Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 14)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

وہ یونی ورسٹی کے پارکنگ ایریا میں جیسے ہی اپنی بائیک روک کر ایک طرف کھڑی کرکے داخلی دروازے سے اندر جانے لگا۔۔۔۔

تو وہ اُسے سامنے ہی کھڑی اُسکا انتظار کرتی دکھائی دی ۔۔۔وہ قدم بڑھاتا اُسکی جانب بڑھا ۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ اُس تک پہنچتا اریج جلدی سے اُسکے قریب آتی سلام کرکے اُس کے آگے اپنی اسائنمنٹ کر گئی ۔۔۔۔

“میں کب سے آپکا انتظار کر رہی ہوں اب جلدی سے یہ چیک کریں وقت بہت کم ہے میرے پاس ۔۔۔میری کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے ۔۔۔۔

اسی لیے آج میں جلدی آ گئی کے آپکو جا کر چیک کرواؤنگی ۔۔۔۔۔

لیکن آپ کہیں نظر نہیں آئے اسی لئے میں یہاں سامنے کھڑی آپکا انتظار کرنے لگی”

وہ جلد جلدی بولتی اُسکی جانب دیکھ منھ بسور گئی ۔۔۔

اُسکی یہ حرکت مقابل کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر گئی ۔۔۔

وہ دراصل آج میں تھوڑا لیٹ ہو گیا نکلتے ہوئے ۔۔۔معذرت آپکو میرا انتظار کرنا پڑا ۔۔۔ وہ شائستگی سے بولا

“نہیں نہی اس میں معزرت کی کوئی بات نہیں میں بس ایک دفعہ آپکو دیکھانا چاہتی تھی کے کیسی بنائی ہے؟؟؟” ۔۔۔۔ وہ اس کے معذرت کرنے پر جلدی سے بولی

وہ سر ہلاتا اسائمنٹ کے پیج الٹنے لگا ۔۔۔۔

اریج کی نظر اُس پر ٹھہر سی گئی وہ اپنی شہد رنگ آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جینز پر وہ گرے شرٹ پہنے گلاسز لگائے

صاف گندمی رنگت ۔۔۔سلکی بال جو اُسکے ماتھے پر بکھرے پڑے تھے اُسکی پرسنلٹی کو شاندرا بنا رہے تھے۔۔۔

کچھ اُسکے لہجے کی نرمی کسی کو بھی اُسکا اسیر کر سکتی تھی ۔۔۔۔

اُسکی آواز پر وہ ٹھٹھکتی جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ بدل گئی

“بہت اچھی اسائمنٹ بنائی ہے آپ نے امپریسیو!! “وہ اُسکی جانب اسائمنٹ بڑھاتا اپنے مخصوص لہجے میں اُسے دیکھتا گویا ہوا ۔۔۔

رئیلی؟؟؟؟!!

مجھے لگا اتنی اچھی نہی بنی ہو گی۔۔۔۔کچھ میں گھر میں بھی کسی کو دیکھا نہیں پائی کے مجھے اندازہ ہو سکتا کہ کیا کیا مسٹیکس ہیں۔۔۔۔

اسی لیے میں جلدی آئی تھی کہ پہلے آپکو دکھاؤنگی پھر کلاس میں جاؤنگی ۔۔۔

اُس سے اسائمنٹ لیتی وہ پر مسرت لہجے میں بولی ۔۔۔

جی جی آپ بے فکر ہو کر جمع کروائیں ۔۔۔بہت اچھی بنائی ہے ۔۔۔۔

اب آپ جائیں کلاس کا وقت ہو گیا ہے ۔۔۔۔ورنہ لیٹ اسٹوڈنٹس کو سر کلاس میں اینٹر نہیں ہونےدیتے

اریج سر ہلاتی مسکراتی ہوئی اُسے دیکھتی چلی گئی ۔۔۔

______________________

وہ دادی کی گود میں سر رکھے انکے پرانے قصے سن رہی تھی ۔۔۔۔۔

ناشتہ کرنے کو بلکل بھی دل نہی تھا اسی لیے وہ بس جوس پینے لگی ۔۔۔

ربیعہ بیگم نک سک سے تیار ہوتیں ایک ہاتھ میں اپنا بیگ تھامے کہیں جا رہی تھیں ۔۔۔۔اُنھیں سلام کرتی وہ دادی کے پاس آ گئی ۔۔۔۔۔

اُس نے بہت کم انہیں گھر میں موجود دیکھا تھا۔۔۔اور اگر کبھی وہ گھر ہوتیں بھی تو اس سے کچھ خاص بات نہ کرتیں ۔۔۔

