Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 4)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
نور اور آزان اکیڈمی جانے لگے تھے ،، آجکل عون چوہدری کو زمینوں کے سلسلے میں گاؤں کے کافی چکر لگانے پڑتے ،، اس وجہ سے انہوں نے بچیوں کو پک ڈراپ کرنے کی زمہ داری اپنے خاص آدمی کو دی تھی جو ان کے باپ دادا کے زمانے سے ان کے ہاں کام کرتے آئے تھے ۔
وہ فارغ ہوتے اکیڈمی سے باہر نکلیں تھی اور دو قدم بڑھائے ہی تھے کے اچانک سے ایک لڑکا قریب آتا تیزی سے آزان کے سامنے کھڑا ہوا تھا اور اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی ،،مقابل نے اس کے آگے گھٹنوں کے بل جھکتے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے ۔
آزان اور نور تو ششدر سی اس لڑکے کو دیکھنے لگی ،، آزان جو اس سب کے لیے تیار نہیں تھی اُسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے یہ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔۔۔
یہ آپ کیا کے رہے ہیں ،، اپنے سامنے ہاتھ جوڑے اس نوجوان مرد کو دیکھتے وہ پریشانی اور حیرانگی کی بیک وقت ملی جلی کیفیت میں گھڑی آنکھیں پھیلاے سامنے سڑک پر بیٹھے لڑکے سے استفسار کرنے لگی ۔۔
میں بہت محبت کرتا ہوں آپ سے ،، میں گزشتہ مہینے سے روز آپکی آمد کا منتظر رہتا ہوں ۔۔۔
جب سے آپ کو دیکھا ہے ،،تب سے میں آپکی محبت میں گرفتار ہو چکا ہوں ۔۔۔مجھے کوئی عام سا سڑک چھاپ مت سمجھیں ،، میں اچھے خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور آپ سے جائز تعلق قائم کرنا چاہتا ہوں بس آپ ایک بار اجازت دے دیں ۔۔
میں اپنی والدہ کو آپ کے گھر لانا چاہتا ہوں
قریب کھڑی نور جو اُسے (کب سے بکواس کرتا )بقول نور چوہدری کے سن رہی تھی اس کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ،، اس نے بغور سامنے موجود لڑکے کو دیکھا جو اب کھڑا ہو چکا تھا ،، چھ فٹ سے نکلتا قد ،،، گندمی رنگت ،، سیاہی مائل لب ،، سیاہ گہرے بال ،، _____ گہری آنکھیں جن میں اس وقت جنون تھا اور قدرے پھیلی ہوئی جسامت ،، جو اُسے سمجھ نہ
آیا کے کسرت کے باعث ہے یاں اُسکے صحت مندی کی علامت ۔۔
آزان خاموش کھڑی آنکھوں میں تعجب اور بے یقینی کے رنگ
لیے اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔
کیا بکواس لگا رکھی ہے ،، تم نے خود کو دیکھا ہے ؟؟..
اگر زیادہ
شوق آ رہا ہے تو جا کے اپنی کسی ہم عمر سے نکاح پڑھوا لو آج کے بعد ہمارے راستے میں آنے کی جرات نہ کرنا ورنہ ایسا حال کروائیں گے کے خود کو بھی پہچاننے سے انکاری کرو گے ۔۔
اپنے اندر اٹھتے اُبال کو دبائے وہ آزان کا ہاتھ تھامے سختی سے کہتی اسے سرتاپا گھورتے آگے بڑھی ،،چلو آزان ______ اور وہ اس کے ساتھ گھسیٹتی ششدر سی پیچھے کھڑے اس شخص پر ایک نگاہ ڈالتے گاڑی میں بیٹھ گئ
یہ کیا تھا ،،گاڑی میں بیٹھتے آزان نے نم آنکھوں سے اُسے دیکھتے استفسار کیا ،،، نہ میری جان پریشانی والی کوئی بات نہیں ،، بس کوئی ایڈیٹ تھا ڈرامہ رچا رہا تھا ۔۔۔ ہوتے ہیں کچھ لوگ ایسے بھی تم ریلکس رہو پیار سے اُسکا گال تھپکتے وہ بولی تو آزان نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
