Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 22 & 23)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 22 & 23)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
اذلان کو دس دن کے بعد ہوش آیا ،، ہوش میں لوٹتے ہی اس کے ذہن میں سب سے پہلا خیال دنین کا آیا ۔
اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن جسم میں حرکت محسوس نا ہوئی ،، پورے بدن میں ٹیسیں اٹھنے لگی ،،تکلیف اتنی زیادہ تھی کے اُسکی آنکھیں اور چہرہ سرخ پڑنے لگا ۔۔۔ دوائیوں اور تکلیف کی شدت سے اُس کے اعصاب بھاری ہو رہے تھے ،، اُسے اٹھتا دیکھ حمزہ تیزی سے اُسکے قریب آیا جو کچھ دیر نرسز کو اسکا خیال رکھنے کا کہتا کام پر گیا تھا ،، گزشتہ دس دن سے وہ اس کے قریب سے ہلا نہ تھا ،، اُسکا مکمل خیال رکھ رہا تھا اور انابیہ کو اُسکی طبیعت کا بتاتے رہتا۔
یار لیٹے رہو اٹھ کیوں رہے ہو ،، زخم ابھی تازہ ہیں تمہارے ” اذلان نے زخمی چہرے سے کرب سے آنکھیں میچتے دنین کو سوچتے چہرے پر دکھ بھری مسکراہٹ لاتے گویا ہوا ،، اس زخم کا کیا کروں جس سے ابھی بھی خون رس رہا ہے ،، اپنے جسم و جان میں اٹھتے درد سے اُسے اتنی ازیت نہیں ہو رہی تھی جتنا اُس نازک جان کا سوچ کر دل ڈوبا جا رہا تھا ۔ آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔
ڈاکٹر نے آ کر اُسکا مکمل چیک آپ کیا ،، اور اسے چھ ماہ کی ریسٹ بتائی ،، جسے سن کر اُسکا دماغ گھوم گیا
پورا وجود ہل کے رہ گیا ،، بلکل بھی نہیں میں ایک پل کی بھی مزید تاخیر نہیں کر سکتا ،، اُس نے بضد ہوتے اٹھنے کی کوشش کی لیکن جسم نے ساتھ نہ دیا ۔۔
یار دیکھ تو ابھی ٹھیک سے ہل نہیں سکتا واپس کیسی جائے گا اور ڈاکٹرز کو جب تک مکمل تسلی نہیں ہوگی وہ تجھے یہاں سے جانے نہیں دیں گے ۔
حمزہ نے اسے ہے حد تک سمجھانے کی کوشش کی ،، اذلان نے ہے بسی سے سر تکیے پر پٹکا ،، تو نہیں جانتا جانے میرے گھر والے کس حالت میں ہونگے ،، میری بیوی ” کس حال میں ہوگی ،، اُس کا دل اس سے ملنے کے لیے پھرپھرا رہا تھا ،، دل و دماغ ازیت کی ب میں جلنے لگے ۔
وہ شخص اُس کے بغیر ایک پل مزید نہیں گزار سکتا تھا کجّا کے چھ ماہ ،، اس کی آنکھوں میں ڈھیروں محبت اور فکر آباد تھی دنین کے لیے ،، وہ معصوم اور ڈرپوک تھی ،، وہ جانتا تھا کے وہ کبھی بھی اپنے لیے اسٹینڈ نہیں لے پائے گی
اور یہی بات اُسے اندر سے کھائے جا رہی تھی ،، اپنی بہن کا غم اُسے اندر سے مار رہا تھا ،، جیسے سانپ کے ڈسنے سے ایک شخص ترپ تکلیف محسوس کرتا ہے وہی تکلیف اُسے اپنے جسم و جان اپنے دل و دماغ میں اُٹھتی محسوس ہو رہی تھی ،، اس نے بڑی مشکل سے ہونٹ کاٹنے پہلو بدلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا
ایک سال کچھ ماہ بعد ۔۔۔۔۔۔۔