پہلے تو اُس نے اپنا وہم سمجھ کر ٹال دیا اور اتنا محسوس نہی کیا لیکن اب اُنکا سپاٹ سا رویہ منہا کو عجیب لگا ۔۔۔۔۔

پتہ نہیں کیوں ؟؟؟…. وہ سوچتی دادی کے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔

جب ایک ملازمہ اُسکے قریب آتی بولی ۔۔۔

” بی بی جی باہر کوئی لڑکا آپ سے ملنے آیا ہے کہہ رہا ہے آپ جانتی ہیں اُسے۔۔۔کیا اُسے اندر آنے دوں” ؟؟

“بیٹا تمہارا بھائی آیا ہوگا جاؤ اُسے یہاں لے آؤ” دادو اُسے محبت سے دیکھتیں بولیں ۔۔۔۔

منہا موسیٰ کا سوچتی خوش ہوتی بولی۔۔۔۔

جی آپ اُسے سیٹنگ روم میں بٹھائیں میں آتی ہوں ۔۔۔۔

کہتی وہ دادی کی گود سے سر اٹھاتی خوشی سے اٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

دوپٹہ درست کرتی وہ اُسے ملنے کے لیے کمرے سے نکلی ۔۔۔۔۔

کمرے میں قدم رکھتے وہ سامنے موجود شخص کو دیکھ ٹھٹھک گئی۔۔۔۔

مقابل بھی اُسے دیکھ اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔

تمم۔۔۔۔؟؟

وہ شاک کی کیفیت میں اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔

یہاں کیا کر رہے ہو تم ؟؟؟۔۔۔۔وہ اُسے دیکھ حیرت سے سوال کرنے لگی ۔۔۔۔

مقابل اُسے یوں حیرت زدّہ سا دیکھ مسکراتا ہوا بیٹھ گیا ۔۔۔۔

کیسی ہو منہا ؟؟۔۔۔۔اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے اپنی ۔۔۔۔

بہت کمزور ہو گئی ہو ۔۔۔

کیا کھانے کو نہی دیتا تمہارا ” کروڑ پتی” شوہر؟؟؟

میں نے سوچا تم تو بیٹھنے کا خود کہو گی نہیں میں خود ہی بیٹھ جاتا ہوں ۔۔۔وہ اُسے یوں حیرت میں مبتلا دیکھ بولا۔۔۔

فہد تم یہاں کیا کر رہے ہو …؟؟

اور میرے گھر کا ایڈریس کیسے ملا تمہیں ۔۔؟؟؟ وہ لہجے میں حیرت سموئے اُسکی بات کو نظر انداز کرتی سوالیہ نگاہوں سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔

جیسے ملتا ہے ایڈریس۔۔۔

ایڈریس،، معلوم کروانا کونسا مشکل کام ہے ۔۔۔۔میں نے سوچا اپنی منگیتر سے تھوڑی بات چیت ہی کرلی جائے وہ اُسے دیکھتا طنزیہ لہجے میں بولا ۔۔۔۔

فضول مت بولو میں اب کچھ نہی لگتی تمہاری اسلیے بہتر ہے خاموشی سے نکل جاؤ یہاں سے اور دوبارہ کبھی یہاں آنے کی کوشش نہ کرنا منہا غصے سے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔

مجھے کونسا تم جیسی دھوکے باز لڑکی سے کوئی مطلب ہے۔۔۔۔

یہاں بس تمھیں دیکھنے ہی آیا تھا کے مجھے ریجیکٹ کرنے کی وجہ کیا تھی وہ بھی شادی کے اتنے قریب ۔۔۔۔

اب میں سمجھ گیا اچھا خاصہ امیر بکرا پھنسایا ہے تم نے ۔۔۔

اسی لیے تو ایک مہینہ پہلے شادی سے انکار کیا تھا ۔۔۔

ایک بات سمجھ نہیں آئی مجھے بس اُسکا جواب دے دو تو چلا جاؤنگا ۔۔۔

منہا سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی…

“مجھ سے منگنی کی دفعہ تو بڑی مولانی بنتی پھیرتی تھی

ایک تصویر کی دفعہ تم نے اتنا شور برپا کیا تھا ۔۔۔ اور بات کرنے کے لیے کہا ۔۔۔تو اُس وقت تو تمہیں بہت اسلام یاد آیا تھا ۔۔۔۔۔جائز نا جائز””

