Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 15)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
طیب کمال کے دہلیز پار کرتے ہی وہ ننگے پاؤں ،، اپنے ڈوبتے کی پرواہ کیے بغیر تیزی سے زینے عبور کرتی عون چودھری کے کمرے کی جانب گئی ۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی اس کی نگاہ پریشان بیٹھی ماریہ بیگم اور ایک جانب کھڑے زین چوہدری پر پری ” جو نگاہ جھکائے اپنے بھائی صاحب کے غصے کو دیکھتے خاموش کھڑے تھے ،، اس کے عین وسط میں عون چوہدری اشتعال میں کمرے میں چکر کاٹ رہے تھے ،، غصہ تھا کے کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ،، ماریہ بیگم سمیت سبھی لوگوں نے ان کا یہ جلالی روپ پہلی بار دیکھا تھا ،، وہ کبھی اتنے مشتعل نہ ہوے تھے خاص طور پر گھر میں ،، پر آج طیب کمال پر چندہ بیگم کی رخصتی کی بات پر انکا خون کھول گیا ۔۔
انکی پھولوں جیسی نازک بچی ،، وہ کیسے خود سے اتنی دور کے دیتے ،،ان کے جینے کا واحد سہارہ ،، ابھی عمر ہی کیا تھی اُسکی ،، انہوں نے تو اپنی بیٹی کی آنکھوں میں رقم طیب کمال کے لیے پسندیدگی ،، کو دیکھتے اُسکا ساتھ قبول کیا تھا ۔
اریشہ نے اُسے آگے جانے کا اشارہ کیا ،،جانتی تھی کے وہی ہے جو ان کے اشتعال کو ٹھنڈا کر سکتی ہے ۔
باہر کیٹرنگ والے اور مینجمنٹ والے اپنا کام سمبھال رہے تھے ،، بڑے بھائی صاحب کو زین چوہدری نے باہر بیٹھ کر انکا حساب چکتا کرنے کا کہا ،، اسے دل ہی دل میں خوف تھا کے کہیں بات مزید نہ بگڑ جائے ۔
باقی قریبی رشتہ داروں کو جو گھر میں رکے تھے ،، (نور کی والدہ) سعدیہ بیگم اور ان کی بڑی بیٹی دیکھ رہے تھے ۔
آزان قدم بڑھاتے عین ان کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور اپنی نم نگاہوں سے انہیں دیکھتے ،، ان کے دل پر ہاتھ رکھتے قریب ہوتے تھوڑی سی ایڑھیاں اٹھاتے ان کے رخسار پر لب رکھتے ان کے سینے پر سر رکھ گئی ،، یہ اُسکی ب کی عادت تھی کے جب اُسے اپنے بابا جان پر بہت پیار آتا یان کوئی کام نکلوانا ہوتا تو ایسے کرتی اور عون چوھدری ایک منٹ سے پہلے نرم پڑتے ۔۔۔
ابھی بھی وہی ہوا ،، آزان نے سر ان کے سینے سے اٹھاتے ان کے چہرے کی جانب دیکھتے استفسار کیا ،، ۔۔۔
کچھ غلط ہو گیا بابا جان!!! ۔۔۔۔۔۔
ایک آنسو پلکوں سے ٹوٹ کر نیچے گرا اور عون چودھری کا سارا غصہ ،، دبدبا ،، رعب و جلال جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ،، نہیں میری جان کچھ غلط نہیں ہوا ۔۔
کچھ ہوا ہی نہیں میرا بیٹا “
اس کے ماتھے پر لب رکھتے” اُس کو سینے سے لگائے وہ اپنے رندھے لہجے کو نارمل کرنے کی سعی میں تھے ۔۔