امی آپ اسے پکڑیں ذرا میں موسی کو دیکھ لوں بابا کو تنگ کر رہا ہوگا ،، دنین عیسی کو لبنہ بیگم کو تھماتے باہر کی جانب قدم بڑھاتے نکلی ،، لاؤنج سے نکلتے خوبصورت سی راہداری میں پھولوں کے گملے اور بیلیں دیوارؤں پر لگی انکو مزید خوبصورت بناتی تھی ۔۔
لاؤنج سے باہر اُس نے قدم بڑھائے ،، سامنے موسی اذلان ملک اپنے نانا کی گود میں مزے سے بیٹھا بارش اور ہوا کے مزے لیتا کھلکھلا رہا تھا
ان کے قریب جاتے ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کے جسم و جان میں گزشتہ روز و سال کے لمحے یاد کرواتا اُسے سرد کر گیا ۔۔
کتنا مشکل تھا وہ وقت جب وہ ہاسپٹل کے کمرے میں بے جاں سی لیٹی اپنے جڑواں بچوں کا سنتے خوشی اور غمی کے ملے جلے تاثرات سے اُس شخص کو یاد کر رہی تھی
جس کے بغیر اُس کا سانس لینا دوبھر تھا اور اب سال ہونے کو آیا تھا اس نے اس کی آواز تک نہ سنی ،، اس گزرے ماہ و سال میں اُس نے کتنا کٹھن سفر طے کیا تھا یہ صرف وہی جانتی تھی ،، اُس کو کسی ڈاکٹر نے نہیں بتایا تھا کے اُس کے ٹونز بےبی ہیں ،، جب اُسے آپریشن کے بعد ہوش آیا تو لبنہ بیگم نے آنکھوں میں ڈھیروں آنسو اور خوشی سے اُسکا ماتھا چومتے اُسے پرمسرت ہوتے اُسے مبارباد دی تو وہ اپنے آنسو روکتی سرخ چہرے سے مبھم سا مسکرای۔
نبیل صاحب اور لبنہ بیگم دونوں بیٹوں کو اٹھائے اندر کمرے میں داخل ہوے اور اس کے دونوں بازوں میں بچوں کو رکھتے نبیل صاحب غم زدہ ہوتے بھراے لہجے میں گویا ہوے ،،
میں نے کبھی بیٹوں کی چاہ نہیں کی کیوں کہ میرے لیے میری بیٹی ہی میرا بیٹا بھی تھی ،، ان دونوں کو دیکھتے میری آج بیٹوں کی کمی بھی ختم ہو گئی ،، یہ صرف آپ کے نہیں بلکہ میرے بھی بیٹے ہیں اور انہیں باپ جیسی شفقت اور محبت ہی میں ہمیشہ دونگا ،، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔
دونوں بچوں کو اسے سینے سے لگائے روتے دیکھ وہ بیٹی کے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش میں بولے تو وہ مزید شدت سے رو دی ۔
بابا مجھے یہ غم نہیں کے ان کے بابا یہاں نہیں ،، میں جانتی ہوں آپ مجھ سے زیادہ انہیں محبت دیں گے ،، غم صرف اس بات کا ہے کے وہ یہ جانتے تک نہیں۔ ۔۔
مجھے خوف آتا ہے بابا ،، کہیں میری اس بات سے پکڑ نہ ہو جائے ۔
میں نے سور بقرہ کے ترجمہ میں پڑھا تھا کے ،،،
کے جن کے خاوند لوٹتے نہیں اور جب وہ لوٹیں تو بیویوں کو چاہیے کے ان کے لوٹنے کا انتظار کریں اور ان سے بچے کی پیدائش نہ چھپائیں ۔
سرخ چہرے سرخ آنکھوں سے وہ اپنے دونوں بیٹوں کو دیکھ رہی تھی جو باپ کی پرچھائیں لگتے تھے ،، سرخ و سفید رنگت ،، نرم و ملائم پھولے گال اور اس پر موجود ہیزل گرین آنکھیں جن کو وہ کھولے ماں کو دیکھ رہے تھے ،، دونوں ہمشکل تھے ،، صرف آنکھوں کا فرق تھا ایک کی آنکھیں اپنے باپ پر بھوری تھی ۔
