Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 24)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

آزان صبح اٹھتے خاموشی سے یونی ورسٹی کے لیے نکل گئی ،،، اسکی گاڑی تو طیب کمال کے پاس ہوتی تھی ،،اُسکا اپنا تو یہاں کچھ نہ تھا یہ احساس اُسے شدت سے محسوس ہوا تھا ” اُسکا اپنا آپ اُسکی ملکیت نہ رہا تھا ۔۔۔ کیب بک کرواتے وہ بیٹھتی آنکھوں پر سنگلاسز لگائے اُس کے ستم یاد کرنے لگی ۔۔

وہ پہلے والا طیب کمال تو نہ تھا ” جس کے لہجے اور آنکھوں میں اُسے محبت اور عقیدت کے سوا کچھ دکھائ نہ دیتا اور شادی کے بعد اُس میں واضح تبدیلی آئی تھی جنہیں دیکھتے وہ ششدر تھی لیکن خود کو بار بار باور کرانے لگی کے پریکٹیکل لائف یہی ہوتی ہے ،، ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے ۔۔

کچھ طیب کمال اُسے کسی سے کچھ شیئر نہیں کرنے دیتا تھا ،،اور نہ اُسے اکیلا چھوڑتا ” جونک کی طرح اُس کے ساتھ چپکا رہتا ‘ اگر وہ گھر رہنے جاتی تو پیچھے چلا جاتا ۔

کیب میں لگی غزل اُسے خود کے لیے محسوس ہوئ ” جو مکمل

طور پر اُسکے حالات اور دل کی عکاسی کر رہی تھی۔

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ

میں نے سمجھا تھا تو ہے تو درخشاں ہیں حیات

تیرا غم ہے تو غم دھر کا جھگڑا کیا ہے

تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات

تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا ،،__________ میں نے فقط چاہا تھا

ہو جائے _______ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں _____ وصل کی راحت کے سوا ۔

وہ آنسو صاف کرتی یونی ورسٹی کے گیٹ کو عبور کرتی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھی جہاں نور ،، ذکیہ ،، ملکہ اُسکی منتظر کھڑی تھی ،، ان دونوں سے ملتی وہ نور کے گلے لگتی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔ نور نے اُسے خاموش کرواتے اُسکی گلاسز اتاری

تو دل دھک سے رہ گیا ،اُسکی سوجی آنکھیں اُسے بہت کچھ غلط ہونے کے اندیشے میں مبتلا کر گئی

نور تو جیسے اُس کے رونے پر پاگل ہونے والی ہو گئی ،،آزان میری جان کیا ہوا ہے طیب بھائی نے کچھ کہا ہے ۔۔ بتاؤ مجھے اُس کے آنسو صاف کرتے وہ اس کی پشت پر ہاتھ پھیرتے محبت و تکلیف کے ملے جلے تاثرات لیے اُسے بے چینی سے دیکھتے استفسار کرنے لگی ،، اور وہ تینوں اسے ساتھ لیتے کنٹین میں ایک جانب بیٹھ گئی ۔

اب بتاؤ زانو کیا ہوا ہے ؟؟ ۔۔۔

اُسکی جانب دیکھتے وہ تینوں اُس سے جواب طلب تھی ،، اور وہ نگاہیں چراتے خود کو کوسنے لگی ،، کیوں وہ خود پر ضبط نہ کے پائ ۔

نہیں کچھ نہیں بس ویسے ہی ذرا آنٹی نے سختی سے بات کی تم تو جانتی ہو نہ گھر میں بابا جان اور سب کتنی محبت سے مجھ سے ہمیشہ بات کرتے ہیں ۔

اُس نے بہانہ گھرا لیکن سامنے بھی نور تھی ” جو اس کی رگ رگ سے واقف تھی ۔ مجھے صرف سچ جاننا ہے ” نور آنکھوں میں سرد مہری لیے اُسے دیکھ رہی تھی ،، آزان چوہدری لبوں اور زبان پھیرتے لحظہ بھر کو رکی ،، اور پھر اُسے اپنے ساتھ گزری قیامت خیز گھڑیوں کا بتانے لگی اور سب دہراتے اُسکی آنکھوں میں ڈھیروں آنسو جمع ہونے لگے ۔۔

