Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 6)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

وہ اگلے دو دن یونی ورسٹی نہ گئ ،، طبیعت کا بہانہ بنا کر وہ گھر بیٹھی رہی،،اس کی تمام سوچیں اس شخص کے اردگرد گردش کر رہی تھی۔

دو دن بعد نور کے بے انتہا سمجاھنے کے بعد وہ یونی ورسٹی گئی اور اپنی دوستوں سی ملتے اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب چل دی ،، دونوں ہی پڑھائ میں بہت اچھی تھی اور کچھ انہیں شوق بھی بہت تھا آگے بڑھنے کا،،

تو لیکچر کو بہت دھیان سے سنتی اور سوال جواب بھی کرتی ،، جس کے سبب دونوں ہی تمام پرفیسر کی نظر میں آ

گئی تھی ۔

کیفٹیریا میں جاتے اس کا موڈ کچھ خوشگوار ہوا اور وہ بیٹھی سب سے باتیں کر رہی تھی کے ایک چھوٹے لڑکے نے اس کے قریب آتے اُسے ایک سرخ گلابوں سے بھرا بکیٹ تھمایا کے کسی نے اس کی جانب اشارہ کرتے کہا کے اُس تک پہنچا دیں ۔

وہ بکیٹ پکڑتی خیران سی اُسے دیکھنے لگی جس پر ایک چھوٹا سا کارڈ چسپا تھا جس میں چھوٹے چھوٹے خروف میں پیار کا اظہار کیا گیا تھا ۔۔

اور اُسے بہت انمول کہا گیا تھا ،، اور ساتھ ہی ساتھ اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔

وہ جو پہلے ہی بے دلی سے آج یونی ورسٹی آئی تھی اس کے الفاظ پر سن سی ہو گئی ۔

فضول میں کسی کا ہوگا غلطی سے تمہیں پکڑا گیا ،، فار گیٹ اٹ زانو ،، ______

نور اُسکا دھیان بھٹکانے کی خاطر بولی تو وہ پھولوں کا گلدستہ دوسری جانب پھینکتی سر ہلاتے اٹھ گئی

پھر روز کا معمول بن گیا کے طیب کمال کبھی یونیورسٹی کے گیٹ پر تو کبھی اکیڈمی کی روڈ پر اس کے لیے پھول لے کر کھڑا رہتا ،، نور نے کئی بار اُسے بہت کھڑی کھڑی سنائی لیکن وہ اپنی گہری بھوری آنکھیں اس پر ٹکائے کھڑا رہتا ،، اس کی آنکھوں میں جانے کیسی لپک تھی کے آزان کانپ کے رہ جاتی لیکن بولتی کچھ نہ ۔۔۔

وہ خود ہی تمام صورت حال کو سمجھ نہیں پا رہی تھی ،،اسے یہی لگ رہا تھا کے کچھ دن ایسا کرے گا پھر غائب ہو جائے گا ،، کے آج کل لڑکے اسی طرح تو لڑکیوں کو اپنے جھال میں پھانستے ہیں ،، اسے لگا تھا یہ کوئی رچا رچایا کھیل ہوگا جو کچھ دنوں کے بعد ختم ہو جائے گا۔

لیکن طیب کمال جانے کیسا شخص تھا کے بنا کچھ بولے بس خاموش پہروں اس کے انتظار میں کھڑا رہتا۔

ایک مہینہ ہونے کو آیا تھا نہ نور نے خود گھر والوں کو کچھ بتایا اور آزان کو بھی کچھ کہنے سے منع کر دیا ،، وہ جانتی تھی اپنے چچا کی اذان کے لیے محبت ” اور انکی عادت ،،

کے وہ طیب کمال کو اس دنیا سے ہی نہ اٹھا دیں ،، اس لیے اس نے خاموشی اختیار کر لی ۔۔

گویا اس سارے عرصے میں طیب کمال اپنے فعل سے پیچھے نہ ہٹا،، اس کا معمول بن چکا تھا سرخ گلابوں کو گلدستہ ہاتھ میں پکڑے اُسکا انتظار کرنا ،، اور آزان کے لیے دن با دن بہت مشکل ہوتا جا رہا تھا اس شخص کو نظر نداز کرنا ،، وہ اٹھارہ کی ہونے والی تھی ،، ایک لڑکی تھی ،، اس کے جذبات سے آگاہ تھی ،، طیب کمال کی آنکھوں میں محبت کے رنگ دیکھ چکی تھی،، جنہیں دیکھتے اُسکا دل ڈوبنے لگتا ۔۔۔وہ شخص بغیر کچھ بولے بھی بہت کچھ بول دیتا تھا اپنی آنکھوں سے ۔۔

