Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 18)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

چندہ بیگم اور طیب کمال آج پھر چودھریوں کے بنگلے میں موجود تھے ،، ان کے آنے کے مقصد کو۔سنتے عون چوہدری آتش فشاں بنے دھاڑے تھے ،، آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔۔

ابھی میری بچی محض اٹھارہ سال کی ہے ،، کیا وہ مجھ پر اتنی بھاری ہے کے میں اُسے اتنی چھوٹی عمر میں بیاہ دوں ۔۔

ان کے غصے کو دیکھتے چندہ بیگم تو کانپ کے رہ گئی جبکہ طیب کمال خاموشی سے سر جھکائے بیٹھا رہا ۔

انکل ایک بار آزان کا فیصلہ بھی جان لیں ،، وہ اس رخصتی کے لیے رضامند ہے ،، آپ یقین کریں میرا میں اُسکی مرضی کے خلاف کبھی کوئی فیصلہ نہیں کروں گا ۔۔

عون چودھری آزان کا سنتے خیرت و غصے سے اس کی جانب دیکھتے گرجے ۔۔

آزان کو بلاؤ____________

چہرے پر غضبناک تاثرات سجائے وہ لاؤنج میں صوفے پر براجمان اپنی شخصیت کے رعب و جلال سے بیٹھے تھے ۔

آزان اپنے نام کی پکار سنتے سہم سی گئی ،، دل کانوں میں دھڑکنے لگا ۔

طیب کمال کی آمد کی وجہ تو جانتی تھی لیکن اس کو بلایا گیا تھا اور اریشہ کے تمام صورت حال بتانے کے بعد اس کا دل دھلا گیا تھا ۔

مرتے کیا نا کرتے کے مصداق وہ اٹھتے باہر کی جانب قدم بڑھا گئی ،، زینے عبور کرتی وہ نیچے لاؤنج میں قدم رکھتے اسلام کرتی لاؤنج کی خاموشی اور سناٹے کو دیکھتے اُسکا دل لحظے بھر کو سست رفتاری میں دھڑکنے لگا ۔۔

چندہ بیگم نے آگے آتے اس کو پیار دیا ،، طیب کمال کی گہری نگاہیں اُسے اپنے جسم میں پیوست ہوتی محسوس ہوئ ،، وہ آج گھر سے ارادہ باندھ کر آیا تھا اور آزان کو اُسکا ساتھ دینے کے لیے کہا تھا ۔

وہ خاموشی سے بیٹھ گئی ” آپ ان کے یہاں آنے کی وجہ سے تو واقف ہوں گی ،، طیب کمال کے بقول آپکو رخصتی سے کوئی اعتراضات نہیں ۔۔

سنجیدگی سے اُسکی جانب دیکھتے وہ غضب ناک انداز میں کہتے آزان کے دل کی دھڑکن میں انتشار برپا کر گئے ۔

ان کی بات پر لہجے کی سنگینی پر وہ گربڑا سی گئی ،، نہیں بابا جان ” __________

وہ ________ کچھ لمحے کے لیے وہ بلکل خاموش ہو گئی” اُس سے لفظ ہی نہیں ادا ہو پا رہے تھے ” ۔۔۔

لفظ زبان پر آتے اٹک جاتے ،،، طیب کمال نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتا بولنے کے لیے اکسا رہا تھا ۔۔

جبکہ اس سے بات نہیں بن پا رہی تھی ۔۔ بابا جان وہ طیب کہہ رہے تھے میں رخصتی کے بعد بھی اپنی پڑھائ جاری رکھ سکتی ہُوں ،، اور بے شک یہاں بھی رہ سکتے ہیں انہیں کوئی مسئلہ نہیں میں پوچھ چکی ہوں ان سے ،، اگر ایسی بات ہے تو میں نے کہا کے اگر بابا جان رضامند ہو گئے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔

وہ اٹکتی اپنی بات توڑ توڑ کر لفظوں کو ملاتے ادا کر رہی تھی ” اس کے الفاظ حلق میں اٹکنے لگے تھے ۔

نگاہ اُسکی نگاہوں سے ٹکرائیں تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ،، مکمل سنجیدگی سے ،، اسے سمجھ نہ آیا کے مزید وہ کیا تاویل پیش کرے ۔

مجھے بس اتنا جاننا ہے کے آپکو

رخصتی سے کوئی اعتراض نہیں ؟؟..