اپنی گردن سے سکارف ہٹاتے اس نے بال پیچھے کیے تو نور اور اُسکی دونوں دوستیں دہل کے رہ گئی ۔

وہ ششدر نگاہوں سے اُسکی گردن پر موجود نیلے نشانات دیکھنے لگی جو جابجا ہلکے نیلے تھے اور اُسکی میدے جیسی رنگت پر صاف واضح ہو رہے تھے ۔

وہ پھٹی نم آنکھوں سے لبوں پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھ رہی تھی جو خود پر بیتی اس ازیت اور کرب کو چھپائے بیٹھی تھی ۔۔۔

نور کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی ،، دل گویا تکلیف سے بلندی لگا ” اور بیک وقت نور کی آنکھیں سرخ رنگ میں ڈھلتی سلگنے لگی ،، تم پاگل ہو تکلیف کی شدت سے وہ آنکھیں ناک صاف کرتی چیخی ” تم نے کیوں نہیں بتایا ہمیں ۔۔۔

اب وہ کافی بدل گیا ہے” وہ مجھ سے محبت کرتا ہے نور اور میں اب اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی ،، اُسکی محبت اُسکی عادت ہو گئی ہے مجھے،،

میری کچی عمر کا پکا عشق ہے وہ ،،

میں کیسے اُسے چھور دیتی ،،

مجھے لگا وہ ٹھیک ہو جائے گا ” لیکن نہیں اُسکی محبت پہلے سے زیادہ بڑھنے لگی ہے وہ میرے بغیر ایک پل نہیں گزآرتا ،، اور اب میں اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی ،،گھر میں کسی کو بتاتی تو وہ مجھے کبھی واپس نہ جانے دیتے اور میں ایسا نہیں چاہتی ۔

آزان چودھری کو طیب کمال اپنے جھال میں مکمل پھنسا چکا تھا ،، اُسکی محبت آزان چودھری کے دل میں پنجے گاڑے ہوے تھی اور یہی وہ چاہتا تھا کے آزان چاہ کر بھی کبھی اس سے دور نہ جا سکے ،، عشق محبت ،،پیار پر کس کا اختیار ہوتا ہے ۔

اور مرد ذات ،، مرد جانتے ہیں کے کس طرح ایک لڑکی کو قابو کرنا ہے ،، اس لیے سب سے پہلے جھال ہی محبت کا پھیلاتے ہیں اور جب اس جھال میں مچھلی پھنستی ہے تو اُسے باہر نکال کر ترپاتے ہیں ۔

طیب کمال بھی آزان چودھری کو ترپانا چاہتا تھا ۔

تم ایک جاہل حوس پرست درندے کے ساتھ دو سال سے رہ رہی ہو ،،اُسکی درندگی برداشت کر رہی ہو اپنے جسم پر ۔۔ اسے محبت نہیں زانو جسم کی بھوک کہتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔

نور اُسکی بات سنتے بے یقینی اور غصے سے چیختی ٹیبل پر ہاتھ مار گئی ۔

کسی نے بلکل حقیت کہی ہے کے جب تک آپکی بچی باشعور اور عقل مند نہ ہو جائے اُسکا نکاح نہ کرو ۔۔

اس بات کی زندہ مثال تم میرے سامنے ہو ،، تم میں اتنا شعور اور عقل نہیں کے تم اپنے ساتھ رہنے والے مرد کی محبت اور حوس کو جان سکو ۔

یہ کونسی محبت ہے جو جسم پر ختم ہوتی ہے ” محبت تو روح کا ملن ہے ،، جو شخص آپ سے محبت کرتا ہے آپکی رضامندی کا منتظر رہتا ہے آپکو تکلیف نہیں دیتا ۔

یہ اپنے جسم پر نشان دیکھ کے بھی تمہیں اس بات کا احساس نہ ہوا نور آنکھوں میں درد لیے مشتعل سی اُسے سمجھا رہی تھی ، تم گھر چلو گی میرے ساتھ اور آج ہی ہم گھر والوں کو طیب کمال کا گھناؤنا چہرہ دکھائے گے ،، وہ اٹل لہجے میں کہتے اٹھنے لگی ،،، نور ۔۔۔۔ نور

