Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 8)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

گہرے نیلے رنگ کے پاؤں تک چھوتے فراک کو زیب تن کیے ،،جس پر گولڈن خوبصورت کام تھا ۔۔

اپنے گھنی زلفوں کو کھلا چھوڑ،، لائٹ میک آپ میں وہ کافی حسین لگ رہی تھی۔۔

اذلان ملک ڈریس چینج کرتا جوں ہی ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تو اُسے دیکھ کر نگاہ ٹھٹھک سی گئی ،، وہ نیچے جھکتے اپنی ہیل کا سٹریپ لگا رہی تھی ،، جس سے اس کے کمر سے نیچے جھولتے سلكی بال آگے کو آتے اُس کی جنجھلاہٹ کا باعث بن رہے تھے ،، وہ نگاہوں میں جذبات کا سمندر لیے اس تک پہنچا اور نیچے جھکتے اس کی گھنیری زلفیں اپنے مضبوط انگلیوں کی پورون پر محسوس کرتے انہیں پیچھے کو ہٹاتے اس کے ہاتھ کو چھوا تو وہ اس کی نگاہوں کی لپک سے جم سی گئی ۔۔

اس کی نزدیکی اور گرم سانسوں کی تپش کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے وہ اس سے فاصلہ بناتے دور ہوئ تو اذلان نے شوخ نگاہ اس اور ڈالتے جھکتے سٹریپ کو بند کیا ۔

مم،،میں کر لوں گی اذلان ،، آپ پلیز _____ وہ لرزتی پلکوں اور سرخ عارضوں سے اُسے دیکھتے گھبراتے ججھکتے بولی تو اس نے جھک کر اُسکا پاؤں اپنے گھٹنے پر رکھا ۔۔

جانم ریلکس ” ______ فلحال میرا مقصد آپکی تیاری مکمل کروانے کا ہے ناکہ بگاڑنے کا ،، حمار آلود لہجے میں کہتے

جھکتے ہوے اپنے سلگتے لبوں سے اُسکی جبین پر اپنا لمس چھوڑتے اُسے پل میں سرخ کر گیا ۔۔

وہ جو پہلے ہی اُسکی ذرا سی قربت میں کانپ رہی تھی ،، مزید قریب آنے پر اس کی سرخ رنگت مارے شرم کے مزید دھکنے لگی ۔

اس نے خاموشی میں ہی عافیت جانی ،، اور ایک نگاہ جھکے ہوئے اذلان ملک پر ڈالی جو خود بھی اس وقت گہرے نیلے لباس میں موجود ماتھے پر بکھرے بالوں اور سفید رنگت جس میں گھلی سرخی اُسے مزید دلکش بناتی تھی دیکھتے رہ

گئی ۔

وہ دونوں جو کمرے کے پرفسوں ماحول میں کھوئے ہوئے تھے دفعتاً ہربرا کے رہ گئے بغیر دستک کے انابیہ کمرے کا دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئے اور ازلان کو ایسے بیٹھے دیکھ جی جان سے سلگ کے رہ گئی

اذلان جو اُسکا دوسرے شو کا سٹریپ بند کرتے اٹھنے لگا تھا اپنی بیوی کو یوں پیچھے ہوتا دیکھ وہی بیٹھے اچھنبے سے ماتھے پر بل ڈالے انابیہ کی جانب دیکھا جو مارے جلن کے منھ کھولے جوں کی توں کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی ۔

انابیہ یہ کیا طریقہ ہے بچے ،، کمرے میں آنے سے پہلے کسی کی اجازت طلب کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔

اس کی سرد آواز سنتے اُسکا سکتا ٹوٹا ، نہیں ،، بھائی وہ امی نے بھیجا تھا مجھے بس ،، وہ شرمندہ ہوتی بمشکل بول پائی آپ آ جائیں امی بلا رہی ہیں کہتی وہ بھاگ گئ۔۔۔