اس کی گہری آنکھیں اس کے جذبات کی عکاسی کرتی تھی

جس میں رقص کرتی محبت صرف سامنے کھڑی لڑکی کے لیے تھی ۔

___________________

وہ جو گہری نیند میں محو تھی ،، دھرا دھر دروازہ بجنے کی آواز سے ایک دم گربڑا کر اٹھ بیٹھی ،،

اٹھ جاؤں مہمان سارے اکٹھے ہیں گھر میں ،، ۔۔

اذلان ملک جو اُسے خود میں قید کیے ہوے تھا اس کے اچانک اٹھنے سے اس کو آنکھیں پھیلائے دروازے کی جانب دیکھتا

پا کر دانت لبوں میں دباتا اپنی مسکراہٹ روکتا اُسے اپنی جانب کھینچتا ،، اسے اپنے حصار میں لیے قدرے بلند آواز میں بولا ،،

آپ چلیں ہم آتے ہیں ،، دنین اس کی اس حرکت سے اس کے کشادہ سینے سے لگتی دبا دبا سا چیختی،، کے وہ اس کے نازک لبوں پر اپنی مضبوط ہتھیلی رکھ گیا ۔۔۔

اور اس کی سرخ ڈورون والی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتے اپنے جذبات سے لبریز نگاہیں ڈالتا اس کے چہرے پر حیا کی لالی بکھیر گیا ۔

جوڑے میں مقید گھنی سیاہ زلفیں آبشار کی مانند پیچھے پرے تکیے پر بکھری ھوئی تھی ،، ہاتھ بڑھا کر اس کی خوبصورت زلفوں کی نرماہٹوں کو اپنی پوروں پر محسوس کرتے وہ گہرا سانس حارج کرتا جھکتا اس کی جبین پر لب رکھ گیا ۔

ان زلفوں کا میں اسیر ہو گیا ہوں ایک ہی رات میں ،،

دنین پاگل ہوتی دھڑکنوں پر اپنی آنکھیں میچ گئی ۔

ایک خوبصورت صبح مبارک میری زندگی “٫ خوبصورت بوجھل لہجے میں کہتا وہ اس کے سرخ تمتماتے چہرے پر نگاہ ڈالتے دور ہٹا۔۔

فریش ہو جائیں آپ ،، میں کچھ دیر میں آتا ہوں ۔۔ اپنی شرٹ ٹھیک کرتا وہ اٹھا اور باہر کی جانب قدم بڑھائے ،،اور دروازہ بند کرتا کمرے سے باہر نکل گیا تاکہ وہ ریلکس ہو سکے ۔۔

دنین نے تیزی سے اٹھتے اپنے کپڑے نکالے اور فریش ہونے چلی

گئی ۔

کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو وہ ڈریسنگ کے سامنے بیٹھی ہاتھوں میں کنگن ڈال رہی تھی ،، مہرون خوبصورت شیفون کے لباس میں وہ اپنے لمبے گھنے کمر سے نیچے جھولتے بالوں کو کھلا چھوڑے ،، آنکھوں میں کاجل لگاے ،، لبوں پر پنک گلوز لگائے آتش فشاں بنی اس کے عین سامنے تھی ،، کمرے میں کلون کی خوبصورت مہک ماحول کو مزید جلا بخش رہی تھی،،

اس سے پہلے کے وہ قدم اس کو جانب بڑھاتا باہر سے آتی عظمہ بیگم کی آواز نے اُسے جھنجھوڑ کر ان فسوں خیز لمحوں سے نکالا اور وہ ایک محبت بھری نگاہ اس پر ڈالتا ،، اس کے قریب جھکتا محبت بھری سرگوشی کرتا اپنا ڈریس لیتا واشروم میں چلا گیا ۔

پیچھے وہ لال پیلی ہوتی اس کے محبت کے مظاہروں پر ہاتھوں کو ملتی بیٹھی اسکی منتظر تھی کے اُس کے والدین بھی ناشتے کے لیے آنے والے تھے۔

کچھ ہی دیر میں دونوں باہر لاؤنج میں آتے سب کو اسلام دعا کرتے ٹیبل کے قریب بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے ،، اذلان نبیل صاحب کے ساتھ بیٹھا تھا جبکہ وہ شرمائ لجھائ سی اپنی کزن اور مان کے ساتھ بیٹھی محو گفتگو تھی ۔

ولیمے کا فنکشن احتتام ہوا تو انہیں نے ساتھ آنے کا کہا لیکن اذلان نے سہولت سے انکار کر دیا کے وہ کل اُسے لے کر خود

آ جائے گا ۔