Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 20 & 21)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 20 & 21)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
انابیہ بہت خوش تھی کے دنین کا پتہ تو صاف ہوا ،، دنین وہ کانٹا بن چکی تھی جس کے ہوتے وہ کبھی اپنا مقصد پورا نہ کر سکتی تھی ،، اگر دنین نے اسے نہ دیکھا ہوتا تو آج وہ مشہود کے ساتھ ہوتی ،، یہ پھانس ساری عمر اُسے رہنی تھی ،، مشہود اُسکا یونی فیلو تھا ،، دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور انابیہ جانتی تھی کے اُسکا بھائی کبھی نہیں مانے گا اس رشتے کے بارے میں جب تک اُس کے گھر والے نہ آتے عزت سے رشتہ لینے ،، ۔۔۔۔۔۔
مشہود بگڑا امیر زادہ تھا جو یونی میں ہر نئی لڑکی کے ساتھ انوالو ہو جاتا اور اُسے اپنے پیارا محبت کے جھانسے میں پھنسا لیتا ۔
دنین کے گھر سے جاتے ہی دوسرے ہی دن عظمہ بیگم نے اذلان کو کال ملائی لیکن دوسری جانب سے فون بند تھا ۔۔۔ ان کا دل گھبرانا شروع ہو گیا ،، رات ہو گئی لیکن اذلان کی کوئی خیر خبر نہیں ۔۔۔۔ اُسکا ایک قریبی دوست جس کے ہاتھ وہ اکثر سامان بیجھتا تھا عظمہ بیگم نے انابیہ کو اُسکا نمبر ملانے کو کہا ۔
دوسری جانب سے کال اٹھا لی گئی تھی لیکن جو اس کو سننے کو ملا اُسکے ہاتھ سے فون چھوٹتے بچا ،، کیسے ” اب کیسی طبیعت ہے ۔۔
انابیہ کو محبت تو بہت تھی اپنے بھائی سے آج تک اُسکی تمام خواہشات کہ اخترام کیا تھا اُس نے ،، انابیہ نے بھراے لہجے اور آنسو سے بھری آنکھوں سے فون بند کرتے عظمہ بیگم کو دیکھا ،، عظمہ بیگم اُسکی آنکھوں میں جمع ہوتے پانی کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ گئی ۔
خدارا مجھے کوئی ایسی خبر نہ سنانا ،، جس سے میرا دل پھٹ جائے ،، امی …..
وہ کہتے رونے لگی ،، آنسو چہرے پر بکھرنے لگے ،، دل تکلیف سے بھر گیا اپنے جان سے پیارے بھائی کو تکلیف میں مبتلا سن کر اُسکا دل کرچی کرچی ہو گیا لیکن وہ یہ نہ جان پائ کے اس سب کا سبب اُسکی اپنی ذات تھی ۔۔
میرا بچہ ” میرا اذلان ٹھیک ہے نا” انہوں نے دیوار کا سہارہ لیتے لرزتے لبوں اور دکھتے دل سے پوچھا ۔
امی بھائی کا بہت سخت ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔۔ بہت شدید زخم آئے ہیں ،، بھائی حمزہ بتا رہے ہیں کے گاڑی بری طرح سے کچل کر گئی ہے انہیں ہوش نہیں آ رہا ،، ہاسپٹل والے پوری کوشش کر رہے ہیں ۔۔
وہ ہمیں ساتھ ساتھ صورت خال بتاتے رہیں گے ساری ۔ وہ بے بسی سے کہتی اسسک پڑی ۔
عظمہ بیگم اپنے جان سے پیارے بیٹے کی حالت کا سن کر دل پر ہاتھ رکھے وہی بیٹھتے چلی گئ ،، میرا بچہ ۔۔ انہوں نے کرب سے آنکھیں میچ لی ،، آنسو بل بل آنکھوں سے رواں تھے .. دل خون کے آنسو رو رہا تھا ۔
انابیہ نے جیسے ان پر ساتوں آسمان گرا دیے تھے ،، ان کی سماعتون پر جیسے کوئی ہتھوڑے مار رہا ہو ۔۔