اب کیا ہوا پیسہ دیکھ سارا اسلام کہیں جا سويا۔۔۔

اب نہی یاد آیا کہ ایک کو دھوکا دے کر دوسرے کو

پھنسانا جائز نہی ۔۔۔

اُس میں ایسا کیا تھا جو تم اپنا مولانیو والا ڈھونگ چھوڑ اُسکے پیچھے پیچھے چلی آئی ۔۔۔

کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے خوبصورت تو میں بھی بہت ہوں”؟؟ قہر بھری نظر اُس پر ڈالتا وہ بولا ۔۔۔

” ہاں مگر پیسہ اس سے کم ہے میرے پاس ۔۔۔

اُسکے جیسا اسٹیٹس نہیں ہے میرے پاس

تمہیں اس طرح کے بنگلے میں نہی نہ رکھ سکتا تھا اسی لیے تو تم اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ گئی شادی سے پہلے “۔۔۔ وہ حقارت آمیز لہجے میں بولا ۔۔

” بکواس بند کرو اپنی اور دفعہ ہو جاؤ اس سے پہلے کے میں تمہارا منھ توڑ دوں گھٹیا انسان ۔۔۔کتنی غلیظ سوچ ہے تمہاری”۔۔۔۔

منہا اُسکے الزام پر تڑپ اٹھی ۔۔۔وہ کچھ بھی برداشت کر سکتی تھی لیکن اپنی کردار کے بارے میں ایک لفظ نہی سن سکتی تھی۔۔۔۔

میں تو کبھی ایسا سوچ بھی نہی سکتی تھی تمہارے بارے میں کہ تم اتنا گر جاؤ گے ۔۔۔

لیکن بہت اچھا کیا کہ اپنی اصلیت دیکھا دی ۔۔۔۔ورنہ میں تو ساری زندگی اسی گلٹ میں رہتی کے میں نے تمہارا دل توڑا۔۔۔۔۔

لیکن بہت اچھے وقت میں تم نے میری سوچ کو غلط ثابت کیا ۔۔۔۔

بہت اچھا ہوا کہ میری تم جیسے گھٹیا انسان سے شادی نہیں ہوئی ۔۔۔

جسکی سوچ ہی اتنی گری ہوئی ہے وہ خود کتنا گرا ہوا ہوگا ۔۔۔۔

میں شکر گزار ہوں حمزہ کی جسکی وجہ سے میں تم جیسے ” پست ذہن” کے مالک فرد سے بچ گئی۔،،،

میں خدا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے ۔۔۔۔

جس نے اچھے وقت میں مجھے تم جیسے نفسیاتی شخص سے بچا لیا ۔۔۔اور مجھے اتنی عزت اور محبت کرنے والا شوہر دیا ۔۔۔

اب شرافت سے نکل جاؤ یہاں ںسے ورنہ گارڈ کو بولا کر دھکے دے کر نکلواؤنگی ۔۔۔۔

منہا حقارت بھرے لہجے میں بولتی قدم کمرے سی باہر نکالنے لگی کہ پیچھے سے اُسکی آواز سنآئی دی

” جا تو میں رہا ہوں لیکن اتنا یاد رکھنا کے تمہیں بھی کہیں کا نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔

جس طرح تم نے مجھے لوگوں کے سامنے ‘سوالیہ نشان” بنایا تھا اُسی طرح تمہارے ساتھ بھی ہوگا ۔۔۔

بلکل ویسے ہی تمہارے ساتھ کرونگا”وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا

منہا اُسکی آواز سنتی مڑے بغیر کمرے سے نکل گئی اور ملازمہ کو پانی لانے کا بولتی کاؤچ پر بیٹھ کر سر ہاتھوں میں تھام گئی ۔۔۔۔

وہ کیوں آج حمزہ کے بارے میں اُس سے بولی۔۔۔کیوں اُسکی تعریف کی اُسنے ۔۔۔

کیا وہ اُسکے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

ہاں وہ اُسکے دل میں جگہ بنا چکا تھا

اسی لیے تو اُسے اس وقت اُسکی کمی شدت سے محسوس ہو رہی تھی

۔دل میں شدت سے خواہش پیدا ہوئی کہ وہ یہاں موجود ہوتا ۔۔۔۔۔

وہ اُس لمحے وہاں ہوتا تو کسی کی جرات نہی تھی کہ وہ اُسے یوں منھ اٹھاتا کچھ بھی بول جاتا ۔۔۔