وہ اچھی طرح جانتے تھے ان کی بیٹی کتنی نازک دل کی ہے ،، اسی لیے کبھی اس پر کسی چیز کا دباؤ نہ ڈالا ۔
ماریہ بیگم جو کب سے خاموش بیٹھی تھی انہیں آزان کے ساتھ لاڈ کرتا دیکھ سرد نگاہوں سے انہیں گھورنے لگی ،، اریشہ اور زین چوہدری کھسیانی ہسی ہنسنے لگے ۔
جانتے تھے اب ان دونوں میں تکرار کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔
بیگم یوں مت گھورو مجھے پیار ہو جائے گا ” انہیں چھیڑتے وہ ماحول کو ہلکا پھلکا سا کر گئے ۔۔ اندر سے دل ابھی بھی پریشان تھا ۔
بابا کیا بات ہے آپ کیوں غصہ کر رہے تھے ،؟؟؟؟
آزان نے پھر سے سوال کیا ۔۔
نہیں بیٹے کچھ خاص نہیں بس آپ کے سسرال والے رخصتی چاہ رہے تھے ،، میں نے انکار کر دیا ۔
اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیرتے وہ نرمی سے گویا ہوے ،، البتہ مجھے طیب کمال کے یہاں آنے یان آپ سے ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ،، آپ نکاح میں ہو اس کے ،، اگر آپ چاہو تو مل لو لیکن رخصتی آپکی پڑھائ مکمل ہونے پر طے پائی تھی ۔
خیر آپکو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، میں بات کر چکا ہوں ۔۔
آپ جاؤ ان ریسٹ کرو ” تھک گئی ہو گی ،، چلو بچوں آپ دونوں بھی جاؤ ۔۔ اریشہ اور نور کو بھی جانے کا کہا ۔۔
زین باہر دونوں بچوں نے بھائی صاحب کو تنگ کرکے رکھا ہوگا ،، جاؤں انہیں دیکھو “( فائق اور حرم) اریشہ اور زین کے بچے ۔۔
وہ سر ہلاتا باہر نکل گیا ۔
آپ کیوں پریشان ہیں عون ” ؟؟؟
مجھ سے مت چھپائیے گا ” میں جانتی ہوں آپ نے سب کو پرسکون کرنے کے لیے یہاں سے بھیجا ہے ،، پر کوئی بات ہے جو آپکو پریشان کر رہی ہے ۔۔
میں آپ سے کیا چھپاؤ بیگم ” جانے کیوں آج طیب کمال کا رخصتی کے لیے کہنا میرے دماغ میں ایک دھماکہ کر گیا ،، جس کے اثر میں میرا وجود دھکنے لگا ۔۔۔ مجھے اپنا دماغ بند ہوتا محسوس ہوا ۔۔
مجھے اس کی بات اس قدر متاثر کر گئی کے میں آج سالوں بعد اپنے آپ میں نہ رہا ،، طيب کمال میں کوئی برائی نہیں اور نہ ہی اسکی بات میں ۔۔۔
بات یہ ہے کے میرے لیے یہ سوچ ہی اتنی بھیانک ہے کے ہماری بیٹی ہمارا جگر کا ٹکڑا ہم سے الگ ہو جائے گا ۔
شدت ضبط سے انکا چہرہ سرخ ہوتا بھاپ اڑانے لگا ۔
ماریہ بیگم انہیں دیکھتی رہ گئی وہ کیا کہتی انہیں ،، وہ تو خود بے بس تھی اس معاملے میں ۔۔۔۔۔۔
اس ماں کی تکلیف کون جانے جس نے ایک عرصہ خدا کے آگے جھولی پھیلائے رکھی تھی ۔
ہر طرح کا علاج کروایا ” باہر کے ممالک سے علاج کروانے چلی گئی صرف اولاد کی خاطر لیکن وہاں بھی مایوسی ہوئ ،،ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کے ماں بننے کا چانس زیرو ہے ۔۔