پیچھے دنین مارے حفت کے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے سیدھی ہوئ ۔

آپ ریڈی ہو جائیں ،،میں نے بھی بس شال لینی ہے کہتے وہ وارڈروب کی جانب جاتی تیزی سے اپنی شال اُوڑتے خود کو اچھے سے ڈھانپتے تیار کھڑی تھی ۔

_________________

باہر آتے ہی انابیہ نے عظمہ بیگم کو حرف با حرف اپنی آنکھوں دیکھی بات سنائی جسے سنتے عظمی بیگم بھی سلگ گئ ،، لکلوتا بیٹا تھا شہزادوں جیسا وہ کیسے اُسے بیوی کے پیچھے لگا دیکھتی ۔۔

انہوں نے اپنے تنے نقوش سے دونوں کو آتے دیکھا ،، جو اسلام کرتے ان کے قریب کھڑے ہوے تھے ۔

عظمہ بیگم نے ایک نگاہ دانین پر ڈالی جو کافی خوبصورت لگ رہی تھی ،، اور بمشکل اپنا اشتعال دباتے چہرے پر مسکراہٹ سجائے گویا ہوئ ،، بچے جانا نہیں ہے کیا ،، کتنا وقت ہو گیا تمہاری آنٹی فون پر فون کیے جا رہی ہیں ۔۔

ذرا جلدی کیا کرو ،، جانتے بھی ہو کے دن کم ہیں تمہارے جانے میں ،،،،پانے ہجرے سے نکل کر چند پل مان کے قریب بھی بیٹھ جایا کرو ۔۔

بیوی کے پہلو سے لگے بیٹھے رہتے ہو اور تو جیسے کوئی کام ہی نہیں دنیا میں ،،کاٹ دار لہجے میں کہتی وہ نگاہوں کا مرکز دانین کی ذات تھی ۔۔

جو قریب کھڑے ان کے لہجے کی سختی محسوس کرتے سانس روک گئی ۔

جانے زندگی کتنی ہے آگے ہی ،، یہ چونچلے تو چلتے رہیں گے ساتھ ساتھ ،، لہجے کو ہلکا نم کرتی گلا کیا تو وہ ترپ اٹھا امی کیسی باتیں کر رہی ہیں ۔۔

میں آپ کے پاس تو ہوں،، بس آج کے بعد میں سارا وقت آپ کے ساتھ گزاروں گا ،، بس آپ ایسی باتیں نہ کیا کریں ،،آپ جانتی ہیں ہمارے پاس ایک واحد رشتہ آپ ہی تو ہیں وہ نرم پڑتا ان کو سینے سے لگاتا محبت بھرے لہجے میں گویا ہوا ۔۔

اور یہی تو وہ چاہتی تھی عظمہ بیگم ،،ایک شاطر نگاہ انابیہ کی جانب اچھالتی وہ آنکھ دباتے ان کی مکاری پر ماتھے پر ہت پھیرتے انہیں اشارہ کرتی گہرا مسکرا دی ۔۔

جاؤ میرا بچہ دیر ہو رہی ہے آپ لوگو کو ،، کب سے منتظر ہیں تمہاری آنٹی ،، کسی کو زیادہ انتظار نہیں کروانا چاہیے۔۔

وہ دونوں سر ہلاتے اٹھ گئے۔

دیکھا ایسے کھیلے جاتے ہیں کھیل کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نا ٹوٹے ،، اس لڑکی کی اتنی اوقات کے میرے بیٹے کو مجھ سے دور کرے ،، اس عام سی لڑکی کو اسی لیے تو چنا تھا میں نے کے میرا بچہ میرے قریب رہے گا ۔۔

میرا بچہ تو لاکھوں میں ایک ہے ،، میں تو اس سانولی کو اس لیے بیاہ لائے تھی کی میرا بیٹا میرے ہاتھ میں رہے گا ۔۔