سوچ سوچ کر اُسکا سر گھومنے لگا تھا ۔۔۔۔اُسے ایسا لگا کہ جیسے ایک دم سے ہوا میں آکسیجن ختم ہو گئی ہو۔۔۔

اُسکا سر چکرانے لگا تھا۔۔۔ دماغ پھٹ رہا تھا ۔۔۔۔

تھوڑا سا پانی پیتے اُسنے لمبی سانسیں لیتے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

اُسکے بولے گئے جملوں کی بازگشت اُسے کانوں میں سنائی دے رہی تھی ۔۔۔

کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھاتے اُسنے مشکل سے حمزہ کا نمبر ملایا

__________________________

دوسری جانب سے فوراً فون اٹھایا گیا ۔۔۔۔

ہمم” ۔۔۔۔ حمزہ ،،،،

وہ مشکل سے اُسکا نام لے پائی تھی ۔۔۔۔

“منہا کیا ہوا ہے طبیعت ٹھیک ہے ؟؟” وہ جو کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا جلدی سے سیدھا ہوتا بولا ۔۔۔۔

آپ جلدی سے گھر آ جائیں ۔۔۔پلیز مَّ۔۔ مجھے ضرورت ہے آپکی” ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے اُسے بولی ۔۔۔

میں بس آ رہا ہوں منہا آپ پریشان نہ ہوں ۔۔۔۔

پلیز مجھے بتائیے تو سہی ہوا کیا ہے؟؟

بات کیا ہے وہ گاڑی میں بیٹھتا پریشانی سے اُس سے استفسار کرنے لگا ۔۔۔۔

” میں نے کچھ نہی کیا ۔۔۔۔۔وہ سب جھوٹ کہہ رہا تھامیں ایسی نہیں ہوں” وہ اٹکتی ہوئی سانسوں کے درمیان بول رہی تھی ۔۔۔

کون ؟؟؟کس نے کہا آپ سے کچھ!!!!

“منہا میں آ رہا ہوں بس خاموش ہو جائیں آپ طبیعت خراب ہو جائے گی میری جان ۔۔۔۔دادی کہاں ہیں؟؟ ۔۔۔

آپ انکے پاس جائیں میں بس آ رہا ہوں “

کہتے اُسنے کال ڈیسکنیکٹ کی اور گاڑی کی سپیڈ تیز کی ۔۔۔۔

پورچ میں گاڑی روکتا تیزی سے وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔وہ لاؤنج میں چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بیٹھی تھی ۔۔۔

منہا میری جان کیا ہوا ہے ۔۔۔وہ جلدی سے اُسکی جانب قدم بڑھاتِے متفکر سا پوچھنے لگا۔۔۔

وہ چہرے سے ہاتھ ہٹاتی اُسکی آواز سنتے تیزی سے اُسکی جانب لپکی اور روتے ہوئے اُسکے چوڑے سینے سے لگ گئی ۔۔۔۔

منہا کیا ہوا ہے کچھ تو بتائیے۔۔۔۔کیوں میری جان نکال رہی ہیں ۔۔۔۔حمزہ اُسکی کمر سہلاتا محبت سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔

یہاں آئیں بیٹھیں بتائص مجھے کیا ہوا ہے ۔۔۔کیوں اس طرح رو رہی ہیں

وہ اُسکے سرخ چہرے کو دیکھتا بولا ۔۔۔۔

وہ۔۔۔ وہ “فہد ،،۔۔۔

آیا تھا اُس نے مجھے بولا ۔۔۔مجھے بہت گندا بولا ۔۔۔میں نے جان بوجھ کر آپ سے شادی کی ۔۔۔۔اور اور وہ روتی ہوئی اُسے ساری بات بتا گئی ۔۔۔۔

حمزہ اُسکے گرد اپنا حصار بناتا اُسکی پشت سہلانے لگا ۔۔۔۔بس کچھ نہی ہوا ۔۔۔۔کوئی بات نہیں ہوئی ۔۔۔۔خاموش ہو جائیں۔۔۔

“وہ دوبارہ آ جائے گا اُسنے کہا تھا” وہ اپنے آنسو صاف کرتی چہرہ اٹھاتی اُسے دیکھتی بولی

نہیں آئے گا “میری جان” ۔۔

میں آپکے ساتھ ہوں ہر پل ۔۔۔ہر لمحے ۔۔۔۔

اُسکی تو میں ایسی حالت کرونگا کے دوبارہ کبھی یہاں کا رخ کرنے کا بھی نہی سوچے گا ۔۔۔۔