عون چوہدری کی آواز نے فضا میں چھائ خاموشی کو چیرتے ہوئے ایک سنسنی پیدا کر دی ۔۔

ان کے لہجے کی سختی اور سب کی موجودگی میں اتنے واشگاف الفاظ میں اس سے استفسار کرنا اُس کے بدن میں سنسنی پیدا کر گیا ۔

آزان کے پیٹ میں جیسے گرہیں بندھنے لگی ” اُس نے پلکیں جھپکتے اپنے عین سامنے بیٹھے طیب کی جانب دیکھا جو اسے اپنی گہری نگاہوں اور چہرے پر چھائے تاثرات سے سب کچھ بتا گیا ۔

لرزتے ہونٹوں کے ساتھ وہ اٹکتی بولی جی ” مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔۔ اگر آپکو نہیں ۔۔

اس کا جواب ابھی بھی اپنے بابا جان کی رضامندی میں لپٹا تھا “

بات ختم اگر آپ دونوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر مجھے بھی نہیں ،، کل آ جانا رخصتی کی تاریخ لینے ،، لیکن ایک بات یاد رکھنا میری بیٹی کو ذرا سی خروش بھی آئی تو میں تمہیں بھی زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔

وہ آتش فشاں بنے قدرے نرمی سے کہتے اٹھتے آزان کو بازوں کے گھیرے میں لیتے اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھا گئے ۔۔

اب انہیں جو حدشات تھے ،،،وہ کلیر کرنے تھے ۔

جانے کیوں انہیں طیب کمال کا نکاح کرنا اور اب رخصتی کے لیے جلدی کچھ کھٹک رہی تھی ۔

لیکن اپنی بیٹی کی آنکھوں میں طیب کمال کا بیدار ہوتا عکس اور محبت انہیں مجبور کر گیا ۔۔

وہ بہت چھوٹی اور نا سمجھ تھی ،، اسے دنیا کے رنگوں اور سیاستوں کا علم نہیں تھا ،، اور یہی چیز انہیں خوف زدہ کرتی تھی ،،ان کی معصوم بچی کسی مشکل میں نہ آ جائے ۔

______________

طبیعت کی وجہ سے عجیب بے زاری اور کلسمندی چھائ ہوئ تھی ،، دو ہفتے ہو گئے تھے اُسے یہاں آئے ہوے ،، لیکن پیچھے سے کوئی کال میسج نہ آیا ،، اس نے خود ہی کال کرتے عظمہ بیگم کی خیریت دریافت کی ۔۔

آج وہ واپس گھر جا رہی تھی ” اس کا ارادہ جا کر گھر ،، سب کو بتانے کا تھا ،، ۔۔۔۔۔

نبیل صاحب اُسے گھر چھوڑ آئے ،، اذلان کو اس نے گھر جانے سے پہلے اطلاع دے دی” اذلان اپنی زبان پر قائم رہا تھا ،، وہ سارا دن اس کے ساتھ آنلاین گزارتا ،، ورکنگ آورز رات کے تھے تو دن میں دنین کے ساتھ ہی باتیں کرتا گزار دیتا ۔۔

دنین گھر پہنچی ،، اسلام دعا کرکے وہ اپنے کمرے میں آئی ” جانے کیا ہوا تھا ان دونوں ماں بیٹی کو جو اسے دیکھتے ہی خاموش ہو گئی ،، بس لیا دیا سا انداز تھا ،، جبکہ انابیہ تو خاصی غصے میں لگ رہی تھی ۔ اس نے محسوس کرتے سر جھٹک دیا کے اُسکا وہم ہوگا ۔

وہ ان سے ملتی اپنے کمرے میں آ گئی ” شام کے وقت تو وہ آئی تھی” کھانا کھاتے وہ ان کے قریب بیٹھ گئی

عظمہ بیگم کی طبیعت ناساز تھی ،،انکا بلڈپریشر ہائ آ رہا تھا وہ بھی اٹھ گئ لیٹنے کے لیے ۔