تم ایسا کچھ نہیں کرو گی تمہیں میری قسم ______

حالات کی سنگینی کو دیکھتے آزان اُسکا ہاتھ تھامے کھینچتے بولی تو ساتھ بیٹھی دونوں ذکیہ اور ملکہ نے اُسے گھورا ۔۔۔

تمہارا دماغ خراب ہے لڑکی ” اس کو سخت گوری سے نوازتے وہ ماتھے پر بل ڈالتے چیخ پڑی ۔

ایک بار میری بات سنو ۔۔۔ آپ لوگ کیوں نہیں سمجھ رہے میں اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی محبت کرتی ہوں میں اس سے _____

اس کو دیکھے بغیر دل کو قرار نہیں آتا میں جانتی ہوں وہ غلط ہے لیکن یہ بدل جائے گا مجھے یقین ہے ۔

میں نے یہ بات اس لیے نہیں آپ لوگوں سے ڈسکس کی کے میں جانتی تھی کے یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے اور دوسرا تم لوگ غصّہ کروگی ۔

لیکن تم تینوں کو میری قسم یہ بات کسی سے نہیں کرنی ،،مجھے کچھ مزید غلط لگا تو میں وعدہ کرتی ہوں گھر بتا دونگی لیکن ابھی نہیں ۔۔

آزان چودھری نے انہیں دیکھتے خود کا یقین دلایا ۔۔

وہ تینوں افسوس سے اُسے دیکھنے لگی ،، ۔۔۔ دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا اور آزان کو لیتے وہ تینوں گھر واپس آ گئی ۔

طیب کمال جب اٹھا تو دو بج چکے تھے ،، اس وقت آزان آ جاتی تھی ،،یان اُسے کال کر دیتی ” اُسکا دل اچانک پریشان ہوا اور وہ تیزی سے اٹھتا اپنا فون دیکھتا جلدی سے اُسے کال کرنے لگا ،،، لیکن وہ اُسکی کال نہیں اٹھا رہی تھی ۔۔

اگر اُس نے گھر میں کسی کو کچھ بتا دیا یہ خیال آتے ہی اُسکا دماغ گھومنے لگا ،، وہ خواص باختگی میں کپڑے لیتا جلدی سے تبدیل کرتا گاڑی بگاتے چوہدریوں کی کوٹھی پہنچا ،، دانستاً سب کو اسلام کرتے وہ تیزی سے اذان کے کمرے کی جانب بڑھا ۔

ناب گھماتے وہ کمرے میں ہوا تو وہ سامنے لیٹی گہری نیند میں تھی ۔۔

کمرے میں مدھم سی روشنی تھی ،، وہ قدم بڑھاتے اُس کے قریب جا بیٹھا اور اس کے چہرے سے بال پیچھے کرتے ماتھے پر لب رکھ گیا ۔

آئی لو یو میری جان ______ میری جان ہی نکال دی تم نے تو مون ،،سٹار

اُسے مختلف ناموں سے پکارتا وہ گہرے سمندر جیسے لہجے میں محبت سموئے بولا تو آزان جو کچی نیند میں تھی اُسکی آمد کو محسوس کر چکی تھی کروٹ بدلتے اُس سے دور ہوئ ۔

پیچھے ہو جائیں ،،چلے جائیں یہاں سے ” ۔۔۔۔

آپکو شرم نہیں آتی ،، کیوں آئے ہیں یہاں ۔۔۔ میرا احساس نہیں آپکو جو پھر سے اپنی محبت میں چھپی حوس کو پورا کرنے اس گئے ہیں آزان اُس سے دور ہوتی ترخ کر بولی تو طیب دھنگ سا رہ گیا ۔

کیا ہو گیا زانو _____ اس کو تھامنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ دور ہو گئی ،،

کچھ نہیں ہوا مجھے ،، حقیقت کا ادراک ہوا ہے بس ۔

طیب سانس روکے اُسے دیکھ رہا تھا جو آج اُسے پہلے سے مختلف لگی تھی ۔

میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں آزان ،، تم کیوں میرا دل دکھا رہی ہو ۔۔۔ میں مانتا ہُوں کے اپنے جذبات پر میں قابو نہیں کر پاتا ۔۔

لیکن اب ایسا نہیں ہوگا میری جان!!

