ہے میری جان ،، تمہیں دیکھتے ہی اس دل نے اقرار کیا تھا کے یہی وہ لڑکی ہے جس کی مجھے تلاش تھی ۔
اس کی اعصاب کو معطل کر دینے والی قربت میں وہ خاموش پری تھی ۔۔ اور وہ اس کے کانوں میں جانے کیا کیا سحر پھونکے جا رہا تھا ۔
کمرے کی فضا میں معنی خیز سی خاموشی اور اس کی محبت میں ڈوبی سرگوشیاں رقصاں تھی ۔ وہ سب کچھ بھلائے اسے اپنے دل میں بسائے اپنی تمام تر سمعاتوں سمیت اسے سن رہی تھی ۔
___________________
نکاح میں ایک دن پیچھے تھا ،، آزان اپنے دل کو سنبھالے سب کے درمیان بیٹھی تھی ،، اکلوتی اور سب کی جان تھی وہ ،، اسی وجہ سے اس کے تمام ننھیال اور ددھیال والے اکٹھے تھے ،، پچھلے کچھ روز سے ان کے بنگلے میں یہی شور شرابا تھا ۔
وہ تمام نفوس جمع ہوتے خوب رونق لگاتے ،، اور آزان کو طیب کمال کا نام لے کے تنگ کرتے ۔
دوسری جانب طیب کمال دن گن گن کر گزار رہا تھا ۔۔ صبح کا سویرا اس کی زندگی میں نئی خوشیاں لانے والا تھا ۔۔ وہ اسی انتظار میں تھا ۔
کیا دنین کی زندگی میں بھی طیب کمال کے آنے سے خوشیاں دستک دینے والی تھی کے نہیں یہ تو رب العالمین جانتے تھے ۔۔کون دل میں کیا چھپائے بیٹھا ہے ۔
