Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 19)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

ساری رات اُس نے کس ازیت اور بے چینی سے کاٹی تھی یہ وہی جانتی تھی ،،جو قیامت اس پر آ کر گزری تھی اس نے دنین کے اعصاب بری طرح متاثر کیے تھے ،، جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتے اُس نے گہری سانسیں بھرتے اپنی خوف اور دہشت بھری نگاہیں اردگرد دوڑائ ،، اُس کے قریب ہی لبنہ بیگم سوئی ہوئ تھی ،، اس نے اٹھتے جلدی سے اپنا فون ٹٹولتے اُسے چارجنگ پر لگایا ۔۔

اور بے صبری سے انتظار کرنے لگی ،، وہ جلد ازجلد اذلان سے رابطہ کرنا چاہتی تھی ،، اُسے اپنے پر گزری قیامت سے آگاہ کرنا چاہتی تھی ۔

لیکن اگر اس نے یقین نہ کیا تو ،، نہیں وہ مجھ پر اعتبار ضرور کرے گا دل و دماغ میں چلتی جنگ کے دوران وہ اپنا فون تھامے جلدی سے باہر نکل گئ ۔

وہ یہ بھی جانتی تھی کے وہ اپنی بہن اور ماں کے لیے کتنا حساس تھا ۔۔

ابھی تک تو وہ اسے سب کچھ بتا چکی ہوں گی ،، کیا وہ بھی اُسے غلط سمجھے گا ۔۔

وہ اس شخص کے ساتھ رہ کر اتنا تو جان گئی تھی کے وہ انتہا کا انا پرست اور ضدی تھا ،،،عام مردوں کی طرح ،، صرف اپنی بات رکھنے والا ۔۔۔۔۔۔

لیکن دل کے کسی کونے میں ایک خوش نما سا احساس تھا کے وہ اُسے سمجھے گا ۔

اس کا مجازی خدا تھا وہ ،، وہ حق رکھتی تھی اس پر

اس نے بہتی آنکھوں اور پھٹتے دماغ کے ساتھ کانپتے ہاتھوں میں فون تھامتے اس کا نمبر ملایا ،،،

دھک دھک _________ دل کی دھڑکن اُسے کانو میں سنائی دیتی محسوس ہو رہی تھی ۔۔

اُسے یقین تھا وہ اس کی بات ضرور سنے گا اور پھر وہ اُسے تمام حقیقت سے آشنا کرے گی ۔

اسے بتائے گی ساری حقیقت _______ کانپتا ہاتھ اس نے اپنے پیٹ پر رکھتے اس احساس کو خود میں محسوس کیا ،، جو ابھی تو اس میں جاگا تھا ۔

وہ اسے رو رو کر خود پر بیتی وہ قیامت خیز گھڑیوں کا بتانا چاہتی تھی

لیکن ایسی مہلت ہی نہ مقابل نے اُسے دی ،، وہ مسلسل کال کرتی رہی لیکن فون نہیں اٹھایا گیا دوسری جانب سے ۔۔

اس نے روتے بلکتے اپنا سر گھٹنوں میں دیا اور اس ظالم صیاد کا سوچتے دل پھٹتے لگا ۔۔

کیوں کیوں ____________ اس کی سسکیاں چیخوں میں بدلنے لگی۔۔

سسکیاں لیتا ہے وجود میرا ۔۔۔۔

نوچ نوچ کر کھا گئیں یادیں تِری ______۔

اذلان انابیہ کی آواز ایک سیکنڈ سے پہلے پہچان گیا اور پھر جیسے جیسے وہ بولتی گئی ،، اُسے اپنی سماعتوں پر یقین کرنا مشکل ہو گیا ۔

وہ کیسے اتنا بڑا الزام اُسکی بیوی پر لگا سکتی ہے ،، اسے یقین نہ آیا کے یہ اُسکی چھوٹی بہن تھی جسے وہ ابھی بچی کہتا تھا ” اُسکا دماغ پھٹنے لگا ،، دوسری جانب سے فون بند ہو گیا۔

وہ کال کرتا رہا لیکن فون بند آ رہا تھا ،، اس نے جلدی سے عظمہ بیگم کے نمبر پر کال ملائی لیکن دوسری جانب سے جواب موصول نا ہوا ،، اُسکا دل گھبرانے لگا ،، کچھ غلط ہونے کا احساس اُس کے رگ و پے میں سماتا اُس کے دل میں شدت سے تکلیف کا باعث بنا ۔

اُسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا ،، وہ صحیح کہتی تھی اُسے اکیلا چھور کر نہیں آنا چاہیے تھا ،، اس سمے اُسے اُس کے سارے خدشات سچ ہوتے دکھائ دے ۔