دھیمے محبت بھرے لہجے میں کہتا وہ اسکا ہاتھ تھامے اُس کے چہرے پر جھکتا کانوں میں رس گھولنے لگا

تمہیں کیوں ایسا لگتا ہے جانم !!! ۔۔۔۔۔۔

اس کے قریب جاتے اس کے شانے پر سر رکھتے وہ اس کے قریب جھکتا اس کے کانوں میں محبت بھری سرگوشیاں کرنے لگا تھا ۔۔وہ جانتا تھا جو کچھ وہ کر چکا ہے اگر اس کی زرا سی بھنک بھی کسی کو لگ گئی تو وہ کتنا برا پھنس سکتا تھا ۔۔

میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا جانتی ہو نہ تم ،، تو پھر کیوں دور جانے کی باتیں کرتی ہو ۔

اُس کے کندھے پر لب رکھتے اُس کے گرد اپنا حصار تنگ کرتے وہ اسے اپنے جھوٹے محبت بھرے لہجے اور بھنور میں پھنسا رہا تھا ۔

اور وہ معصوم اُس کی محبت سمجھتے خاموش بت بنی اُس کی بانہوں میں کھڑی تھی کسی بِے جان گڑیا کی طرح ۔

جسے وہ جب چاہتا جیسے چاہتا استعمال کرتا ،،،

وہ جو اُس کے رویے سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھی ،، اُس کے حصار میں آتے ہی سب کچھ بھلا بیٹھی تھی ،، بس جانتی تھی تو اتنا کے وہ اس سے بے حد محبت کرتا ہے ۔

آنکھیں جو کچھ دیر پہلے رونے سے سوجی ہوئی تھی ،، گلابی لب کپکپا رہے تھے ،، اس کی بھاری آواز اور

پر تپشِ لہجے ،،اپنے گرد موجود اُس کے لمس کو محسوس کرتے وہ ساکت کھڑی تھی ،، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جیسے ختم ہو چکی تھی ،، ہوش اسے تب آیا جب اُس کی گرم سانسیں اپنی کان کی لو پر پرتی محسوس ہوئی ،، وہ بدک کر اس سے دور ہونے لگی لیکن مقابل نے اپنا حصار مضبوط کرلیا ۔۔۔۔۔

تم جانتی ہو نہ کتنی محبت کرتا ہوں تم سے !!!! مر جاؤں گا تم سے دور ہوا تو ۔۔۔

مارنا چاہتی ہو کیا مجھے ،اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے اُس کی شربتی آنکھوں میں جھانکتے وہ چہرے پر دنیا جہاں کی معصومیت طاری کیے اُس سے جواب طلب کر رہا تھا ۔۔

اور وہ معصوم اُس کا چہرہ دیکھتے ہی فوراً نفی میں سر ہلاتے اُس کے سینے سے لگ گئی ۔۔

وہ اپنے پلان پر پر اصرار سا مسکراتا ،، اس کے گرد اپنے ہاتھ پھیلا گیا ۔۔

موسم کافی ابر آلود تھا ،، وہ اٹھتے ہی تیار ہوتا جلدی سے ریڈی ہوتے گھر والوں سے ملتا باہر نکلا ،، کراچی کے لیے وہ اپنی سیٹ بک کروا چکا تھا ،، لاہور سے کراچی کا سفر زیادہ نہ تھا دو گھنٹے میں وہ وہاں پہنچ جاتا ۔

انابیہ نے اسے بھی ساتھ آنے کا کہا ” لیکن اذلان نے انکار کر دیا ،، وہ اکیلے جانا چاہتا تھا ۔۔۔ اور اُسے ساتھ لانا چاہتا تھا وہ اچھے سے جانتا تھا کے وہ اُس سے کافی خفا ہوگی ۔

دماغی طور پر آنے والی ہر صورت حال کے لیے وہ پہلے سے خود کو تیار کر چکا تھا ۔ کراچی ائرپورٹ پر پہنچتے وہ جوں ہی باہر نکلا اُسکا دل عجیب لہہ پر دھڑکنے لگا ۔۔

ان کے فلیٹ تک پہنچنے کا راستہ اُس نے اپنے دل کی اتھل پتھل ہوتی دھڑکنوں کو قابو کرنے میں گزارا ۔