اور اس دو جہانوں کے رب العالمین کی کرنی ایسی تھی کے رمضان المبارک مبارک کے مہینے میں وہ سجدے میں سر رکھ کے زارو قطار روتی رہتی ،، عون چوھدری انہیں خاموش کرواتے اور کہتے کے مجھے نہیں چاہیے اولاد تم ہو نہ میرے پاس ۔۔میری شریک حیات ۔
اور اسی رمضان المبارک میں اللہ نے انہیں خوشحبری دی ،، آزان کی آمد پر وہ انتہا کے خوش تھے ،، مٹھایاں بانٹی ،، صدقات دیے ۔۔
_____________
وہ باہر بیٹھتے چائے پی رہے تھے کے انابیہ اٹھ کر باہر چلی آئ ،، اور ایک نگاہ دونوں پر ڈالتے دنین کو سنجیدگی سے دیکھتے بولی ،، مجھے بھی چائے کا پوچھ لیتی آپ ” ۔۔۔
ہمیں لگا کے تم سوئ ہوئ ہو بیٹا ،، دنین کی بجائے اذلان نے جواب دیا ۔
چلو کوئی بات نہیں ” ہم بس پی چکے ،، دنین جاؤ انابیہ کے لیے بھی چائے لے آو ،، ہم دونوں بہن بھائی کچھ گپ شپ لگا لیتے ،،اذلان نے مسکراتے ہوئے کہا تو دنین سر ہلاتے اٹھ گئی ۔
اور کیسی جا رہی سٹڈیز ،، لاسٹ سمسٹر ہے نہ ” ؟؟؟
انابیہ اس کو جواب دینے لگی ، دونوں بہن بھائی باتوں میں مصروف ہو گئے ” دنین نے چائے لا کر سامنے رکھی تو عظمہ بیگم بھی اندر داخل ہوئی ۔۔
کیا باتیں چل رہی ہیں دونوں میں ،، دنین نے فوراً انہیں پانی لا کر دیا ۔
دنین مجھے بھی چائے لا کر دو تھک گئی ہوں بہت ۔۔۔
دنین جی کرتی کچن میں چلی گئی اور وہ تینوں باتوں میں مشغول ہو گئے ۔۔
اذلان اپنے جانے کا انہیں بتانے لگا ،، دنین نے لا کر ان کے سامنے پلاسٹک کے ٹیبل پر چائے رکھی تو وہ گویا ہوئ ۔۔
سر
سماویہ کے گھر گئی تھی اس کی بہو کے ہاں بیٹا ہوا ہے بہت خوش تھی ،، پوچھ رہی تھی مجھ سے بھی کے تمہاری بہو کو بھی امید لگی کے نہیں ۔۔
میں نے صاف بول دیا ‘ ہم کوئی جاھل لوگ نہیں جو شادی کے دو ۔۔ تین مہینے بعد ہی پوچھنا شروع کر دیں ،،جب اللہ نے چاہا تب دے دیگا ،، ویسے بھی پھر یہی سب کچھ ہوتا ہے اچھی بات ہے تھوڑا وقت مل جاتا لڑکیوں کو بھی ” آرام کا ورنہ بچے کہاں سانس لینے دیتے ،، عظمہ بیگم اپنی رو میں لگی بولے جا رہی تھی اور اذلان مسلسل دنین کو زچ کرنے کے لیے شرارتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جو اس وقت لال ٹماٹر بنی ہوئی تھی ان کی باتوں سے .
انابیہ اُسے شرماتا دیکھ سرتاپا اسے گھور کے رہ گئی ،، اُس کو اپنے بھائی کے ساتھ خوش دیکھ کر وہ اندر ہی اندر سلگتی تھی ۔۔
حسد کرتی تھی اس سے ،، یہ جانے بغیر کے حسد کی مثال تو لکڑیوں کو آگ لگنے جیسی ہے حسد انسان کو اندر ہی اندر جلا دیتا ہے اور انسان اپنی ہی لگائ گئی آگ میں جلس جاتا ہے ۔
