Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 13)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

صبح کا سویرا بہت خوبصورت تھا ،، جو دو زندگیوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے جا رہا تھا ،، سب ہربڑی میں آگے پیچھے ہو رہے تھے ،، فنگشن ان کے لان میں ہی رکھا گیا تھا ،، طیب کمال اور چندہ بیگم کے بہت رشتے دار نہ تھے ،، تھوڑے بہت لوگ ان کی جانب سے تھے اور باقی یھاں گھر والے جو گزشتہ ایک ہفتے سے یہی ڈیڑھ جمائے بیٹھے تھے ۔

آزان،، نور اور اس کی خالہ زاد کزن پارلر گئی ہوئ تھی ،، باقی ماریہ بیگم گھر میں سارا کام دیکھ رہی تھی ،، لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ،، ہر طرف خوبصورت سفید اور گلابی پھولوں سے آرائش کی گئی تھی ،، روح کو پرسکون کر دینے والی معطر خوشبو ،، اطراف میں پھیلی تھی ۔۔

ملازمین اپنے کاموں میں جتے پڑے تھے ،، عون چوہدری نے سب سے مشہور پکوان کو اپنے بنگلے پر بلایا تھا کے تمام مہمانوں کو تازہ کھانا پیش کیا جائے ۔

طیب کمال آ چکا تھا ،، تمام گھر والوں نے اس کا بہت اچھے سے استقبال کیا تھا ،، وہ مسرور سا اپنی والدہ کے سنگ داخلی دروازے میں کھڑا اندر کی جانب قدم بڑھا رہا تھا ۔۔

یہ پل اس کے لیے خوبصورت ترین پل تھے ،، سفید شلوار قمیض میں وہ اپنا دیو ہیکل وجود لیے قدرے بہتر لگ رہا تھا ۔۔

کچھ لوگ جو اُسے پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے اُسے دیکھ کر دل۔مسوس کر رہ گئے ،، کے ان سب نے اپنی پیاری گڑیا کے لیے تو بہت خوبصرت شہزادے کا تصور کیا تھا ،، یہ تو بس عام سی شکل و صورت کا حامل لڑکا تھا جو دیکھنے میں ہی نور سے بڑا لگتا تھا اور کچھ اس کی جسامت ایسی تھی کے وہ مزید بڑا اور رعب دار دکھتا ۔

تمام مہمانوں کو بٹھایا گیا ،، طیب کمال اپنی تمام تر حسیات سمیت اس کا منتظر تھا ۔۔

بے صبری سے نگاہیں اردگرد دوراتا وہ اس کو دیکھنے کا منتظر تھا ۔

____________

نور آزان آ چکی تھی ،، بنگلے کے دوسرے دروازے سے وہ اندر آ چکی تھی ،، آزان اپنا گرارہ سنبھالتے قدم اٹھاتے اندر داخل ہوئی تھی جہاں سب اسی کا انتظار کر رہے تھے ،، ماریہ بیگم عون چوہدری ،، زین چوہدری سب اُسے جان نثار نگاہوں سے دیکھنے لگے جو اس وقت گریے گلابی گرارے میں خوبصورتی کا شہکار دکھائی دے رہی تھی ،، اتنا حسن ،،، سب جیسے سٹل ہو گئے ۔

فضا میں پھیلتی اُسکی آواز نے سب کو حیران کر دیا ۔

کیا بات ہے اتنی بری لگ رہی ہُوں کے آپ لوگ مجھے دیکھتے سکتے میں چلے گئے ہیں ،، آگے بڑھتے اس نے عون چودھری کو دیکھا ۔

بابا جان !!!! کیا میں اچھی نہیں لگ رہی ۔۔۔

چند قدم کے فاصلے پر ٹہرتے بولی تو عون چودھری اسے کھینچتے سینے میں بینچتے رو پڑے ۔

میری گڑیا میری جان ” سب سے پیاری ہے ،، ان کا لہجہ اور آواز بھاری پڑنے لگی ،، ماریہ بیگم انہیں روتا دیکھ ان کی جانب لپکی اور اس کے ماتھے پر لب رکھتے اپنے آنسو پر ضبط کرنے لگی ۔۔