بیٹے میں اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کروں گا آپ بے فکر رہو
موسی کی قلقاریان اس
کو ماضی سے واپس لانے کا سبب بنی ،، جو ماں کو دیکھتا مچلتا اس کے پاس آنے کو بے قرار سا تھا ،، اس کی بھوری آنکھیں اسے اذلان ملک کو بھولنے ہی نہیں دیتی تھی ،، اور صرف شکل و صورت ہی نہیں اس چار ماہ کے بچے کی کافی عادات بھی اپنے باپ سے ملتی جلتی تھی جس میں سب سے زیادہ تو اپنی ماں کو تنگ کرنا تھا ۔۔
جب اسے ماں نظر آ جاتی تو وہ پھر کسی کا نہیں تھا ،، بس سارا وقت دنین سے چپکا اُس کے چہرے پر اپنے ہونٹ رکھتا خوش ہوتا ہاتھ مارنے لگتا ۔۔۔ اور صدا کا معصوم عیسی ملک اپنے بھای سے بلکل مختلف جب تک دنین اسے نہ اٹھاتي وہ ضد نا کرتا خاموشی سے مان کو کام کرتے دیکھتا رہتا ۔۔
دنین کی دنیا اپنے بیٹوں کے گرد گھومتی تھی ،، وہ خوش تھی ان کے ساتھ اللہ پاک نے اسے اتنے خوبصورت بیٹوں اور مضبوط سہارے دیے تھے ،، بچوں کی وجہ سے وہ باہر نہیں جا سکتی تھی اسلئے گھر میں ہی ہوم ٹویٹشن دیتی تھی بچوں کو ،، نبیل صاحب قریب ہی کالج میں جاتے اور گھر بھی لڑکے لڑکیاں آتی ،،
جو ان دونوں بچوں کو اٹھا کے پیار کر کرکے انہیں سرخ کر دیتی ،، آہستہ آہستہ وہ اس روٹین کا حصہ بننے لگی تھی اور
اذلان ملک کا عکس کچھ وقت کے لیے ہی لیکن دھندلا پڑنے لگا تھا
آزان کی زندگی بلکل بدل سی گئی تھا یان پھر ایسا کہنا زیادہ بہتر ہے کے آزان چوہدری پوری کو پوری طیب کمال کے رنگ میں ڈھل گئی تھی ،، وہ لوگ اپنا ہنی مون کا ایک مہینہ باہر گزار کر آئے ،، آزان طیب کمال کے ساتھ خوش تھی لیکن اُسکی بڑھتی قربت ،، جسم و جان کو جلا دینے والا روپ ،، اُسکی جذبات کی شدت اور شوریدگی سے وہ اکثر رو پڑتی ” طیب کمال بہت منفرد نکلا تھا ،، یہ وہ طیب کمال نہیں تھا جو اُسے بہت سادہ اور معصوم انسان لگتا یہ تو کوئی اور ہی تھا ۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اور نہ کسی کو بتا پا رہی تھی ،، واپس آنے کے بعد وہ ایک ماہ اپنے گھر والوں کے ساتھ گزار کے آئ ،، طیب کمال کو کوئی اعتراض نہ تھا ۔۔
ہاں البتہ گزرتے وقت کے ساتھ چندہ بیگم کے مزاج میں تبدیلی آ رہی تھی وہ تھوڑی سختی کرتی لیکن بہت زیادہ نہیں ۔۔۔ گھر میں ہر وقت نوکر چاکر موجود ہوتے ،، آزان کو کچھ نہیں کرنا پڑتا جیسے وہ اپنے گھر رہتی تھی ویسے ہی وہاں رہتی ،، لیکن طیب کمال کی جانب سے وہ تھوڑی خوف زدہ ہو جاتی ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طیب کمال اسے مکمل طور پر خود پر انحصار کروانے لگا ،، اُسکی پسند نا پسند کھانا پینا ،، پہننا اوڑھنا ،،ہر چیز وہ اُسکے مطابق کرنے لگی ،، اُسکا معصوم ذہن تھا جس کا فائدہ طیب کمال نے باخوبی اٹھایا ۔