ایسے کیسے میں اپنے اکلوتے بیٹے کو کل کی آی لڑکی کو سونپ دوں ۔۔

کروفر سے کہتی وہ قریب پڑے سیب کے ٹکڑے اٹھا کے کھانے لگی ،، قریب بیٹھتے انابیہ بھی زہر ہند لہجے میں بولتی ماں کی چالاکی پر سر ہلا گئی ۔

________________yumna writers

سورج کی کرنیں ہر سو پھیلی ایک نئے سویرے کا اعلان کر رہی تھی ،،، ایک نئی صبح جس میں طیب کمال کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا

ڈائننگ ہال میں اس وقت طیب کمال ،، اُسکی والدہ چندہ کمال برجمان تھے جبکہ دوسری جانب عون چودھری ،، زین چوہدری ،، ایک صوفے پر ان کے قریب ماریہ بیگم براجمان تھی ۔۔

طیب کمال کے الفاظ ان سب کے کانوں میں گردش کرتے انہیں ساکن کر گئے تھے ،، ہال میں چھایا جمود عون چودھری کی بھاری سرد آواز سے ٹوٹا ،، ہم معذرت خواہ ہیں بچے لیکن ہم

اپنی بچی کا ابھی رشتہ نہیں کرنا چاہتے ،، آپ جا سکتے ہیں ۔۔

چند الفاظ اور طیب کمال کو لگا کے وہ سانس نہیں لے پائے گا ،، اُسکا دل گھٹنے لگا ۔

ان کے الفاظ کانوں میں پگلے ہوئے سیسے جیسے لگ رہے تھے ،، اس نے مردہ چال چلتے ان کے قریب ان کے قدم میں بیٹھتے ان کے پاؤں تھام لیے ،، عون چوہدری اس کی غیر متوقع اور نامناسب حرکت سے بے ساختہ چونکہ ،، دور ہٹئے برخردار یہ کیا حرکت ہے ؟؟

لہجے میں سختی در آئی تھی ۔

میں آپ کے پاؤں پڑنے کو تیار ہوں ،، کہتے ہیں تو ناک رگڑنے کو ،، بخدا ایسا ظلم مت کیجئے ،، ،، میں اس کے بغیر جینے کی نہیں سوچ سکتا ،، وہ ان کے پیر تھامے ان سے آزان کو مانگ رہا تھا ۔۔

چندہ کمال نے اپنی نم نگاہیں بیٹے پر ڈالیں اور عون صاحب کی جانب دیکھا ،، بھائی صاحب ہم آپ کے سامنے جھولی

پھیلائے بیٹھے ہیں ہمیں حالی ہاتھ نہ لوٹائیں ،،

آپ کو خدا کا واسطہ کوئی ایسا سنگدلانہ فیصلہ نہ سنائیے گا کے میرا بیٹا جیتے جی مر جائے ،،میری اکلوتی اولاد ہے یہ ،، سابقہ تین ماہ سے آپ کی بیٹی کی محبت میں گرفتار ہے ،، آپ چاہیں تو ہمارا تعارف کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں ،، الحمدللہ اس کے بابا کا وسیع پیمانے پر بزنس پھیلا ہوا ہے جسے میری بیٹے نے خود سمبھالا ہے،، آپ نے کل کو کسی بھی اچھی خاندان میں اپنی بچی کی شادی کرنی تو ہے تو آپ اسے ہمیں سونپ دیں ،، یقین مانیں آپ سے زیادہ محبت اور عقیدت سے رکھیں گے اُسے ،، اپنی بیٹی بنا کر ،، _________ بہتی ہوئی آنکھوں سے وہ ان کے سامنے آپنی جھولی پھیلائے منت سماجت پر اتر آئی،، ہمیں آزان سونپ دیں جبکہ وہاں بیٹھے تمام نفوس ان کی اس حرکت سے سن ہو گئے۔