اچانک اٹھتے دل میں درد سے وہ دوہری ہونے لگی ،، انابیہ نے روتے آگے بڑھتے سرخ آنکھوں سے انہیں تھامنا چاہا لیکن وہ گرتی چلی گئ ،، گھر کی درودیوار میں اُس کی چیخوں نے خشر برپا کر دیا ۔۔
ساتھ والے ہمسائے بھاگتے ان کے گھر داخل ہوے اور جلدی سے عظمہ بیگم کو گاڑی میں ڈالتے ایمرجنسی ہاسپٹل لے کر گئے ۔
اذلان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں چوٹ نہ آئی ہو ،،ڈاکٹر کے بقول اس کی ٹانگ بری طرح متاثر ہوئی تھی ،، ماتھے پر گہرا زخم آیا تھا ،، ایک بازو ٹوٹ چکی تھی ،،جسم اور چہرے پر جگہ جگہ زخم تھے ۔
اُسے ہوش نہیں آ رہا تھا زیادہ خون بہنے اور دماغ کے پچھلے حصے پر چوٹ لگنے سے کافی بلیڈنگ ہوئ تھی ۔
ڈاکٹر نے بتایا تھا کے ایک ہفتے تک اگر وہ ہوش میں نہ آیا تو کومہ میں چلا جائے گا اور کومہ سے باہر آنے کی کوئی مدت نہیں ،، حمزہ نے پریشان ہوتے اذلان کے گھر اطلاع کر دی تھی ۔
لیکن ان کو تسلی بخش جواب دیا اور اذلان کی زیادہ سیریس خالت کا نہ بتایا ۔۔۔۔
__________________
دنین اسکی فون کال کا لا شعوری طور پر انتظار کرتی رہی لیکن لاحاصل ،، ۔۔۔۔۔ یہ جانے بغیر کے سمندر پار زخموں سے چور وہ شخص اُسکی پارسائی اور کردار کا گواہ تھا ،، وہ اپنی بیوی پر دل و جان سے اعتبار کرتا تھا ۔۔۔ لیکن عام مردوں کی طرح وہ کبھی اظہار نہ کر پایا ۔۔
ہمارے ہاں اگر مرد اپنی بیویوں سے اظہار محبت کے بارے میں کنجوسی نہ دکھائے تو آج معاشرے میں بہت سی طلاقوں اور جھگڑوں سے جان چھوٹ جائے ،، جو گھر گھر میں دیمک کی طرح پھیلتی گھر کی خوبصورتی کو خراب کر دیتی ہے ۔
دنین کے ساتھ بھی یہی معمہ ہوا کے وہ اپنے تئیں یہی سمجھ رہی تھی کہ وہ بھی اس اور اعتبار نہیں کرتا اور مان بہن کے کہنے پر اس کی بات تک نہیں سن رہا ۔ اُس کا چہرہ جس پر ہر وقت شادابی اور طمانیت رہتی تھی اب زردیاں گھلنے لگی ،، روتے روتے اُسکی ہچکیاں بندھ گئی
شروع میں وہ بہت روئی ،، اُسکا رونا چلانا ،، سسکنا ۔۔۔۔ خود کو اذیت پھنچانا نبیل صاحب اور لنبھ بیگم کو بے حال کر دیتا ،، انہوں نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے کے وہ مزید تکلیف میں اسے نہیں دیکھ سکتے ۔۔ اور اپنے مان باپ کے جڑے ہاتھ دیکھ کے وہ تھوڑا سنبھلی ۔۔
وقت گزرتا گیا اور اس کا زخم بھرا تو نہیں لیکن اب وہ کچھ سمبھل گئی ،، اس نے رونا چھور دیا یان پھر رو رو کر آنسو خشک ہونے لگے ،، اپنے والدین کو وہ مزید تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی اسی لیے ان کے سامنے نارمل رہنے لگی ،، چھپ چھپ کر روتی ،، اور یہ بات اُس پر آشکار ہوئ کے آنسو کو چھپانا یان روکنا زیادہ تکلیف ده امر ہے ۔
اس پر اب یہ بات واضح ہو رہی تھی کے زندگی اس پر تنگ ہوتی جا رہی ہے ۔۔۔ گزرتا ہر لمحہ اس نے اس شخص کو یاد کیا تھا ،، کتنی خوش تھی وہ کے وہ اسکو سرپرائز دے گی وہ کیا جانتی تھی کے زندگی اُسے ہو اتنا بڑا سرپرائز دے دے گی ۔
وقت گزرتا گیا اور دنین کے لیے گزرتا ایک ایک لمحہ ازیت ناک اور روح فرساں تھا ۔