کاش وہ وہاں موجود ہوتا ،، کاش وہ اُسے بچا لیتا ” یہ احساس ہوتے ہی اس کے دل و دماغ میں بے چینی بڑھنے لگي ،، ماتھے کی رگیں تن گئی ۔۔

گھبراہٹ اتنی تھی کے اُسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا ،، دماغ پھٹنے لگا ،، اُسے کچھ نہیں سوجھ رہا تھا کے وہ کیا کرے ،،کس سے مدد لے اس وقت ،، رات کے اس پہر ۔۔

اس نے اٹھتے اپنے شل ہوتے عصاب کو قابو رکھتے باہر نکلا ،، کھلی ہوا میں سانس لیتے اُس نے اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھولے اور اپنے دوست کو کال کرنے لگا ،، دوسری جانب سے جس وقت کال موصول کی گئ عین اسی وقت سامنے سے آتی گاڑی اذلان کو بری طرح کچلتے فراٹے بھرتے غائب ہو گئی ۔۔

اُسکا فون اُس سے دور گرا پڑا تھا ،، اور وہ خود خوں میں لت پت سڑک کے درمیان میں ساکت پڑا تھا ۔۔

اس نے کانپتی انگلیوں کے ساتھ اپنے فون کو پکڑنا چاہا ،، ذہن لا شعوری طور پر دنین میں اٹکا تھا ۔۔۔۔

درد سے چور اس نے اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی ” لیکن دل اور جسم و جان میں اُٹھتی ٹیسوں کے ساتھ اُسکی آنکھ سے ایک آنسو گرا اور وہ آنکھیں موند گیا ۔۔

اس کے دوست ایکسیڈنٹ کا سنتے بھاگے بھاگے جب اس تک پہنچے تو اُسکی ابتر حالت دیکھ کر کرب سے آنکھیں میچ گئے ۔۔

اسے سٹریچر پر ڈال کر لے جایا جا رہا تھا ،، اُس کا قریبی دوست اس کے ساتھ ہاسپٹل گیا ۔۔

صورت حال اتنی سنگین تھی کے وہ کسی کو بتا نہیں پایا۔

اُسکا علان کیا جا رہا تھا اذلان کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا ۔

وہ دلہن کے لباس میں سجی سنوری بیٹھی طیب کمال کی منتظر تھی ،، اُسکا کندھن بدن اس وقت دو آتشہ بنا کسی کو بھی بہکا سکتا تھا ۔۔

اس پر مستزاد اس کمرے کا ماحول ،، ہر طرف پھیلے گلاب اور خوشبو اسے گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا کر رہے تھے ۔

وہ کمرے میں داخل ہوا تو اسکی آھٹ محسوس کرتے آزان سر جھکا گئی ،، اُسکا دل سست پڑنے لگا

اس کے قریب بیٹھتے طیب کمال اُسے بچھڑے عاشق کی طرح دیکھتے اس کیا ایک ایک نقش اپنے دل میں ازبر کے رہا تھا ،، اُسکا قیامت خیز حسن ،، محملی بدن ،،ہوش ربا سراپا ۔۔اس کی نگاہوں میں خماری چھانے لگی ۔

میں بہت خوش ہوں آج ،، میں تمہیں بتا نہیں سکتا ،، میں نے جسے چاہا اسے پا لیا ،، اُس کے ہاتھ کو تھامے اس پر لب رکھتے اس نے آزان کو سختی سے خود میں بینچ لیا ۔۔

آزان کے وجود سے اُٹھتی خوشبو اور کمرے میں خواب ناک ماحول میں وہ اپنی پاگل ہوتی دھڑکنوں سمیت اس پر جھکا تھا اور اسکا سانس روک گیا ۔۔۔

آزان اپنی بند ہوتی سانسوں کو محسوس کرتے اس کے سینے پر ہتھیلی جماتے زور سے اُسے جھٹکا دے دیتے ہوش میں لانے لگی ،، وہ اپنی پیاس بجاتا پیچھے ہٹا تو آزان گہرے سانس بھرنے لگی ،،

اُسکی بکھری سانسوں کی پرواہ کیے بغیر وہ ایک بار پھر سے اس پر جھکتا اُسکی سانسیں روک گیا ،،

وہ مدہوشی کے عالم مین اس پر جھکتا چلا گیا ،، آزان اُسکا سلگتا لمس اپنی شرٹ پر محسوس کرتے اس کی قمیض پر اپنی گرفت مضبوط کر گئی ۔۔۔۔

وہ ایک ہاتھ سے اپنے شرٹ کے بٹن کھولتا اس پر جھکتا چلا گیا ،، اس کے ایک ایک لمس میں اتنی شدت اور دیوانگی تھی کے آزان سے برداشت کرنا مشکل ہو گیا ۔۔