پیچھے وہ اکیلی تھی وہ بھی کمرے میں آ کر اذلان سے بات کرتے لیٹ گئ

ایسے لیٹے لیٹے ہی اُسکی آنکھ لگ گئی ،، جانے رات کا کونسا پہر تھا اُسکی آنکھ سرگوشی نما آوازوں سے کھلی ” ایک پل کے لیے تو اس کے خواص سلب ہونے لگے ،،

اس نے فون اٹھاتے وقت دیکھا تو بارہ بج چکے تھے ،، دوبٹہ گلے میں ڈالتے اُس نے کمرے میں چھائی مدھم روشنی میں آگے بڑھتے ہلکی سی کھڑکی کھول کر دیکھی ،، باہر مدھم سی روشنی میں اُسے کسی شخص کی آواز سنائی دی ،، اُس نے پیچھے کو ہوتے اذلان کو کال ملائی ،، جو فوراً اٹھا لی گئی ۔

اذلان ______ اُس کی خواص باختگی محسوس کرتے وہ متفکر ہوتا اپنے کام کو پیچھے چھوڑتے بولا ۔۔

کیا بات ہے دنین سب ٹھیک ہے ” اذلان باہر کوئی ہے ،، صحن میں ” میں نے کسی لڑکے کی آواز سنی اور ساتھ ایک لڑکی بھی ہے ۔۔

اذلان چور تو نہیں ” اپنی تیز ہوتی دھڑکن پر قابو پاتے وہ لبوں پر ہاتھ رکھ گئی ۔۔

وہم ہوگا تمہارا ” ______

کچھ نہیں ہوتا دنین باہر جا کے دیکھو کون ہے ” میں ہوں تمہارے ساتھ ،، امی کو آواز دو ،، اذلان نے اُسے آگے بڑھنے کا کہا جبکہ وہ خود بھی پریشان ہو گیا تھا ۔

لیکن اُسکا وہم گردانتے اُسے آگے بڑھ کر دیکھنے کی صلاح دی ۔۔۔

دنین نے دروازے کی جانب قدم بڑھائے ” باہر نکلتے اپنے سامنے کھڑے وجود کو دیکھتے اُسکی نگاہ پھٹی کی پھٹی رہ گئی ،، الفاظ جیسے لبوں پر پھرپھرانے لگے ،، انابیہ تم ” ۔۔۔۔

انابیہ جو ایک نقاب پوش شخص کے ساتھ بیگ پہنے باہر نکلنے لگی تھی کسی کے قدموں کی چاپ پر سن سی پڑ گئی ۔۔

بھابھی پیچھے ہو جائیں ،، مجھے جانے دیں ،، انابیہ جو اس شخص کے ساتھ نکلنے لگی تھی اُسے دیکھتی آگ اگلتی نگاہوں سے بولی ۔۔

پل لگا تھا دنین کو سب سمجھنے میں ” تم ایسا نہیں کر سکتی” میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گی ۔۔ کہتے دنین عظمہ بیگم کو آوازیں دینے لگی ۔۔

پھو ،،امی جلدی آیں باہر ” ۔۔۔۔ اس کا بازو تھامے وہ چیخ کے ان کو بلانے لگی ۔۔

اس لڑکے نے عظمہ بیگم کو باہر نکلتے دیکھ اور ،، اپنا بنا بنایا کھیل بگڑتا دیکھ وہاں سے بھاگنے میں عافیت جانی ۔۔۔

اُسے بھاگتا دیکھ انابیہ بھی چیخنے لگی ،، بھابھی چھوڑیں مجھے ،، گناہ خود کرکے مجھے اس میں شامل نہ کریں ،، عظمہ بیگم باہر آتے صحن کی بتی جلاتے ان دونوں کی جانب دیکھنے لگی ،، باہر کی جانب بھاگتے لڑکے کو وہ دیکھ چکی تھی ،، ۔۔۔

یہ ہو کیا رہا ہے وہ گرج دار آواز میں بولی ۔۔

امی دیکھیں بھابھی خود اس لڑکے کے ساتھ کھڑی باتیں کر رہی تھی اور اس کے ساتھ بھاگنے کا پلان بنا رہی تھی ،، میری آنکھ ان دونوں کی باتوں سے کھلی ،، باہر آ کر دیکھا تو وہ لڑکا ان کے ساتھ کھڑا جلدی چلنے کا بول رہا تھا جب میں نے انہیں رنگے ہاتھوں پکڑا تو الٹا مجھ پر ہی الزام تراشی کرنے لگی اور آپ کو آوازیں دینے لگی ۔۔۔