ان کے فلیٹ کے سامنے کھڑے ہوتے وہ دونوں مٹھیاں بینچے ،، اپنی تمام تر وجاہت لیے وہ جوان خوبرو مرد آنے والے وقت سے خوفزدہ سا اُس کے روبرو ہونے کے لیے اپنے دل کی ڈوبتی ابھرتی دھڑکنوں کو اپنے کانوں میں بجتا محسوس کر رہا تھا ۔

اپنا سرخ و سفید ہاتھ بیل پر رکھتے وہ اتنا نروس تھا کے جانے کتنے برسوں بعد اُس سے ملاقات کر رہا ہو۔

اندر سے آتی قدموں کی آواز اور ننھے ننھی قلقاریاں اُس کے تمام حساس الرٹ کر گئی وہ کسی غلط پتہ پر تو نہیں چلے آیا سب سے پہلا خیال اُس کے ذہن میں بیدار ہوا ۔

آ ۔۔۔۔ہاں __________ نہیں کرو موسی ۔۔۔

یہ آواز ،، اس آواز کو تو وہ لاکھوں آوازوں میں بھی پہچان سکتا تھا یہ دنین تھی ۔۔۔

لیکن وہ کسی بچے کا نام پکار رہی تھی ” ابھی وہ کچھ مزید سوچتا کے سامنے سے دروازہ کھولا گیا اور وہ جو موسی کو گود میں لیے باہر آئی تھی جو ابھی نیند سے جاگا تھا اُسے سامنے کھڑے دیکھ کے دم بخود سی رہ گئی ۔

فق چہرے کے ساتھ سست پڑتی دھڑکنوں سمیت وہ وہی کھڑی رہی ،، ٹانگوں سے جیسے کسی نے جان نکال لی ہو ۔

یہی حال سامنے کھڑے اذلان ملک کا تھا ،، وہ ساکت کھڑا اُسے دیکھ رہا تھا ،، دل گویا جیسے دھڑکنا بھول گیا ہے ،، اُس کی سرخ و سفید رنگت جو چمک رہی تھے یک دم زرد پری تھی پر لب جیسے سل گئے تھے ،، لفظ ادا کرنا مشکل تھا ۔

وہ وہی اُسے دروازے پر کھڑا چھوڑتے اندر کی جانب بھاگی تو اسے جیسے ہوش آیا ۔

اس نے فلیٹ میں داخل ہوتے دروازہ بند کیا اور اندر کی جانب قدم بڑھائے ،، سامنے چھوٹے سے لاؤنج میں نبیل صاحب عیسی کو گود میں لیے بیٹھے تھے ،، ان کی طبیعت کچھ ناساز تھی تو وہ کالج نہیں گئے تھے ۔

متغیر چہرے کے ساتھ جب وہ لاونج میں داخل ہوا تو سامنے نبیل صاحب کو دیکھ کر اسلام کرتے آگے بڑھا ،، لیکن وہ خاموشی سے اسلام کا جواب دیتے اسے بیٹھنے ک اشارہ کر گئے ، وہ ہمیشہ اُس سے بہت عزت اور چاہت سے ملتے ،، لیکن آج وہ اٹھے نہ تھے ۔

عیسی کو ان کی گود میں دیکھ کر اسے جھٹکا لگا تھا یہ وہ بچہ نہیں تھا جسے اُس نے باہر دیکھا تھا ،، لیکن مشابہت اتنی تھی کے وہ ٹھیک سے اندازہ نہ لگا پایا ۔

دل کو حوصلہ دینے کے لیے وہ خود سے ہی ہمکلام ہوا تھا کے کسی ہمسائے کا بچہ ہوگا لیکن نبیل صاحب کو گود میں اس اچھلتے کودتے خوبصورت بچے کو دیکھ کے وہ دھنگ رہ گیا ۔

وہ بچہ اُس سے کافی مشابہت رکھتا تھا،، اُسکی سرخ و سفید رنگت ،، ہیزل گرین آنکھیں ” اور لبوں کی بناوٹ ملکل دنین جیسی تھی ۔۔ سات آٹھ ماہ کا وہ بچہ بے انتہا خوبصورت تھا ۔ وہ ششدر سا اس کے نقوش میں کھویا تھا ،،