انہوں نے کب سوچا تھا اپنی چھوٹی سی گڑیا کا اتنا جلدی نکاح کریں گے ،، بے شک وہ ابھی رخصتی نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن جانا تو تھا اس نے یہی چیز ان دونوں کو رلانے کا باعث بنی ۔

باہر سے آتی اریشہ کی آواز نے جیسے آزان چوہدری کی روح کو جنجھوڑ ڈالا ۔۔

جلدی چلیں باہر مولوی صاحب آ چکے ہیں ،، یہی وہ لمحہ تھا جب آزان کو لگا اُسکا دل درد سے بھر گیا ہے ۔۔وہ اپنے بابا کے گرد بازو حائل کرتی رو پری ۔۔بابا مجھے ڈر لگ رہا ہے

لرزتے ہونٹوں کے ساتھ کانپتے الفاظ نکلے تو وہ تینوں مل کے ساتھ رو پڑے ۔۔

زین چوہدری نے آگے بڑھتے انہیں جدا کیا ،، کیا ہو گیا ہے بھائی صاحب آپ بچی کو ہمت دینے کی بجائے اور کمزور کر رہے ہیں ۔۔

میری جان ،،، کچھ نہیں ہوتا ہم سب آپ کے ساتھ ہیں چلو چلتے ہیں باہر ،، سب آپ کے منتظر ہیں ،، نور اور اریشہ جو پاس کھڑی خود بھی رو رہی تھی انہیں اشارہ کرتے پاس بلایا۔

_______________

دانیں کو لگا جیسے اُسے نیند میں کوئ ہلا رہا ہو ۔۔۔

اس نے مندی مندی سی آنکھیں کھولیں تو دیکھا اذلان اُسے اٹھا رہا تھا ۔۔

اٹھ جاؤ دنین امی بلا رہی ہیں ،، انہیں ناشتہ بنا کر دو ،ان کی شوگر لو ہو گئی ہے ،، دنین نے نگاہ گھڑی کی جانب ڈالی تو صبح کے آٹھ بج رہے تھے ،،اٹھنا بہت مشکل تھا لیکن اس نے ہمت کرتے آنکھیں کھولیں اور واشروم چلی گئی ۔۔

فریش ہو کر باہر آئ تو وہ آراء ترچھا لیٹا پھر سے سو گیا تھا

وہ بال بناتی باہر نکل آئ ،، عظمہ بیگم کے کمرے میں گئی تو وہ بیڈ پر نیم دراز اپنا فون استعمال کر رہی تھی ،، اسلام کرتے اُس نے ناشتہ کا پوچھا ۔۔

بیبی کب سے میں ترلے لے رہی ہوں کوئ مجھے بھی ناشتہ دے دے ،، شوگر کی مریضہ ہوں میں ۔

لیکن پھو مجھے تو اذلان نے ابھی جگایا ہے ،، وہ ان کی باتیں سنتی آگے بڑھتی بولی

ارے میرا بچہ تو تھکا ہارا تھا ،، تمہیں خود خیال کرنا چاھئے کے اٹھ کر ساس نند کو ناشتہ دو ۔۔۔ گھر کے کام کاج کرو ۔۔ شادی کو خیر سے دو مہینے ہو چکے ہیں ابھی تک تم لوگو کے سیر سپاٹے ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے ،، اور بات سنو میری دھیان سے ،، میری بچی ابھی چھوٹی ہے ،، تو میں نہیں چاہتی کے اس کے دماغ پر کچھ غلط اثر پڑے ،، اس طرح بال کھلے چھوڑ اور تیار ہو کر کمرے سے باہر نہ نکلا کرو ،، جوان لڑکی جہاں موجود ہو وہاں یہ سب حرکتیں زیب نہیں دیتی ،، وہ تو مرد ہے اسے میں کیا بتاؤں ،، لیکن تم تو جانتی ہو نہ ،، آگے سے خیال کرنا وہ کڑے لہجے میں کہتی دوبارہ سے اپنے فون میں مگن ہو گئی ،، دنین آنسو روکتی لب کچلتی کچن میں داخل ہوئی ،، اور خود پر ضبط کرتے آنسو کو روکتے ناشتہ بنایا