_________________پیچھے وہ کھڑا خالی خالی نگاہوں سے اس جگہ کو دیکھنے لگا جہاں سے وہ ابھی گزری تھی ،، طیب کمال “” اپنے ” والدین کی اکلوتی اولاد ہے اس کے والد ایک جانے ماننے بزنس مین تھے اور ان کے جانے کے بعد وہ اکیلا اس بزنس کا مالک تھا ،، اس پر منحصر تھا کے وہ اس بزنس کو محنت کرکے پروان چڑھاے یان ڈبوئے ۔۔
آزان جس اکیڈمی جاتی تھی وہ سوسائیٹی کافی ایلیٹ کلاس تھی ،، طیب کمال کا بنگلو اس کی اکیڈمی سے کچھ فاصلے پر تھا اور ایک دن یونہی اس نے گاڑی سے اترتے اُسے دیکھا تھا اور دیکھتا رہ گیا تھا ۔۔
اتنا مکمل حسن ،، وہ تو جیسے اس کے حسن میں کھو سا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ دمکتی رنگت پر بڑی بڑی ہرنی جیسی شہد رنگ چمکتی آنکھیں ،، پھولے پھولے گلابی گال ،، شولڈر کٹ سلکی چمکتی ڈارک براؤن زلفیں ۔۔۔۔ وہ تو ساکت سا اس کے چہرے کی شادابی میں کھو سا گیا ۔۔ دیکھنے میں وہ معصوم سولہ سترہ سال کی لگتی ۔۔
اور وہ ستائیس سالہ جوان صحت مند مرد ،، لیکن اس دل کا کیا کرتا جو اُسے دیکھ کر دھڑکنا بھول گیا تھا ۔۔
یہی سے اس کی محبت کا جنون میں تبدیل ہونے کا آغاز شروع ہوا تھا ۔۔۔ وہ معمول سے پہلے اپنے بنگلے سے نکل آتا اور اس کی ایک جھلک کا منتظر رہتا ۔۔
اور بلا آخر اس نے ارادہ باندھ کر اس کے سامنے اظہار کر دیا لیکن اس کے برملا جھٹکنے پر اس کا چہرہ متغیر ہوا تھا بے ساختہ مٹھیاں بینچتا وہ واپس نکل گیا ۔
_________________
اذلان کی خواہش کا احترام کرتے ہوے وہ دونوں ماں بیٹی دوسرے دن ان کے گھر پر موجود تھے اور ان سے دنین کا ہاتھ مانگا تھا ،، انہوں نے اچنبے سے عظمی بیگم کی جانب دیکھا ان کے ذہن میں دوڑ دوڑ تک یہ بات نہ تھی ،،اور وہ ان کی آمد سے انجان بیٹھے تھے اور اب اچانک ان کی بات سے وہ کوی فیصلہ نا کر پّائے اور لحظہ بھر کی خاموشی کے بعد گویا ہوے،،ہمیں ابھی کچھ وقت درکار ہے ہم جلد آپکو اپنے فیصلہ سے آگاہ کریں گے ،،متانت بھرے لہجے میں کہتے نبیل صاحب نے ان سے کچھ وقت مانگا ۔۔
عظمہ بیگم ان کے تاثرات جانچتے انہیں جلد جواب دینے کا کہتی واپسی چلی گئیں ۔
نبیل صاحب کو یہ رشتہ کچھ خاص بھایا نہ تھا کہ وہ عظمی بیگم کے سخت انداز اور امیر خاندان میں شادی کی خواہش سے انجان نہ تھے لیکن اچانک انکی غیر متوقع آمد سے ،، وہ خود خیران پریشان تھے ،،
جبکہ لبنہ بیگم اس رشتے سے بہت خوش دکھائیں دے رہی تھی کے وہ چاہتی تھی کے ان کی اکلوتی بیٹی ان سے زیادہ دور نہ جاۓ اور ان کی خواہش کے مطابق سب ہوا تھا ۔۔
لیکن نبیل صاحب نے سب دنین کے فیصلے پر چھوڑا تھا ۔۔ وہ اٹھ کر اس کے کمرے کی جانب چل دیے ۔۔
دنین جو اس سب سے انجان اپنے کمرے میں بیٹھی کچھ ضروری کام کر رہی تھی دروازہ کھلنے کی آواز سے متوجہ ہوئ ،، نگاہ سامنے اُٹھی تو نبیل صاحب دروازے کے قریب کھڑے اُسے محبت و شفقت بھری نگاہوں سے دیکھ رہتے تھے ،، بابا آئیں نہ،، وہاں کیوں کھڑے ہیں ،، ہلکے آتشی رنگ کے لباس میں وہ ،، بالوں کی چٹیاں بنائے ،، دوبٹہ سر پر درست کرتی اٹھ کر ان کے قریب جاتے ان کی بازوں میں ہاتھ ڈالتے انہیں لیے بیڈ پر براجمان ہوئی ،، اس سے پہلے کے وہ کچھ بولتی نبیل صاحب اس کے سر پر ہاتھ رکھتے دنین کو اپنے ساتھ لگائے اس کی جانب دیکھتے گویا ہوئے ،، بیٹے میں آپ سے کچھ ضروری