یہ اذلان ملک کا بیٹا عیسی ملک ہے ،، نیبل صاحب اُسے حیرت سے اس چھوٹے گڈے کو تکتا پا کر بولے ،، اذلان نے پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھا ،،

جس کی اذلان ملک کو خبر تک نہیں کیوں کہ جس رات دنین آپکو یہ خوش خبری سنانے والی تھی اسی رات آپ کی بہن اور ماں نے میری بیٹی کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اُس کی ایک نہ سنتے آدھی رات کو گھر سے باہر نکالا تھا اور میری بچی لوگوں سے مدد مانگتی اپنے گھر بے سروپا سی پہنچی تھی ۔

انتظار کرتی رہی کے اُسکا شوہر سب جانتا ہے ،، وہ حقیقت سے آگاہ ہے وہ ضرور اُسکا ساتھ دے گا لیکن نہیں ،، اسے نہیں آنا تھا اور نہ آیا ۔

اور اب جب سب صحیح ہونے جا رہا تھا ہماری زندگیوں میں سکون میسر ہو گیا تو ایک بار پھر آپ دو سالوں بعد اُس سکون کو برباد کرنے آ گئے ہیں ۔

وہ بے لچک لہجے میں کہتے اُسے اسپاٹ نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔

اذلان اپنی نم ہوتی آنکھوں سے اس ننھی جان کو دیکھتا ماحول میں چھائی کشیدگی اور ان کے کوڑے برساتے الفاظ کے برعکس ہاتھ بڑھاتے عیسی کو ان سے لیتے اپنے سینے میں بینچ گیا اور وہ جوان مرد آنکھوں میں ڈھیروں پانی لیے اُس بچے کے ہاتھوں پیرو کو چھوتا بے انتہا اس کے ایک ایک نقش پر لب رکھتا پاس آتی لبنہ بیگم کی آنکھوں کو بھی نم کر گیا ۔

دنین جو اس منظر کو اندر بیٹھی گلاس ونڈو سے دیکھ رہی تھی ،،ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے آنسو بہاتے اپنی ہچکیاں روکنے لگی ۔

اذلان ملک غم زدہ سا ہوتے اپنے بیٹے کو سینے سے لگائے انہیں خود پر بيتے ایک ایک حادثے کے بارے میں بتانے لگا ،، اور عظمہ بیگم اور انابیہ پر گزری قیامت اور کیسے ان کا اپنا کیا ہی ان پر بھاری پر گیا ۔

جب وہ خاموش ہوا تو ماحول میں مکمل سکوت چھا گیا ” نبیل صاحب اور لبنہ بیگم نے مزید اس سے کوئی سوال نہ کیا ۔

وہ سر جھکائے اضطرابی کیفیت میں گھرا ان سے معافی مانگ رہا تھا ۔

انہوں نے مزید اس سے کوئی بات نہ کی اور نہ اسے مجرم بنا کے کٹھگرے میں کھڑا کرنا چاہتے تھے ،، وہ سامنے کمرے میں دنین ہیں آپ ان سے بات کریں ” اپنے بیچ جون سی بھی رنجشیں اور فشار ہیں انہیں سلجھائے اگر وہ آپ کے ساتھ جانے کو تیار ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں اور اگر وہ نہیں جانا چاہیں گی تو آپ کا اور ہمارا ساتھ بس یہی تک تھا اس کے بعد آپ ہم سے کبھی نہیں ملیں گے ،، نبیل صاحب کے بولے گئے الفاظ اسکی سماعتوں میں گرم سیسے کی طرح لگے ،، دل کرچی کرچی ہو گیا ۔

اس نے ایک نگاہ ان پر ڈالتے عیسی کے گال پر لب رکھتے اسے سینے سے لگایا اور قدم کمرے کی جانب بڑھاے

ناب گھماتے دروازہ کھول کر وہ اندر کمرے میں داخل ہوا اور آہستگی سے دروازہ بند کر دیا ۔