ایک سال سے اوپر ہو گیا تھا طیب کمال نے بھی آزان کے ساتھ آ کر اکثر اوقات ان کے گھر رہنا شروع کر دیا ،، گزرتے وقت کے ساتھ اُسکے جذبات میں کمی نہ آئ وہ آج بھی اس کے دو آتشہ حسن کو دیکھ کر پاگل ہو جاتا اور اس کی پرواہ کیے بغیر اس پر اپنی محبت کی چھاپ چھوڑتا ۔
لیکن آزان معصوم اور نادان تھی کے اُس کی خوس ،، اُس کے وحشی پن کو جھیلتے رہتی اُسکی محبت سمجھ کر ۔
اس کی والدہ اس سے بار بار طیب کمال کا رویہ پوچھتی اور وہ انہیں مسکراتے مطمئن کر دیتی ،، طیب کمال کا رویہ سب کے سامنے اُس کے ساتھ ایسا تھا کے آزان کو بھی بعض اوقات یقین کرنا مُشکل ہو جاتا کے آخر وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ۔
اذلان ٹھیک ہو چکا تھا اور واپس آ رہا تھا ،، جب حمزہ نے اسے اپنے گھر والوں سے بات کرنے کا کہا تو اس نے صاف انکار اور دیا ،، لیکن ساری صورت خال جاننے کے بعد اُسکا اپنا دل مان کی طبیعت کا سن کر ہمکنے لگا ان سے ملنے اور آواز سننے کو ۔
انابیہ نے روتے اُسے ساری بات بتا دی اور رو رو کے معافی مانگی ،، کافی عرصہ وہ اُس سے ہمکلام نہ ہوا لیکن اُسکی معافی اور گرتی صحت کو دیکھ کر وہ خاموش ہو گیا ،،چھوٹی بہن تھی اُسکی ،،کتنا ناراض رہتا ۔
جہاز میں بیٹھتے وقت بھی وہ یہی سوچ رہا تھا کے کیسے سامنا کرنا پائے گا اُسکا کیا کہے گا اسے ،، دل بے چین سا تھا ۔
گھر پہنچتے اس نے جیسے ہی قدم اندر کی جانب رکھا ،، اُسکا دل بری طرح دکھنے لگا ،، پیٹ میں گرہیں لگنے لگی،، اس وقت اسے اس گھر سے وحشت ہونے لگی جہاں سے اسکی زندگی کو نکالا گیا تھا ۔
انابیہ اُسے دیکھتے روتے اُس کے سینے سے لگی اور اس کے پاؤں میں بیٹھ گئی ،، بھائی مجھے معاف کر دیں ،سب میری وجہ سے ہوا میں ہی ہوں اس سب کی زمہ دار ۔۔ رو رو کے آنکھیں سرخ ہو چکی تھی لیکن آنسو نہیں خشک ہو رہے تھے ،، ندامت کیا آنسو ۔۔
اس نے بے بس سی نگاہ مان پر ڈالی جو سامنے بیٹھی اس کے انتظار میں تھی ،،
اپنے بیٹے کو دیکھتے عظمہ بیگم میں جانے کہاں سے اتنی ہمت آ گئی کے کرسی کا سہارہ لیتے وہ اٹھ کر اس کی جانب بڑھنے لگی ،، اذلان نے تیزی سے آگے بڑھتے انہیں تھام لیا ،، مجھے معاف کر دو میرے بچے ،، میں درست فیصلہ نہ کر پائ انہوں نے روتے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اُس کے چہرے پر جا بجا لب رکھے ،، اتنے عرصے بعد وہ اپنے بیٹے کو سمانے دیکھ رہی تھی ،، پرور چیک آپ سے وہ ٹھیک ہو چکی تھی لیکن چلنے میں ابھی بھی مشکل پیش آتی ۔
اذلان نے ان کے ماتھے پر بوسا دیا ،، امی آپ معافی نہیں مآنگیں
جلد سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ،،جانے کتنا ہی وقت وہ ان کو سینے سے لگائے بیٹھا رہا ،، انابیہ نے اس کے لیے کھانا لگایا ،، فریش ہونے کے بعد شام میں وہ باہر نکلا ۔۔