حمزہ اُسکے بال چہرے سے ہٹاتا ساتھ لگائے کمرے میں لے آیا ۔۔۔۔

اُسے بیڈ پر لٹاتے اُسکے پاس بیٹھتے اُسکا کانپتا ہوا ہاتھ تھام کر اُسے پرسکون کرنے لگا

“کچھ نہی ہوا میں پاس ہوں آپ کے ۔۔۔۔چلیں آنکھیں بند کریں جلدی سے اپنی “

“آپ،،، آپ پاس رہیں میرے”

وہ اُسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے بولی ۔۔۔۔

میں پاس ہوں آپکے میری جان”’

کہیں نہیں جا رہا ۔۔۔۔۔”وہ اُسکے ماتھے پر لب رکھتا بولا ۔۔۔۔

وہ آئے گا تو نہی نہ ؟؟؟منہا نم آنکھوں سے خوفزدہ لہجے میں بولی ۔۔۔

نہثی بلکل بھی نہی جب تک میں آپکے ساتھ ہوں کسی میں اتنی طاقت نہیں کہ میری فیملی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔۔۔۔

وہ مٹھیاں بھینچتا اپنے اشتعال کو دبائے اُسکے پاس بیٹھا اُسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا اُس کے سامنے کچھ بھی سخت رد عمل ظاہر کرے

وہ پہلے ہی بہت خوفزدہ تھی ایسے میں اگر حمزہ کچھ بولتا تو وہ اور زیادہ سہم جاتی ۔۔۔۔

کتنے ہی وقت وہ اُسکے پاس بیٹھا اُسکے معصوم چہرے کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔

آنکھوں کے کنارے رونے کی شدت سے ابھی تک سرخ تھے ۔۔۔۔

وہ نیند میں بھی اُسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی۔۔۔

موبائل پر بیل کی آواز پر وہ اُسکی آنکھوں پر لب رکھتا اٹھنے لگا تاکہ فون کی آواز سے وہ ڈسٹرب نہ ہو ۔۔۔۔

لیکن اس سے پہلے کے وہ اٹھتا منہا کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔کہاں؟؟؟

وہ سہمے ہوئے اُسے دیکھتی بولی ۔۔۔۔ خوف کی ایک سرد سی لہر اُسکے پورے جسم میں دوڑ گئی

حمزہ بوکھلا کر اُسکے ٹھنڈے ہاتھوں کو پکڑ کر اُسے ساتھ لگا گیا جو ایک بار پھر سے پینک ہونے لگی تھی ۔۔۔

اُسے خود میں بھینچے وہ ریلیکس کرنے لگا ۔۔۔

منہا اُسکے سینے میں چھپائے ایک بار پھر سے تیزی سے رونے لگی ۔۔۔

منہا میری جان کیوں تکلیف دے رہی ہیں خود کو اور مجھے اس طرح رو کر ۔۔۔میں ہوں نہ آپکے ساتھ پھر کیوں رو رہی ہیں ۔۔۔”شش “چپ میری جان ۔۔۔۔اچھا بتائیں آپ نے کچھ کھایا ؟؟….

اُس کے بالوں پر لب رکھتا وہ پوچھنے لگا ۔۔۔۔

وہ نفی میں سر ہلاتے پھر سے اُسکے سینے میں چھپانے لگی

حمزہ کو اُسکی حرکت پر ٹوٹ کے پیار آیا ۔۔۔۔

بری بات،، ۔۔۔

یار خود تو بھوکی ہیں ہی “””میرے بےبی کو بھی کچھ نہی دیا ۔۔۔وہ اُسکا موڈ بدلنے کے لیے شوخ لہجے میں بولا ۔۔۔۔جس میں وہ کامیاب بھی ہو گیا ۔۔۔۔منہا اُس سے دور ہوتی ایک پل میں سرخ ہوئی ۔۔۔۔

اچھا آپ فیس واش کرکے آئیں جلدی سے میں کچھ کھانے کو لے کر آتا ہوں ۔۔۔

وہ سر اثبات میں ہلاتی اٹھ گی اور حمزہ نیچے کی جانب چلا گیا ۔۔۔۔۔

اُسے زبردستی کھانا کھلایا ۔۔۔۔

کھانے کے بعد جسم میں تھوڑی جان آئی تو وہ لیٹتی دوبارہ سے آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔

حمزہ اُسکے قریب بیٹھا فہد کے بارے میں سوچ رہا تھا….بہت مہنگا پڑے گا تمہیں یہاں آنا مسٹر فہد ۔۔۔