آزان کی آنکھ اپنے گرد پھیلے اس کے مضبوط اور تنگ پڑتے حصار سے کھلی ،، اُس نے مندی مندی آنکھوں سے اُسے دیکھا جو مکمل۔طور پر اُس کو۔اپنے حصار میں لیے دیکھ رہا تھا ۔
گڈ مارننگ سٹار ۔۔۔۔۔
اٹھ جاؤ نیچے سب انتظار کر رہے ہیں ہمارا ،، آپ کے گھر والے ناشتہ لے کر آئیں ہیں ۔
یہ سننے کی دیر تھی کے وہ تیزی سے بستر سے اُٹھی ،، آپ مجھے پہلے اٹھا دیتے اُس نے کہتے جلدی سے آپکا ڈریس نکالا ” ۔۔۔۔
اسکی پھرتیاں دیکھ کر طیب کمال مبھم سا مسکرا دیا ۔
آزان کرمزن کلر کے خوبصورت پاؤں کو۔چھوتے فراک میں گلے میں اچھے سے دوبٹہ سیٹ کر رہی تھی کے اس کو گردن پر۔موجود نشان مکمل طور پر چھپ جائے ۔۔
وہ مکمل تیار کری خود پر ایک نگاہ ڈالے اپنے ہاتھوں میں خوبصورت گولڈ کی چوریاں پہننے لگی ،، پیچھے سے طیب کمال نے اس کے گرد بازوں کا گھیرا بنایا ،، اور بڑے حق سے اُس کے کندے پر پھیلے بال دونوں اطراف میں کیے ۔۔۔ جس سے اُسکی گردن کندھے مکمل طور پر چھپ گئے ۔
سٹار ” ۔۔۔ نیچے آپ کے گھر والوں میں سے آپ سے کچھ بھی پوچھے تو آپ نے بس مسکرانا ہے ،، یہ ہماری پرسنل لائف ہے ،، ہماری باتیں ہماری پرائیویٹ لمحے آپ نے کسی سے ڈسکس نہیں کرنے ،،کوئی پوچھے بھی تو نہیں بتانا ،، آپس کی باتیں بتانا اسلام میں سختی سے منع کیا گیا ہے ،،ہمارے اپنے لمحات تھے جو پیار بھرے تھے ،، آپ کو جو مسئلہ تکلیف میری وجہ سے پہنچے مجھ سے شیر کرو ،، میرے علاوہ کسی سے نہیں ۔۔میں جانتا ہوں میں تھوڑا جذباتی ہو اور اپنے جزبات کی شوریدگی میں بھک کر آپ کے لیے تکلیف کا باعث بنا لیکن آئندہ میں خیال کروں گا ۔ وہ آزان کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے رہا تھا پیار سے سمجھاتے اُسے وہ اپنے مطلب کی باتیں بتا رہا تھا
وہ پہلے سہمی نگاہوں سے اُسے دیکھتے رہی پھر اس کے محبت اور احترام سے بولنے اور سمجھانے پر مسکراہٹ چہرے پر سجائے اثبات میں سر ہلا گئی ،، یہ جانے بغیر کے وہ شخص اُسے اپنے لفظوں کے جھال میں بری طرح پھسا رہا تھا اور وہ معصوم جو اُسکی خوص کا شکار ہوئ تھی اسے اسکی محبت سمجھ رہی تھی ۔
میری جانم….. اس کے ماتھے پر لب رکھتے وہ گھمبیر لہجے میں بولا اور اس کے قریب جاتے اس اور خوشبو میں لمبی سانس لی ،، مار دو گی آپ تو میری جان ۔۔۔اپنے عشق میں ۔۔ معنی خیزی سے کہتے وہ اسے ساتھ لیے کمرے سے نکلا
آزان سب سے خوشی سے ملتی اپنے بابا کے ساتھ لگتی رو پری ۔۔۔ باتوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو چکا تھا ۔
سب نے کافی وقت ساتھ گزارہ رات کا ولیمہ تھا ۔۔۔
ولیمہ کے بعد عون چوہدری نے انہیں ترقی کی دو ٹیگٹس تھماے ،، دّس دن ترقی میں ،اور دس دن تھای لینڈ میں انکا سٹے تھا ۔۔۔ ان کی جانب سے شادی کا تحفہ تھا اور آزان کو گاڑی کی چابیان دی ۔۔۔
طیب کمال کی آنکھوں میں ایک دم چمک آئی ،، چندہ بیگم آزان کے ہاتھ میں گاڑی کو چابیاں دیکھ کر دل مسوس کے رہ گئی ۔