انابیہ نے روتے اپنی بات مکمل کرتے عظمہ بیگم کے گلے لگے دیکھ دنین کی آنکھیں اتنے بڑے جھوٹ پر باہر آنے کو ہو گئی ،، اس کی سماعتوں پر جیسے کسی نے دھماکہ کیا ہو ۔۔

اتنا بڑا جھوٹ ” ۔۔ اُس کے پیٹ میں گرہیں بندھنے لگی ،، امی یہ سب جھوٹ بول رہی ہے ۔۔

میں نہیں بلکہ یہ اس لڑکے کے ساتھ جا رہی تھی ” اُس کی زبان اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی اتنا جھوٹ ۔۔اپنی بے بسی پر آنکھیں جھلملا اُٹھی ۔۔

نہیں امی ،، اُسکی آنکھوں یکایک پانیوں سے بھرنے لگی ،، اس قیامت خیز منظر میں اُسے کوئی اپنا دکھائ نہ دے رہا تھا ،، وہ کیسے یقین دلائے انہیں ۔۔

بکواس بند کرو لڑکی ،، تجھے شرم نہیں آئی یوں میرے بیٹے کی عزت کو تار تار کرتے ” ۔۔۔ ابھی تو اُسے گئے اتنا وقت بھی نہ ہوا جو تجھے آگ لگ گئی اور اپنے آشنا کو بلا لیا ،، الفاظ تھے کے گویا بم ،، جو اُسکی سماعتوں میں انڈیلے جا رہے تھے ،، اُسے اپنا آپ شل ہوتا محسوس ہوا ،، دھندلی نگاہوں سے وہ انہیں دیکھتی نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔۔میرا یقین کریں امی ۔۔۔

فون ” میں اذلان کو فون کرتی ہوں آپ ان سے پوچھ لیں ،، ______ ہاتھ میں تھامے فون کو اس نے آن کرنا چاہا جو بیٹری لو ہونے کی وجہ سے بند ہو چکا تھا ۔۔۔

بس کر دو بے ____غ ی ۔۔۔ لڑکی اسے گالی نکالتے انہوں نے نخوت سے اُسکا چہرہ دیکھا ،، مجھے تو یقین نہیں آ رہا کے تم جیسی لڑکی میرے بچے کو پسند کیسے آ گئی ” غیظ و غضب میں آگے بڑھتے وہ اسے جنجھورتے چیخی ۔۔ نکل جاؤ یہاں سے اور واپس پلٹ کر نہ آنا ،، سرد برفیلے لہجے میں وہ اُسے کاٹ دار نگاہوں سے تکتے باہر کی جانب دھکیل گئی ۔

دنین کے چہرے کی رنگت زرد پڑنے لگی ،، امی آپ میرا یقین کریں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ،، حوف میں مبتلا ہوتی وہ ان کے ترلے منتوں پر آ گئی ،، جبکہ انابيه قریب کھڑی اُسے قہر برساتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔

نکلو بیبی یہاں سے ،، میں دن کے اجالے میں اپنی عزت کا تماشا نہیں بنانا چاہتی ” ۔۔۔ میرے بیٹے کی عزت کو تو پرواہ نہیں کی تم نے کہتے انہوں نے اس کے لاکھ رونے ،، اُس کی بات سننے کو نظر انداز کرتے گھر سے نکال دیا ۔۔

اس نے دروازہ پیٹتے انہیں آوازیں دیں لیکن کوئی اسکی دریافت سننے والا نہ تھا ،، روتے ایک نظر سنسان خاموش گلی پر ڈالی جو رات کے ایک بجے اُسے سناٹوں کی زد میں لگی ۔۔

اس نے مردہ قدموں سے آگے بڑھتے ساتھ والے گھر کا دروازہ بجایا جہاں سے بچی اکثر ان کے گھر آیا کرتی تھی ۔۔۔

کچھ وقت کے بعد دروازہ کھلا تو ان کا بڑا بیٹا دروازے پر آیا ۔۔

دنین نے آنسو صاف کرتے اس کی جانب دیکھا ” بھائی میرے ابو کی طبیعت بہت ناساز ہے ،، اس وقت کوئی گھر موجود نہیں ،، آپ پلیز مجھے میرے گھر چھوڑ آیں ،، آنسو ٹپ ٹپ آنکھوں سے رواں تھے ۔۔