دھیمے قدم بڑھا کر اُسکی جانب بڑھا ،، اور ایک خیرت کا شدید جھٹکا اُسے لگا ،، سامنے بیڈ پر لیٹا دوسرا بچہ ہوبہو عیسی ملک جیسا تھا اس نے ایک نگاہ پاس بیٹھی آنسو بہاتی دنین پر ڈالی جو دوسری جانب رخ موڑے بیٹھی رو رہی تھی ،، اسکی سسکیاں اذلان ملک کا دل بند کر رہی تھی ۔

میرا بیٹا ” اس نے عیسی کو لٹاتے موسی کو اٹھاتے پیار کیا ،، آنکھیں ایک بار پھر نم ہونے لگی ۔

دنین دوسری جانب رخ کیے کانپتے ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کرتی بیٹھی تھی ،، دل و دماغ جو اس سے بدظن تھا اسکی تکلیف کا سنتے وہ سب بھلا گئی ،، اگر وہ مشکل میں تھی تو سمندر پاڑ بیٹھا وہ بھی اس کی تکلیف پر خود کی پرواہ کیے بغیر اپنی جان کو داؤ پر لگا بیٹھا تھا ۔

نفرتوں اور حلشوں کے بادل چھٹنے لگے تھے ۔

دنین اس نے دونوں کو ساتھ لٹاتے دنین کو مدھم لہجے میں پکارا ۔

کیا کیا نہ تھا اس ایک پکار میں ،، دکھ

تکلیف ۔۔

پچھتاوا۔۔

درد ۔۔

کسک

دنین ______ اس کو خاموش پاتے وہ گھٹنوں کے بل جھکتا اُس کے سامنے بیٹھ گیا اور اس کے آگے ھاتھ جوڑ دیے ۔۔

وہ جو اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی تھی گزرے وقت کی یادوں اور درد بھرے لمحات کا سوچتے اُس کے ہاتھ تھام گئی ۔

آنکھیں لبالب آنسو سے بھر گئی ” اس نے روتے کرب سے نفی میں سر ہلایا ۔

اذلان ملک نے جھک کر اس کے دونوں ہاتھوں پر لب رکھے اور اُسے سینے میں بینچ لیا ،

دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چپکے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رو دیے ” گزرے لمحوں کی اذیت ناک پلوں کو یاد کرتے وہ ایک دوسرے کے غموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کر رہے تھے ۔

وہ بارہا اس سے معافی مانگ چکا تھا ۔___________

دنین اُس کے سینے سے لگی اپنا وزن اُس پر ڈالے ہوے تھی ،، ۔۔۔

دنین اذلان نے رونے کے باعث بھاری لہجے میں اسکا نام پکارا ،، تو وہ جو ابھی بھی آنسو بہا رہی تھی اُس کے سینے سے سر اٹھاتے اُسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔

یار تم تھوڑی بھاری ہو گئی ہو ” اس دکھ بھرے ماحول میں غیر متوقع بات پر دنین نے اسے بے یقین نگاہوں سے دیکھا جو اُس کے پہلے سے تھوڑے سڈول جسامت کو دیکھتے چوٹ کر رہا تھا ۔۔

وہ آنکھیں نکالتے اس سے دور ہٹنے لگی تو اذلان ملک کا زندگی سے بھرپور قہقہ فضا میں گونجھا ،، مذاق کر رہا ہوں یار ۔۔۔۔

اس کے ماتھے پر لب رکھتا وہ آنکھیں بند کرتا خود میں سکون اترتا محسوس کر رہا تھا ۔۔

بہت شکریہ دنین _____ میرے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جن سے میں تمہارا شکریہ ادا کر پاؤں ۔ بس اتنا کہوں گا

تم نے مجھے ساری زندگی کے لیے اپنا قرضدار بنا لیا ہے ۔۔

میں وعدہ کرتا ہوں گزرے ماہ و سال میں تم مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ پاؤ گی ۔۔ اتنے انمول تحفے میری زندگی میں لانے کا میں تمہارا شکر گزار ہوں ۔

دنین نے موسی کو اٹھایا اور اذلان نے عیسی کو ۔۔

آپ کو ان دونوں میں سے زیادہ پیارا کونسا لگا ؟…

دنین اُسے پرجوش سی دیکھتے پوچھ رہی تھی ،، وہ گہرا مسکرا دیا ۔

مجھے یہ دونوں ہی دنیا جہاں میں سب سے زیادہ عزیز ہیں کیوں کہ ان دونوں کو دنیا میں لانے والی عورت سے مجھے عشق ہے