دنین کے گھر کے سامنے پہنچتے اُس نے ان کا پتہ پوچھا لیکن کسی نے کچھ نہیں بتایا ،، ان کے ہمسائے میں جو لڑکا تھا اُس سے اذلان کی اچھی اسلام دعا تھی ،، اس نے اذلان کو بتایا کے وہ کراچی میں فلیٹ میں رہتے ہیں اور کبھی کبھار کچھ ضروری سامان ہو تو لینے آتے ہیں ،، اور یہ بھی کے وہ فلیٹ ان کے سٹوڈنٹ کا ہے ۔
اذلان مضطرب سا وہاں سے چلا آیا ،، اُسے بس اب اس سٹوڈنٹ تک پہنچنا تھا ،، دنین کا نمبر اُس نے بہت بار ملایا لیکن بند تھا ۔
رات میں بستر پر لیٹے اُس کے ذہن میں جھماکا ہوا کے اُس نے نبیل صاحب کو تو کال نہیں کی ،، اُسکا اپنا فون تو ٹوٹ چکا تھا اٹھتے وہ تیزی سے عظمہ بیگم کے کمرے میں گیا ،، ان کا فون پکڑتے اُس میں سے نبیل صاحب کا نمبر ڈائل کیا ۔
کال جا رہی تھی ” اُسکا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا ،،، تیسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا ۔۔
لیکن دوسری جانب سے نا محسوس سی خاموشی چھائ ہوئ تھی ۔
السلام علیکم ۔۔۔۔ اسلام کرتے اُس نے دوسری جانب چھائ خاموشی کو توڑا ۔۔
آپ کو خیال آ گیا برخردار ،،
نبیل صاحب جو سونے کے لیے لیٹنے لگے تھے اپنے فون پر آتی کال اور نام دیکھ کر دھنگ رہ گئے ۔
انہوں نے قدرے سختی سے کہا ” انکل پلیز میں بہت پریشان ہوں ،، مجھے بتائیں آپ لوگ کہاں ہیں ،، میں آ کر آپ کو سب بتاتا ہوں ،، میں بہت مجبور تھا ،، وہ لہجے میں بے قراری اور بے بسی لیے بولا تو نبیل صاحب نے اسے اپنے فلیٹ کا ایڈریس سینڈ کر دیا ۔۔۔
وہ ایک سمجھ دار انسان تھے ،، اور جانتے تھے کے ضرور کوئی مجبوری رہی ہوگی اذلان کی ” اذلان سے تو نہیں البتہ جب وہ گھر سے ضروری سامان لینے گئے تھے تو وہاں اس کے کسی رشتے دار نے انہیں اذلان کے اکسیڈنٹ کا پوچھا تھا ،، کسی رشتے دار کو ان کے اندر کے معملات کی خبر نہ تھی سب کو یہی علم تھا کے اذلان کے باہر جانے کے بعد وہ کچھ وقت کے لیے اپنے والدین کے گھر آئ ہے۔
یہی وجہ تھی کے نبیل صاحب نے اذلان کو بغیر کسی تردد کے ایڈریس سنڈ کر دیا تھا ” کے وہ باقی سب کچھ اپنے سامنے اسکو بٹھا کر پوچھے گے ۔
اذلان کچھ پرسکون ہوا تھا ،، آج اسے احساس ہو رہا تھا کے یہ کمرہ یہ گھر صرف ایک اینٹوں کا مکان تھا ۔اس میں رہنے والے مقیں سے یہ گھر بنا تھا اور اس کے کمرے میں اس کی بیوی کی موجودگی سے اس کمرے کی رونق تھی ،،، جو اسے کھانے کو پڑ رہا تھا ۔
سارا دن گزار کے رات کے دس بجے وہ اپنے کمرے میں تھکا ہارا آیا تھا اُس کے باوجود اسے کمرے کے دروںدیوار عجیب ہولناک مناظر پیش کر رہے تھے ۔