اُسکا سلگتا لمس اور دست و لب کی گستاخیاں اُس کے نازک اعصاب پر بھاری پر رہی تھی _________

طیب _____ آزان نے شرم و حیاء کو پرے دھکیلتے ،،،تکلیف سے دو چار ہوتے اُسکا نام پکارا ،، کے اُس کی قربت اُسے تکلیف دینے کا سبب بن رہی تھی ،، اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا ______ جسم بولے ہولے کانپ رہا تھا ۔۔۔

اُسکے لمس میں اس قدر شدت تھی کے وہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے اپنی چیخوں کو روکنے لگی ۔۔۔

طیب آپ مجھے تکلیف دے رہے ہیں ،، جب اُسکی برداشت ختم ہوئ تو وہ روتے چیخ اُٹھی ۔۔

اُسکے آنسو محسوس کرتے اس نے بڑی نرمی سے اُسے ساتھ لگایا ،، یار اتنی نزاکت بھی اچھی نہیں ،، تم تو بہت نازک ہو ۔۔۔

اس کی تکلیف کی پرواہ کیے بغیر وہ اسے ساتھ لگاتا اُس کے ماتھے پر اپنا لمس بکھیرتا آنکھیں موند گیا ۔۔

یہ جانے بغیر کے آزان اس وقت ازیت و تکلیف کے بھنور میں پھنسی کافی دیر ہونٹوں پر ہاتھ رکھے روتی رہی ،، اسکی نیند کا احساس ہوتے وہ اٹھ کر اپنی بھیگی سرخ نگاہوں سے اُسے دیکھتے اٹھ کر اپنا ایک سادہ سوٹ لیتے واشروم میں گھس گئی ۔۔

شاور کا پانی بند پر پڑتے اُس کے اندر ایک نئی تکلیف برپا کر گیا ،، روتے کتنا ہی وقت وہ شاور کے نیچے کھڑی آنسو بہاتے رہی ،، اپنی گردن ،، دھڑکنوں ،،بازوں پر اُسے شدید جلن کا احساس ہو رہا تھا ،، باتھروب میں خود کو چھپاتے وہ وسیع باتھروم میں شاور سے نکلتی باہر آتے قد آور شیشے کے سامنے کھڑی ہوئ جہاں مختلف قسم کی پرفیومز ،، بوڈی

واشز اور محتلف استعمال کی چیزیں موجود تھی ،، قد آور آئینہ میں اپنا عکس دیکھتے اُس نے باتھروب اپنی گردن سے کھسکایا تو ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے وہ بے یقین سی لڑکھڑا کر چند قدم پیچھے ہوئ

اپنے بدن پر جگہ جگہ کاٹنے کے نشانات دیکھ کر اُس کی شہد رنگ آنکھیں جو پہلے سے سرخ تھی مزید سرخ پڑنے لگی ،، چہرے پر آنسو زارو قطار بہنے لگے ،، ۔۔۔۔ دیکھنے میں لگ رہا تھا کے اس کا جسم بری طرح سے نوچا گیا ہو ۔۔

کافی وقت رونے کے بعد وہ سادہ سا لباس پہنتی واشروم سے باہر نکلی اور آہستگی سے اُس کے قریب جاتے دوسری طرف لیٹ گئ ۔۔

ذہن میں ایک ہی بات گردش کر رہی تھی کے کیا محبت ایسی ہوتی ہے ،، ایسا ہی تمام لڑکیوں کے ساتھ ہوتا ہے یان اُس کے ساتھ ہوا ہے ،، ۔۔

انہیں سوچوں میں کب اُسکی آنکھ لگی اُسے اندازہ نہ ہوا ۔

دنین نے اذلان کی کال کا بہت انتظار کیا لیکن نہیں آئی ۔۔۔ وہ روتی رہی ترپتی رہی ،، اُس کے گھر والوں کو اسے سمبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔

ڈاکٹر کے مطابق اگر وہ ایسے ہی روتی رہی اور خود کو تکلیف دیتی رہی تو وہ بچے کو نہیں بچا پائیں گے ۔

لوگوں کی باتوں اور دنین کی حالت دکھتے نبیل صاحب نے گھر شفٹ کرنے کا ارادہ کیا ” ان کے ایک سٹوڈنٹ کا اپنا فلیٹ تھا کراچی میں ،، اس نے انہیں وہاں رہنے کے لیے کہا اور اس طرح اُس کے فلیٹ کی خفاظت بھی ہو جاتی ،، چند دن میں ہی وہ راتوں رات اپنا ضروری سامان لیتے کراچی شفٹ ہو گئے ،، کسی کو معلوم نہیں کے وہ کہاں گئے ۔۔

وہ خاموشی سے منظر عام سے غائب ہوے تھے ۔