وہ آنکھوں میں ڈھیروں محبت کے رنگ لیے اُس کو ساتھ لگاتے زندگی سے بھرپور مسکراہٹ لیے اس کی دونوں ہتیھلیوں پر لب رکھتا اسکو معتبر کر گیا ۔۔

اُسکی آنکھوں پر لٹائی ہے بصارت ہم نے _________

اس سے پہلے ہمیں ہر رنگ نظر آتا تھا ۔

بھاری گھمبیر لہجے میں کہتا وہ اُس کی لرزتی پلکوں اور سرخ پڑتے چہرے کو دیکھنے لگا ،، مم ۔۔۔

عیسی اذلان ملک کے ہاتھ مارنے پر وہ کھلکھلا کر اُسکی جانب دیکھتی اُس کے چہرے کو چٹاچٹ چوم گئی ۔

اذلان ملک سرشار سا اس کے گرد بازو حائل کرتا اُسے ساتھ لیے باہر آیا تھا ۔

نبیل صاحب دونوں کو مسکراتے ساتھ باہر نکلتا دیکھ مبھم سا مسکرا دیے ،، ان کی بیٹی کو اُسکی خوشیاں مل گئی تھی ۔

انکل اجازت ہے ،، لے جاؤں اپنی بیوی بچوں کو _____ اذلان اجازت طلب نگاہوں سے انہیں دیکھ رہا تھا ۔

بیٹے ہمیں کیا مسئلہ ہونا ہے ہاں ہمارے گھر کی رونق کو آپ ساتھ لیتے جا رہے ہیں وہ مسکراتے موسی کو پیار کرتے بولے تو اذلان ملک موسی کو ان کی جانب بڑھاتا گویا ہوا ۔

ہم اکیلے نہیں جا رہے آپ لوگوں کو ساتھ لے کر جائیں گے ،، تاکہ میرے شہزادے اپنے نانا نانی سے اُداس نہ ہوں ،، اُس کے بولنے پر وہ دونوں بچوں کو پیار کرتے نم آنکھوں سے دیکھنے لگے ۔

ہم ابھی کیسے آ سکتے ہیں بچے ” ہمارا یہاں کام ہے اور اتنی جلدی میں بچوں کو کیا بتاؤ گا ۔

آپ لوگ آج چلے جاؤ ہم ان شاء اللہ جلد آئیں گے ۔۔

میں نے ابھی اپنا سامان لینا ہے ،، بچوں کے کپڑے ،، اور سارا سامان پیک کرنا ہے ،، وقت لگ جائے گا دنین پریشانی سے گویا ہوئ تو وہ لحظہ بھر اسکو دیکھتا مسکرا اٹھا , کوئی بات نہیں بیگم دونوں مل کر سامان پیک کرتے ہیں کل چلے جائیں گے لیکن میں اکیلا یہاں سے نہیں جاؤنگا ،، بہت مشکل سفر طے کرکے آیا ہوں اور اب تو اپنے جان کے ٹکڑوں کو دیکھے بغیر دل ہی نہیں لگے گا ۔

وہ مسکراتا ان کے ساتھ بیٹھ گیا ” وہ اپنے رب کا شکر گزار تھا کے اُسے اتنی نیک اور نرم دل بیوی ملی اور سب سے زیادہ اُس کے والدین کا جس کا اس نے برملا اظہار کیا تھا ۔

وہ چاہتے تو دنین کو روک سکتے تھے ،،

لیکن انہوں نے اسے روکا نہ تھا اور نہ ہی واپس اس گھر جانے سے منع کیا تھا اُس کی ماں اور بہن جو اُسکی بیوی کے ساتھ کر گزری تھی اُسکی اس نے بار بار معافی مانگی تھی ،،وہ شرمسار تھا ان سے ۔۔ نبیل صاحب نے اُسے کوئی بحث یان گزری باتوں کو نہیں دہرایا ۔ بلکہ اُسے بھی بار بار معافی مانگنے سے ٹوکا ۔

وہ تشکر بھری نگاہوں سے انہیں دیکھتا ،، تو کبھی دنین کو ۔ اور اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کے رب کا شکر ادا کرتا