سارے گھر کے کام کرتے وقت کا اندازہ ہی نہ ہوا ،، بارہ بجے وہ تھک ہار کر فری ہوئ اور مرے قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہوئ ،، اور بیڈ پر ڈھیر ہو گئی ۔

اذلان جو فریش سا واشروم سے باہر نکلا تھا اُسے لیٹا دیکھ فوراً اُس کے قریب گیا ،، کیا ہوا ہے دنین ،، چہرے پر متفکر تاثرات لیے وہ اس کا زرد چہرے پر ہاتھ رکھے استفسار کرنے لگا ۔۔

تو وہ جو تھک چکی تھی اس کے ساتھ لگتی رونے لگی ،، مجھے مما کے پاس جانا ہے ،،

اس کے اس انداز اور رونے پر اذلان نے اُسے حیرت سے دیکھا ،، تم اس لیے رو رہی تھی ،، ماتھے پر بل ڈالے وہ اسے گھورتے بولا ،، میں تھک گئ ہوں ،، میں نے کبھی اتنا کام نہیں کیا صبح سے اُٹھی ہوئ ہوں ،، پھو نے سارے گھر کے کام کروائے ،، میری کمر آکر گئی ہے جھک جھک کر ،، اتنی جلدی کھانا بھی بنوا لیا ۔۔

وہ بھیگي آنکھیں وا کرتی ایک ہی سانس میں اسے ساری بات بتا گئی ۔

اس کے گال پر لب مس کرتا وہ مبھم سا مسکرا دیا ،، بس اتنی سی بات پر اتنا رونا آ رہا تھا ،، اس کے کہنے کی دیر تھی دنین نے فوراً سر اثبات میں ہلا دیا ۔۔

میں بات کرتا ہوں امی سے ” وہ اٹھنے لگا تو دنین نے آگے بڑھتے اُسے کھینچ لیا ،، نہیں ان سے کچھ نہیں کہنا ،، پھر وہ مجھے بولیں گی کے میں نے آپکو شکایت لگا دی ۔

سہمی نگاہیں اس پر ڈالے وہ اُسے سختی سے منع کر رہی تھی ،، وہ دوبارہ ان کے منھ نہیں لگنا چاہتی تھی ،، وہ گزرے ماہ میں ان کا رویہ دیکھ چکی تھی اچھے سے ۔۔

ان کے سرد تاثرات اور کڑہت رویہ وہ نوٹ کر چکی تھی ،، یھاں تک کے انابیہ بھی اس سے اتنی بات نا کرتی ،، اسے بات بات پر باور کرواتی کے وہ خوبصورتی میں اس سے کمتر ہے ،، یہی وجہ تھی کے دنین نے ان کے پاس بیٹھنا چھوڑ دیا ،، وہ سارا وقت اپنے کمرے میں گزارتی ،، اذلان ملک کے ساتھ وہ بہت خوش تھی ،، وہ اسے ہر طرح سے خوش رکھتا اس کا خیال رکھتا ،، اور یہی چیز ان ماں بیٹی کی برداشت سے باہر تھی

وہ اپنے والدین سے ملنے تقریباً روز جاتی لیکن گھر میں اذلان نے بتانے سے منع کیا تھا کے وہ جانتا تھا اس کی ماں تھوڑے سخت مزاج کی عورت ہیں ،، لیکن اس کے باوجود اس نے کبھی انہیں غلط نہیں کہا تھا ۔۔

اصل امتحان تو دنین کا اب شروع ہونا تھا ،، اذلان کی واپسی میں تھوڑا وقت تھا ،، اور یہی بات دنین کو بھی پریشان کر رہی تھی ۔