اپنا نائٹ سوٹ لینے کے لئے اُس نے الماری کھولی تو سامنے اُس کے کپڑوں کے ڈھیر پر نگاہ پڑی اور اس کے ساتھ موجود اپنے سوٹ پر تو دل ڈوبنے لگا ” وہ عجیب کیفیت کا شکار ہونے لگا تھا ۔۔۔ سوچ سوچ کر دماغ پٹھنے والا ہو گیا ،، ماتھے کی رگیں تن گئی ” فریش ہوتے اپنے گھنیرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ باہر نکلا تو اس کی یاد نے چہرے پر بے ساختہ مسکرہٹ کا احاطہ کیا ۔
جب بھی وہ نہا کے نکلتا تو جان بوجھ کر دنین کے گرد بازو خایل کرتے اس کی گردن میں اپنے بال پھیرتے اُسے گدگدی کرتا کے اُس کی چیخیں اور خوبصورت ہنسی کی جلترنگ سے کمرہ گونج اٹھتا ۔
اس نے نفی میں سر ہلاتے ٹاول سے بال خشک کیے اور بیڈ پر ڈھیر ہوتے اُس کے بارے میں سوچتا نیند میں چلا گیا یہ جانے بغیر کے کل اُسے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز اور دھچکا لگنے والا ہے ۔
آزان جانے کیوں خاموش رہنے لگی تھی ،، طیب کمال کی جانب سے اُس پے بہت دباؤ ڈالا جا رہا تھا ،، سارا دن وہ گھر رہتا اور اُس کی جان کو بھی ہلکان کیے رکھتا ۔۔
اُسکا بزنس ڈوبنے لگا ” آزان نے اپنی گاڑی اُسے دے دی،، طیب نے اُسکی گاڑی بیچ دی ،، جانے اُسکا کتنا سونا وہ بیچ چکا تھا ،، کمپنی دن با دن گھاٹے میں جا رہی تھی جاتی کیوں نہ وہ سارا دن گھر بیٹھ کر فون پر پپ جی گیم کھیلتے رہتا ،، سنیپ چیٹ پر لڑکے لڑکیوں سے باتیں کرتا ۔
وہ تنگ آنے لگی تھی اُس کے روز روز کے بدلتے رویے اور پیسوں کی مانگ سے ۔۔ وہ اپنا آدھا سونا۔۔۔ گاڑی ۔۔۔ عید کے پیسے سب کچھ اُسے دے بیٹھی تھی لیکن وہ پھر بھی اسے مجبور کرتا کے اسے اور پیسے چاہیے ۔۔یہ سب وہ گھر میں کسی کو نہیں بتا رہی تھی ختی کے نور کو بھی اس نے کچھ نہیں بتایا ۔
آج جب آزان نے اسے پیسوں کے لیے انکار کیا تو اس نے آزان پر ہاتھ اٹھایا ،، اور وہ جیسے اس تھپر سے ہل کر رہ گئی ٫٫٫ زندگی میں آج تک کسی نے اس کو سخت ہاتھ نہ لگایا تھا وہ صدمہ کی خالت میں اسے دیکھنے لگی ۔۔
طیب کمال غصے سے پاگل ہونے لگا اور اسے جنجھورتا چیخ اٹھا ۔
میں تم سے ایک بار بات کہوں تو سنا کرو ،، کیوں مجھے مجبور کرتی ہو ۔
ابھی وہ ہل بھی نہ پائی تھی کے طیب کمال اُسے بانہوں میں اٹھاتے بستر پر لے گیا ،، اُس کے چہرے پر جھکتے وہ گھمبیر سرگوشی میں بولا ،، مجھے غصہ آ گیا تھا ،، یہ ہم دونوں کی پرائیویٹ لائف ہے کسی کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ،، کہتے آزان پر جھکنے لگا تو اس نے اُس سے چہرہ موڑتے احتجاج کرنا چاہا کے طیب کمال اس پر اپنی گرفت سخت کر گیا ۔
میں یہ چونچلے نہیں دیکھ سکتا تمہارے ” اُس کے چہرے پر جھکتے وہ پھنکارا ______ آزان کا دل باہر آنے والا ہو گیا اس کے لمس کو اپنی گردن پر محسوس کرتے وہ برداشت کرتی شدت سے رو دی لیکن مقابل کان بند کیے اس پر کسی گھٹا کی طرح چھا گیا ۔