بات کرنے آیا ہوں ،، اور پھر اس کو ساری بات سے آگاہ کیا ،،
میں آپکا فیصلہ جاننا چاہتا ہوں
ان کی بات پر اسکا دل زوروں سے دھڑکنے لگا اس نے تو اب تک ایسا کچھ سوچا ہی نہ تھا ،، میں آپکی رضا جاننا چاہتا ہوں دنین کیا فیصلہ بتاؤں آپکا ،،
اس نے سر جھکاتے اثبات میں گردن ہلاتے ،، جیسے آپ لوگوں کی مرضی ،،،چند پل کی خاموشی کے بعد اس نے دھیمے لہجے میں اپنا فیصلہ ان کے سپرد کر دیا ۔۔
جیتی رہیں _______ مجھے آپ سے اسی فیصلے کی توقع تھی ،، اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھتے پر مسرت لہجے میں کہتے اس کے ماتھے پر لب رکھے تو دنین کا دل بھر آیا اور آنکھیں پل میں نم ہونے لگی ،، نہ میرا بیٹا رونا نہیں آپ کی ماما اس پرپوزل پر صرف اس لیے رضامند ہوئ ہیں کے وہ آپکو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتی ہیں ،، لبنہ بیگم جو اس کے کمرے کی جانب قدم بڑھا رہی تھی اس کی آواز کانوں میں پڑی تو پل میں آنکھیں بھیگ گئی اور قدم وہی تھم گئے تھے،،
لیکن میں آپ دونوں کے بغیر کیسے رہوں گی بابا ،،
سسرال دور ہو یان پاس ہوتا تو سسرال ہی ہے ۔۔وہ معصومیت سے روتے آنکھیں ملتی بولی تو اس کی بات سے دونوں کے لبوں پر گہری مسکان نے احاطہ کیا ۔۔
لبنہ بیگم نے قریب آتے اس کے سر پر لب رکھے ،، میری بیٹی تو بہت سمجھدار ہے میں تو جھلی ہی سمجھتی رہی آپ کو ۔۔۔
اسے تنگ کرنے کی غرض سے وہ لب دباتے مسکراہٹ روکتے بولی تو وہ منہ کھولے ہونق بنی انہیں دیکھنے لگی کے فضا میں نبیل صاحب اور لبنہ بیگم کے قہقہے گونجنے ۔۔
مجھے آپ دونوں سے ہی بات نہیں کرنی دنین کا چہرہ حفگی اور حجالت سے سرخ پر گیا ،، تو وہ دونوں اُسے اپنے گھیرے میں لیتے اس کے خوبصورت چہرے کی جانب دیکھتے گویا ہوے ،، میری چندہ مان قربان اپنی جان پر ،، بیٹے قسمت تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ،، میرے بس میں ہوتا تو میں اپنی گڑیا کے نصیب چاند تاروں جیسے روشن لکھتی ،، آپ اچھا گمان رکھو میرا بیٹا ، اللہ پاک زن کے قریب ہیں باقی اللہ پاک کی مرضی ۔۔
دنین کے اثبات میں سر ہلانے پر دونوں کے چہروں پر سکون اُترا ۔
اُسے زیادہ سوچنے کا بھی وقت نہ ملا ،، سب کچھ اتنا جلدی ہوا کے وہ بوکھلا کے رہ گئی ،، اذلان کی جانب سے جلدی پر زور دیا گیا کیا اس کی واپسی کا وقت کم تھا ،، جہیز لینے سے اذلان نے انکار کر دیا لیکن پھر بھی انہوں نے زبردستی دیا ،،اپنی بیٹی کے لیے ان کے بھی تو کچھ ارمان تھے
جلدی رخصتی کا سنتے ہی اس نے تھوڑا شور مچایا کے وہ اتنی جلدی شادی کے لیے تیار نہیں تھی ،، اس کے رونے پر انہوں نے عظمی بیگم سے بات کی لیکن وہ دیر نہیں کرنا چاہتے تھے ،،
اذلان نے خود دنین سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تو وہ ہتھے سے اُکھڑ گئی اور پھر مجبورا اُسے سب کا فیصلہ ماننا پڑا ۔۔
گزشتہ کچھ دنوں سے وہ گھن چکر بنی پھر رہی تھی ،، شادی کی تیاریوں نے اُسے تھکا ڈالا تھا ۔۔ اور جیسے جیسے دن قریب آ رہے تھے اُسکا دل انجانے خدشات اور خوف کے زیر اثر ہوتا جا رہا تھا ،،
وہ با اعتماد تھی لیکن جانے کیوں شادی کے نام پر اس کے چہرہ یکلخت سرد پرنے لگتا ۔۔
لبنہ بیگم کے کافی سمجھانے کے بعد وہ کچھ نارمل ہوئ تھی ۔۔
