Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 11)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

اگلے دن کا سورج ایک نیا سویرا لے کر بیدار ہوا تھا ،، کھڑکیوں کے ذریعے کمرے میں آتی سورج کی کرنیں بھی بیڈ پر موجود محو استراحت شخص کی نیند میں حلل نہ پیدا کر سکی ،، دانین پیلے ” رنگ کے لباس میں موجود ، جس پر سرخ رنگ کے خوبصورت پھولوں کا اُسکے گھیرے پر کام تھا ،، دیوار گیر ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوتی اپنی گھنی آبشاروں کو خشک کرتی پلٹ کے اسکی جانب دیکھ رہی تھی جو آج ڈھٹای کی انتہا پر پہنچتا اُسے زیچ کیے ہوے تھا ۔۔۔

پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ وقتاً فوقتاً اُسے آواز دیتی اور وقت کا بتاتی لیکن وہ بے سد بیڈ پر الٹا لیٹا تھا ۔

اپنے بالوں کو چٹیاں کی شکل میں ڈھالتے سر پر سرخ دوبٹہ رکھتے ،، لبوں پر گلابی گلوز لگائے وہ بلکل تیار کھڑی تھی ،، اب جان غسل کام اس شخص کو اٹھانے کا تھا ،، وقت دیکھا تو بارہ بج رہے تھے ،،

اُسکی جانب قدم بڑھاتے اس پر جھکتے اس کے شانوں سے تھامتے اس میں جتنا زور تھا لگاتے جنجھورا ،، تو وہ جو گہری نیند میں تھا گربراء کر آنکھوں پر ہاتھ رکھتا اُسکی جانب حیرت سے دیکھنے لگا ،، گھنٹہ ہو گیا ہے آپکو اٹھاتے ،، وقت کا اندازہ ہی نہیں آپکو “

آپ کو تو پھوپھو نے کچھ نہیں کہنا لیکن مجھے ضرور آنکھوں سے ہی کھا جانا ۔۔۔

اٹھیں فوراً اور ریڈی ہوں ،، اذلان جو اس افتاد کی لیے تیار نہ تھا،، آنکھیں پھیلاے اُسکی جانب دیکھ رہا تھا جو اس وقت اپنی مکمل تیاری کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی تپے لہجے میں سرخ پڑتے اُسے غور رہی تھی۔

اور مسلسل بولتی جا رہی تھی ،،

بیوی یہ ویسے جو آپ نے حرکت کی ہے نہ یہ انسانیت سے آری تھی ،،اور اب جوابی کاروائ کے لیے تیار رہیے گا ،، اُسے سرتاپا گہری نگاہوں سے دیکھتا وہ اپنی بھاری گھبیر آواز میں معنی خیز لہجے میں بولتا اٹھتا واشروم کی جانب بڑھ گیا تو وہ جو اسکی ہٹ دھرمی اور باتوں سے سلگتی اُسکا لباس نکالنے لگے ۔۔

________________

آزان کی جانب سے رضامندی ملتے ہی طیب کمال کو اسکی رضامندی سے آگاہ کردیا گیا اور طیب کمال کو تو جیسے نئی زندگی کی نوید سنا دی ہو ۔۔

وہ خوشی سے سرشار ایک ایک پل کو گن رہا تھا کے کب وہ گھڑی آئے گی جب وہ اس کے سامنے بیٹھی ہوگی ۔

اگلے کچھ دنوں میں دونوں خاندانوں کے لوگ عون چوہدری کے بنگلے میں موجود تھے ،، اور ہال میں بیٹھے نکاح کی تاریخ فائنل کررہے تھے ،،

عون چوہدری آزان کی پڑھائی مکمل ہونے تک رخصتی دینے کی حق میں نہ تھے ،، اور نہ ہی نکاح کے ” طیب کمال کے حد درجہ اسرا پر بھی وہ رخصتی کے لئے رضامند نہ تھے اور دو ہفتوں بعد نکاح کی تقریب طہ پائی ۔۔

اس سب میں نور اور اسکی کزنز آزان چودھری کے پاس اس کے کمرے میں موجود تھی ،، آزان نے نیچے سب کے سامنے آنے سے انکار کیا تھا اور اُسے کسی نہ بھی فورس نہیں کیا تھا البتہ طیب کمال اُسکا منظر تھا ۔۔

چندہ بیگم نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے اس کو سینے سے لگاتے پیار کیا تھا جو اس وقت ہلکے نیلے رنگ کے پاؤں کو چھوتی فراک میں موجود کوئی پری لگ رہی تھی ،، خوبصورت آنکھیں جن میں بھر بھر کر کاجل لگآیا گیا تھا ،، میک اپ سے پاک اُسکی سادگی میں بھی قیامت برپا کرتی چمکتی رنگت ،، وہ تو سادگی میں قیامت تھی ،،