دن ہفتوں میں ،، ہ مہینوں میں ،،اور مہینے سال میں تبدیل ہونے لگے ،، وقت اپنی رفتار میں چلتا گیا ” وقت کبھی کسی کے لیے کب رکتا ہے۔
عظمہ بیگم کا بلڈ پریشر ہائي ہونے اور دل کی درد سے انکا آدھا دھر مفلوج ہو چکا تھا ۔۔۔ انابیہ پر جیسے مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ،، دوسری جانب حمزہ نے اذلان کی اطلاع دی کے وہ دس دن بعد ہوش میں آ چکا تھا لیکن تکلیف حد سے سوا تھی ،، اُسکی ٹانگ میں دو جگہ پر فریکچر آیا تھا اور وہ چھ ماہ کے لیے بستر پر تھا ،، مزید ابھی اُسکا علاج چل رہا تھا سر کے پیچھے اور ماتھے کہ زخم بھی کافی گہرے تھے ۔
وہ خوب روئی ،، رو رو کر آنکھیں سوج گئی لیکن کوئی اپنا نا تھا ،، سارے رشتے دار جس سے بھی مدد مانگی اس نے انکار کر دیا یان تھوڑی سی رقم پکڑا دی ۔۔
گھر میں جتنے پیسے رکھے تھے وہ ختم ہونے لگے ،، روز کی عظمہ بیگم کی دوائی پرائیوٹ ہاسپٹل کے چکر میں دس بیس ہزار لے لیتے ،، اسے اس اندھیر دنیا میں کوئی اپنا نہ نظر آیا اسے روتے دنین کا خیال آیا ،، دل میں ہلچل مچی ،، اس سے معافی مانگنے کا سوچتے اُسکا دل خون کے آنسو رونے لگا وہ اپنی انا اور خود سری کی جنگ میں اندھی ہو گئی تھی کے اسے خیال ہی نہ رہا کے وہ اس کے ساتھ کتنا ظلم کر رہی ہے ،، ۔۔۔۔۔۔۔۔
پاگلوں کی سی کیفیت میں اٹھتے اس نے جلدی سے چادر لی اور نبیل صاحب کے گھر کے لیے نکل گئی ،، وہاں جاتے اُسے جو خبر ملی اُس کے دل میں ایک اور پھانس پیدا کر گئی ۔
سارا راستہ اُس نے روتے گزرا ،،عجیب گھٹن تھی جو حد سے زیادہ تھی اسے خود سے وحشت ہونے لگی ،، اس نے دنین کے رشتے داروں کے گھر بھی جا کر پتہ کیا لیکن کسی کو نہیں پتہ تھا کے وہ کہاں گئے ۔۔
اس کے پیٹ میں گرہ بندھنے لگی ،، وہ گھر کے صحن میں آتے چیخ چیخ کر روتے اپنے بال نوچنے لگی ،، اسے کسی جگہ سکون میسر نہ تھا ،، اس نے عظمہ بیگم کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا ، وہ کیا کرتی اپنے الٹے ہوئے منھ اور زبان کے ساتھ گوں غوں کرنے لگی اور رونے لگی ۔۔
عظمہ بیگم کے سامنے اُسکا رونا چلانا ،، خود کو تکلیف دینا سب کچھ تھا لیکن وہ کچھ نہ کر سکتی تھی ۔۔
اس سب کی زمہ دار وہ تھی اور وہی سب ٹھیک کرنا چاہتی تھی ،،
اُسکا پورا وجود دہکتے کوئلوں کی بھٹی میں تھا اسے اپنا آپ جلتا محسوس ہو رہا تھا ۔
یونی ورسٹی اس کی ویسے بھی ختم ہو چکی تھی ،، بس کچھ ضروری کام تھے جو وہ کرنے گئی تھی ،اچانک اس کی نظر مشہود پر پڑی جو ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھا فرینک سا اس کے ہاتھ تھامے ہویے تھا ،، انابیہ کو اس سے عجیب سا کريہہہ پن محسوس ہوا ،، اُسے وحشت ہونے لگی کے وہ اس شخص کے ساتھ زندگی گزارنے والی تھی جو نے کچھ دنوں میں ہی دوسری لڑکی کو لیے بغل میں کھڑا تھا ۔
اور آنکھوں میں ایک بار پھر سے سیلاب جمع ہونے لگا کے اسکی وجہ سے اس کے بھائی کا گھر ٹوٹ گیا ۔
وہ لرزتے ہاتھوں سے آنسو صاف کرتے گھر میں داخل ہوي اور عظمہ بیگم کو کھانا کھلانے کے بعد دوا دی۔