کچھ ہی دیر میں ان کی والدہ آ گئی ،، دنین بیٹی کیا ہوا ہے ابو کو ،، زیادہ طبیعت خراب ہے تو میں ساتھ چلتی ہوں ،، عظمہ باجی کہاں ہیں ۔۔

انہوں نے آگے بڑھتے اُسے ساتھ لگاتے پریشانی سے استفسار کیا ۔

نہیں آنٹی بہت شکریہ ،، امی کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں ،، بس بھائی مجھے گلی تک چھوڑ آئیں ۔۔

روتے ہوئے بھراے ہوے لہجے میں وہ کہتی بس بحفاظت اپنے گھر تک جانا چاہتی تھی ۔۔

وہ نہیں جانتی وہ کیسے اپنے گھر پہنچی مردہ قدموں سے گاڑی سے اترتے اس نے انہیں جانے کا کہا ۔۔اور گھر کی بیل پر ہاتھ رکھ دیا

دروازہ کھولتے سامنے استادہ اُسے دیکھتے وہ ششدر سے رہ گئے نبیل صاحب نے اسے تھامتے جلدی سے اندر کیا ،،

دروازہ بند کرتے ،، نقب لگاتے انہوں نے دنین کے بے جان وجود کو سنبھالتے لبنہ بیگم کو آواز دی ،، جو ان کی خواس باختگی محسوس کرتے نیند میں بوکھلا کر اُٹھتی باہر کی بھاگی ،، سامنے کھڑی دنین کو دیکھتے ان کے پیرو تلے زمین نکل گئی ،، اس کو پتھر کا مجسمہ بنا دیکھ وہ روتی آگے بڑھی اور اُسے لیتے کمرے میں بٹھایا ۔۔

دنین میری بچی کیا ہوا ہے ،، کچھ تو بتاؤ _____ اُس کے لبوں سے پانی کا گلاس لگاتے روتے وہ اُسے اس حال میں دیکھتے دکھتے دل کے ساتھ بول رہی تھی ۔۔

امی _________ وہ چیختی اتنا اونچا روئی کے اُس کی چیخو پکار پر درو دیوار دھل اٹھے ،،،وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے انہیں خود پر گزرے قیامت خیز منظر کا بتاتے ان کے اعصاب پر پہاڑ توڑ گئی ۔۔۔۔۔۔

یہ دونوں پتھرائی نگاہوں سے اُسے روتا بلکتا چیختا دیکھ رہے تھے ۔

اُسے خود کو اذیت پہنچاتے دیکھ نبیل صاحب نے اُسے خاموش کرواتے پیار سے سمجھآنا چاہا ۔

بیٹا جھوٹ کبھی بھی چھپا نہیں رہتا ،، آپ کل اذلان سے بات کرنا ،وہ جانتا ہے نہ سب کچھ ” اُس نے سنا ہے تو پھر آپ کیوں رو کر خود کو ازیت دے رہی ہو ۔۔وہ آپ پر یقین کرتا ہے نہ ۔۔ یہ لوگ کب تک جھوٹ بولیں گے ” آپ جانتی ہو آپ نے کچھ نہیں کیا ” ہم جانتے ہیں ہماری بیٹی بے قصور ہے ۔۔۔

اسے محبت سے سمجھاتے بہلاتے جانے کتنا ہی وقت گزر گیا تب جا کر وہ سوی ۔

لبنہ بیگم نے بےبسی سے اپنی بیٹی کو دیکھتے آنسو صاف کیے ،، نبیل صاحب مجھے لگتا ہے ہم نے اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کر دی ہے ” ہم جانتے تھے وہ کتنی خودغرض عورت ہے پھر بھی اپنی بیٹی وہاں بیاہ دی ۔۔

انہیں روتا دیکھ نبیل صاحب نرمی سے گویا ہوے ” بیگم اذلان بہت اچھا بچہ ہے ، وہ جانتا ہے اپنے گھر والوں کو ۔۔آپ فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ان کو تسلی دیتے وہ خود بھی متفکر تھے ،، یہ کیسی آزمائش آن پڑی تھی ان کی معصوم بچی پر ۔