چندا بیگم کو اپنے بیٹے کے پاگل پن اور جنون کا اُسے دیکھ کر انداز ہوا تھا ۔۔۔وہ تو لڑکیوں کو اپنے غیر معمولی حسن سے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیتی وہ تو پھر مرد ذات تھا ،، بنده بشر تھا

کیسے نہ بہکتا _______

اس کے سر پر پیار کرتی کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھتے وہ اس کے سر سے ڈھیروں نوٹ وارتی ملازموں کو تھماتے اس کی نازک مومی انگلی میں انگھوٹی ڈال گئی ،، کے یہ ان کے لیے بہت قیمتی تھی اور اب وہ اُسے دینا چاہتے تھے ۔

آزان دھیما سا مسکراتے ان کے ساتھ لگی شرمائی سی تھی ۔

_______________

وہ دونوں کمرے سے نکلتے باہر موجود صحن میں داخل ہوئے تھے جہاں ایک جانب رکھے سنگل بیڈ پر عظمہ بیگم گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ،، بہت اچھے بیٹے ” مہینہ ہونے کو آیا ہے اور تم لوگوں کی عیاشی ہی ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ،،

پہلے گھر بیٹھنے کی فرصت نہیں تھی اور اب بیوی کے پہلو سے فراغت نہیں ملنی ،،کے ماں بہن کا بھی خیال کر لوں۔۔

آدھا دن گزار کے کمرے سے نکل رہے ہو ” وہ تو مرد ہے تمہیں بھی عقل نہیں دانین ،، گھر کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں یوں منھ پھار سر جھار کر جب دل کیا اٹھ کر آ گئے ۔۔۔

عظمہ بیگم جو کب سے ضبط کیے بیٹھی تھے ان کے آتے گی شروع ہو گئی ۔۔

اور تمام توپو کا رخ دانین کی جانب کر لیا ،،

کرہت لہجے میں کہتی وہ دانین کو کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔

دنین جسکا پہلے ہی دل خوف زدہ تھا ،، انہیں اپنی جانب اتنا غصے سے دیکھتا پا کر سانس روک گئی ۔

امی کیا ہو گیا ہے رات میں دیر سے آئے تھے تو نہیں آنکھ کھل پائی ،، آپ اتنا کیوں غصہ کر رہہی ہیں ،، پکا بی پی ہائے ہو جائے گا ،،وہ ان کے گرد اپنے مضبوط بازو حائل کرتا نرمی سے کہتا دنین کو منظر سے غائب ہونے کی اشارہ کرتا گویا ہوا ۔۔

انابيه دکھائ نہیں دے رہی ،، کہاں ہے وہ ؟؟…

اطراف میں نگاہ ڈالتے وہ استفسار کرنے لگا ۔

کالج گئی ہے ” اسے میں نے ہی کہا تھا کے بھابھی کو جگاے مجھے ناشتہ بنا کر دے میری شوگر لو ہو رہی تھی لیکن تم دونوں تو ٹس سے مس نہ ہوے ،، جیسے نشہ کرکے سوئے ہو ۔۔

اپنے لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ وہ اُسے گھورتے بولیں ۔

جوان بہن ہے گھر میں اذلان ،، اُسکا کچھ خیال کرو ،، مہینہ ہونے کو آیا ہے تمہاری شادی کو ،،لیکن تم تو اپنی بیوی کے پہلو سے نہیں نکل رہے ،،، زن مرید بنے گھومتے ہو۔

بہن کے ذہن پر کیا اثر پرے گا جب تم دونوں کو دن دھیارے تیار مہکتے وجود کے ساتھ دیکھے گی،، اپنی بیوی کو بھی سمجھآو ” یہ تیاری کمرے کی حدود تک رکھے ،، میری بیٹی کو میں ابھی خراب نہیں کرنا چاہتی اُسکا کچا ذہن ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ اُسے بڑے آرام ده لہجے میں سمجھآتے اُسکے دماغ کے ساتھ کھیل گئی تھی وہ اچھے سے جانتی تھی انکا بیٹا اس معاملے میں کتنا سخت ہے،،

اسے لڑکیوں کو زیادہ تیار ہونا اور تنگ لباس بلکل پسند نہ تھے ،،

کچھ حدود تھی اس کی جو وہ اپنی بیوی کے لیے بھی چاہتا تھا ۔

لیکن دنین ایک بہت سادہ اور اچھی لڑکی تھی جسے اُسے کچھ سمجھآنے کی ضرورت نہیں پری ۔۔وہ بس اپنے لیے ایک نیک لڑکی چاہتا تھا اور اسے دنین پہلی نگاہ میں ہی پسند آ گئی تھی۔

وہ انابیہ کے لڑکوں کے ساتھ یونیورسٹی جانے پر بھی رضامند نہ تھا لیکن عظمہ بیگم کی وجہ سے خاموش ہو گیا ۔۔

وہ اس کے تاثرات جانچتے اپنی لگائ آگ پر مبھم سا مسکای ۔